مودی کا یوم حساب قریب ہے

مقبولیت کھوتی مودی حکومت جب اقتدار میں آئی تھی اس وقت ان کی مقبولیت عروج پر تھی اوران کے پاس اکثریت کے ساتھ اتنی سیٹیں موجود تھیں کہ وہ اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دے لے۔ مودی حکومت نے ابتداء مقبولیت سے تو کی لیکن بتدریج ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی رہی جس کی مختلف وجوہات رہیں، کبھی کرنسی نوٹوں کی تبدیلی ان کی مقبولیت میں کمی کا باعث بنی تو کبھی ان کےسب سے قریب اور مضبوط اتحادی تیلگو دیشم پارٹی کی ان سے علیحدگی اس کا باعث قرار پائی۔ اقلیتیں خاص طور پر مسلمان ان کی حکومت میں نشانہ رہے، انہیں کبھی گائو رکشک کےغنڈوں کے ہاتھوں قتل کرایا گیا تو کبھی حج پر مسلمانوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر کے، اب اگلے سال یعنی 2019  میں پارلیمانی انتخاب ہونے والے ہیں، اس حوالے سے مودی سرکار اور ان کی جماعت کی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی کے احساس کے بعد مودی حکومت اور ان کی جماعت اس کوشش میں ہے کہ جائز نا جائز کوئی ایسا کام کیا جائے جس کی بنیاد پر یہ لوگ ووٹ لینے عوام میں جا سکیں۔ ماضی میں بھارتی حکومتوں کا وتیرہ رہا ہے کہ جب بھی انہیں اپنی ناکامیاں سامنے نظر آئیں، انہوں نے پاکستان کو ہدف بنایا اور یوں اپنی ساکھ کو بچانے کی کوششیں کیں، مودی سرکار کو بھی جب اگلے الیکشن کی فکر لاحق ہوئی تو انہوں نے بھی پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ مودی کے دورِ حکومت میں کنٹرول لائن کی صورت حال کو خراب کیا گیا، پاکستانی علاقوں میں بلا اشتعال فائرنگ، گولہ باری معمول بنا دی ہے، کشمیر میں مظالم انتہا کو چھو رہے ہیں اور ہر روز کشمیریوں کو لاشوں کے تحفے دیے جا رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں مودی سرکار نے ایک اور شرانگیزی کرتے ہو ئے پاکستانی سفارتکار کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جس کا مقصد اپنی ساکھ کو بچانا اور عالمی برادری میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی ’این آئی اے‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ویزا قونصلر عامر زبیر صدیقی جنوبی بھارت میں امریکا اور اسرائیلی قونصل خانوں پر ممبئی طرز کے حملوں کی پلاننگ کر رہے تھے۔ این آئی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ عامر زبیر صدیقی جو 2009ء سے 2016ء تک پاکستانی سفارتخانے میں تعینات رہے، اس دوران انہوں نے ممبئی حملوں کی پلاننگ کی۔

اڈیالہ جیل میں ’اہم مہمان‘ کی میزبانی کی تیاریاں

سینٹرل جیل اڈیالہ میں کسی اہم مہمان کی میزبانی کے لئے تیاریاں شروع کر دی گئیں ہیں، ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے احاطہ میں واقع ہائی سیکیورٹی جیل کی تزئین وآرائش شروع کر دی گئی ہے جہاں مختلف سیلوں میں وائٹ واش کرایا جا رہا ہے اور بلبوں اور نئی لائٹس بھی لگائی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی جیل میں ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی سماعت کے لئے سپیشل روم بھی بنائے گئے ہیں جب کہ خطرناک اور اہم اسیروں کو بھی اسی جیل میں رکھا جاتا ہے یہاں آئندہ کیا کسی اہم شخصیت کو بطوراسیر لایا جائے گا یا پھر آئندہ چند روزمیں کسی اہم شخصیت نے اس جیل کا دورہ کرنا ہے اس بارے جیل انتظامیہ نے چپ سادھ رکھی ہے۔

وسیم اختر

امریکی سفارتکار کیخلاف قانونی کارروائی ناگزیر

ملک بھر میں کروڑوں پاکستانی ٹی وی چینلوں پر اس واقعے کی رپورٹ دیکھ کر شدید صدمے اور حیرت سے دوچار رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں امریکی ملٹری اتاشی کی گاڑی کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان پاکستانی شہری کی ہلاکت اور اس کے ساتھی کے شدید زخمی ہونے کے باوجود پولیس نے گاڑی ڈرائیو کرنے والے کرنل جوزف عمانویل کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر چھوڑ دیا اور جواز یہ پیش کیا کہ سفارت کاروں کو ملکی قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے جبکہ شواہد کے مطابق ملٹری اتاشی نے سگنل توڑ کر نوجوانوں کو کچلا تھا۔

سفارت کاروں کو ملکی قوانین سے ایسی کھلی چھوٹ کا حاصل ہونا لوگوں کے لیے بجا طور پر قطعی ناقابل فہم تھا۔ تاہم حکومتی سطح پر ہفتے کو اس واقعے کا نوٹس لیے جانے کی کوئی اطلاع منظر عام پر نہیں آسکی لہٰذا لوگ سخت اضطراب اور بے چینی میں مبتلا رہے۔ بہرکیف امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا جہاں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ان سے اس المناک واقعہ پر احتجاج کیا اور انہیں باور کرایا کہ نوجوان کی ہلاکت کے معاملے میں ملکی قوانین اور ویانا کنونشن کے مطابق مکمل انصاف کیا جائے گا.

