وٹس ایپ کے استعمال کیلئے عمر کی حد مقرر کر دی گئی

یورپی یونین میں ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کا اطلاق اب واٹس ایپ پر بھی ہو گا۔ ان قوانین کے تحت سولہ برس سے کم عمر لڑکیاں لڑکے اپنے والدین کی اجازت کے بغیر یہ سروس استعمال نہیں کر سکیں گے۔ پیغام رسانی کی ایپ واٹس ایپ نے یورپی یونین میں ڈیٹا تحفظ کے قوانین کی وجہ سے اپنے صارفین کے لیے عمر کی حد تیرہ سے بڑھا کر سولہ برس کر دی ہے۔ یورپی یونین میں اب واٹس ایپ استعمال کرنے والے پرانے اور نئے صارفین سے اب یہ پوچھا جائے گا کہ آیا ان کی عمر سولہ برس سے زائد ہے۔ یورپی یونین میں مئی میں نافذ ہونے والے ان نئے قوانین کے تحت سولہ برس سے کم عمر نوجوانوں کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ان کے والدین کی اجازت لینا ضروری ہے۔

واٹس ایپ سروس فیس بک خرید چکا ہے اور اب ایک نیا طریقہء کار متعارف کروایا جائے گا، جس کے تحت والدین سے یہ اجازت حاصل کی جائے گی۔ یورپی یونین سے باہر واٹس ایپ نے فی الحال اپنے صارفین کی عمر کی حد میں اضافہ نہیں کیا۔ یورپی یونین سے باہر تیرہ سالہ نوجوان اب بھی یہ سروس استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم اس نئے قانون کے تحت عمر کی حد کنٹرول کرنے نظام زیادہ سخت نہیں ہے، یعنی واٹس ایپ کی طرف سے کوئی شناختی دستاویز یا برتھ سرٹیفیکیٹ اپ لوڈ کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق وہ مستقبل میں بھی کچھ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

واٹس ایپ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یورپی صارفین کے لیے آئرلینڈ میں ایک نیا ذیلی ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کی یورپی یونین کے صارفین کا ڈیٹا یورپی سرحدوں کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا۔ لیکن واٹس ایپ کا زور دیتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی سروس کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات صرف ’اینڈ ٹو اینڈ‘ یعنی صرف ارسال کرنے والا اور موصول کرنے والا ہی پڑھ سکتے ہیں۔ یہ پیغامات خود واٹس ایپ سروس نہیں پڑھ سکتی۔ نئے قوانین کے تحت یہ کمپنی اب وہ ڈیٹا بھی نہیں پڑھ پائے گی، جس تک پہلے اس کمپنی کی رسائی تھی۔ اسی طرح واٹس ایپ اکاؤنٹس کی معلومات یا موبائل نمبر فیس بک کو مہیا نہیں کیے جائیں گے۔

بشکریہ DW اردو

 

پشتون موومنٹ، جائز مطالبات، ناجائز نعرے

پشتون تحفظ موومنٹ اور اس کے رہنما منظور پشتین کے مطالبات بلکل جائز لیکن نعرے انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ اس تحریک کے ساتھ اگر بہت سے لوگ اس لیے جڑ گئے کہ اس کے مطالبات جائز ہیں جن کے دادرسی کے لیے ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تو ایک طبقہ یہاں وہ بھی ہے جو اپنے بغض اور عناد کی وجہ سے اُن نعروں کی گونج کو ہوا دینا چاہتا ہے جو بلاشبہ غیر ملکی قوتوں کی خواہش اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے، غلط پالیسیوں کی درستگی کرنی چاہیے اور پشتون تحفظ تحریک کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں جیسے سنگین مسائل کا یہاں خاتمہ ہو سکے، وہیں اس تحریک اور اس کو چلانے والوں کو ایسے اقدامات اور نعروں کو فوری ترک کر دینا چاہیے جو امن اور بھائی چارے کی بجائے پاکستان کو مزید بدامنی اور افراتفری کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

ویسے منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ زرا غور کریں کہ کہیں ایک ایسا طبقہ بھی تو موجود نہیں جو بظاہر اُن کا بڑا ہمدرد نظر آتا ہے اور جو میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاست کے ذریعے اُن کی تحریک کو خوب اجاگر بھی کر رہا ہے مگر دراصل اُس طبقہ کے اس عمل کے پیچھے کسی مخصوص ادارہ کے
خلاف اُن کا اپنا بغض اور عناد چھپا ہوا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اسی طبقہ میں موجود افراد اور اُن کے ماضی پر نظر دوڑائیں تو یہ بھی پتا چلے گا جن حالات کے سبب پشتون تحفظ موومنٹ بنی اُن حالات کو پیدا کرنے میں اسی طبقہ کا اہم ترین کردار رہا۔ زرا غور کریں اور جواب تلاش کریں کہ وہ کون سا طبقہ تھا جو 9/11 کے بعد امریکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا یہاں سب سے بڑا وکیل بن گیا اور جس نے اس جنگ کی مخالفت کرنیوالوں کو طالبان اور دہشتگردوں کے ساتھ جوڑا؟؟

