پاکستان کے وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر سال لگ بھگ 120 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ملک میں بجلی کی کمی پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے تاہم ان کے بقول بجلی کی چوری اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کنٹرول کرنا حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اویس لغاری نے یہ بات نجی ٹی وی چینل ‘دنیا نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال چوری ہونے والی اربوں روپے کی بجلی کا بوجھ ان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے جو باقاعدگی سے اپنے بل ادا کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جن کے زیرِ انتظام علاقوں میں بجلی چوری ہو رہی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ اس سے پہلے حکومت کی ساری توجہ بجلی کی پیداوار بڑھانے پر مرکوز تھی تاہم ان کے بقول اب حکومت بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دے رہی ہے تاکہ بجلی کی چوری کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا اس مقصد کے لیے حکومت مختلف منصوبوں اور تجاویر پر غور کر رہی ہے جس میں بجلی کے پری پیڈ میٹر نصب کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ عالمی بینک بھی پاکستان کو ملک میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر کرنے کے منصوبے کے لیے 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرضے کی منظوری دے چکا ہے۔
اس منصوبے کے لیے فراہم کردہ مالی وسائل کو پاکستان میں بجلی کی ترسیل کے قومی نظام کو جدید انداز میں استوار کرنے لیے استعمال کیا جائے گا جس کے تحت 500 اور 200 کلو واٹ بجلی کی ترسیل کی لائنز کو توسیع دے کر ان کو مزید بہتر کیا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت نے ملک میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار چار کمپنیوں کے سربراہوں کو بجلی کی چوری اور ترسیل کی نظام میں ہونے والے نقصانات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے ایک ترجمان کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (پیسکو)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کیوایسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کے سربراہان کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ترجمان کے بقول ان عہدیداروں کے خلاف یہ کارروائی ان کے علاقوں میں بجلی کی چوری اور بجلی کی نظامِ ترسیل میں ہونے والے نقصانات پر قابو نہ پانے کی بنا پر کی گئی ہے۔
لیبیا کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش میں ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی ہے۔ اس کشتی کے ڈوبنے کے باعث قریب 90 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کشتی پر زیادہ تر پاکستانی تارکین وطن سوار تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ (IOM) کے حوالے سے بتایا ہے کہ تارکین وطن سے بھری یہ کشتی جمعہ کی صبح ڈوبی۔ ڈوبنے والی اس کشتی پر سوار تین افراد کے بچ جانے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 10 لاشیں کنارے تک پہنچی ہیں۔ حادثے میں بچ جانے والے افراد کے مطابق 90 تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے ہے۔
آئی او ایم کی ترجمان اولیویا ہیڈون کے مطابق بچ جانے والوں نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ اس کشتی پر سوار زیادہ تر تارکین وطن کی اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی جو ایک گروپ کی صورت میں نکلے اور اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ تیونس میں موجود اولیویا ہیڈون نے بذریعہ فون یہ بات جنیوا میں دی جانے والی ایک نیوز بریفنگ میں بتائی۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق بہتر زندگی کی خواہش رکھنے والے 43،000 تارکین وطن کو رواں برس سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی ترجمان اولیویا ہیڈون کے مطابق، ’’اس حادثے میں بچ جانے والے تارکین وطن کے مطابق کشتی ڈوبنے کے باعث سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والوں کی تعداد 90 ہے، لیکن ابھی ہمیں ان افراد کی تعداد کی تصدیق کرنا ہے جو اس سانحے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قبل ازیں لیبیا کے مغربی شہر ’زوراوا‘ میں حکام نے کہا تھا کہ ڈوبنے والی کشتی سے تین افراد کو بچایا گیا ہے جن میں سے دو لیبیا کے جب کہ ایک پاکستانی شہری ہے۔
حکام کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ 10 لاشوں کو سمندر سے نکالا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر پاکستانی شہری تھے۔ تاہم اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔ سمندری راستے کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے لیبیا حالیہ عرصے کے دوران مرکز کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ چار برس کے دوران چھ لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن لیبیا سے بذریعہ سمندر اٹلی پہنچے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپ کا رُخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن مختلف راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