پی آئی اے کو انتخابات سے قبل فروخت کر دیا جائے گا

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے نجکاری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس برس انتخابات سے قبل قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل سن 2016 میں روک دیا گیا تھا ۔  خسارے کا شکار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن اپنی مارکیٹ اتحاد اور ایمیریٹس جیسی ایئر لائنز کے باعث بھی تیزی سے کھو رہی ہے۔ سن 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجیحات میں اس قومی ایئر لائن کی نجکاری بھی شامل تھی۔ عالمی مالیاتی ادارے کی قرضہ دینے کی شرائط میں خسارے کا شکار جن 68 قومی اداروں کی نجکاری کرنے کا کہا گیا تھا، پی آئی اے اس میں بھی سر فہرست تھی۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے قومی اداروں کی نجکاری میں ابتدائی طور پر تیزی سے کامیابی حاصل کی لیکن پی آئی اے کی نجکاری میں انہیں کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سن 2016 میں قومی اسمبلی میں پاس کیے جانے والے ایک قانون کے بعد انتہائی خسارے کے شکار اس قومی ادارے کو نجی ملکیت میں دینے کا حکومتی منصوبہ عملی طور پر ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ جاری کردہ لسٹ میں اس ایئر لائن کو ساٹھ بڑی ایئرلائنز کی درجہ بندی میں آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔ سن دو ہزار سولہ میں تائیوان کی اس کمپنی کے جہازوں پر تین عشاریہ سات ارب انسانوں نے سفر کیا۔ درجہ بندی کے حوالے سے اس ایئرلائن پر سفر کرنے والے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔

تاہم روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت اب رواں برس کے ملکی انتخابات سے قبل پی آئی اے کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عزیز کے مطابق یہ منصوبہ تیار ہو چکا ہے جسے اب اگلے مرحلے میں کیبنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ نئے منصوبے کے تحت قومی ایئر لائن کی ملکیت میں موجود دیگر کاروبار الگ کرنے کے بعد اس قومی ادارے کو فروخت کیا جانا ہے۔
لیکن کابینہ سے منظوری کے بعد بھی حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ملکی پارلیمان میں نئی قانون سازی کر کے سن 2016 کے اس قانون کو ختم کرنا پڑے گا جس کے تحت پی آئی اے کو لیمیٹڈ کمپنی قرار دیا جا چکا ہے۔

اس ادارے کی جلد از جلد فروخت کی کوشش کا بنیادی محرک اسے لاحق خسارہ ہے۔ پی آئی اے کے ایک سابق سی ای او کے اندازوں مطابق ادارے کو ہر ماہ 30 ملین ڈالر نقصان کا سامنا ہے اور گزشتہ برس مارچ تک اس قومی ادارے کے ذمے واجب الادا قرض 186 ارب پاکستانی روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔ روئٹرز نے دانیال عزیز سے پوچھا کہ ادارے کو خریدنے والا کتنی جلدی اسے خرید پائے گا تو ان کا جواب تھا، ’’کل صبح ہی، اگر آپ کے پاس پیسے ہیں، آئیے اور اسے خرید لیجیے۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پی آئی اے کو کتنی قیمت کے عوض فروخت کیے جانے کی توقع ہے۔

بشکریہ DW اردو

اصلاح معاشرہ کون کرے گا ؟

قصور سانحہ پر نہ سیاست ہونی چاہیے اور نہ ہی اس واقعہ کو کسی مغربیایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے کو استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ یہ دونوں کام خوب زور و شور کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ حقیقت میں جن اقدامات کی ہمیں اشد ضرورت ہے اُن کے متعلق بات کوئی نہیں کر رہا۔ پہلے تو ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی معاشرہ شدید تنزلی کا شکار ہے جس کو روکنے اور بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ اصل ذمہ داری حکومت اور پارلیمنٹ کی ہے لیکن ہمارے حکمران اور سیاستدان تو کسی بھی مسئلہ پر میڈیا کے ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور اس طرح جس گراوٹ کا ہم بحیثیت قوم شکار ہیں اُس میں کمی کی بجائے مزید تیزی آ رہی ہے۔

