کیا یہ اتحاد ’ایک ڈراما‘ ہے؟

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں نے ‘چھ ماہ کی مشاورت اور گذشتہ رات کے اجلاس کے بعد صوبہ سندھ میں ووٹ بینک کو تقسیم ہونے سے بچانے، عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کو ہر حال میں کامیاب بنانے کے لیے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ یہ اتحاد بھی بظاہر ‘گذشتہ رات کی طویل مشاورت’ کے بعد جلد بازی ہی میں قائم کیا گیا کیونکہ بتایا گیا ہے کہ اس اتحاد کے نام اور منشور کا فیصلہ بعد میں مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ یہ باکل ویسے ہی جیسے مصطفیٰ کمال نے اپنی جماعت بنانے کا اعلان تو کر دیا لیکن اس کا نام اور نشان کے بارے میں اعلان بعد میں کرنے کا کہا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ کی دیگر جماعتوں کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی۔ تاہم انھوں نے ساتھ ہی یہ شعر پڑھ کر اس پیشکش کے بارے میں کہا کہ یہ محدود مدت کے لیے ہے.

مرا یہ دل تمہاری ہی محبت کے لیے ہے
مگر یہ پیش کش محدود مدت لیے ہے

اس اتحاد کے بارے میں میں تجزیہ کار توصیف احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا جو ماڈل بنا ہے اس کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی ہے۔ ‘ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا سیاسی اتحاد میں عسکری بالادستی ہے اور یہ عسکری سٹیبلشمنٹ ہی بنیادی فیصلے کر رہی ہے۔ یہ نیا ماڈل عسکری اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں کا اتحاد سندھ میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ ‘ایم کیو ایم الطاف کے ساتھ لوگ تھے اور آئندہ انتخابات میں اس جماعت کا حصہ نہ لینے کے امکانات نہیں تھے۔ اس لیے جب ایک اتحاد سامنے آئے گا تو ممکن ہے کہ یہ اتحاد ووٹ بینک کو سلامت رکھ سکے گا۔’

فاروق ستار کی جانب سے دیگر جماعتوں کو اس اتحاد میں شامل ہونے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ مہاجر سیاست کا ایک نیا دور ہو۔
‘امکانات ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ، ایم کیو ایم حقیقی اس اتحاد میں شامل ہوں جائیں اور شاید مہاجر سیاست کا ایک نیا دور آئے۔’ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف اس ضمانت کے ساتھ واپس آئیں گے کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔ انھوں نے جو غلطی پہلی کی تھی وہ اب نہیں کریں گے۔ توصیف احمد نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اگر سندھ قوم پرست جماعتیں اس اتحاد میں شامل ہوتی ہیں تو یہ اتحاد ایک خوش آئند بات ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اس اتحاد کے جواب میں اگر سندھی قوم پرست جماعتیں بھی اپنا اتحاد بنا لیتی ہیں تو پھر معاملہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ ‘اگر سندھی قوم پرست جماعتوں کا ایسا اتحاد بن جاتا ہے تو معاملہ خرابی کی جانب جائے کیونکہ اس سے نئے تضادات ابھریں گے اور ایسا ہونے کے امکانات بھی ہیں کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اگلے انتخابات کے لیے سندھ کے لیے بھی اور پورے ملک کے لیے بھی نیا نقشہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’ تاہم سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ مہر کے سربراہ خالق جونیجو نے اس اتحاد کو ایک ڈراما قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جلد ہی لندن والے بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائیں گے اور اس سیاسی اتحاد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ‘مہاجر قومی موومنٹ سے جب متحدہ قومی موومنٹ کی گئی تو اس کے کریکٹر میں کوئی فرق نہیں آیا تھا اسی طرح اس نئے اتحاد کے کریکٹر میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔’ جب ان سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے دیگر جماعتوں کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے تو ان کا کہنا تھا ‘ہماری جماعت کا موقف واضح ہے کہ جو گروپ یا جو جماعت سندھ کو توڑنے کی بات کرتا ہے اس سے کوئی اتحاد نہیں ہو سکتا۔ جو زبان الطاف بولتا ہے وہی زبان فاروق ستار بولتے ہیں۔’

سندھی اتحاد کے حوالے سے وہ بولے کہ جب ایم کیو ایم نے مہاجر نسل پرستی پر سیاست کی تو کچھ لوگوں نے سندھی نسل پرستی پر اس کا جواب دیا۔ لیکن ہماری جماعت نسل پرستی کی سیاست کے حق میں نہیں ہے اور سندھی اتحاد کے حق میں نہیں ہے۔ ہاں اگر سیاسی بنیادوں پر اتحاد کی بات ہوتی ہے تو اس پر ہم سوچیں گے۔’ ‘میں تو کہتا ہوں کہ جب سے ایم کیو ایم بنی ہے جتنے نعرے تبدیل کرے، نام تبدیل کرے، شکلیں بدل لے یا ٹوپیاں بدل لے ہم ان کا اصل مقصد سمجھ گئے ہیں۔ ‘

رضا ہمدانی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بشکریہ بی بی سی اردو

