غدار وطن ڈاکٹر شکیل آفریدی نا معلوم مقام پر منتقل

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ شکیل آفریدی پرالزام عائد ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور کی جیل سے کسی اور جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈاکٹر آفریدی کو کسی ’محفوظ مقام‘ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس اہلکار نے معاملے کی سنجیدگی کی وجہ سے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ مئی دو ہزار بارہ میں شکیل آفریدی کو ایک پاکستانی عدالت نے غداری کے مقدمے میں تینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں شکیل آفریدی پر عسکریت پسندوں سے تعلق رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک جعلی مہم شروع کی تھی۔ دو مئی دو ہزار گیارہ کو اسامہ بن لادن کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔ مبصرین کے مطابق شکیل آفریدی کے کیس کا پاکستان میں جاری انسداد پولیو کی مہم پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ پاکستانی طالبان کا موقف ہے کہ انسداد پولیو کی مہم غیر اسلامی ہے اور اس طرح امریکا خفیہ طور پر جاسوسی کروا رہا ہے۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے ابھی تک پولیو کے قطرے پلانے والے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

بشکریہ DW اردو

مسلم لیگ (ن) کا بجٹ امید پر قائم ہے

کل کی بجٹ تقریر بالکل ویسے ہی تھی جیسے کہ پاکستان کا معاشی انتظام و انصرام ہے : بیچ کمرے کے کھڑا ایک اکیلا شخص سیاسی شور ہنگامے کے درمیان اپنی بات کہنے کی جدوجہد کرتا ہوا۔ یہ صورتحال اب بہت عرصے سے معمول بن چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اصلاحات کیوں سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اس بجٹ میں دو چیزیں نہایت واضح ہیں۔ پہلی، حکومت کی سخت کمزوریاں، اور دوسری، ترقیاتی اخراجات کے بجائے جاری اخراجات کی طرف جھکاؤ۔ یہ دونوں آپس میں منسلک ہیں۔ ہم ایک ایسی حکومت دیکھ رہے ہیں جو اپنی حکمرانی کو لاحق سخت خطرات میں گھری ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر ممکن حد تک خصوصی مفادات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہے۔

اس بجٹ کی سب سے اہم خاصیت اس کا عدم شفاف ٹیکس منصوبہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حکومت کو وسائل کے بارے میں زیادہ فکر نہیں ہے جبکہ زیادہ توجہ فائدے پہنچانے اور رقومات مختص کرنے پر دی گئی ہے۔ محصولات میں 18 فیصد اضافہ جو کہ 750 ارب روپے بنتا ہے، اس میں سب سے بڑا اضافہ بالواسطہ محصولات مثلاً پیٹرولیم لیوی اور مواصلات پر ٹیکس ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکس 500 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں جو کہ سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، اور انکم ٹیکس کے درمیان تقریباً برابر تقسیم ہیں۔ ان تمام زمروں میں زیادہ ریلیف دیے جانے کو مدِنظر رکھتے ہوئے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے جیسے ان اضافوں کی وجہ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع ہونا، اور مہنگائی اور روپے کی قیمت میں کمی ہے (جس کی وجہ سے امپورٹ کرتے وقت سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں اضافہ ہو جاتا ہے)۔ مختصر الفاظ میں کہیں تو ٹیکس منصوبہ امید پر تیر رہا ہے جبکہ اخراجات کو تفصیلی توجہ دی گئی ہے۔

حکومت اپنی حکمرانی کو لاحق سخت خطرات میں گھری ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر ممکن حد تک خصوصی مفادات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہے۔
یہ متوقع تھا۔ جس حکومت نے یہ بجٹ پیش کیا ہے، وہ شاید اس بجٹ پر عمل کرنے والی حکومت نہ ہو۔ چنانچہ یہ طے ہے کہ اس بجٹ کو درمیانی مدت میں کافی تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔ کئی تجاویز قابلِ تعریف ہیں، مثلاً خام مال کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹیوں میں کمی اور ایسے دیگر اقدام۔ مگر اس بجٹ کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ بلند سطح پر موجود جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے محصولات کی وصولی بھی اتنی ہی بلند کرنی ہو گی۔