قصور سانحہ پر میں نے اپنے گزشتہ کالم میں مطالبہ کیا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق سفاک مجرموں کو عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چوکوں چوراہوں پر لٹکایا جائے تاکہ معاشرے کے لیے نشان عبرت بن سکیں لیکن مجھے امید نہیں کہ شہباز شریف یا پاکستان کا کوئی دوسرا حکمران ایسا کر سکتا ہے کیو نکہ وہ سب میڈیا سے ڈرتے ہیں اور مغرب کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ مغرب کی تقلید اور میڈیا سے ڈرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی کیا وجوہات ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس جب حل کی بات ہوتی ہے تو میڈیا ہمیں مغرب کا سبق پڑھاتا ہے۔ قصور سانحہ کے بعد فلم و شوبز انڈسٹری کے افراد کے ذریعے قوم کو بتایا گیا کہ قصور جیسے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

مختلف علاج تجویز کیے گئے لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس قسم کے جرائم میں بڑھتی فحاشی و عریانی کا کتنا کردار ہے؟ کسی نے یہ نہیں بولا کہ ہماری فلموں، ڈراموں، اشتہاروں اور میڈیا کے ذریعے کس انداز میں جنسی بے راہ روی کے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں اور ایسے رجحانات جرائم کا سبب کیسے بنتے ہیں!کسی نے اس بات کی نشاندھی نہیں کی کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ معاشرے کی اخلاقیات کی تباہی میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اب موبائل فون معاشرتی خرابیوں، برائیوں کے علاوہ جنسی جرائم کی ایک اہم وجہ بن چکے ہیں!!

افسوس کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سخت نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے!! والدین کی ذمہ داری پر تو بات ہوئی لیکن کسی نے یہ بات نہیں کی کہ ماں جو بچے کے لیے سب سے اہم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اُسے تو ہم نے حقوق نسواں اور برابری کے نام پر اپنی اصل ذمہ داری یعنی بچوں کی پرورش اور اُن کی دیکھ بھال سے دور کر رہے ہیں اور اب بچوں کو ملازموں، آیائوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں، ڈے کیئر سینٹرز کے حوالے کرنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے!! کیا کوئی دوسرا بچوں کی پرورش، اُن کی تربیت اور دیکھ بھال میں ماں کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟؟

کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کیا ہم نکاح کو مشکل نہیں بنا رہے؟ کوئی مخلوط نظام تعلیم کی خرابیوں اور ان کے منفی اثرات کو اجاگر کیوں نہیں کرتا؟ کوئی شرم و حیا اور پردہ جیسے اسلامی احکامات کی نفی کرنے والوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اُٹھاتا ؟ کوئی یہ بات کیوں نہیں کرتا کہ ہماری تعلیم میں تربیت کو کیوں شامل نہیں کیا جا رہا اور تربیت کے لیے اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنانے میں کون کون رکاوٹ ہیں؟ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ماحول بنانے اور معاشرہ اور اس کے افراد میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور آخرت کا خوف پیدا کرنے کے لیے کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ کوئی حکومتوں ، حکمرانوں اور پارلیمنٹ پر اس بات پر زور کیوں نہیں دیتا کہ سزا و جزا کے اسلامی نظام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کو جنگی بنیادوں پر اصلاح اور افراد کو کردار سازی کی ضرورت ہے تاکہ حق اور باطل ، سچ اور جھوٹ ، ثواب اور گناہ، اچھائی اور برائی میں نہ صرف فرق واضح ہو بلکہ معاشرہ حق، سچ، اچھائی اور ثواب کے کاموں کا ساتھ دے اور باطل، جھوٹ، گناہ اور برائی کے کاموں سے دوسروں کو روکے؟

انصار عباسی

ایل او سی پر کشیدگی، کیا پاکستان کے خلاف کوئی سازش ہے؟

بھارت کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں چار پاکستانی سپاہیوں کی ہلاکت پر پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی ناقدین کے خیال میں یہ کشیدگی پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ کئی سیاست دانوں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارت کچھ دوسرے ممالک کے ساتھ ملک کر اسلام آباد کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

