موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث گلیشیئر پگھل رہے ہیں لیکن پاکستان کے شمالی علاقوں کی برفانی چوٹیوں پر درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے گلیشیئر بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر سائنس دانوں کیلئے تو یہ اچھی خبر ہو لیکن عام پاکستانیوں کیلئے یہ خبر اس لیے اچھی نہیں ہے کیونکہ گلیشیئر پگھلنے کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی کمی کا خدشہ ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستانی دریا ؤ ں میں پانی کی 7؍ فیصد تک کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ برطانوی ریڈیو کے مطابق یہ بات ایریزونا یونیورسٹی میں پاکستانی گلیشیئروں پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے اپنے تحقیقی مقالے میں بتائی۔
پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں نے اپنے اتحاد ‘متحدہ مجلسِ عمل’ (ایم ایم اے) کی بحالی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کیا یہ اتحاد ماضی کی طرح انتخابی کامیابی حاصل کر سکے گا یا نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا انس نورانی، جمعیتِ اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر اور دیگر مذہبی سیاسی رہنمائوں نے اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں دینی جماعتوں کے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔
ان جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق آئندہ چند روز میں لاہور میں ایک اجلاس ہو گا جس میں ایم ایم اے کی باقاعدہ طور پر بحالی یا تمام مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایک وسیع تر اتحاد کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے رہنما موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی یا اسی قسم کے کسی دوسرے اتحاد کی تشکیل کے امکانات پر بظاہر خوش ہیں۔ لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ اس اتحاد کی ماضی کی کارکردگی اور ملک کے بدلتی ہوئی صورتِ حال میں مذہبی جماعتوں کے کسی اتحاد کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی جو عوام نے 2002ء کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کو بخشی تھی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان نے مذہبی جماعتوں کے قائدین کے مابین والی ملاقات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2002ء کی نسبت موجودہ حالات نہایت گھمبیر ہیں کیونکہ اس وقت تو امریکہ اور اس کی اتحادی افواج صرف افغانستان میں داخل ہوئی تھیں مگر اب تو پاکستان کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2002ء کی طرح 2018ء کے انتخابات میں بھی اس نئے اتحاد کو پذیرائی حاصل ہو گی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اتحاد کے باقاعدہ اعلان کے بعد کسی بھی رکن جماعت کو انفرادی طور پر سیاسی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ایم ایم اے نے 2002ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی جب کہ یہ اتحاد قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرا تھا جس کے باعث اس کے پاس قائدِ حزبِ اختلاف کا اہم عہدہ رہا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین کا کہنا ہے کہ 2002ء میں بھی مذہبی جماعتیں ایک غیر ملکی ایجنڈے کے تحت متحد ہوئی تھیں اور اب بھی غیر ملکی قوتوں نے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان پر نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آئندہ عام انتخابات میں انہیں مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو متحدہ مجلسِ عمل کے غیر فعال ہونے کے بعد زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ملا ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کی دشمنی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ واضح ہے۔ لہذا ان حالات میں ان دونوں جماعتوں کا ایک ہی فورم پر متحد ہونا بہت مشکل ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے جس کے رہنما اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات شاہ فرمان کہتے ہیں کہ قومی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنانا ان کا حق ہے۔
تاہم 2002ء سے2007ء تک متحدہ مجلس عمل کے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ عوام اس بارے میں بہتر فیصلہ دے سکتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے بارے میں عوامی رائے زیادہ تسلی بخش نہیں تھی۔ تجزیہ کار بریگیڈیر (ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو یا مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی نیا اتحاد بنے، اسے 2002ء کے عام انتخابات کی طرح پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں.
پاکستان میں فوج اور حکومت کے درمیان مختلف معاملات پر بیان بازی کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ نظر آ رہی ہے۔ تازہ ترین معاملہ ملک کی اقتصادی حالت کا ہے جس کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے واشنگٹن سے بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایک روز قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفت گو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی معیشت کی حالت اگر بری نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں ہے۔ اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں جب کہ آئی ایم ایف پروگرام پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں معیشت بہت بہتر ہے جب کہ ملک میں توانائی کے منصوبوں اور بجلی کی فراہمی سے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری سے درآمدات پر دباوٴ پڑا ہے مگر یہ قابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ پر عمل ہو رہا ہے، ٹیکسوں کی وصولی میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے جب کہ سیکیورٹی آپریشنز کے لئے بھی وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے علاوہ دو روز قبل ایف پی سی سی آئی اور آئی ایس پی آر کے اشتراک سے کراچی میں ایک سیمینار ہوا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا اور ملکی معیشت کی مشکل صورتحال پر بات کی تھی۔
اس سے قبل احتساب عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر وزیرداخلہ نے رینجرز کے رویے پر سخت برہم ہو کر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ علاوہ ازیں فوج کے ترجمان نے رکن قومی اسمبلی محمد صفدر کی طرف سے احمدیوں کو افواج میں بھرتی کرنے سے متعلق دیے گئے بیان کی بھی نفی کی اور میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جو “جب وردی پہن لیتے ہیں تو صرف پاکستانی بن جاتے ہیں۔”
وزیرداخلہ کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے “خلاف” بیان کے بعد حکومت مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی فوری ایکشن میں نظر آئی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ایک مرکزی راہنما اسدعمر کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ دوسروں کو نصیحتوں کی بجائے اپنا قبلہ درست کریں تو بہتر ہو گا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ “طائر لا ہوتی ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہونے جا رہا ہے، تجارتی خسارہ ریکارڈ پر ریکارڈ توڑے جا رہا ہے، رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ کا تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے ریکارڈ خسارے سے بھی 20 فیصد زیادہ ہے۔”
ایسے مواقع پر بیان دینے میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید بھی پیچھے نہ رہے اور فوراً ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیر داخلہ آئی ایس پی آر کے خلاف بیان دے رہا ہے۔ “صاف صاف نہیں بتاتے کہ آرمی چیف کا بیان چبھا ہے۔” اس جاری بیان بازی سے ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان سب کچھ اچھا نہیں ہے۔ دونوں ادارے اپنے اندر موجود اختلافات کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کر رہے اور میڈیا میں لگاتار اس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے اس بارے میں اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس صورتحال پر وارننگ لکھ کر کہا کہ چیزیں خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہیں، بہتری کا سوچنا چاہیے، پاکستان کا سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “میری سول اور ملٹری قیادت سے درخواست ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں اور معاملات کو حل کریں، کھلے عام ایسی لڑائی سے صرف پاکستان کو نقصان ہو گا۔” انصار عباسی نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں اور بند کمرے میں بیٹھ کر تمام معاملات پر بات کریں۔