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی ٹوئٹ کے مطابق امریکی سفارت کار نے واضح طور پر ٹریفک قانون توڑا جس کے باعث نوجوان جاں بحق ہوا جبکہ زخمی ہونے والے نوجوان کا بیان بھی یہی ہے۔ لہٰذا امریکی ملٹری اتاشی کے خلاف ضروری قانونی کارروائی میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لیا جانا چاہیے اور انصاف کے تقاضوں کی جلد ازجلد تکمیل کا اہتمام ہونا چاہیے۔ جب امریکہ میں قانون کی پابندی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم بھی ایئرپورٹ پر جسمانی تلاشی کے عمل سے گزرتا اور اس کارروائی کو قانون کا تقاضا قرار دے کر خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے تو امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار کی غیرذمہ داری سے ایک پاکستانی شہری کی جان کے نقصان کا معاملہ کسی رعایت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے۔

کشمیر : ہر خاندان کی اپنے پیارے کو کھو دینے کی کہانی ہے

خاندان تباہ، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ یہ سب ایک ہی دن میں ہوا۔ انڈین فوجیوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی حصے میں شدت پسندوں کے خلاف تین مختلف آپریشنز کیے۔ شدت پسندوں کے ساتھ کئی گھنٹے ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں 13 شدت پسند، چار عام شہری اور تین فوجی ہلاک ہوئے۔ 35 سالہ مشتاق احمد، 19 سالہ مہراج الدین میر، 19 سالہ زبیر احمد بھٹ اور 27 سالہ محمد اقبال بھٹ وہ چار عام شہری تھے جو مبینہ طور پر انڈین فوجیوں کی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔ 35 سالہ مشتاق احمد کے رشتے دار نذیر احمد نے کہا ’وہ گھر پر سویا ہوا تھا۔ جب رات دو بجے فوج آئی تو انھوں نے مشتاق سے ان کے ساتھ آنے کو کہا۔ اس کے بعد جلد ہی فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا اور ہم نے اس کو صبح تک نہیں دیکھا۔‘

مشتاق کے ایک اور خاندان والے نے بتایا کہ مشتاق کے خاندان والوں کو اس کی موت کا صبح فائرنگ رکنے کے بعد معلوم ہوا۔ ان کو بتایا گیا کہ اس کی لاش ضلعی پولیس لائنز میں پڑی ہے۔ ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ مشتاق کی مدد تلاشی لینے کے لیے درکار ہے اور وہ واپس آ جائے گا۔‘ مشتاق کی اہلیہ رقیبہ اپنے شوہر کی تلاش میں صبح ساڑھے آٹھ بجے نکلیں۔ جب انڈین فوج سے اپنے شوہر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا ’وہ محفوظ ہے اور جلد گھر واپس آ جائے گا‘۔
لیکن کئی گھنٹوں بعد مشتاق کی لاش واپس آئی۔

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محمد اقبال کی ڈیڑھ سال کی بیٹی کو اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا والد کہاں گیا ہے۔ وہ کھیلنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے چہرے سے افسردگی عیاں ہے۔ 27 سالہ محمد اقبال بھٹ کے بڑی بھائی نواز احمد بھٹ نے بتایا ’وہ صبح اپنے سسرال اپنی بیٹی کو لینے گئے تھے۔ ہمیں اسی کے فون سے کسی اور شخص نے فون کیا کہ اقبال پیٹ میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوا اور اس کو ضلعی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس نے دم توڑ دیا۔‘ اقبال کا آبائی قبرستان آس پاس تعمیراتی کام کے باعث پتھروں سے بھرا ہوا ہے اس لیے اقبال کو گھر کے باغیچے ہی میں دفن کر دیا گیا۔

ہر خاندان کی اپنے پیارے کو کھو دینے کی کہانی ہے۔ 19 برس کا زبیر احمد ایک ذہین طالب علم تھا اور فارغ وقت میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ وہ صبح کی نماز پڑھ کر اپنے خاندان والوں کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔ جب ان کو اطلاع ملی کے ان کے گھر سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے تو وہ اس مقام کی جانب چل پڑے۔ زبیر نے اپنے خاندان کی صابن بنانے کی فیکٹری کا اس دن آغاز کرنا تھا لیکن انھوں نے اپنے والد کو بتایا کہ حالات اچھے نہیں ہیں اس لیے ایک روز کے لیے فیکٹری کا آغاز روک دیں۔ زبیر کے والد نے کہا ’فائرنگ کے تبادلے میں ایک گولی زبیر کے دل پر لگی۔‘

19 سالہ مہراج الدین بھی طالب علم تھا۔ وہ صبح گھر والوں کو بتا کر نکلا کہ وہ قریب ہی واقع سیاحتی مقام اہربال جا رہا ہے۔ لیکن وہ اس جگہ چلا گیا جہاں پر فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ مہراج کے والد محمد یاسین میر نے بتایا ’شام چھ بجے تک تو ہمارا خیال تھا کہ وہ دوستوں کے ہمراہ ہے لیکن پھر ہمیں بتایا گیا کہ وہ گولی لگنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ ہمیں ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے۔‘

وقار سید
شوپیاں، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر

بشکریہ بی بی سی اردو