راؤ انوار نے جعلی پولیس مقابلوں میں 250 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا

انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار سندھ پولیس کا متنازع ترین افسر ہے، کہا جاتا ہے کہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مبینہ پولیس مقابلوں میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، معجزاتی طور پر کسی بھی پولیس مقابلے میں راؤ انوار اور ان کی ٹیم کے کسی ممبر کو خراش تک نہ آئی۔ سندھ پولیس کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ، ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پولیس میں بااختیاراورطاقتور ترین افسر سمجھے جاتےہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ راؤانور کے پاس لائسنس ٹو کل ہے تو غلط نہ ہو گا، نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلےمیں ہلاکت کے بعد ان کیخلاف اٹھنے والی آوازوں نے راؤ انوار کے پولیس مقابلوں کو ایک بار پھر مشکوک بنا دیا ہے۔

راؤ انوار قسمت کے دھنی ہیں یا پھر ان کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہے، جہاں بھی وہ پولیس مقابلہ کرتے ہیں وہاں ہمیشہ دہشت گرد مار دیئے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پرراؤ انوار نے جتنے پولیس مقابلے کیے، ان میں 90 فیصد مبینہ دہشت گرد مار دیئے گئے، پولیس پارٹی کو خراش تک نہ آئی۔ مبینہ پولیس مقابلوں میں دہشت گردوں سے بھاری اسلحہ برآمدگی کے دعوے بھی کیے گئے جس کا کبھی فرانزک ٹیسٹ نہیں کیا گیا، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے راؤ انور کے مقابلوں کو جعلی قرار دیا گیا، اختیارات سے تجاوز کرنے پر انہیں کئی بار توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے گئے، تحقیقاتی کمیٹیاں بنیں مگر راؤ انور کا کوئی کچھ بھی نہ بگاڑ سکا۔

انیس سو بیاسی میں اے ایس آئی بھرتی ہونےوالے راؤ انوار سابق صدر آصف علی زرداری کے خاص آدمی سمجھے جاتے ہیں اور اسی بنا پر وہ گریڈ 18 کے افسر ہونے کے باوجود گریڈ 19 کی پوسٹ پر براجمان ہیں۔ پولیس میں افسران کےتقرر و تبادلے معمول ہیں مگر راؤ انوار کئی سالوں سے اپنے پسندیدہ ضلع ملیر میں تعینات ہیں، ان پر دو بار مبینہ خود کش حملے بھی ہوئے ہیں مگر وہ بچ گئے، کئی بار معطل بھی ہوئے اور کچھ وقت کے بعد وہ پھربحال کر دئیے گئے، دیکھنا یہ ہے کہ ان کی اس بار کی معطلی کیا رنگ لاتی ہے؟

راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا کر گرفتار کر نے کی سفارش

نقیب اللہ کی مبینہ مقابلے میں ہلاکت کی تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آئی جی سندھ کو ارسال کر دی، ذرائع کے مطابق تحقیقات میں نقیب اللہ کے دہشت گرد ہونے کا تاحال کوئی ثبوت نہیں ملا، مزید تحقیقات جاری ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی نے راوانوار کو عہدے سے ہٹا کر مقدمہ درج اور گرفتار کر کے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی ہے، کمیٹی کے سربراہ ثنااللہ عباسی کے مطابق ہم نے مبینہ مقابلے کی جگہ بھی اور سینٹرل جیل جا کر کچھ لوگوں کے انٹرویو بھی کئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے ممبران آزاد خاں اور سلطان علی خواجہ نے کیس میں بہت محنت کی ہے، ثنااللہ عباسی نے کہا کہ ہمارا کام انصاف دلانا ہے اور لوگ انصاف ہوتا ہوا دیکھیں گئے۔ ابتدائی رپورٹ میں مقابلے میں شریک تمام پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کی سفارش کی گئی ہے، علاوہ ازیں تحقیقاتی کمیٹی کا ایک اجلاس ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں بھی ہوا، جہاں شاہ لطیف ٹاون تھانے کے 7 اہلکاروں کے بیانات قلمبند کئے گئے، انھوں بیان دیا کہ جب ایس ایچ او شاہ لطیف نے ہمیں جائے وقوع بلایا تو ہلاکتیں ہو چکی تھیں۔

جانتے ہیں کہ پاکستان کا قومی مشروب کون سا ہے ؟

یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کا قومی پھل آم ہے لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ ہمارا قومی مشروب کون سا ہے اور سن کر آپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی۔ خبر کے مطابق پاکستان کا قومی مشروب “گنے کا رس” ہے جو سڑک کنارے ٹھیلوں پر فروخت ہوتا ہے۔ گاہک کے آنے پر ٹھیلے والا تازہ رس نکال کر پیش کرتا ہے جس میں ذرا سی ادرک، لیموں، نمک وغیرہ بھی شامل کی جاتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو پاکستانی کی چند دیگر قومی اشیاءکے بارے میں بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض، قومی درخت دیودار، قومی پھول چنبیلی، قومی پرندہ چکور، قومی جانور مار خور اور قومی کھیل ہاکی ہے۔

عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی جہاز گرانے والے پاکستانی ہواباز کے لئے ایوارڈ

پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ ملک کے تمام دشمن یکجا ہو کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں مگر وہ ہمیشہ اپنی کوششوں میں نا کام رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس پر کوئی بری نظر ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ پاک فضائیہ اور مسلح افواج، عوام کے ساتھ مل کر دشمن ممالک کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیں گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان کا اشارہ پاکستان کے روائتی حریف بھارت اور اسرائیل کی جانب تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے حال ہی میں بھارت کا دورہ بھی کیا اور دفاع سمیت کئی شعبوں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے۔

ائیر چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاک فضائیہ اپنے پیشروؤں کی بے مثال قربانیوں اور پیشہ وارانہ مہارت کی بدولت مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار 1974 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے میں شریک کموڈور ریٹائرڈ ستارعلوی کو خراج پیش کرنے کے لیے ہونے والی تقریب میں کیا۔ کموڈور ستار علوی نے شامی فضائیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج طیارے کو دوران جنگ مار گرایا تھا۔ تقریب میں ستار علوی نے مار ے جانے والے اسرئیلی پائلٹ کیپٹن لٹز کے فلائنگ کوور آل (سوٹ) کو پی اے ایف میوزیم میں رکھنے کے لئے بھی پیش کیا۔

ائیر چیف نے ائیر کموڈور ستار علوی (ریٹائرڈ) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم لڑاکا ہواباز ہیں جنہوں نے 1974ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران شامی فضائیہ کے مگ۔21 میں پرواز کرتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج ائیر کرافٹ کو تباہ کیا تھا اور وہ یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دینے والے دنیا کے واحد پائلٹ ہیں۔ اس بہادری پر انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ جرأت اور شامی حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ فارس اور تمغہ شجاعت کے اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران ، شہداء کے لواحقین اور کراچی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے شرکت کی۔