بھارتی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی نظریاتی اتحادی تنظیم کے رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو 10 برس بعد ملک پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش میں ہندو انتہا پسند تنظیم کے رہنما نے کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ جس تیزی کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے محسوس ہو رہا ہے کہ 2027 تک بھارت ایک مسلم ملک کے طور جانا جائے گا، یہ مسلمانوں کی ایک منظم سازش ہے جس کے تحت وہ بھارت پراپنا مکمل قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ اترپردیش یوگی ادتیا ناتھ شدت پسند تنظیم ہندو یووا واہنی کے سربراہ ہیں جو خود بھی ماضی میں مسلمانوں کے خلاف متعدد اشتعال انگیز اور متنازع بیانات دے چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے یہ بیان دے کر پاکستان میں افواہوں کا بازار ایک بار پھر گرم کر دیا ہے کہ کچھ ’خفیہ ہاتھ‘ ایک بار پھر ملک میں جمہوریت کو کمزور کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ اُنہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت اپنی کور ٹیم کو لندن طلب کر کے ہنگامی مشاورت کی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیل جاری نہیں کی گئی لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں بھی اُس ’خفیہ ہاتھ‘ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ہو گا۔
احسن اقبال نے مذکورہ ’خفیہ ہاتھ‘ کی نشاندہی تو نہیں کی ہے۔ تاہم کچھ باخبر ذرائع اس امکان کو رد نہیں کر رہے ہیں کہ شاید پاکستان میں ایک عبوری حکومت یا کیئر ٹیکر سیٹ اپ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ابھی زیادہ دور کی بات نہیں جب گزشتہ اگست میں بھی ایسی عبوری حکومت کے امکان کی خبریں آنے لگی تھیں کہ تین سال کیلئے جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے جس میں کچھ سابق سیاستدان، ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور سابق بیوروکریٹ شامل ہوں گے۔
پاکستان کے اردو روزنامہ ‘خبریں‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں ہونے والے عام انتخابات منسوخ کر دئے جائیں گے اور اگلے تین برس تک کوئی سیاسی حکومت قائم نہیں ہو گی۔ مذکورہ عبوری حکومت ملک کے سیاسی نظام کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے جامع حکمت عملی پر کام کرے گی۔ اس خبر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ عبوری حکومت اپنے تین برس کی مدت میں ملک کو پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام کی جانب لے جائے گی تاکہ ملک میں پاور شیئرنگ کی کیفیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