امریکی سفارت کار کرنل جوزف کی گاڑی کی ٹکر سے شہری عتیق بیگ کی ہلاکت کے معاملے پر عدالت نے ریماکس دیئے کہ امریکی ہونگے تو اپنے ملک میں ہونگے، سفارتی استثنا میں کسی کو مارنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی تک کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا ؟جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمشنر آفس نے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھجوا دی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہٹ اینڈ رن کیس میں الکوحل کا ٹیسٹ سب سے پہلے ہوتا ہے، پولیس نےالکوحل ٹیسٹ نہ کرا کے خود ثبوت خراب کیا ہے ۔ جسٹس عامر فاروق نے ایس ایچ او خالد اعوان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو کسی کا فون آیا تھا کہ سفارتی اہلکار کو جانے دیں جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ دفتر خارجہ سے فون آیا تھا جس میں امریکی اہلکار کو جانے دینے کا کہا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی استثنیٰ میں کیا بیان ہو سکتا ہے، کیا آپ نے بیان لیا، کوئی پاکستانی ایکسیڈنٹ کرے تو آپ گاڑی کے اندر شراب کی بو سونگھتے ہیں اور گورا دیکھ کر پولیس کے ہاتھ ویسے ہی کانپ گئے ہوں گے۔
اس موقع پر ایس ایچ او خالد اعوان نے کرنل جوزف کا بیان عدالت میں پیش کیا جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے بیان انگریزی میں کیوں نہیں لکھا، کل کو کرنل جوزف کہے گا یہ اردو میں بیان ہے اور مجھےاردو نہیں آتی۔ جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا آپ نے یہ بیان کس وقت ریکارڈ کیا تھا جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ تھانے میں جب وہ گاڑی کے اندر تھا اس وقت سوال کیے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سفارتی استثنی ضرور حاصل کریں لیکن قانون سےگزرنا پڑے گا، سفارتی استثنیٰ میں کسی کو مارنے کا اختیار حاصل نہیں، امریکی ہونگے تو اپنے ملک میں ہوں گے۔
ایس ایچ او خالد اعوان نے کہا کہ دفتر خارجہ کو تفصیلات بھجوائی ہیں کہ وہ ویانا کنونشن کے مطابق پولیس کی معاونت کرے۔ عدالت نے حکم دیا کہ کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے کمیٹی 5 دن میں فیصلہ کرے اور وزارت داخلہ ہاں یا ناں میں درخواست کا فیصلہ کرے۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ قانون کے مطابق حل کیا جائے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔ یاد رہے کہ سات اپریل کو امریکی سفارتی اہلکار کی گاڑی کی ٹکر سے عتیق بیگ نامی نوجوان جاں بحق ہو گیا تھا ۔
پاکستان ووٹنگ کے ذریعے اقوام متحدہ کی 2 غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی کا رکن منتخب ہو گیا ہے۔ پاکستان کو 2019 سے 2022 تک اقوام متحدہ کی این جی اوز (غیر سرکاری تنظیموں) کی کمیٹی اور یونیسیف کے ایگزیکٹو بورڈ کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی 2 اہم باڈیز میں کامیاب ہوا، یہ کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی برادری کو کس حد تک پاکستان کے کردار پر اعتماد ہے۔ اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) میں ہونے والے این جی اوز کمیٹی کے الیکشن میں پاکستان کو 43 ووٹ ملے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ یونیسیف میں بھی پاکستان کا بہت اہم کردار رہا ہے اور این جی او کمیٹی میں بھی مسلسل خدمات انجام دیتا رہا ہے، پاکستان 2 سال پہلے بھی یونیسیف کے ایگزیکٹو بورڈ کا صدر منتخب ہو چکا ہے، ہمارے ملک میں یونیسیف کا بہت بڑا پروگرام چل رہا ہے، انھوں نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے پاکستان کو ووٹ دیا۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ بحیثیت رکن پاکستان یو این او کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی سے تعاون جاری رکھے گا، دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلیے مل کر کام کرتے رہیں گے، کمیٹی کے قیام سے اب تک پاکستان کا ادارے کی بہتری کیلیے اہم کردار ہے، پاکستان نے عالمی سطح پر انسانی اور بچوں کےحقوق پر بہت کام کیا، انتخاب میں کامیابی عالمی برادری کی طرف سے پاکستانی تعاون کی تصدیق ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کا 10 سال سے رکن ہے۔
پاکستان میں مارشل لا کے ادوار میں صحافیوں نے کوڑے کھائے لیکن اظہار رائے سے باز نہیں آئے۔ لیکن جمہوری دور میں نا دیدہ قوتیں اظہار پر پابندیاں لگا رہی ہیں۔ کئی کالم نویسوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی تحریریں روکی جارہی ہیں۔
پاکستان میں جنرل ایوب اور جنرل ضیا کے مارشل لا ادوار میں میڈیا کو سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا۔ خبریں روکی جاتی تھیں اور صحافیوں کے لکھنے اور بولنے پر پابندی لگائی جاتی تھی۔ یہ اکیسویں صدی ہے اور پاکستان میں جمہوری ادارے کام کر رہے ہیں۔ لیکن کئی لکھنے والوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے کالم نامعلوم وجوہ پر روکے گئے ہیں۔
ممتاز قانون داں بابر ستار نے بتایا کہ دی نیوز نے پہلی بار ان کا کالم چھاپنے سے معذرت کی ہے۔ پھر انگریزی اخبار نیشن نے گل بخاری کا کالم واپس کر دیا۔ آج مشرف زیدی نے ٹوئیٹ کیا کہ ان کا کالم بھی رک گیا ہے۔ وجاہت مسعود کا ایک کالم بھی جنگ میں نہیں چھپ سکا۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وجاہت مسعود نے کہا کہ کچھ اخبارات اور چینلوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ 2014 سے جاری ہے۔ یہ نہ صرف غیر اعلانیہ سینسر شپ ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں، اس ملک میں اب بہت کچھ غیر اعلانیہ ہو رہا ہے۔ اسی میں سینسر شپ کا معاملہ ہے۔ کوئی باقاعدہ اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن یہ تو طے ہے کہ کچھ اخبارات کو، کچھ چینلز کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ ان کا راستہ محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ 2014 سے شروع ہوا ہے اور اب اس کی لپیٹ میں دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ میں اپنے ادارے سے کیا شکایت کر سکتا ہوں۔ میرا ادارہ جو ہے جس میں میں لکھتا ہوں وہ تو چار سال سے ابتلاؤں کا سامنا کر رہا ہے۔ واحد اس ادارے کے بارے میں آرمی چیف نے کھل کر کہہ دیا کہ جب چاہیں آپ کو بالکل بند کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد تو باقی کچھ نہیں بچا۔ یس، یہ غیر اعلانیہ سینسر شپ بھی ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ غیر اعلانیہ ہے۔
اخبار نائنٹی ٹو کے ایڈیٹر ارشاد احمد عارف کہتے ہیں کہ کالم نگاروں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ جب کوئی تحرير چھپ جاتی ہے تو ایڈیٹر اور ادارہ اس کا جواب دہ ہوتا ہے۔ ایڈیٹر اگر آئین و قانون اور معاشرتی اقدار کے خلاف کالم روکتا ہے تو ٹھیک کرتا ہے۔ ارشاد احمد عارف کہتے ہیں ’ خود کالم نویسوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ملک کی اخلاقیات ہے سیاسی، قانون اور آئین کے جو تقاضے ہیں، وہ پورے کر کے کالم لکھ رہے ہیں یا جو مرضی چاہتے ہیں لکھتے ہیں اور پھر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے من و عن چھاپا جائے۔
کسی کالم کو چھاپنا نہ چھاپنا، اس کو ایڈٹ کرنا ایڈیٹر کا اور ادارے کا حق ہے۔ کیونکہ وہ جواب دہ ہے۔ جب ایک چیز چھپ جاتی ہے تو اس کا جوابدہ ادارہ ہے اور ایڈیٹر ہے۔ اگر وہ اس دائرہ کار میں رہتے ہوئے، جو آئین نے متعین کیا ہے، جو قانون نے متعین کیا ہے۔ یا جس کا معاشرہ تقاضا کرتا ہے، کسی چیز کو ایڈٹ کرتا ہے یا کسی کالم کو روکتا ہے تو میرے نقطہ نظر سے کوئی ایسی غلط بات نہیں ہے۔ ایسا ہونا چاہیے کیونکہ ہم معاشرے کو شتر بے مہار نہیں چھوڑ سکتے۔
ارشاد احمد عارف سے اتفاق کرنے والے سینیر صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ اخبارات میں کالم روکے جانے اور کیبل پر بعض نیوز چینلوں کی بندش سے میڈیا دباؤ میں آئے گا اور چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات کی غیر جانب دارانہ کوریج ممکن نہیں رہے گی۔