بھارت، اسرائیل اور امریکا ایک طرف چین کی ابھرتی ہوئی طاقت سے پریشان ہیں اور دوسری طرف امریکا بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی چین اور روس سے قربت بڑھی ہے اور سی پیک کے بعد اس قربت میں مزید مضبوطی آنے کا امکان ہے تو واشنگٹن اور نئی دہلی مل کر سی پیک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں تاکہ سی پیک کو ناکام کر کے ایک طرف پاکستان کو معاشی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جاسکے اور دوسری طرف چین کے اثر ورسوخ کو خطے میں بڑھنے سے روکا جا سکے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ان ہلاکتوں پر بہت زیادہ غصہ ہے۔ ’’بھارت اندھا دھند فائرنگ کر رہا ہے، جس سے شہری آبادی گزشتہ دو برسوں میں بہت متاثر ہوئی ہے لیکن پاکستان اس طرح کی فائرنگ نہیں کر سکتا کیونکہ سرحد کے دونوں اطراف کشمیری رہتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور کشمیری آبادی کا بعض اوقات زیادہ نقصان ہو جاتا ہے۔‘‘ دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم بھی سردار عتیق کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستا ن کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ’’گیارہ جنوری کو سی آئی اے چیف نے نئی دہلی کا دورہ کیا ہے اور را کا چیف ان کے ساتھ کابل گیا تھا۔ اب اسرائیلی وزیرِ اعظم بھارت کا دورہ کر رہا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تینوں ممالک پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ بھارت کو معلوم ہے کہ ہم نے مغربی سرحد پر بھی فوج لگائی ہوئی ہے اور فاٹا، کے پی اور بلوچستان میں بھی ہم مصروف ہیں، اس لیے وہ لائن آف کنڑول پر مسلسل گڑ بڑ کر رہا ہے۔‘‘

دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں مودی کے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔’’مودی نے اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو سبق سکھائے گا۔ اس کے آنے سے پہلے ایل او سی پر کبھی کبھار کشیدگی ہوتی تھی لیکن اب اس میں بہت شدت آگئی ہے۔ اس کشیدگی کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور دوسرا ایل او سی پر عام شہریوں کو مار کر وہ کہتا ہے کہ ہم نے کشمیر میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو مارا ہے۔ نئی دہلی سفارتی محاذ پر بہت سر گرم ہے۔ اس لیے اس کے اس دعویٰ پر بہت سارے ممالک یقین بھی کر لیتے ہیں جب کہ ہم اس حوالے سے بہت کمزور ہیں۔‘‘

ان کے خیال میں بھارت اور افغانستان پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں جب کہ امریکا اور اسرائیل ان کی معاونت کر رہے ہیں۔’’میرا خیال ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ امریکا ہمارا اتحادی نہیں ہے ۔ وہ بھارت کا دوست ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے ، جسے ہم جتنی جلدی سمجھ لیں ہمارے لیے بہتر ہے۔ موجودہ صورتِ حال کو ٹِلرسن کے بیان کی روشنی میں دیکھیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اپنے علاقے کھو سکتا ہے اور اسے ان امریکی سیاست دانوں کے بیانات کی روشنی میں پرکھیں، جس میں انہوں نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے بھارت کو استعمال کرے۔ بھارت امریکا کے ذریعے ہمیں جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ ہمیں سبق سکھا سکے۔ اسی لیے ہمارے ہتھیاروں کے حوالے سے بار بار پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔‘‘

لیکن کچھ ناقدین کی رائے میں نئی دہلی حکومت یہ سب کچھ صرف اندرونی سیاسی مفادات کے لیے کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ خورشید قصوری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایل او سی پر پاکستانی سپاہیوں کی شہادت بہت افسوس ناک ہے۔ میرے خیال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں جتنی زیادہ فرقہ وارانہ کشیدگی یعنی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جتنی کشیدگی ہو گی، ان کو اس سے اتنا ہی فائدہ ہو گا۔ کیونکہ وہ پاکستان اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں کرتے، تو ان کے خیال میں جتنی یہ دشمنی بڑھتی ہے، اتنا ہی ان کو انتخابی سیاست میں فائدہ ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ انہوں نے بہار اور گجرات کے انتخابات میں بھی یہ ہی طریقہ اپنایا۔ تو میرے خیال میں اس کشیدگی کا تعلق بھارت کی اندرونی سیاست سے زیادہ ہے۔‘‘ پاکستان نے ان مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف بھارت سے آج بھر پور احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ نے آج بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کیا اور ان اشتعال انگیز خلاف ورزیوں کی بھر پور مذمت کی۔

بشکریہ DW اردو