بدحال معیشت : کیا صوبے ذمہ دار نہیں ؟

اب سے تقریباً 7 برس قبل قومی مالیاتی ایوارڈ کے اجرا اور بعد میں آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد سے صوبوں کے مالی وسائل اور اختیارات میں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم و صحت بشمول خدمات پر ٹیکس جیسے شعبے بھی صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ گئے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان 7 برسوں میں بھی معیشت کی مجموعی کارکردگی مایوس کن ہی رہی ہے۔ گزشتہ 4 برسوں میں بھی بیشتر اہم ترین معاشی اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے۔ یہ بات بہرحال حیران کن ہے کہ 7 برس کا عرصہ گزر نے کے باوجود اس حقیقت کا عمومی طور پر ادراک نہیں کیا جا رہا کہ معیشت کی زبوں حالی میں وفاق کے ساتھ چاروں صوبوں کا بھی کردار ہے۔ چاروں صوبوں کے مجموعی وسائل اور مجموعی اخراجات کے ضمن میں چند حقائق نذر قارئین ہیں۔

1۔ ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ سے پہلے مالی سال 2009-10 میں وفاق کے مجموعی محاصل میں سے چاروں صوبوں کو مجموعی طور پر صرف 633 ارب روپے ملے تھے جبکہ مالی سال 2016-17 میں وفاق نے چاروں صوبوں کو مجموعی طور پر 1965  ارب روپے دیئے۔ یعنی صوبوں کو صرف گزشتہ مالی سال میں 1332 ارب روپے کی اضافی رقوم ملیں۔

2۔ صوبوں نے عوام پر مزید بوجھ ڈالتے ہوئے عوام پر خدمات کے شعبے میں جنرل سیلز ٹیکس تو ضرور عائد کیا مگر صوبوں کے طاقتور طبقوں کو موثر طور سے ٹیکس کے دائرے میں لانے سے قطعی اجتناب برتا۔ چاروں صوبوں نے بہرحال عوام کو نچوڑ کر ہی صحیح اپنے محاصل میں اضافہ کیا جو مالی سال 2010 کے 123 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2017 میں 401 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

3۔ مندرجہ بالا دونوں اقدامات کے نتیجے میں مالی سال 2010 کے مقابلے میں 2017 میں صوبوں کے مجموعی وسائل میں 1610 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

4۔ چاروں صوبوں نے غیر منقولہ جائیدادوں کے ڈی سیٹ ریٹ مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لانے سے اجتناب کیا ہے کیونکہ اس سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ وفاق نے عملاً چاروں صوبوں کے تعاون سے جائیدادوں کی خریداری کے لئے کچھ شرائط پر کالے دھن کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے ایک سال سے بھی کم مدت میں قومی خزانے کو 130 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ یہ امر یقیناً افسوسناک ہے کہ ایک طرف پاناما لیکس کا ہر وقت چرچا رہتا ہے جبکہ دوسری طرف نہ صرف ’’ملکی پاناماز‘‘ پر ہاتھ ڈالنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے بلکہ ’’نئے ملکی پاناماز‘‘ بنانے کے لئے قومی خزانے کو سینکڑوں ارب روپے کے نقصانات پہنچا کر صوبوں کے عملی تعاون سے قانونی گنجائش پیدا کی گئ ہے پھر بھی سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کا کوئی اعتراض سامنے نہیں آرہا ۔

موجودہ حکومت کے دور میں وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کے دستخطوں سے19 اگست 2013 کو آئی ایم ایف کو ایک خط میں یقین دہائی کرائی گئی تھی کہ 3 برسوں تک بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جاتا رہے گا جس کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری ایک حالیہ اجلاس میں حاصل کر لی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو بھی معلوم ہے کہ ایسی کوئی منظوری حاصل نہیں کی گئی مگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی گزشتہ 4 برسوں سے اس معاملے پر خاموش ہیں کیونکہ اعتراض کی صورت میں انہیں زرعی شعبے اور جائیداد سیکٹر پر موثر طور سے ٹیکس عائد کرنا پڑتا۔ ان گزارشات کی روشنی میں ہم سمجھتےہیں کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والی جماعتیں بھی معیشت میں پائیدار بہتری کے لئے معاشی پالیسیوں میں کوئی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں نہیں لا سکیں گی۔