ترقیاتی کاموں کے بجائے وسائل کو اخراجات کی جانب موڑنے سے فنڈنگ ایک ذریعے تک محدود رہ جاتی ہے، بینکوں سے قرضوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے (625 ارب روپے کا اضافہ)، جبکہ صوبائی سرپلس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر اس سب کی بنیاد میں موجود مفروضے حقیقت ثابت ہوتے ہیں تو اس سے اشیاء کی کھپت میں کامیابی سے اضافہ ہو گا اور جس کے ترقی (اور درآمدات) پر مثبت اثرات ہوں گے۔ پر اگر یہ مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوئے، اور زیادہ امکان بھی یہی ہے، تو اگلی حکومت کو انہیں خاصی حد تک تبدیل کرنا ہو گا، جس میں ممکنہ طور پر متوسط طبقے کے گھرانوں اور صنعتوں کو دیے جانے والے ریلیف واپس لینا شامل ہے۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 28 اپریل 2018 کو شائع ہوا۔

قرضہ معاف کرانے والوں کے اثاثے فروخت کر کے رقم وصول کریں گے

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ قرضہ معاف کرانے والوں کے پاس اگر رقم نہیں ہے تو اثاثے فروخت کر کے رقم وصول کریں گے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قرضہ معافی ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران وکیل نیشنل بینک اور مختلف بینکوں کے وکلاء بھی پیش ہوئے۔ دوران سماعت نیشنل بینک کے وکیل نے کہا کہ اس کیس میں مرکزی پارٹی اسٹیٹ بینک ہے جبکہ نجی بینک کے وکیل نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ریگولیٹری اتھارٹی ہے اور بینکوں نے قرضے معاف کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی اندازہ ہے کہ کتنے ارب روپے معاف ہوئے، جس پر وکیل نے بتایا کہ 54 ارب روپے معاف ہوئے جبکہ کمیشن کا کہنا ہے کہ قصہ ماضی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیشن کی رپورٹ کہاں ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ مجھے بھی رپورٹ دیکھنے کا موقع نہیں ملا لیکن بینک اس پیسے کی واپسی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمات پرانے ہو گئے ہیں، اسی لیے اسے نہیں کھول رہا لیکن یہ بتایا جائے کہ سیاسی بنیادوں پر جو قرض معاف ہوئے اس کی تفصیلات کہاں ہیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 222 مشکوک مقدمات ہیں، نیشنل بینک نے بہت زیادہ رقوم کے قرضے مختلف ٹیکسٹائل ملوں کو معاف کیے ہیں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جب سے یہ رپورٹ آئی ہے، اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی، یہ معاملہ ہمارے پاس 2007 سے زیر التوا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹٓس نے کہا کہ ہمیں رپورٹ چاہیے، رپورٹ کیا ہے، انہوں نے ذمہ داری کس پر ڈالی ہے، پوری رپورٹ کی سمری عدالت کو فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر قرض معاف کرائے ان سے وصول کرتے ہیں۔ دوران سماعت درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزراء اعظم محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور چوہدری برادران نے بھی قرض لے کر معاف کرائے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن لوگوں نے قرض معاف کرائے ہیں، ان سے وصول کریں گے اور اگر رقم نہیں تو اثاثے فروخت کر کے رقم وصول کریں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جسٹس جمشید سے بات کرتا ہوں، لگتا ہے کمیشن کی ابھی صرف عبوری رپورٹ آئی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے جسٹس جمشید کمیشن کی رپورٹ کی نقل فریقین کو دینے کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ گورنر اسٹیٹ بینک مقدمہ کی سمری آئندہ سماعت پر پیش کریں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہر بندہ اپنے خرچے پر کمیشن رپورٹ حاصل کرے۔
دوران سماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا حیات بھی پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مختلف لوگوں نے قوم کا پیسہ معاف کروا رکھا ہے اور اس پیسے سے جائیدادیں بنائی گئیں، ملک کے قوانین میں سقم ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ قانون بنانے والے آپ ہی ہیں، حکومت میں رہتے ہوئے آپ نے کیا کیا، آپ کی حکومت نے آپ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر کیا کیا، سندھ حکومت نے قرار داد پاس کی کہ یہ معاملے کو عدالت دیکھے۔

حسیب بھٹی

A Pakistani farmer harvests wheat in a field

A Pakistani farmer harvests wheat in a field on the outskirts of Lahore.