پاکستان میں سیاحت میں 300 گنا اضافہ

سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں سیاحت میں 300 گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف 2017 میں 17 لاکھ 50 ہزار سیاحوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ان سیاحوں میں سے 30 فیصد پاکستانی تھے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) کے مطابق گزشتہ سال سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی نے پاکستان کی معیشت میں تقریباً 19 ارب 40 کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا جو مجموعی ملکی پیداوار کا 6.9 فیصد رہا۔ ساتھ ہی ’ڈبلیو ٹی ٹی سی‘ نے ایک دہائی کے عرصے میں یہ آمدنی بڑھ کر 36 ارب 10 کروڑ ڈالر ہونے کی توقع بھی ظاہر کی۔

سیاحت میں سالانہ اضافے کے علاوہ ملک میں کاروباری سفر کرنے والوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سیاحت اور سفر میں تیزی سے اضافے کا بڑا سہرا انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف سیاحتی مراکز کی تشہیر کو جاتا ہے۔ پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر چوہدری عبدالغفور نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کو بتایا کہ ’حکومت ملک میں سیاحت کو فروغ دینے اور پی ٹی ڈی سی کو مالی طور پر مستحکم ادارہ بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی ڈی سی اور یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) لاہور کے درمیان ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کی تشہیر کی اسپانسرشپ کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔‘ پی ٹی ڈی سی کی مصنوعات اور خدمات کی سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تشہیر کی جائے گی۔ پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے حال ہی میں ’پاکستان ٹورزم فرینڈز کلب‘ کا بھی آغاز کیا ہے جس کے ذریعے اس کے اراکین پی ٹی ڈی سی کی سہولیات پر 20 فیصد کا خصوصی ڈسکاؤنٹ حاصل کر سکیں گے۔

کیا مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد دوبارہ قدم جما رہی ہے؟

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قابض فورسز کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حال ہی میں مسلح افراد نے سابق پولیس افسر اور بی جے پی کے موجودہ متحرک کارکن زبیر پارے کو قتل کر دیا۔ اس سے قبل 25 اپریل کو بھی سری نگر کے علاقے حیدر پورا میں نامعلوم مسلح افراد نے جموں اور کشمیر پولیس سے تعلق رکھنے والے گارڈ پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان پولیس کی 4 سرکاری رائفلز چھین کر باآسانی فرار ہوگئے، جس کے بعد سری نگر میں دوبارہ مسلح کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 23 مارچ کو نماز جمعہ کے بعد ایک کشمیری نوجوان لاپتہ ہوگیا تھا، جس کے کچھ گھنٹوں بعد خبر ملی کہ مذکورہ نوجوان، کشمیر کی سب سے بڑی عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر چکا ہے، مذکورہ نوجوان کا نام جنید اشرف صحرائی تھا اور وہ یونیورسٹی آف کشمیر میں ایم بی اے کا طالب علم تھا۔

دوسری جانب جنید کے والد خود بھی تحریک حریت کے نو منتخب چیئرمین ہیں، جو کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی مقبول جماعت آل پارٹیز حریت کانفرنس کی ذیلی تنظیم ہے۔ پولیس کے مطابق جنید گزشتہ 3 برس سے کم عرصے میں عسکری تنظیم میں شامل ہونے والا 10واں فرد تھا، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مقبوضہ وادئ میں عسکریت پسندی دوبارہ قدم جما رہی ہے؟ انسپکٹر جنرل آف کشمیر سوایم پرکاش کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ سری نگر میں عسکریت پسندی واپس آرہی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں عسکریت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں کیوں کہ شہری علاقوں میں بہتر سماجی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر اس قسم کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔

خیال رہے کہ سری نگر میں نئے شاپنگ مالز، ہوٹلز اور تفریحی مراکز کے قیام سے شہری زندگی میں جدّت تو آئی ہے تاہم عسکریت پسندی بھی سری نگر کے باسیوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں۔ ایک سینئر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ عموماً ’عسکریت پسندوں سے پاک‘ ہونے کا غلط مطلب اخذ کر لیا جاتا ہے، شہری اور دیہی علاقوں میں عسکریت پسندی کی شکل مختلف ہے، بارہ مولا اور سری نگر جیسے شہری علاقوں کے عوام نہ تو خود عسکری کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ہی عسکریت پسندوں کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سال 2007 سے 2014 تک سری نگر کو عسکریت پسندی سے پاک علاقہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہے، 2016 میں حریت پسند نوجان رہنما برہان وانی کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد وادئ میں نوجوانوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اس واقعے سے شہری علاقوں کے نوجوانوں پر بھی اثر پڑا ہے۔

خیال رہے کہ حزب المجاہدین کے شہید کمانڈر برہان وانی کم عمر نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جو مقامی طور پر مسلح جدو جہد کے حوالے سے بہت معروف ہوئے۔ پولیس کے مطابق برہان وانی نے کشمیر میں عسکریت پسندی کو نئی روح فراہم کی اور سوشل میڈیا اس سلسلے میں سب سے موثر آلہ کار ثابت ہوا۔ اس ضمن میں پولیس نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی عسکری تنظیموں میں بھرتی میں اہم کردار ادا کیا، حتیٰ کہ انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی، پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کے حامل نوجوان بھی اس میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق 80 فیصد عسکریت پسندوں کا تعلق کشمیر کے جنوبی علاقوں سے ہے جہاں سے ایک ماہ کی قلیل مدت میں 28 نوجوان مختلف عسکری تنظیموں کا حصہ بن چکے ہیں۔

یہ خبر ڈان اخبار میں 30 اپریل 2018 کو شائع ہوئی.