نادرا شناختی کارڈ فیس میں 100 فیصد اضافہ

نادرا نے شناختی کارڈ کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ کرتے ہوئے نارمل فیس 400 روپے اوورسیز کیلئے فیسوں میں معمولی کمی کر دی، ملک بھر کے دفاتر کو آگاہ کر دیا ہے کہ نئی فیسوں کا اطلاق فوری اور آج ہی سے ہو گا۔ اس حوالے سے ملک بھر کے نادرا دفاتر کو آگا ہ کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی ارجنٹ فیس 500 روپے سے بڑھا کر 1150 روپے کر دی گئی ہے۔ اسمارٹ کارڈ کی نارمل فیس 300 سے بڑھا کر 750 روپے اور ارجنٹ فیس 750 سے بڑھا کر 1500 روپے کی گئی ہے اس کے علاوہ اسمارٹ کارڈ کی تجدید کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

نارمل شناختی کارڈ کی فیس 200 روپے سے بڑھ کر اب 400 روپے اور 1600 روپے میں بننے والا ایگزیکٹو شناختی کارڈ اب 2500 روپے میں بنے گا جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے شناختی کارڈز کی فیسوں میں چند سو روپے کمی کی گئی ہے۔ شناختی کارڈ کی فیسیں بڑھانے کی منظوری گزٹ آف پاکستان نے دی ہے ۔نائیکوپس کارڈز کی فیس زون اے نارمل 39 ڈالر ارجنٹ 57 ڈالر اور ایگزیکٹو سمارٹ کارڈ کی فیس 78 ڈالر وصول کی جائے گی ۔ زون بی میں نارمل سمارٹ کارڈ کی فیس 20 ڈالر،ارجنٹ 30 ڈالر اور ایگزیکٹو سمارٹ کارڈ کی فیس 40 ڈالر ہو گی۔ پہلے سے موجود نائیکوپس کارڈز پر تین ڈالر اور قومی شناختی کارڈز پر ساڑھے تین سو روپے کی رعایت دی جائے گی۔

فیس بک میں آپ کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں ؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کی تعداد دنیا میں 2 ارب سے زائد جبکہ پاکستان میں ہی کروڑوں افراد اسے استعمال کرتے ہیں، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس پر کیا پوسٹ کر سکتے ہیں اور کیا نہیں؟ گزشتہ سال مئی میں برطانوی روزنامے دی گارڈین نے فیس بک کی مواد کی مانیٹرنگ یا اس کو منظور یا مسترد کرنے کے حوالے سے موجود رہنماء اصول کی دستاویزات کو لیک کیا تھا۔ اب لگ بھگ ایک سال بعد یا یوں کہہ لیں کہ اپنے قیام کے 14 سال بعد آخر کار فیس بک نے ان رہنماءاصولوں کو عام صارفین کے لیے پیش کر دیا ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ وہ اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں.

اسی طرح کمپنی نے کسی پوسٹ کو بلاک یا ہٹائے جانے پر ایپل کے نئے طریقہ کار کو بھی متعارف کرایا ہے۔ فیس بک کے کمیونٹی اسٹینڈرڈ 27 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہ بدزبانی، پرتشدد دھمکیوں، خود کو نقصان پہنچانے، فحش مواد سمیت متعدد دیگر موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ فیس بک کی گلوبل پالیسی منیجمنٹ کی سربراہ مونیکا بیکریٹ کے مطابق ‘ یہ حقیقی دنیا کے مسائل ہیں، وہ برادری جو فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرتی ہے، درحقیقت حقیقی دنیا کی عکاسی کرنے والی برادری ہے، تو اس حوالے سے ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے، بیشتر افراد فیس بک پر متعدد اچھی وجوہات کی بناء پر آتے ہیں، مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو توہین آمیز مواد کو پوسٹ کرنے یا رویے کا اظہار کریں گے، ایسی چیزوں کو برداشت نہ کرنے کے حوالے سے ہماری اپنی پالیسی ہے، ہمیں رپورٹ کریں اور اس مواد کو ہٹا دیں گے’۔