5۔ 7 ویں قومی مالیاتی ایوارڈ سے قبل مالی سال 2010 میں صوبوں نے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 653 ارب روپے خرچ کئے تھے جبکہ مالی سال 2017 میں اس مد میں 1681 ارب روپے خرچ کئے گئے یعنی چاروں صوبوں نے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 2010 کے مقابلے میں2017 میں 1028 ارب روپے کی اضافی رقوم خرچ کیں۔ اسی طرح سماجی شعبے کی مد میں خرچ کی جانے والی رقوم میں بھی خاصا اضافہ ہوا۔ یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ مالی سال 2010 میں چاروں صوبوں کے مجموعی اخراجات کا حجم 942 ارب روپے تھا جبکہ اضافی مالی وسائل کی وجہ سے مالی سال 2017 میں صوبوں کے مجموعی اخراجات کا حجم بڑھ کر 2591 ارب روپے ہو گیا جو کہ 2017 میں 1650 ارب روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بات بہرحال پریشان کن ہے کہ انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں قابل ذکر بہتری نظر نہیں آ رہی یہ صورت حال وفاق اور صوبوں میں بد انتظامی، نااہلی اور کرپشن کی نشاندہی کرتی نظر آتی ہے۔

وفاق اور صوبوں میں تین بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں یعنی مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف، تعلیم اور صحت کے شعبے صوبوں کے دائرہ اختیارات میں آتے ہیں۔ ان شعبوں میں چاروں صوبوں نے جو رقوم مختص کی ہیں وہ مایوس کن حد تک کم ہیں۔ مثلاً

1۔ پیپلز پارٹی کے دور میں متفقہ طور پر منظور شدہ قومی تعلیمی پالیسی 2009 کے مطابق 2015 تک تعلیم کی مد میں جی ڈی پی کے تناسب سے 7 فیصد رقوم مختص کی جانا تھیں جبکہ اسی پارٹی کے دور میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 2012 تک صحت کی مد میں 4 فیصد مختص کئے جائیں گے۔ یعنی 2015 سے ان دونوں شعبوں میں جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی طور پر 11 فیصد، یہ صرف اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف 20 فیصد رکھا جائے جبکہ 2015 میں یہ تناسب ہی 11 فیصد تھا۔

2۔ موجودہ حکومت کے دور میں جاری کردہ پہلے اکنامک سروے میں کہا گیا تھا، کہ صوبوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2015 تک تعلیم کی مد میں جی ڈی پی کا 7 فیصد مختص کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور میں صحت کی مد میں 2 فیصد مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا یعنی تعلیم و صحت کے شعبوں میں مجموعی طور سے جی ڈی پی کے تناسب سے 9 فیصد جبکہ موجودہ تناسب صرف تقریباً 3 فیصد ہے۔

3۔ تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں 2018 تک تعلیم اور صحت کی مد میں جی ڈی پی کا 7.6 فیصد مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جسے پورا کرنے کی کوشش نظر ہی نہیں آئی۔ وطن عزیز میں تعلیم کا شعبہ نہ صرف زبوں حالی کا شکار ہے بلکہ دہشت گردوں کے نشانے پر بھی ہے۔ گزشتہ 4 برسوں میں چاروں صوبوں نے صرف تعلیم کی مد میں قومی تعلیمی پالیسی 2009 کے مطابق تقریباً چار ہزار ارب روپے کم مختص کئے ہیں۔ کچھ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی مالی و انٹلیکچوئل کرپشن بہت زیادہ ہے۔ اب یہ ازحد ضروری ہے کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں چانسلر صاحبان سربراہ مملکت یا صوبے کے سربراہ کے بجائے صرف ماہرین تعلیم ہوں۔

یہ بھی اب ناگزیر ہو گیا ہے کہ یونیورسٹیوں کی سینڈیکیٹ اور سینیٹ کے ممبران کی نامزدگیاں اور وائس چانسلرز کی تقرریاں میرٹ پر کرنے کے لئے شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس پر لازماً عمل کیا جائے۔ ہم نے اپنے 20 اکتوبر 2017 کے کالم میں معیشت کو سنبھالا دینے، عوام کی حالت بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ جیتنےکے لئے 8 نکات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے۔ گزشتہ چند ماہ سے ملک میں میثاق معیشت کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نکات کے ضمن میں پارلیمنٹ اور چاروں صوبے قانون سازی کریں۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی