شام کے مظلوم پھر نشانے پر

عالمی طاقتوں کی جانب سے ملک شام میں حملوں کی بنیاد داعش کے خلاف
کارروائیوں کو بنایا گیا تھا لیکن ان طاقتوں میں شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے کوئی سمجھوتا طے نہیں پا سکا تھا۔ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے برعکس روس کا یہ موقف تھا کہ شامی عوام ہی کو انتخابات کے ذریعے بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ امریکا ، ترکی اور عرب ممالک شامی صدر کی بحران کے حل کے لیے اقتدار سے رخصتی چاہتے تھے۔ روس کا موقف تھا کہ شامی صدر نہیں بلکہ داعش کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے اور اس میں شرکت کیلئے بشارالاسد کی رخصتی سمیت کوئی پیشگی شرط عائد نہیں ہونی چاہئے۔

فرانس اور روس کے جہازوں نے شام پر ہزاروں ٹن بارود کے گولے برسائے نتیجتاً سیکڑوں معصوم شہری لقمہ اجل بنے لیکن داعش کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا پہنچنا چا ہئے تھا۔ اس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ داعش نے پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کیں جس کی وجہ سے وہ بڑے نقصان سے بچ گئے لیکن یہاں پر معاملہ وہ ہی قندوز حملے جیسا تھا کہ حملے کے بعد کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے تمام تر بدنام زمانہ دہشت گرد تھے لیکن جوں جوں حقیقت سامنے آتی گئی اس سے واضح ہوا کہ فضائی کارروائی خالصتاً درندگی تھی جس سے معصوم حفاظ لقمہ اجل بنے۔

سب سے پہلے روس کی جانب سے اعتراف سامنے آیا کہ شامی سرزمین پراپنے تیار کردہ 200 نئے اقسام کے ہتھیاروں کو شام کی خانہ جنگی میں آزمائش کے طور پر استعمال کیا، گویا شام اور اس کے معصوم شہریوں کا تختہ مشق بنایا گیا۔
روس کے اپنے نئے تجربات کی کامیابیوں کا ذکر یو ں آیا کہ روسی فوج کے سابق کمانڈر اوراس وقت کے ’ڈوما‘ کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ولادی میر شامانوو نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ماسکو کے انجینئروں نے ملکی سطح پر تیار کردہ 200 اقسام کے نئے ہتھیاروں کو شام میں ٹیسٹ کیا، شامی حکومت کی مدد کے لیے نئے اقسام کے ہتھیار بنائے گئے اور انہیں استعمال کیا، ہمارے ہتھیار اس قدر کامیاب ہوئے کہ خود بشارلاسد حکومت نے ہم سے مانگے اور ذخیرہ کیا جب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہتھیار شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر استعمال کئے۔

تازہ اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکا نے شام پر برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر حملہ کیا ہے، حملے میں بظاہر سائنسی تحقیق کی لیبارٹری کو نشانہ بنایا گیا امریکی صدر نے کہا ہے کہ شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ حملوں کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ ہے۔ لیکن ان دعوئوں پر حقائق سامنے آنے تک کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا کیوں کہ وتیرہ تو یہ ہی بنایا جاتا ہے کہ حملے ہدف پر تھے، دہشت گرد مارے گئے، مقصد حاصل کر لیا گیا لیکن جب زمینی حقائق سامنے آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مارے گئے عام معصوم شہری تھے، حفاظ تھے، بچے تھے، عورتیں تھیں اور دہشت گرد اس لئے بچ گئے کیوں کہ انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کر لی تھیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

‘اسے ہم اپنے قبرستان میں دفن بھی نہ کر سکے’

اولاد کے لیے ایک ماں کے سینکڑوں سوالات ہوتے ہیں لیکن اس ماں کے ذہن میں کیسے کیسے سوال ابھر رہے ہوں گے جس کی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا ہو؟ اس ماں کے کتنے سوالات ہوں گے جس کی بچی کے ساتھ ہونے والے جرم نے مذہبی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہو ؟ ‘ہماری بچی۔۔۔ اس نے کسی کا کیا کھویا؟ کیا گم کیا؟ کیا چوری کی تھی؟ انھوں نے اسے کیوں مارا؟
‘اسے اس طرف دور لے گئے۔ پتہ نہیں گاڑی میں لے گئے یا کیسے لے گئے۔ کس طرح مارا، کچھ پتہ نہیں۔

‘پتہ نہیں اس کی جان کیسے لی؟’
اس کے سوال ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک قطار باندھے چلے آ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماں کا درد پھوٹ نکلا ہو۔ جموں کے ادھم پور کے دودھر نالا کی پہاڑیوں پر جب ان کے سوالوں کی جھڑیاں لگیں تھیں اسی وقت میرے ذہن میں آٹھ سال کی اس معصوم کی شکل ابھر رہی تھی جو کہ اجتماعی ریپ کا شکار ہوئی تھی۔ بالکل ماں جیسی شکل، ویسی چمکتی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں اور گورا چٹا رنگ۔

پھر میرا ذہن لوٹ آیا۔ اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ ‘بہت خوبصورت اور ہوشیار تھی میری بیٹی، جنگل میں جا کر واپس آ جاتی تھی۔ ‘لیکن اس دن وہ لوٹ کر نہیں آئی اور پھر ہمیں اس کی لاش ملی۔’ وہیں آس پاس بھیڑیں، بکریاں اور گائیں تھیں۔ بکروالی کتے رات کی ٹھنڈک کے بعد زنجیروں میں بندھے پڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ گھوڑے اپنے بچوں کے ساتھ چارا کھانے میں مشغول تھے۔ اس بچی کو بھی گھوڑوں کا بہت شوق تھا۔ اس کی بہن نے بتایا کہ اسے کھیلنے کا بہت شوق تھا اور وہ بہت اچھی طرح گھڑ سواری کر سکتی تھی۔

اس دن وہ گھوڑے لے کر ہی کٹھوعہ کے جنگل میں گئی تھی جب اسے اغوا کر لیا گيا اور سات دنوں تک اجتما‏عی ریپ کے بعد لاش کو جنگل میں پھینک دیا گيا ۔  غمزدہ ماں بتاتی ہیں : ‘پہلے میری تین بیٹیاں تھیں۔ اب دو ہی رہ گئی ہیں۔’ اپنی اس بیٹی کو انھوں نے اپنے بھائی کو گود دیا تھا کیونکہ بھائی کی بیٹی کی ایک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔ حادثے کے وقت بچی کے اصل ماں بات سانبا میں ڈیرہ ڈالے ہوئے اور ان کی بچی اپنے ماموں کے ساتھ کٹھوعہ کے اس گاؤں میں رہ رہی تھی۔

سات دنوں کے بعد بھی لاش کا حاصل کرنا بہت آسان کام نہیں تھا۔ بچی کے والد نے وضاحت کی: ‘پولیس والے یہ کہنے لگے کہ آپ ہی کی بکروال برادری میں سے کسی نے اسے مار ڈالا ہو گا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ گاؤں والے تو ایسا برا کام نہیں کر سکتے۔’ بچی کی ماں نے کہا: ‘اپنی موت مر جاتی تو صبر کر لیتے۔ سمجھتے کہ مر گئی۔ دنیا مرتی ہے سو وہ بھی مر گئی۔’ جبکہ بچی کے والد نے کہا: ‘ہم اپنی بیٹی کو اپنے قبرستان میں دفن بھی نہیں کر سکے۔ اسے ہمیں رات میں ہی دوسرے گاؤں لے جانا پڑا۔’

فیصل محمد علی
بی بی سی نمائندہ، ادھم پور

انڈیا : ریپ معاشرے کی بے حسی کا عکاس

گذشتہ جنوری میں جموں کے کٹھوعہ ضلع میں مسلم خانہ بدوش بکروال قبیلے کی ایک آٹھ سالہ بچی معمول کے مطابق اپنے گھوڑوں کو گاؤں سے دور جنگل کے علاقے میں چراگاہوں کی طرف لے کر گئی۔ شام میں جب وہ گھر نہیں لوٹی تو گھر والوں کو تشویش ہوئی۔ ایک ہفتے بعد اس کی لاش جنگل سے بر آمد ہوئی۔
پولیس کو ابتدائی تفتیش سے معلوم ہو گیا کہ بچی کو ریپ کیا گیا ہے۔ پولیس نے جیسے ہی ملزموں کی نشاندہی کی، مقامی آبادی پولیس افسروں کے خلاف ہو گئی۔
آٹھ سالہ بچی کے بہیمانہ ریپ اور قتل کی واردات کو مذہبی ٹکراؤ کا رنگ دے دیا گیا۔ جموں کے وکلا اور ہندو ایکتا منچ نام کی ایک دائیں بازو تنظیم نے ملزموں کی حمایت میں جلوس نکالے۔ بی جے پی کے بعض وزرا بھی اس میں شریک ہوئے۔ جموں بند کا نعرہ دیا گیا۔ یہاں تک کہ وکلا نے پولیس کو عدالت میں فرد جرم داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور کئی گھنٹے کی جد و جہد کے بعد کہیں جا کر ملزموں کے خلاف فرد جرم داخل کی جا سکی۔

