ڈو مور پالیسی کے ساتھ اسلام آباد میں پہنچنے والے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کی ہے۔ کیا پاکستان مزید تعاون کے لیے تیار ہو چکا ہے؟
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار، وزیرِ خارجہ خواجہ آصف ، وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور وزیرِ دفاع خرم دستگیر بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان میں ریکس ٹلرسن کے دیے گئے اس بیان کو انتہائی نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے، جو انہوں نے کابل میں دیا تھا۔ اس بیان میں میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کا اعادہ کریں گے، جس میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ طالبان اور دوسرے انتہاپسند گروپوں کے خلاف اپنی سر زمین پر کارروائی کرے۔
پاکستان کی ایوان بالا کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا قابلِ قبول اور نا مناسب قرار دیا ہے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ٹلرسن پاک امریکا تعلقات پر پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹلرسن نے کچھ مطالبات وزیرِ اعظم کو پیش کئے ہیں اور وزیر خارجہ کل ان مطالبات سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب پاکستانی اندورنی طور پر غیر یقینی سیاسی صورتِ حال کے شکار ہے اور بیرونی طور پر اسے واشنگٹن کی طرف سے کئی الزامات کا سامنا ہے۔ کچھ دنوں پہلے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکی یرغمالی خاتون، ان کے خاوند اور بچے پانچ برس تک پاکستان میں تھے جب کہ یرغمال خاتون نے ایک کینیڈین اخبار کو اپنے پہلے انٹرویو میں بتایا کہ ان کی یرغمالی کے آخری سال میں انہیں پاکستان میں رکھا گیا۔
اس صورتِ حال کی وجہ سے پاکستان میں خیال کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد پر مزید دباو ڈالے گا۔ تاہم کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں واشنگٹن اب ماضی کی طرح اسلام آباد پر دباو نہیں ڈال سکتا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے ادارہ برائے عالمی امن وسلامتی سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین کے خیال میں پاکستان اس وقت کمزور پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس دورے کے حوالے سے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’امریکا پاکستان کے سامنے اپنے مطالبات رکھے گا اور ڈو مور کا بھی مطالبہ کرے گا لیکن پاکستان صرف وہی کرے گا جو اس کے قومی مفادات میں ہو گا۔ ماضی میں پاکستان صرف امریکی امداد پر انحصار کرتا تھا لیکن اب خطیر چینی سرمایہ کاری کی وجہ سے یہ انحصار کافی حد تک کم ہو سکتا ہے یا کم از کم اب پاکستان کے پاس زیادہ راستے ہیں، تو وہ امریکا کے بے جا مطالبات کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ امریکا پاکستان پر دباو برقرار رکھے گا کیونکہ وہ خطے میں بھارت کو خوش رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اب بھارت فیکٹر بہت اہم ہو گیا ہے۔‘‘
لیکن لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں ساری چینی سرمایہ کاری کے باوجود پاکستان کا امریکا پر انحصار برقرار رہے گا۔ ٹلرسن کے دورے کے حوالے سے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملکی معاشی حالت کا جنازہ نکلا ہوا ہے۔ ہمارا کرنٹ خسارہ بڑھا ہوا ہے اور قوی امکان ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، تو ہم امریکا کو کیسے ناراض کر سکتے ہیں؟ امریکا کا ان اداروں پر بہت اثر و رسوخ ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ ڈو مور والے امریکی مطالبے کو سنے اور امریکا سے تعاون بھی کرے کیونکہ جہاں تک انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بات ہے، یہ صرف امریکی مطالبہ نہیں ہے بلکہ چین بھی ایسا ہی چاہتا ہے۔
