ورزش کیوں ضروری ہے ؟

دراصل ورزش ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ اس سے صحت قائم رہتی ہے اور جسم اچھی حالت میں رہتا ہے۔ ورزش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے۔ جو لوگ محنت کا کام کرتے ہیں ان کے لیے ورزش بہت ضروری ہے۔ مختلف قسم کی ورزشیں ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان چہل قدمی ہے۔ جو ہر آدمی کے لیے ممکن ہے لیکن سیر کے وقت لباس موزوں ہونا چاہیے۔ خصوصاً موسم سرما میں گرم لباس ہونا چاہیے۔ کھلی ہوا میں سیر کرنی چاہیے۔ فاصلہ اور تیزی آدمی کی ضرورت اور رفتار پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر 40 تا 50 منٹ کی چہل قدمی کافی ہوتی ہے۔ تیرنا اور گھڑسواری بہترین ورزش ہے۔ ورزش جتنی ہلکی ہو اچھا ہے۔

لیکن پابندی ضروری ہے۔ بیرونی کھیل بہتر ورزش ہیں۔ بڑھاپے میں ہلکی ورزش کرنی چاہیے۔ جسم کی مالش بھی ایک ورزش ہے۔ جہاں انسان کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش ضروری ہے وہاں مقررہ وقت پر سونا بھی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ جو توانائی محنت کے دوران خرچ ہوتی ہے۔ وہ نیند کے دوران پوری ہو جاتی ہے۔ گہری نیند جسم کے قواء کو مکمل آرام پہنچاتی ہے۔ اس طرح وہ زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اچھی نیند کے لیے غذا کا ہضم ہو جانا ضروری ہے۔ ورنہ منہضم غذا کا معدہ میں ہونا نیند میں خلل پیدا کر دے گا اور برے خواب نظر آئیں گے۔ بعض لوگ کھانا کھاتے ہی سو جاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ایسا کرنے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے اور انسان طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً موٹاپا، ذیابیطس، بدہضمی اور ضعف دماغ وغیرہ، چنانچہ نیند کا وقت مقرر کر لینا چاہیے۔

ویسے نیند کا بہترین وقت رات کا ہے۔ رات میں مکمل اور گہری نیند لی جا سکتی ہے۔ رات میں جلد سونے کی اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیے۔ شیرخوار بچے نیند کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ جوان بچوں سے کم اور بوڑھے اور بھی کم نیند چاہتے ہیں طبعی طور پر شیر خوار بچوں کو 15 تا 20 گھنٹے سونا چاہیے، بچے 10 تا 12 گھنٹے، جوان 8 گھنٹے اور بوڑھے 6 گھنٹے یا کم۔ کچھ لوگ دیر تک سونے کے عادی ہوتے ہیں اور صبح بھی دیر سے اٹھتے ہیں جو صحت کے اعتبار سے مناسب نہیں۔ نیند میں زیادہ یا کم سونا دونوں ہی صحت کے لیے مضر ہیں۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ایک بار پھر زیر عتاب

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی جس ابتلا و آزمایش سے گزر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت نے بنگالی صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں کو خرید رکھا ہے، لیکن وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے۔ چند روز قبل بنگلا دیش کی عدالت نے امیر جماعت اسلامی سمیت 9 اعلیٰ رہنماوں کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں پولیس نے ایک مکان پر چھاپا مار کر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے الزام میں امیر جماعت اسلامی مقبول احمد سمیت 9 اعلیٰ رہنماؤں کو گرفتار کیا جن میں جماعت کے سیکرٹری جنرل شفیق الرحمان، نائب امیر اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پرور، چٹاگانگ جماعت کے سربراہ شاہ جہاں، مقامی سیکرٹری جنرل نذر الاسلام اور ظفر صدیق شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف ہندو تہوار درگا پوجا اور عاشورہ کے موقع پر انتشار پھیلانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کے الزامات میں دو مقدمات درج کیے گئے۔ پولیس کی درخواست پر عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو 10 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ جماعت اسلامی نے الزامات کی تردید کر تے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت غیر رسمی ملاقات کر رہی تھی کہ پولیس نے اچانک چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا۔ جماعت کے رہنما مجیب الرحمن نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم کے مقدمات میں اعلیٰ رہنماؤں کو پھانسیاں دینے کے بعد اب جماعت کو قیادت سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ حکومت محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہمارے بے گناہ رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے۔

حقیقت میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ رویے پر اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار بنگلہ دیشی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے رہنماؤں کو گرفتار کیا ۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتیں روہنگیا مسلمانوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہیں اور حکومتی رویے پر ڈھاکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہ گرفتاریاں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت کے رویے پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے اور بظاہر ڈھاکا حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ایک مقامی عدالت نے حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کی سربراہ خالدہ ضیاء کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے۔