وکلا کا کہنا ہے کہ پولیس نے جانبداری سے تفتیش کی ہے۔ وہ سی بی آئی سے اس معاملے کی تفتیش کرانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ متاثرہ بچی کے والدین نے خوفزدہ ہو کر کٹھوعہ چھوڑ کر کسی اور جگہ کے لیے سفر شروع کر دیا ہے۔ عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے والی وکیل کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
آٹھ سالہ خانہ بدوش بچی کے ریپ اور قتل کی واردات کے بارے میں پولیس کی تفتیش سے جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ انتہائی بربریت کا پتہ دیتی ہیں۔ پولیس نے فرد جرم میں بتایا ہے کہ یہ ریپ اتفاقیہ نہیں ہے۔ یہ ایک منصوبہ بند جرم کی واردات تھی جس کا مقصد بکروال خانہ بدوشوں کو خوفزدہ کر کے کٹھوعہ سے بھگانا تھا۔

اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس سے جموں کے مسلمانوں میں دہشت پیدا کی جا سکے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ کہ اس واردات کے تین مہینے گزرنے اور جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کے باوجود ریپ کے اس سنگین واقعے پر پورا ملک خاموش رہا۔ ملک کا ضمیر اس وقت جاگا جب ریپ کا ایک اور بہیمانہ واقعہ سامنے آ گيا۔ یہ واقعہ اتر پردیش کے اناؤ ضلع کا ہے۔ اس واقعے میں مبینہ طور پر ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی۔ ریپ کا الزام حکمراں بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی پر ہے۔

یہ واردات جون کی ہے۔ متاثرہ لڑکی دس مہینے سے ریپ کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ تھک ہار کر گذشتہ ہفتے متاثرہ لڑکی اور اس کی ماں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ انھیں تو بچا لیا گیا۔ لیکن چند دنوں بعد لڑکی کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ الزام ایم ایل اے کی بھائی پر ہے۔ میڈیا میں اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ہر طرف شور مچنے لگا۔ بحث شروع ہو گئی۔ معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ رکن اسمبلی کے خلاف اب رپورٹ درج ہو گئی ہے لیکن وہ ایک نابالغ لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزام میں ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے تھے۔

حالیہ برسوں میں سی بی آئی کی شبیہ اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور لوگوں کو اس کی تفتیش پر بھروسہ نہیں رہا۔ انھیں لگتا ہے کہ یہ تفتیشی ایجنسی سیاسی دباؤ میں کام کرتی ہے۔ اناؤ اور کٹھوعہ کا واقعہ انڈین معاشرے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور سیاسی اور سماجی بے حسی کا عکاس ہے۔ اناؤ میں ایک بے بس خاندان ریپ کی رپورٹ درج کرانے کے لیے خودکشی کے اقدام تک کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ جبکہ کٹھوعہ کے واقعے میں جموں بار ایسو ایشن کے وکلا اور حکمراں بی جے پی کے کئی وزرا اس سنگین واردات کو مذہبی رنگ دے کر ملزموں کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں اور ہڑتالیں کرتے ہیں۔ ریاست اور انصاف کے نظام کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔

انڈیا میں اناؤ اور کٹھوعہ جیسے ریپ کے واقعات پر مہینوں تک سیاسی جماعتوں اور لوگوں کی خاموشی خطرناک روش ہے۔ یہ انسانوں سے انسانوں کی بیزاری، بےحسی اور نفرت کی عکاس ہے۔ ملک میں جس طرح کی سیاست ہو رہی ہے اور جس طرح کی فضا قائم ہوئی ہے اس کا واحد مقصد کسی بھی طرح اقتدار کا حصول اور اپنے اقتدار کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہے۔ امن و قانون اور عدل و انصاف کے ادارے شدید دباؤ میں ہیں۔ سیاست میں اخلاقیات اور ایمانداری کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں انسانیت اور ضمیر کی آوازیں رفتہ رفتہ دبتی جا رہی ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی فضا میں عوام کا آخری سہارا عدلیہ ہے۔ اگر ‏عدل و انصاف کا نظام بھی لڑ کھڑا گیا تو پھر جمہوریت کے سارے راستے بند ہو جائیں گے۔

شکیل اختر
بی بی سی نامہ نگار، دہلی