ذیابیطس (شوگر) سے کیسے بچا جائے ؟

ذیابیطس کو اگر خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا یہ ایسا مرض ہے جس کے لیے احتیاتی تدابیراختیار نہ کی جائے یا اس کوکنڑول کرنے کے لیے دوا نہ لی جائے تو یہ مرض آپ کو دن بدن گھلاتا رہتا ہے۔ ذیابیطس کے اسباب اورعلاج سے آگاہی زندگی کے لئے ناگزیر ہے اورغفلت سے یہ جان لیوا بیماری مریض کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔

ذیابیطس کیا ہے؟
ذیابیطس ایک ایسا دائمی مرض ہے جس میں شوگر کی مقدارمطلوبہ حد سے بڑھ جاتی ہے اور ذیابطیس لبلبے میں پیدا ہونے والے ہارمون انسولین کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

یہ کمی دو طرح کی ہو سکتی ہے:
ذیابیطس ٹائپ 1: لبلبے سے انسولین کی پیداوار کم یا ختم ہو جاتی ہے۔
ذیابیطس ٹائپ 2 : انسولین پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن کسی وجہ سے اس کا اثر کم ہوجاتا ہے۔

ذیابیطس سے کیسے بچا جائے؟
غذائی پرہیز ہی ذیابیطس کا واحد علاج ہے۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس لاعلاج مرض کے لاحق ہونے کا ایک اہم سبب بے احتیاطی ہے اگر کھانے میں توازن رکھا جائے اوراس میں پروٹین اور کاربوہائڈریٹس کی مناسب مقدار شامل ہو تو ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے۔ سستی، کاہلی اور بے پرواہی سے بھرپور طرز زندگی بھی اس مرض کا سبب بنتے ہیں۔

اگرذیابیطس ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
ذیابیطس ہونے کی صورت میں بلڈ شوگر لیول کا باقاعدہ کنٹرول رکھنا چاہیے۔ ٹائپ 1 ذیابیطس انسولین کے ساتھ ساتھ غذا کی تبدیلیوں اور مشق کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس بغیرانسولین کی ادویات، انسولین، وزن میں کمی، یا خوراک کی تبدیلیوں کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے۔ مناسب غذا اور صحت مند لائف اسٹائل کسی بھی طرح کی ذیابیطس کا علاج ہے.

پاکستان میں اس بیماری میں مُبتلا افراد
پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس یا شوگر کے مرض کا شکار ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہرسال اس مرض میں مبتلا 84000 پاکستانی موت کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے اوریہ تعداد سال در سال بڑھ رہی ہے، جس کو کنٹرول کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہی ہے کہ اپنی خوراک میں صحت مند غذا شامل کی جائے اور سُستی اورکاہلی سے بچنے کے لیے ایک ایکٹو لائف سٹائل اپنایا جائے۔

مولانا بھاشانی : سامراج مخالف اور کسانوں کے رہنما

مولانا عبدالحمید بھاشانی ایک مقبول مذہبی عالم اور سیاسی رہنما تھے۔ ان کا تعلق مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) سے تھا۔ وہ بے غرض تھے اور مظلوموں کے ہمدرد تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔ مولانا بھاشانی 1880ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شرافت علی خان تھا۔ 1907 اور 1909 کے درمیان انہوں نے مکتبہ دیوبند سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔ محمودالحسن (شیخ الہند) اور دوسرے ترقی پسند مسلمان مفکروں سے وہ بڑے متاثر ہوئے اور انہی کی وجہ سے وہ برطانوی استعمار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ 1909 میں انہوں نے ایک پرائمری سکول میں پڑھانا شروع کیا۔ 1917 میں مولانا بھاشانی عملی سیاست میں آئے اور نیشنلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی جس کی قیادت چنرن دان داس کر رہے تھے۔ 1919ء میں وہ انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہو گئے۔ 1920ء میں وہ گرفتار کر لیے گئے اور انہیں سزا بھی دی گئی۔