بظاہر لگتا ہے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان گرنے والی ہے۔ لیکن شہری سندھ کی مستقبل کی سیاست پر رونما اس کی سیاسی اثرات نہایت تباہ کن ہوں گے۔ فطری طور پر اس سے پاکستان سرزمین پارٹی ( پی ایس پی) کے لئے گنجائش پیدا ہو گی۔ ایم کیو ایم جو کئی بحرانوں سے گزری لیکن لگتا ہے وہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد اور22 اگست کو ایم کیو ایم کے بانی کے نشریاتی خطاب کے اثرات بد سے باہر نہیں آسکی ہے۔ جبکہ ڈرائی کلیننگ کی دکان یا فیکٹری ایم کیو ایم کی گند دھونے میں مصروف ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما جو پی ایس پی میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے شدید دبائو میں ہیں یا ان پر دونوں کو ضم کر کے نیا نام اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ پہلی بار انہوں نے دبائو کے حربے جاری رہنے پر پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، پی پی پی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی یا بالآخر ایم کیو ایم لندن کے زوال کا فائدہ کس کوپہنچے گا؟ 22 اگست کے واقعہ اور ایم کیو ایم پاکستان کے ایم کیو ایم لندن سے فاصلہ اختیار کرنے کے بعد سے جب ایم کیو ایم پاکستان کو علیحدہ جماعت قرار دیا گیا، اسے یہ بھی ’’مشورہ‘‘ دیا جا رہا ہے کہ وہ پی ایس پی میں ضم ہو جائے۔ لیکن پارٹی رہنمائوں کی اکثریت نے اسے مسترد کر دیا۔ جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ اس سے یہ قیاس کیا گیا کہ انہیں نائن زیرو کے بغیر اپنا ہیڈ کوارٹر واپس مل جائے گا۔ لیکن اب تک اس حصول میں ناکام ہی رہے ہیں۔ مختلف طریقوں سے یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اورحق پرست جیسے الفاظ اور انتخابی نشان ’’پتنگ‘‘ ناقابل قبول ہوں گے؟ ایک مرحلے پر ایم کیو ایم پاکستان نے پی ایس پی کے ساتھ انضمام پر غور شروع کر دیا تھا۔
سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ڈاکٹرفاروق ستار کو بتایا تھا کہ ایسا کرنا تباہ کن ہو گا اور نتیجتاً سابق گورنر بھی اپنی مضبوط پوزیشن سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے مخصوص حلقوں کا اعتماد کھو دینے کی تین وجوہ ہیں۔ اول وسیم اختر کو میئر کراچی کے منصب کے لئے نامزد کرنا۔ دوم شاہد خاقان عباسی کو وزارت عظمیٰ کے لئے اعتماد کا ووٹ دینا اورسوم آئینی ترمیم کے دوران میاں عتیق کے ووٹ پرمبینہ ڈبل گیم، اس ترمیم کی بدولت ہی نواز شریف نااہل قراردیئے جانے کے باوجود پارٹی صدر کے انتخاب کے لئے اہل ٹھہرے۔ جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کو کراچی اورحیدر آباد کے لئے ترقیاتی فنڈز کے حصول کی توقع ہو چلی، جیسا کہ وزیراعظم اور گورنر سندھ نے وعدہ کیا۔ لیکن مخصوص حلقوں کی مزاحمت کے باعث فنڈز کا حصول اتنا آسان نہیں، میئر عہدے کے لئے ان حلقوں کی جانب سے وسیم اختر کا نام مسترد کر دیا گیا تھا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے مسلم لیگ (ن) اورسابق وزیراعظم نوازشریف کے قریب آنے کی کوشش کی لیکن مخصوص حلقوں نے اسے اچھا نہیں لیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے لئے معاملات بگڑتے چلے گئے۔ ایک طرف پی ایس پی اورمصطفیٰ کمال کیلئے مذکورہ حلقوں میں گرم جوشی اورخیرسگالی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ آئندہ مہینوں میں ان کا کردار پھیل جائے گا۔ مزید ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خود فیصلہ کیا یا انہیں کہہ دیا گیا کہ وہ کسی کو اپنی جماعتوں سے منحرف ہونے پر مجبور نہ کریں۔
پی ایس پی کو ایم کیو ایم کے روایتی حلقوں کی حمایت حاصل ہو یا نہ ہو۔ لیکن مصطفیٰ کمال ڈاکٹر عشرت العباد کو اکھاڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ جنہیں ایک وقت اسٹیبلشمنٹ کا مکمل اعتماد حاصل رہا تھا۔ وہ اب بھی ان کی گڈ بک میں ہیں۔ محض اس لئے کہ انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے انضمام کو روکا۔
ڈاکٹر عشرت العباد کبھی مصطفیٰ کمال کے ساتھ تنازعے میں ملوث نہیں ہوئے اور بالآخر اپنی مضبوط پوزیشن کھو کر دبئی میں سکونت اختیار کر لی۔ لیکن وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے انضمام کا فارمولا نہیں چلے گا۔ کیونکہ ووٹرز کی نظروں میں پی ایس پی اسٹیبلشمنٹ کی کنگز پارٹی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد شہری سندھ کے ممکنہ گیم پلان کے حوالے سے اب بھی ’’رابطوں‘‘میں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان آئندہ عام انتخابا ت تک بحیثیت جماعت بچ جاتی ہے اور اگر نہیں تو اسے پی ایس پی سے تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن پارٹی رہنمائوں کے لئے دبائو برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
