امریکا پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کے لیے متحرک ہو گیا اور اس حوالے سے فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے سامنے ایک تحریک پیش کی جائے گی، تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو ناکام بنانے کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی رکن ریاست کا اجلاس آئندہ ہفتے پیرس میں ہو گا، جہاں تنظیم کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ کی جانب سے کئی ہفتوں قبل ہی تحریک تیار کر لی گئی تھی اور بعد میں فرانس اور جرمنی نے بھی اس میں تعاون کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے رابطے میں ہیں تاکہ عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کی نامزدگی کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ اگر امریکا نامزدگی واپس لینے پر راضی نہیں بھی ہوا تو ہم واچ لسٹ میں نام ڈالنے کے عمل کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بھارت کے کہنے پر یہ تحریک پیش کی جا رہی ہے اور اس کی اصل توجہ حافظ سعید پر مرکوز ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے ان پر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایف ٹی اے ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو لڑائی کرنے والوں کی معاونت کا عالمی معیار کا تعین کرتا ہے جبکہ 2012 سے 2015 تک پاکستان اس کی واچ لسٹ میں شامل رہ چکا ہے۔
وزارت پیٹرولیم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی شرح کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ وزارت پیٹرولیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے 9 پیسے ہے جب کہ اِس وقت صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت 95 روپے 83 پیسے مقرر ہے۔
اس طرح فی لیٹر ڈیزل پر حکومت صارفین سے 40 روپے 74 پیسے ٹیکسز وصول کر رہی ہے یعنی ڈیزل کے ہرلیٹر پرعوام سے 74 فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہے جب کہ صارفین کے لیے پیٹرول کی موجودہ قیمت 84 روپے 51 پیسے ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکسزکی شرح 34 روپے 24 پیسے ہے۔ یعنی پیٹرول کی مد میں بھی حکومت اس کی اصل قیمت پر 68 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے۔