تحریک پاکستان کے اہم رہنما، شاعر مشرق، علامہ اقبال

 نو نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال 20ویں صدی کی نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے، وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال محض ایک فلسفی شاعر ہی نہیں بلکہ انسان کے انسان کے ہاتھوں استحصال کے بھی خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے انسان بلا تمیز رنگ و نسل اور مذہب ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رویہ روا رکھیں، باہمی احترام اور محبت سے وابستہ رہیں کہ یہی منشا رب کائنات ہے، پاکستانی کی نئی نسل بھی اقبال کی احترام آدمیت کی سوچ کو سراہتی ہے۔ علامہ ایک طرف امت مرحوم کا نوحہ کہتے ہیں تو دوسری طرف وہ مسلم نوجوان کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں، اقبال قوم کو خانقاہوں سے نکل کر میدان عمل میں اترنے پر ابھارتے ہیں وہ اسلامی دنیا میں روحانی جمہوریت کا نظام رائج کرنے کے داعی تھے۔

علامہ اقبال کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کوغفلت سے بیدار کر کے نئی منزلوں کا پتہ دیا، ان کی شاعری روایتی انداز و بیاں سے یکسر مختلف تھی کیونکہ ان کا مقصد بالکل جدا اور یگانہ تھا، انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی جو تحریکِ آزادی میں بے انتہا کارگر ثابت ہوئی۔ علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، پس چے چہ باید کرد اے اقوام شرق اور ارمغان حجاز کے نام شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری و احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں مگر ان کوششوں کی عملی تصویر دیکھنے سے پہلے ہی وہ 21 اپریل 1938 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

نواز شریف کے سخت بیانات، کیا عدلیہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے؟

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیان نے پاکستان کے  سیاسی ماحول کو ایک بار پھر گرما دیا ہے اور کئی سیاست دان اسے عدلیہ کے خلاف کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے نیب عدالت میں حاضری کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جج بغض سے بھرے پڑے ہیں۔ بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں آگیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سارا بغض، غصہ اور الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے۔ اس بیان سے پہلے مریم نواز شریف نے بھی اپنی ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر شدید تنقید کی تھی اور یہ الزام لگایا تھا کہ انصاف کی کرسی سے زہر اگلا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ایک جج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف مقدمات چلانے کے بجائے انہیں ایک کیس کے طور پر پرکھا جائے۔ پاکستان میں سیاست دانوں نے ان بیانات پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ وہ اداروں کو تباہ کر رہے ہیں اور اپنی کرپشن بے نقاب ہونے پر ججوں پر حملے کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ نے صرف ان بیانات پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پارٹی کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں یہ کہا گیا کہ نواز شریف مقبول ترین رہنما ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا، ’’شاعری کا سوال لے کر رہبری کا سوال اٹھایا گیا۔ رہبری والوں نے پاکستان بنایا اور قربانیاں دیں۔ وہی پھانسی پر چڑھے، ملک بدر ہوئے اور نا اہل ہوئے۔ نواز شریف کے خلاف جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی سطح کی عدالتی زبان پر پورا نہیں اترتا۔ بینچ نے ماتحت عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ بغض، عناد، غصہ اور اشتعال افسوسناک ہے۔‘‘ اس اعلامیے سے اب کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ تصادم صرف نواز شریف نہیں بلکہ ان کی پارٹی کے زیادہ تر افراد چاہتے ہیں۔

اس صورتِ حا ل پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور ماضی میں نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نون لیگی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’مسئلہ یہ ہے میاں صاحب عدلیہ سے تصادم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایک اور ریاستی ادارے سے بھی تصادم چاہتے ہیں تاکہ وہ سیاسی شہید بن سکیں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کریں لیکن اب لوگ ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ جو لوگ دو ہزارتیرہ میں ان کے پاس آئے تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس سے پہلے مشرف، پی پی پی اور دوسری جماعتوں میں کام کیا اور وہ اب میاں صاحب کے اردگرد نظر آرہے ہیں۔ بُرا وقت آنے پر وہ فوراﹰ بھاگ جائیں گے۔ جن لوگوں کی اپنی ذاتی سیاسی بنیادیں نہیں ہیں جیسے کہ خواجہ آصف یا خواجہ سعد رفیق یا ان ہی جیسے لوگ شاید میاں صاحب کے ساتھ رہ جائیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے میاں صاحب کا برے وقت میں ساتھ دیا جیسا کہ غوث علی شاہ، میرے والد سردار ذوالفقار کھوسہ تو ان لوگوں کو میاں صاحب نے بھلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج انہیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں یہ تصادم کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نہیں آئے گا۔‘‘ پی پی پی کے ترجمان اور سابق رکنِ قومی اسمبلی چوہدری منظور نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’نون لیگ کی پالیسی یہ ہے کہ عدالتوں پر دباؤ ڈالا جائے۔ دوسرے مرحلے میں جمہوری نظام کو ڈی ریل کیا جائے اور پھر سیاسی شہید بن کر عوام میں ہیرو بننے کی کوشش کی جائے۔ اور پھر معاشی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے.

تاکہ وہ کہہ سکیں کہ ان کے جانے سے معاشی نظام تباہی کا شکار ہو گیا۔ ان کا تو بس نہیں چلتا ورنہ یہ لوگ عدالتوں پر حملے کریں جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا۔ انہوں نے صرف آج ہی عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا بلکہ یہ جنگ تو پہلے سے ہی چل رہی ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پی پی پی کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہو گئی ہے: ’’ہماری ڈیل اس ملک کی عوام سے ہے۔ ہم نے اس ملک میں جمہوریت کے لیے جیلیں کاٹیں ہیں، کوڑے کھائے ہیں اور بہت ساری مشکلات جھیلیں۔ اب اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو ہم پھر جدوجہد کریں گے لیکن نون لیگ سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔‘‘

بشکریہ DW اردو