واقعہ 22؍ اگست کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کو متعلقہ حلقوں سے مثبت جواب نہیں ملا۔ گو کہ ان حلقوں کو بڑی حد تک یقین ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی اعلیٰ قیادت ایم کیو ایم لندن کے ساتھ رابطوں میں نہیں ہے۔ جسے خود بھی الطاف حسین سے ندیم نصرت اور واسع جلیل کی جانب سے دوری اختیار کرنے کے بعد مسائل کا سامنا ہے۔ 22؍ اگست 2016 کے واقعہ کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کو بعض حلقوں نے پی ایس پی میں ضم ہو جانے کا مشورہ دیا۔ بعدازاں یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ کوئی نیا نام بھی اختیار کر لیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے رفقاء کے خیال میں ایم کیو ایم پاکستان کو مکمل طورپر لپیٹ دیا جانا مہاجر ووٹرز کو قبول نہیں ہو گا۔ 22؍ اگست کاواقعہ مہاجروں کے لئے بڑے صدمے کا باعث تھا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اس وقت ایم کیو ایم پاکستان کو موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا لیکن خورشید بیگم میموریل ہال، ایم پی اے ہاسٹل حوالے کرنے اور جناح پارک عزیز آباد میں جلسے کرنے کی اجازت دینے کے مطالبے رد کر دیئے گئے۔ جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے الطاف حسین کی رہائش گاہ نائن زیرو کی حوالگی کا کبھی مطالبہ نہیں کیا۔ لہٰذا پہلے ایم کیو ایم نے اپنا ہیڈ کوارٹر فاروق ستار کی رہائش گاہ کے قریب پیرالٰہی بخش کالونی (پی آئی بی) منتقل کیا اور بعدازاں بہادر آباد لے گئے۔
جب سابق وزیراعظم نوازشریف ، موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اورگورنر سندھ محمد زبیر خورشید بیگم میموریل ہال اور ایم پی اے ہاسٹل ایم کیو ا یم پاکستان کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گئے تو حکومت سندھ اور متعلقہ حلقوں نے اس کی مخالفت کی۔ ایم کیو ایم کے منحرف رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کے فاروق ستار کے لندن کے ساتھ رابطوں کے الزام میں کوئی وزن نہیں ہے۔ کیونکہ لندن والے تو انہیں فاروق کا ٹولہ قراردیتے ہیں۔ خفیہ اداروں کا قومی سیاست میں کردار شاید کم ہو گیا ہو گو کہ کچھ کی رائے میں کردار اب بھی ہے۔ لیکن عموماً کراچی اور خصوصاً ایم کیو ایم کی سیاست میں اب تک سنگین شکوک و شبہات کلبلاتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ ’’ڈرائی کلیننگ‘‘ کاعمل ہو یا خفیہ ہاتھوں کی بات ہو۔ ایم کیو ایم پراسٹیبلشمنٹ کی تخلیق ہونے کا الزام 1978 سے لگایا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم اوراس کے قائد کا اسٹیبلشمنٹ سے محبت اور نفرت کے اتار چڑھائو کے ساتھ تعلق قائم رہا۔
ایم کیو ایم کو توڑنے کی کوشش 1991ء میں پہلی بار اس وقت ناکام ہوئی۔ جب ’’حقیقی‘‘ کے نام سے دھڑا قائم کیا گیا۔ دوسری کوشش اس وقت ہوئی تھی جب چیئرمین عظیم احمد طارق استعمال ہوئے اور قتل کر دیئے گئے لیکن ایم کیو ایم لندن اور اس کی قیادت نے ارضی حقائق اور پاکستانی سیاست سے خود کو جدا کر لیا۔ جس کی وجہ سے 22؍ اگست کا واقعہ پیش آیا۔ الطاف حسین اور لندن میں ان کے ساتھی یہ بھول گئے کہ پاکستان مخالف بیانیہ نہ صرف ریاست بلکہ ہر پاکستانی اوران کے اپنے ووٹ بینک کے لئے بھی ناقابل قبول ہے۔ 23؍ اگست کو ڈاکٹرفاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کی پاکستان میں قیادت نے جو کچھ فیصلہ کیا وہ درست تھا۔ اس دن سے آج تک ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور کارکن مشکوک تصور کئے جا رہے ہیں اور باقی وہ تمام جو پی ایس پی میں چلے گئے۔ انہیں نہ صرف ریلیف بلکہ مقدمات سے بھی چھٹکارا مل گیا۔ یہ تمام تر پیش رفت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پی ایس پی ہی کو ہی ایم کیو ایم کاممکنہ متبادل سمجھا جا رہا ہے۔ اب یہ تبدیلی ووٹرز کے لئے قابل قبول ہوتی ہے یا نہیں، یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہو گا۔
گزشتہ چند ہفتوں سے ایسا لگ رہا ہے ڈاکٹر فاروق ستار اپنا اعتماد کھوتے اور مصطفیٰ کمال حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کا کیا انجام ہو گا ؟ اس سے قطع نظر سیاسی اور دانشور طبقات میں یہ عام احساس ہے کہ کب تک ملکی اور خصوصاً کراچی کی سیاست میں سیاسی تجربات ہوتے رہیں گے۔ ایم کیو ایم جس نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ’’منزل نہیں، رہنما چاہئے‘‘ کے نعرے سے کیا تھا، اسے واقعی رہنما ملا اور نہ ہی منزل ملی بلکہ سمت ہی گم ہو کر رہ گئی ہے۔
چین کی جانب سے بے مثال مالی اور تعمیری کوشش بحیرہ عرب پر واقع حکمت عملی کے اعتبار سے پاکستان کی اہم بندر گاہ، گوادر کو تیزی سے ترقی دے کر اسے دنیا کی ایک سب سے بڑی سفری اور مال أسباب کی منتقلی کی ایک تنصيب میں تبدیل کر رہی ہے ۔ دونوں فریق بندر گاہ کے اس شہر کو اربوں ڈالر کی ایک دو طرفہ اقتصادی راہداری کے ایک راستے کی شکل دینے کی توقع کر رہے ہیں، جسے دونوں اتحادی ملکوں کو باہم منسلک کرنے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