رہا ہونے کے بعد انہوں نے تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ 1921ء میں انہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف تحریک عدم تعاون میں حصہ لیا۔ اس وقت بھی انہیں اپنے ساتھیوں سمیت پابند سلاسل کر دیا گیا۔ 1930ء میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ 1937ء میں وہ آسام کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ 1946 تک کام کرتے رہے۔ اپریل 1944ء میں وہ مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے آپ کو تحریک پاکستان کیلئے وقف کر دیا۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد مولانا بھاشانی نے اپنے پروگرام کو عملی شکل دینے کی منصوبہ بندی کر لی۔ 23 جون 1949ء کو انہوں نے مشرقی پاکستان عوامی مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ بھاشانی کو اس کا صدر اور شمس الحق کو سیکرٹری منتخب کر لیا گیا۔ 24 جولائی 1949ء کو انہوں نے عوامی مسلم لیگ کا پہلا اجلاس ڈھاکہ میں طلب کر لیا جس میں یار محمد خان نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔

اس طرح ڈھاکہ شہر میں پارٹی قائم ہو گئی۔ 31 جنوری 1952ء کو انہوں نے ’’آل پارٹی لینگوئج موومنٹ کمیٹی‘‘ بنائی۔ انہوں نے پاکستان میں بنگالی کو قومی زبان تسلیم کروانے کیلئے مہم شروع کی۔ 4 دسمبر 1953 کو انہوں نے قومی جمہوری محاذ (NDF) بنایا۔ انہوں نے عوامی مسلم لیگ کا نام بدل کر عوامی لیگ رکھ دیا۔ مئی 1954ء کو وہ سٹاک ہوم گئے۔ ان کے جانے کے بعد سکندر مرزا کی حکومت نے ان پر مشرقی پاکستان واپس آنے پر پابندی لگا دی اور انہیں کمیونسٹ قرار دیا۔ 1956ء کو مولانا بھاشانی نے قحط زدہ لوگوں کی خوراک کیلئے بھوک ہڑتال کی۔ 1957ء کو بھاشانی نے ’’آل پاکستان جمہوری کارکنان‘‘ کی کانفرنس منعقد کی۔ 25 جولائی کو انہوں نے مشرقی پاکستان قومی عوامی جماعت (NAP) بنانے کا اعلان کیا۔ وہ خود نیپ کے صدر بن گئے اور محمود الحق عثمانی اس کے سیکرٹری منتخب ہو گئے۔

مولانا بھاشانی کا ایک بڑا کام یہ تھا کہ انہوں نے اعظم خان کی بجائے محترمہ فاطمہ جناح کو 1965ء کے صدارتی انتخاب میں اپوزیشن کا متفقہ امیدوار بنانے کیلئے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ لیکن جب الیکشن کا وقت آیا تو بھاشانی نے سرگرم کردار ادا نہیں کیا۔ بظاہر یہ لگتا تھا کہ انہوں نے صدر ایوب کی چین نواز پالیسیوں کی وجہ سے ان کی حمایت کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بہرحال ان کے کیرئیر پر یہ ایک سوالیہ نشان تھا؟ انہوں نے 1968ء میں مشرقی پاکستان کے کاشتکاروں کیلئے کوآپریٹوز کو منظم کیا۔ اس سال انہیں ایوب حکومت نے گرفتار کر لیا۔ 1967 میں مولانا بھاشانی نے رابندر ناتھ ٹیگور پر حکومتی پابندی کے خلاف احتجاج کیا۔ 1969ء میں انہوں نے اگرتلہ سازش کیس واپس لینے کے لئے تحریک شروع کی۔

انہوں نے شیخ مجیب الرحمان اور دوسرے ملزموں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہیں سے ایوب خان کے زوال کا آغاز ہوا۔ بھاشانی نے 1970ء میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عالمی کسان کانفرنس منظم کی۔ اس کانفرنس میں انہوں نے حکومت پاکستان سے کہا کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے جس میں لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیا انہیں اسلامی سوشلزم چاہئے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فوجی حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو گوریلا جنگ ہو سکتی ہے۔ 1952ء کی ’’زبان تحریک‘‘ کے دوران مسلم لیگ کی حکومت خاصی حد تک اپنی مقبولیت کھو چکی تھی۔ 1954ء میں جگتو فرنٹ نے مسلم لیگ کو انتخابات میں شکست دے دی اور اس کے رہنما نورالامین بھی ہار گئے۔