یہ وارنٹ بم دھماکے سے متعلق ایک کیس میں پیش نہ ہونے پر جاری کئے گئے۔خالدہ ضیاء گزشتہ دو ماہ سے اپنے جلا وطن بیٹے سے ملنے کے لئے لندن میں ہیں اور رواں ماہ کے آخر میں ان کی واپسی متوقع ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ مقبول احمد گزشتہ برس اکتوبر میں امارت پر فائز ہونے کے بعد سے کسی عوامی یا سیاسی تقریب میں منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ انہیں سابق امیر مطیع الرحمٰن نظامی کو پھانسی دیے جانے کے بعد امیر منتخب کیا گیا تھا۔ مطیع الرحمٰن نظامی کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداش میں شہید کر دیا گیا تھا۔ غدار مجیب الرحمن کی بیٹی اسلام و پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو چن چن کر سزائیں دلوا رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان ایک بار پھر بیدار ہو رہا ہے اور مضبوط تحریک کھڑی ہو رہی ہے۔ اسی سے خوفزدہ ہو کر بھارتی اشاروں پر پھانسیوں کی سزائیں سنا ئی جا رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں جن قائدین کو پھانسیوں کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ جب بھارت نے اگر تلہ سازش کے تحت مجیب الرحمن جیسے غداروں کو کھڑا کیا اور مشرقی پاکستان پر باقاعدہ فوج کشی کی تو ان بزرگوں نے دفاع پاکستان کے لئے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیا تھا۔ آج بنگلہ دیش پر اسی مجیب الرحمن کی بیٹی کی حکومت ہے جو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کا نام لینے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اوربھارت کی ہمنوا بن کر انہیں پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔

پہلے عبدالقادرملا کو پھانسی دی گئی، پھر مولانا غلام اعظم کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جو جیل میں وفات پا گئے۔ پھر مولانا مطیع الرحمن کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے، حکومت پاکستان کو اس مسئلہ پر ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے، وگرنہ اس سے مایوسیاں پھیلیں گی۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی درحقیقت اْس نام نہاد ’امن کی آشا‘ کے سامنے ایک آہنی چٹان ہے، جسے ڈھانے کے لئے برہمنوں ، سیکولرسٹوں اور علاقائی قوم پرستوں کے اتحادِ شرانگیز نے ہمہ پہلو کام کیا ہے۔ بھارتی کانگریس کے لیڈر سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو بے دست وپا کرنے، مولانا مودودی کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور دو قومی نظریے کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دیوارسے لگانے کے لئے حسینہ واجد حکومت کی بھرپور سرپرستی کی۔ دوسری جانب خود بھارت میں مسلم نوجوانوں کو جیل خانوں اور عقوبت کدوں میں سالہا سال تک بغیر کسی جواز اور عدالتی کارروائی کے ڈال دینے کا ایک مکروہ دھندا جاری رکھا ہے۔

افسوس کہ پاکستانی اخبارات و ذرائع ابلاغ اس باب میں خاموش ہیں۔ عوامی لیگ، حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت محض ایک بھارتی گماشتہ ٹولے کی سی ہے، جسے بنگلہ دیش کے مفادات سے زیادہ بھارتی حکومت کی فکرمندی کا احساس دامن گیر ہے، گزشتہ تین برسوں پر پھیلے ہوئے عوامی لیگی انتقام کو پاکستانی سیکولر طبقے 1971ء کے واقعات سے منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ بدنیتی پر مبنی اس یلغار کا تعلق حالیہ بھارتی پالیسی سے ہے۔ وہ پالیسی جس کے تحت بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں نو آبادیاتی فکر اور معاشی و سیاسی بالادستی کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت یہ کام کھل ، کر رہی ہے۔

ریاض احمد چودھری

پاکستان میں تعلیمی اخراجات میں 153 فیصد اضافہ ہوا : رپورٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک عام طالب علم کے تعلیمی اخراجات میں 153 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایس بی پی کے افراط زر کے نگراں ادارے نے گزشتہ ماہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر مہنگائی میں رہائش کے کرایہ کے بعد تعلیم کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس 18 اگست کو کراچی میں والدین نے اسکولوں کی فیس میں مسلسل اضافے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کراچی کے تمام نجی اسکولوں کو پابند کیا تھا کہ وہ فیس کی مد میں 5 فیصد سے زائد اضافہ نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کروڑوں بچے اسکول جانے کی اہلیت نہیں رکھتے کیونکہ ان کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات پورا نہیں کر سکتے جبکہ ملک کے سرکاری اسکول ان بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے اہل نہیں۔ پاکستان میں بچوں کی تعلیم اس لیے بھی زیادہ مہنگی ہے کیونکہ ایک مڈل کلاس خاندان کی آمدنی کا بڑا حصہ نجی تعلیمی ادارے کی نظر ہو جاتا ہے۔ وزارت تعلیم اور پروفیشنل ایجوکیشن ٹریننگ کے ذیلی ادارے نیشنل ایجوکیشن منیجمینٹ انفارمیشن سسٹم (این ای ایم آئی ایس) نے 2016 – 2015 میں پاکستان ایجوکیشن شماریات رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی۔

تاہم اسکولوں کا رخ نہ کرنے والے بچوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ایک پوری نسل ناخواندہ ہے جبکہ حکومت بھی بچوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دے رہی۔ نجی تعلیمی ادارے تو فیس کی مد میں والدین سے پیسے لے ہی رہے ہیں لیکن ان کی کمر بچوں کی مہنگی کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری کا سامان توڑ دیتی ہے اور یہی اسکولوں میں تعلیم کو مہنگا کرنے کی ایک اور وجہ ہے۔ ایس بی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال ستمبر میں تعلیم کے حوالے سے مہنگائی 153 فیصد رہی جو ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں میں سے 44 فیصد کی عمریں 5 سے 16 برس کے درمیان ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں سرکاری تعلیمی اداروں کی اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ جو بچہ نجی اسکول میں تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا وہ سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر لے۔

شاہد اقبال

یہ خبر 22 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.