وہ کون سا طبقہ تھا جس نے امریکا کی افغانستان میں جاری جنگ کو پاکستان کے اندر دھکیلنے کے لیے ’’دہشتگردی کی جنگ ہماری اپنی جنگ ہے‘‘ کے بیانیے کو یہاں کامیاب کروایا؟؟ وہ کون سا طبقہ ہے جس نے پرامن طریقہ یعنی بات چیت کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کے فتنہ کو حل کرنے کی ہر کوشش کو ثبوتاژ کیا؟؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سوات امن معائدے کی مخالفت کی اور ملٹری آپریشن پر زور دیا اور اس کے لیے راستہ ہموار بھی کیا؟؟ وہ کون سا طبقہ ہے جس نے قبائلی علاقوں میں ہر امن معاہدے کا مذاق اڑایا اُسے sell-out اور surrender سے تشبیہ دی اور امن کے قیام کے لیے صرف اور صرف ملٹری آپریشن کے حل ہی کی تجویز دی؟؟

وہ کون سی سوچ تھی جس نے 9/11 کے بعد گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر اس لیے کبھی آواز نہ اٹھائی کیوں کہ گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کیے جانے والوں کا تعلق امریکاکی دہشتگردی کے خلاف جنگ سے جوڑا گیا؟؟ جو لوگ ملٹری آپریشن کا مطالبہ کرتے رہے، جو لوگ امن کے حصول کے لیے بات چیت کے حکومتی فیصلوں کو حکومت اور ریاست کے لیے طعنہ کے طور پر استعمال کرتے رہے کیا وہ اُن حالات کے ذمہ دار نہیں جو ان آپریشن کے نتیجے میں پیدا ہوے اور جس کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ اب آواز اٹھا رہی ہے۔ منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ اس طبقہ کو پہچانے کیوں کہ انہی کی وجہ سے پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے ہر پرامن کوشش کو ثبوتاژ کیا گیا، یہی وہ لوگ ہیں جو رات دن میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملٹری آپریشن ملٹری آپریشن کا راگ الاپتے رہتے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے تک سب دہشتگردی کے فتنہ کی کمی پر خصوصاً فوج کو مبارکباد دیتے تھے اور ان کی قربانیوں کو سراہتے تھے لیکن آج اُسی فوج کے خلاف پشتون موومنٹ کی انتہائی قابل اعتراض نعروں کو واٹس ایپ کے ذریعے خوب شئیر بھی کرتے ہیں۔ مجھے 9/11 کے بعد اپنائی گئی ریاستی پالیسیوں سے شدید اختلاف رہا اور میری دانست میں انہی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی اور شدت پسندی نے زور پکڑا اور ہمارے ہی لوگوں کو ہمارا دشمن بنا دیا۔ مجھ سمیت جس شخص نے امریکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مخالفت کی اور پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے مسئلہ کو پرامن طریقہ اور بات چیت سے حل کرنے کی حمایت کی، اُنہیں اُسی طبقہ نے طالبان اور دہشتگردوں کا حامی قرار دیا جو صرف اور صرف ملٹری آپریشن کو مسئلہ کا واحد حل دیکھتا رہا۔

منظور پشتین اور اُس کے ساتھی قبائلیوں کے مسائل، گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے المیہ پر ضرور بات کریں اور تحریک بھی چلائیں لیکن ہمارے درمیان موجود اُس مخصوص طبقہ سے ضرور ہوشیار رہیں جو اس تحریک سے کوئی اور کام لینا چاہتے ہیں۔ یہاں ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ غور کریں، سوچیں کہ وہ کون کون سے عوامل ہیں جو اُنہیں عوام میں غیر مقبول کر رہے ہیں اور جن سے احتیاط کرنا اور باز رہنا پاکستان کے ساتھ ساتھ ان اداروں کے اپنے بھی وسیع تر مفاد میں ہے۔ ایک سوچ وہ ہے جو اپنے بغض اور عناد کی وجہ سے اداروں کو تباہ و برباد دیکھنا چاہتی ہے، ایک دوسری سوچ ہے جو اداروں میں خامیوں اور اُن کی غلط پالیسیوں کو دور کرنے کی حامی ہے تاکہ ادارے ملک و قوم کے مفاد میں قائم بھی رہیں، اپنا کام کریں اور مضبوط بھی ہوں۔ہمیں پہلے سوچ کی مخالفت اور دوسری سوچ کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔

انصار عباسی