کواکیوریلی سائمنڈز (کیو ایس) نے ایشیاء کی 400 بہترین یونیورسٹیوں کی رینکنگ جاری کر دی جس میں پاکستان کی 9 یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔ پاکستانی یونیورسٹیز کے درجات میں گزشتہ برس کی نسبت اس سال نمایاں بہتری آئی ہے۔
کیو ایس کی ایشیائی انٹرنیشنل یونیورسٹی رینکنگ کی فہرست میں ’نَسٹ یونیورسٹی‘ 91 نمبر پر رہی۔ لَمز یونیورسٹی آٹھ درجے ترقی کےساتھ 103، قائد اعظم یونیورسٹی 133، کومسیٹ 190 جبکہ کراچی یونیورسٹی 193 نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پی آئی ای اے ایس) اکیس درجے ترقی کےساتھ 128 ویں، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) پچاس درجے ترقی کے ساتھ 200 ویں، پنجاب یونیورسٹی 232 ویں جبکہ آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) نمایاں بہتری کے ساتھ 234 ویں نمبر پر رہی۔
لمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سہیل نقوی کا رینکنگ کے حوالے سے کہنا تھا کہ ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈیز) اساتذہ کی وجہ سے پاکستان کا معیار تعلیم بہتر ہو رہا ہے۔ کیو ایس کی رینکنگ میں سنگاپور کی نَنیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی ایشیا کی سب سے بہترین یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور رینکنگ میں دوسری، ہانگ کونگ یونیورسٹی میں آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تیسری، کوریا ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوتھی جبکہ یونیورسٹی آف ہانگ کونگ کا پانچواں نمبر ہے۔
امريکی خفیہ ادارہ سی آئی اے افغانستان ميں اپنی سرگرمياں بڑھا رہا ہے۔ امريکی اخبار نيو يارک ٹائمز نے اعلیٰ سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے نے افغانستان ميں طالبان کو تلاش کرنے اور ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے ليے اپنے خفيہ آپريشنز کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت سی آئی اے کے تجربہ کار افسران اور بلیک واٹر جیسے مسلح کانٹریکٹرز پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ٹيموں کو افغانستان بھیجا جائے گا جو وہاں افغان افواج کے ساتھ مل کر کام کريں گے اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں تک پہنچنے کی کوشش کریں گی۔ سی آئی اے نے تاحال اس رپورٹ پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشرفت افغانستان میں سی آئی اے کے طریقہ کار میں تبدیلی کا ایک اشارہ ہے کیونکہ اس سے قبل یہ امریکی ادارہ صرف القاعدہ کو ختم کرنے کیلئے افغان اداروں کو مدد فراہم کر رہا تھا۔ سی آئی اے کے نیم فوجی افسران اس نئی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کریں گے جن کا تعلق خصوصی سرگرمیوں کے شعبے سے ہو گا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں مزید فوج روانہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
وطن عزیز کے حالات نے اچانک ایک نئی کروٹ لی ہے اور بہت کچھ ا وپر نیچے ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پچھلے تین ہفتوں میں رونما ہونے والے کچھ انتہائی تشویشناک واقعات کے باعث کچھ اہم لوگوں نے اپنے انداز فکر پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایسے فیصلے کر لئے ہیں جس کے بعد اہل سیاست کے پاس غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک معمولی غلطی بہت کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیگی۔ جن واقعات نے حالات کو تبدیل کیا ہے ان کی تفصیلات سے پاکستان کے عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ وجہ شاید یہ ہے کہ ابھی تک تحقیقات جاری ہیں۔ یہ واقعات دراصل پاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف بہت بڑی مبینہ سازشیں ہیں جن میں کچھ سیاسی اور غیر سیاسی افراد ملوث تھے۔
غیر سیاسی افراد کے خلاف کارروائی شروع ہو چکی۔ سیاسی افراد کو ڈھیل دی گئی ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت کے ذریعے ان کے مزید روابط کا پتہ چلے اور تحقیقات آگے بڑھ سکیں۔ تین اکتوبر کے بعد سے تبدیل ہوتے حالات میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت اور مارشل لا کی افواہوں نے جنم لیا۔ میں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر صاف الفاظ میں بار بار کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت اور مارشل لا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کو جنم دے گا، لہٰذا موجودہ جمہوری نظام کو چلنے دیا جائے۔
مقام شکر ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنی ایک پریس بریفنگ میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت اور مارشل لا کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فوج جو کچھ بھی کرے گی آئین اور قانون کے اندر رہ کر کریں گی۔ اسی بریفنگ میں ان سے پوچھا گیا کہ تین اکتوبر کو کور کمانڈرز کی سات گھنٹے طویل میٹنگ کے بعد کوئی اعلامیہ جاری کیوں نہ کیا گیا تو جواب میں ایک فوجی افسر کی زبان سے بڑا معنی خیز شاعرانہ بیان جاری ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی بھی اظہاربیان کا ایک طریقہ ہے۔ کافی دن گزرنے کے بعد میجر جنرل آصف غفور کے اس بیان کا پس منظر سمجھ میں آنے لگا ہے اور نوبزادہ نصر اللہ خان کے یہ اشعار بھی یاد آرہے ہیں؎
جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں
غم نہیں، گر لب اظہار پر پابندی ہے
خامشی کو بھی اک طرز نوا کہتے ہیں
نوابزادہ نصر اللہ خان نے بہت سال پہلے خاموشی کو بھی اک طرز نوا قرار دیا تھا۔ اس زمانے میں ٹوئٹر تھا نہ فیس بک تھی۔ لب ہلانے والوں کو اٹھا لیا جا تا تھا لہٰذا لوگ خاموشی کے ساتھ آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کیا کرتے تھے۔ آج کل لب ہلائے بغیر ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعہ اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے ٹوئٹر اور فیس بک کو اظہار خیال کی بجائے صرف اظہار ملال کا ذریعہ بنا لیا ہے اور ان کی لعنت ملامت گالی گلوچ بن جاتی ہے۔ اس گالی گلوچ میں کئی سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے لوگ ہر وقت اپنا حصہ ڈالتے ہیں لیکن پچھلے دنوں ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کچھ ایسے حضرات کو اٹھا لیا گیا جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سوشل میڈیا پر سرگرم اپنے حامیوں کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف نکتہ نظر کو جبراً دبانا قابل مذمت ہے۔ ان کی بات بالکل ٹھیک ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک حکمران جماعت کے حامیوں کی طرف سے حکومت کے ماتحت ادار وں کے ساتھ اختلاف رائے کی بجائے گالی گلوچ کرنا قابل مذمت ہے یا نہیں؟ مزید یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ جس سائبر کرائمز لا کے تحت مسلم لیگ (ن) کے کچھ حامیوں کے خلاف کارروائی ہوئی یہ سائبر کرائم لا 2016 میں نواز شریف کی حکومت نے پارلیمنٹ سے منظور کرایا۔ اس وقت ہم نے بار بار وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشے رحمان سے گزارش کی کہ ان کا سائبر کرائمز لا آزادی اظہار پر مزید پابندیوں کے راستے کھولے گا لیکن وہ کچھ سننے کے لئے تیار نہ تھیں۔
ان کا ہدف سوشل میڈیا پر متحرک تحریک انصاف کی سائبر فورس تھی لیکن آج ان کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کے تحت وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ ان کے اپنے ہی حامیوں کو حراست میں لے رہا ہے۔ کارروائی ایف آئی اے کرتی ہے اور مجھے میجر جنرل آصف غفور کا یہ بیان یاد آتا ہے کہ جو کچھ بھی ہو گا آئین و قانون کے دائرے کے اندر ہو گا۔ عجیب صورتحال ہے، مسلم لیگ (ن) مرکز، دو صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت کر رہی ہے لیکن اس جماعت کے صدر نواز شریف اپنی ہی حکومت کی کارروائیوں کی مذمت کر رہے ہیں۔ وہ حکومت بھی ہیں اور اپوزیشن بھی ہیں۔ ایسا لگتا ہے ملک میں جمہوریت ہے بھی اور نہیں بھی۔ مارشل لا ہے بھی اور نہیں بھی۔ جمہوریت اور مارشل ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
جمہوریت مارشل لا بننا چاہتی ہے، مارشل لا کو جمہوری میک اپ کی ضرورت ہے۔ یہی وہ منافقت ہے جس نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا ہے، اگر نواز شریف 2016 میں سائبر کرائمز لا پر سول سوسائٹی اور میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے اختلاف رائے کو نظر انداز نہ کرتے تو شاید آج پوری سول سوسائٹی اور میڈیا ان کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ افسوس کہ ان کی غلط پالیسیوں کے باعث آج ان کی پارٹی کے ساتھ خاندان کے اندر سے بھی ان کے ساتھ کھل کر اختلاف کیا جا رہا ہے۔ معاملات دن بدن بگڑ رہے ہیں۔ نواز شریف تدبر کا مظاہرہ کریں اور حالات کو سنبھالیں۔ ان کے جن حامیوں کو حراست میں لیا گیا وہ عام لوگ ہیں لیکن ان سے کی جانے والی تفتیش بہت اہم ہے۔ اس تفتیش کا تعلق انہی واقعات سے ہے جن کی تفصیلات سے عوام الناس کو باخبر نہیں رکھا گیا حالانکہ کچھ بہت اہم لوگ اعتراف جرم کر چکے ہیں۔
نواز شریف کے اردگرد موجود کچھ لوگ انہیں غلط مشورے دے رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ اگر جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دی گئی تو نواز شریف ہیرو بن جائیں گے۔ نواز شریف یاد رکھیں کہ یہ 1999 نہیں ہے، خدانخواستہ کچھ اوپر نیچے ہوگیا تو ڈیل کا کوئی امکان نہیں۔ وہ سعودی عرب نہیں جا پائیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو احتساب عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا بائیکاٹ کر دینا چاہئے اور جیل چلے جانا چاہئے۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا کہ احتساب عدالت نواز شریف کو جو بھی سزا دے گی صدر ممنون حسین آئین کی دفعہ 45 کے تحت اسے معاف کر دیں گے۔ یہ مشورے دینے والے نواز شریف کو جیل پہنچا کر دم لیں گے۔ ایک دفعہ وہ جیل پہنچ گئے تو پھر انہیں نت نئے مقدمات میں بھی الجھایا جا سکتا ہے۔ ایسے مقدمات بھی جو ابھی بنے نہیں بننے والے ہیں۔ جن کا تعلق کچھ حالیہ واقعات سے ہے۔ یہ سب نواز شریف کے ساتھ ان کی اپنی ہی حکومت کرے گی، اللہ کرے ایسا نہ ہو۔