گہرے پانیوں کی بندر گاہ گوادر تجارتی اعتبار سے دنیا کے تین انتہائی اہم علاقوں، تیل سے مالا مال مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔
بیجنگ، گوادر کو، سی پیک کے طور پر معروف چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری کے حصے کے طور پر ترقی دے رہا ہے ۔ دونوں ملکوں نے 2015 میں ا س پراجیکٹ کو چین کی ابتدا ئی طور پر لگ بھگ 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان میں، مشترکہ طور پر شاہراہیں، ریلویز، پاور پلانٹس، کمیونیکیشنز اور صنعتی زونز کی تعمیر کے لیے شروع کیا تھا ۔ اس کا مقصد گوادر کو مغربی چین کے خشکی سے گھرے علاقے سے منسلک کرنا ہے تاکہ اسے پاکستان کے راستے عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک نسبتاً چھوٹا اور محفوظ راستہ مل سکے۔
پاکستان کے کچھ لوگوں کو فکر ہے کہ پاکستان چین کے ماہرین، کارکنوں اور کاروباری افراد سے بھر جائے گا اور اس سے ملکی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا۔
گوادر پورٹ کے چیئرمین دوستین خان جمال دینی اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ تصور درست نہیں ہے۔
دوستین خان جمال دینی جو بندر گاہ پر اعلیٰ ترین پاکستانی منتظم ہیں، کہتے ہیں کہ گوادر کے تعمیراتی اور دوسرے پراجیکٹس پر لگ بھگ 65 فیصد لیبر فورس پاکستانی ہے اور چینیوں کی تعداد صرف تین سو سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ انہوں نے ایک عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت جو آپ دیکھ سکتے ہیں، جو زیر تعمیر ہے، پہلے سے تیار چینی ٹکنالوجی سے تیار کی گئی ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ ہم اس وقت اتنی بڑی عمارت کو دو یا تین ماہ میں تعمیر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کام کے ساتھ ٹکنالوجی بتدریج پاکستان میں منتقل ہو رہی ہے اور اس سے پاکستان میں چینیوں کی موجودگی مزید کم ہو جائے گی۔
عہدے دار توقع کر رہے ہیں کہ گوادر پانچ برسوں کے اندر اندر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جہاز رانی کا مرکز بن جائے گا جہاں سالانہ 13 ملین ٹن سامان کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہو گی۔ اور ان کا کہنا ہے کہ 2030 تک یہ بندر گاہ 400 ملین ٹن تک کا سامان ہینڈل کر سکے گی۔ سیکیورٹی کے خدشات اوراس پراجیکٹ کے راستے میں آنے والے کچھ علاقوں پر بھارت کے دعوے گوادر کے لیے مسلسل اہم اور سی پیک کے لیے عمومی چیلنج ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں جن فوری مسائل کا سامنا ہے وہ ہیں روزانہ کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کا جانا اور پانی کی کمی۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان کے مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ چار گھنٹے قیام کے بعد انڈیا کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔
ریکس ٹلرسن افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد پاکستان پہنچے ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے اس دورے کا مقصد اعتماد کی بحالی اور طالبان کو کمزور کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ریکس ٹلرسن اپنے اس دورے کے دوران ’مخصوص‘ مطالبات بھی پاکستانی حکام کے سامنے رکھیں گے۔
آخر یہ مطالبات ہیں کیا اور امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟
بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کا پاکستان سے بنیادی مطالبہ دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنا اور شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے۔ جبکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس کی سر زمین پر شدت پسندوں کی پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں اور ان کے خلاف پہلے ہی خاطر خواہ کارروائیاں کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں ہی پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ‘اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔’ جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی امریکی پالسیی سامنے آنے اور پاکستان سے اس قسم کے مطالبات کے بعد پاکستان نے رواں سال اگست میں اپنی مصروفیات کو وجہ بتا کر ایک اعلیٰ امریکی وفد کے دورے کو منسوخ بھی کر دیا تھا۔