اس کے بعد مشرقی پاکستان میں جگتو فرنٹ نے حکومت قائم کر لی۔ تاہم اس حکومت کو بعد میں برطرف کر دیا گیا۔ مولانا بھاشانی کا کیرئیر مختلف تنازعات کا شکار رہا اور ان سے اختلاف کرنے والے آج بھی موجود ہیں۔ بہرحال ان کی سیاسی جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تنازعات کے باوجود اپنا تشخص برقرار رکھا۔ انہوں نے 17 نومبر 1976ء کو ڈھاکہ میں وفات پائی اور انہیں تان گیل میں دفن کر دیا گیا۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

سی پیک کے خلاف سازش کیوں ؟

پاکستان کے خلاف بھارت کے معاندانہ عزائم اور عملی اقدامات اگرچہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بالخصوص پورے خطے کیلئے ترقی و خوشحالی کا ضامن پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ مودی حکومت کیلئے جس قدر ناقابل برداشت بنا ہوا ہے، اس بارے میں مختلف مقامی اور بین الاقوامی ذرائع سے بہت کچھ سامنے آتا رہا ہے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے ایک خطیر رقم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کو فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آچکی ہیں لیکن گزشتہ روز ہماری عسکری قیادت کے انتہائی ذمہ دارانہ منصب یعنی ملک کی تینوں افواج کے سربراہوں کی کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات کی جانب سے پوری قطعیت کے ساتھ یہ بات دنیا کے سامنے لائی گئی کہ سی پیک کی تباہی کیلئے بھارت نے پچاس کروڑ ڈالر کی بھاری رقم مختص کر دی ہے اور اس کے خفیہ ادارے مسلسل پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں خطے میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ حقیقت بن سکتا ہے۔

لہٰذا کم ازکم اب بین الاقوامی برادری اورعالمی طاقتوں کو اس خطرناک صورت حال پر آنکھیں بند کر کے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے بلکہ جنوبی ایشیا بلکہ پورے کرہ ارض کے امن کو بچانے کی خاطر فوری طور پر حالات میں مثبت تبدیلی کیلئے اقدامات عمل میں لانے چاہئیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ’’جنوبی ایشیا کی علاقائی جہتیں اور تزویراتی خدشات‘‘ کے موضوع پر منعقد کی گئی دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کی نشان دہی بھی کی کہ بھارت سے بہتر تعلقات کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل ہی سے جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔

کانفرنس میں شرکت کرنے والی متعدد غیر ملکی سفارتی شخصیات کے موجودگی میں جنرل حیات نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا عشروں سے جاری ظلم و تشدد اور پاکستان کی جانب بھارت کا جنگی ہیجان صورت حال کو سنگین بنا رہا ہے۔ بھارت نے ہر بیس کشمیریوں پر ایک فوجی مسلط کر رکھا ہے ۔پاکستان کے ساتھ جنگ کی سی فضا قائم رکھنے کے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت نے بارہ سو سے زیادہ مرتبہ فائر بندی کی خلاف ورزی کی، ایک ہزار پاکستانی شہری اور تین سو فوجی شہید کیے، تحریک طالبان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرائی جا رہی ہیں اور افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال کی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو جن خطرات کا سامنا ہے ان میں بھارت کا کولڈ اسٹارٹ، پروایکٹو ڈاکٹرائن اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم خاص طور پر اہم ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے آج کے بھارت کو بجا طور پر سیکولر اسٹیٹ کے بجائے انتہا پسند ہندو ریاست قرار دیا اور کہا کہ اس کی پالیسیاں جنوبی ایشیا کو جنگ کے شعلوں میں جھونک سکتی ہیں، ان حالات میں پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور تمام تنازعات کے پر امن حل کا خواہاں ہے لیکن اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں اور اسی بناء پر پاکستانی قوم کم ازکم اتنی جوہری صلاحیت برقرار رکھنے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے جو اس کے دفاع کیلئے ضروری ہے۔

جنوبی ایشیا کی موجودہ سلگتی ہوئی صورت حال کا یہ بھرپور اور مبنی بر حقائق تجزیہ بلاشبہ دنیا میں امن کے خواہشمندوں کی فوری توجہ کا مستحق ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو بلا تاخیر بھارت کے جارحانہ اور امن دشمن عزائم کو لگام دینی چاہیے اورمودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کے منصفانہ حل کی خاطر نیک نیتی کے ساتھ جلد از جلد بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنانے پر آمادہ کرنا چاہیے تاکہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو ممکنہ ناقابل تلافی نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اداریہ روزنامہ جنگ