ان رہنماء اصولوں کا اطلاق ہر اس ملک میں ہوتا ہے جہاں فیس بک کام کر رہی ہے اور اسے جلد 40 سے زائد زبانوں میں ترجہ بھی کیا جائے گا، جس کے لیے کمپنی نے دنیا بھر کے ماہرین اور گروپس کی مدد حاصل کی ہے۔ ان اصولوں کے بیشتر حصے کا اطلاق فیس بک کی دیگر سروسز جیسے انسٹاگرام وغیرہ پر بھی ہوتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے مواد ماڈریٹ کرنے والے عملے کی تعداد میں دوگنا اضافہ کر کے 10 ہزار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر رواں سال کے آخر تک عملدرآمد ہو گا، جبکہ کمپنی نئی چیزوں کے مسلسل سامنے آنے پر ان گائیڈ لائنز کو بھی اپ ڈیٹ کرے گی۔

پیاس سے ترقی تک، گوادر بندرگاہ کی دبئی بننے کی خواہش

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کا یہ خواب ہے کہ گوادر کی اہم اسٹریٹیجک بندرگاہ کو ڈیوٹی فری اور فری اکنامک زون میں تبدیل کر دیا جائے۔ کیا پینے کے صاف پانی کی قلت کا شکار یہ پاکستانی بندرگاہ دبئی کا مقابلہ کر سکے گی؟
پاکستان اور چین مل کر ایران کے قریب اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع اس بندرگاہ کو علاقائی، تجارتی، صنعتی اور جہاز رانی کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بندرگاہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کا حصہ ہے۔ سی پیک کے ذریعے چین کو مشرق وسطیٰ تک محفوظ اور مختصر ترین تجارتی راستہ حاصل ہو جائے گا اور پاکستانی معیشت بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے گی۔

فی الحال پاکستان کے اس ’نئے دبئی‘ کی اصل دبئی سے صرف ایک مماثلت ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہاں بھی پانی کی شدید کمی ہے۔ ایک مقامی صحافی ساجد بلوچ کا تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’گزشتہ تین برسوں سے یہاں بارش نہیں ہوئی۔ ‘‘ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے زیر انتظام گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ ’گوادر کی پیاس‘ میں موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی بڑا کردار ہے۔ ان کے مطابق اس وقت گوادر کو پانی کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔

گوادر کے مضافات میں واقع آنکارا کور ڈیم میں پانی کے ذخائر دو برس پہلے ہی خشک ہو گئے تھے اور اب پانی دور دراز کے علاقوں سے لایا جا رہا ہے۔ دور سے لایا جانے والا کچھ پانی تو اس قدر آلودہ ہوتا ہے کہ اس سے ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ عبدالرحیم کے مطابق، ’’زیر زمین پانی بھی نہیں نکالا جا سکتا کیوں کہ زیر زمین پانی نمکین ہو چکا ہے۔ ‘‘ آبادی میں تیزی سے اضافہ
فی الحال گوادر کی آبادی ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے لیکن اندازوں کے مطابق سن دو ہزار بیس تک یہ آبادی بڑھ کر پانچ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ گوادر میں معاشی سرگرمیوں سے پہلے مقامی آبادی کا انحصار زیادہ تر ماہی گیری پر تھا اور حکومت کے ان بڑے منصوبوں سے انہیں ابھی تک براہ راست کم ہی فائدہ پہنچا ہے۔

ایک مقامی ماہی گیر رسول بخش کا کہنا تھا، ’’ہم پیاس سے مر رہے ہیں۔ بجلی کبھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی، علاقے میں ڈاکٹر نہیں ہیں اور ہر طرف کوڑا کرکٹ بکھرا نظر آتا ہے۔ کوئی اسے اٹھانے والا نہیں ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’پہلے ہمارے یہ مسائل حل کریں اور پھر اسے دبئی بنانے کا خواب دیکھیں۔‘‘
اس شہر کے زیادہ تر لوگ پانی ان ٹینکروں سے خریدتے ہیں، جو دو گھنٹے کی مسافت پر واقع میرانی ڈیم سے بھر کر لائے جاتے ہیں۔ رسول بخش کے مطابق یہ ٹینکر بھی ایک ماہ میں دو یا تین مرتبہ ہی ان کے علاقے میں آتے ہیں۔ صوبے میں منصوبہ بندی اور ترقیاتی امور کے شعبے کے سیکرٹری محمد علی کاکڑ کے مطابق گوادر سٹی کو روزانہ ساڑھے چھ ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن ٹینکر صرف دو ملین گیلن پانی ہی فراہم کر پاتے ہیں۔

کیا یہ مسائل حل ہو پائیں گے؟
پانی کی شدید قلت پر قابو پانے کے لیے چینی ماہرین کی مدد سے اس علاقے میں سمندری پانی صاف کرنے کے دو پلانٹ تعمیر کیے گئے ہیں۔ چھوٹا پلانٹ روزانہ دو لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی فراہم کر سکتا ہے جبکہ حال ہی میں تکمیل پانے والا دوسرا پلانٹ ڈیوٹی فری زون میں تعمیر کیا گیا ہے اور یہ روزانہ تقریباﹰ چار لاکھ گیلن صاف پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ساجد بلوچ کے مطابق ان دونوں پلانٹس کا انحصار جنریٹرز سے حاصل کردہ بجلی پر ہے اور انہیں چلانے کے لیے گوادر میں بجلی بھی ناکافی ہے۔ کچھ ماہی گیروں کے مطابق اب وہ پانی بندرگاہ سے خریدتے ہیں اور تین لیٹر پانی کے لیے قریب پچاس روپے ادا کرتے ہیں۔

بندرگاہ کی آپریشنز اتھارٹی کے ڈائریکٹر گل محمد کے مطابق، ’’ہم ڈیوٹی فری زون میں بھی بڑے پلانٹ سے اٹھانوے پیسے فی گیلن پانی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے بلوچستان حکومت کو ہمارے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا۔‘‘
ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عبدالرحیم کے مطابق صوبائی حکومت کی طرف سے معاہدہ نہ کرنے کہ وجہ بارش کی امید ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق بارش ہونے سے آنکارا کور ڈیم دوبارہ بھر جائے گا۔ دوسری جانب پاکستانی فوج بھی متحدہ عرب امارات اور سوئٹزرلینڈ کی مدد سے اس علاقے میں پانی صاف کرنے کا ایک پلانٹ تعمیر کر رہی ہے، جو اس علاقے کو روزانہ چوالیس لاکھ گیلن پانی فراہم کر سکے گا۔ پاکستانی فوج کے مطابق علاقے میں بہتر سہولیات اور صاف پانی کی فراہمی سے مقامی سطح پر حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔

پاکستانی فوج نے مقامی آبادی کے دل جیتنے کے لیے یہاں ماہر ڈاکٹر بھی تعینات کیے ہیں، جو مقامی ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔ ایک نئی سڑک سے بندرگاہ کو مکران ساحلی ہائی وے سے جوڑ دیا جائے گا جبکہ گوادر کا زیر تعمیر ایئر پورٹ مستقبل میں پاکستان کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہو گا۔ گوادر میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے چائنہ پاور کمپنی تین سو میگا واٹ کا ایک پلانٹ بھی لگا رہی ہے جبکہ اس علاقے میں سیاحوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ بندرگاہ کے سکیورٹی افسر منیر احمد کا کہنا تھا، ’’ گزشتہ دو برسوں کے دوران گوادر کی سکیورٹی میں بہتری آئی ہے۔ اگر حالیہ عرصے میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھا جائے تو ’نیا دبئی‘ تعمیر کرنے کا خواب ایک عشرے یا اس سے کچھ زائد عرصے میں اپنی تعبیر سے ہمکنار ہو جائے گا۔‘‘

بشکریہ DW اردو