شما سوراج کے سوالات کے جواب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے 72 ویں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے اپنی متوازن تقریر میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف بات کی بلکہ افغانستان ، عالمی دہشت گردی، داعش ، روہنگیا مسلمانوں کے قتل و غارت سمیت تمام علاقائی اور عالمی مسائل کا بھرپور احاطہ کیا۔ اس کے برعکس بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے توقع کے مطابق اپنی تقریر کا بڑا حصہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں صرف کیا۔ اسے ایک طرح سے پاکستان کی سفارتی فتح کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے عالمی فورم میں اقوام متحدہ میں مستقل نشست کے خواب دیکھنے والے بھارت پر پاکستان کا اتنا سفارتی خوف سوار تھا کہ لگتا تھا کہ بھارت کی تمام ” عالمی سیاست “ کا محور صرف پاکستان سے نفرت ہے۔

محترمہ سشما سوراج کی تقریر شاید ہندی فلموں کے کسی مصنف نے لکھی تھی اور انکا خیال تھا کہ اونچی آواز اور ڈرامائی انداز سے بھارت عالمی برادری کو فریب دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اپنی تقریر میں محترمہ نے نہایت جذباتی انداز میں پاکستان سے کچھ سوالات بھی کئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تو ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کرتا ہے، پاکستان دہشت گردوں کے علاوہ کیا بناتا ہے؟ محترمہ! صرف امریکہ میں اس وقت بارہ ہزار سے زیادہ پاکستانی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں  بحوالہ CHA-USA ۔ اگر اعداد و شمار کو پاکستان اور بھارت کی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو امریکہ میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں کی تعداد بھارتی ڈاکٹروں سے زیادہ ہی ہو گی۔ مہارت کی بات کریں تو امریکہ میں فارن ڈاکٹروں کو لائسنس دینے والے ادارے (USMLE) کے صدر نے کچھ عرصہ قبل PMDC کا دورہ کرتے ہوئے بیان دیا بلکہ اعتراف کیا کہ امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی ڈاکٹروں میں پاکستانی ڈاکٹر سب سے بہتر ہیں۔ یہی نہیں بلکہ NATO کے ذیلی دارے سائینس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن (STO) کا ” سائینٹیفک ایچومنٹ ایوارڈ“ برائے 2016ء امریکہ میں کام کرنے والے ایک پاکستانی ڈاکٹر راشد احمد چھوٹانی نے حاصل کیا ہے۔

محترمہ نے اپنی ڈرامائی تقریر میں یہ سوال بلکہ اعلان کیا کہ ” پاکستان صرف دہشت گردی درآمد کرتا ہے“ ۔ کوئی ان کو جگائے اور بتائے کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے اور گزشتہ پندرہ برس میں باسٹھ ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہو چکے ہیں، اور پاکستانی معیشت کو 120 بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اور یہ تمام دہشت گردی بھارت مختلف ذرائع اور مختلف راستوں سے پاکستان برآمد کرتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزم لگاتے ہوئے محترمہ سشما سوراج اس حقیقت کو بھول گئیں کہ ” ساﺅتھ ایشین ٹیرر پورٹل “ کے مطابق بھارت میں کم از کم 65 دہشت گرد تنظیمیں متحرک اور فعال ہیں ،جنہیں بھارت میں تمام اقلیتوں کے خلاف کھل کر کام کرنے کی آزادی ہے۔ یہ الزام لگاتے وقت انکو 1999ءمیں عیسائیوں کے خلاف ہونے والی ” بجرنگ دل“ کی کارروائیاں یاد نہیں آئیں اور نہ ہی 2002ء میں ہندو انتہا پسند تنظیم ”ہندو توا“ کے ہاتھوں گجرات میں شہید ہونے والے سینکڑوں مسلمانوں کا خون یاد آیا ۔

 انکو 2007ء میں بھارتی دہشت گرد تنظیموں RSS اور ” ابھیناو بھارت“ کے ہاتھوں ہونے والا سمجھوتہ ایکسپریس کا واقع یاد رہا اور نہ ہی ”وشنو ہندو پریشد کاﺅنسل“ کے ہاتھوں شہید ہونے والے بھارتی مسلمانو ں کے بارے میں انہوں نے کچھ کہا۔ کوئی انکو سمجھائے کہ جہاں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور قربانیاں دی ہیں وہاں بھار ت نے ایک عالمی دہشت گرد کو اپنا وزیر اعظم بنایا ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ دہشت گردی کا مجرم ہونے کی بنا پر بھارت کا وزیر اعظم بننے سے قبل تک امریکہ اور یورپ میں مسٹر مودی کا داخلہ تک ممنوع تھا۔ برآمدات کی بات کریں تو بھارت کی اہم ترین برآمد گائے کا گوشت ہے ( تقریباََ 3 ملین ٹن سالانہ)۔ جی ہاں وہی ” گاﺅ ماتا“ جس کے ذبح کا الزام لگا کر ہر دوسرے روز کسی مسلمان کو بھارت میں بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی ” گاﺅ ماتا“ کے گوشت کے بدلے میں ڈالر اور پاﺅنڈ ملیں تو کوئی حرج نہیں۔

اسکے بعد محترمہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بات کی ۔ بھارت سافٹ وئیر برآمد کرتا ہو گا۔ دنیا کے بے شمار ممالک کرتے ہیں لیکن محترمہ کو یہ علم نہیں کہ سافٹ وئیر کی پاکستانی برآمدات دو بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور محتاط اندازے کیمطابق 2025ء تک پاکستان سے سافٹ وئیر ایکسپورٹ کا حجم پچیس بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا ( بحوالہ PSEB)۔ پاکستان نے دنیا کے بہترین لڑاکا طیارے بنائے ہیں جسکا خواب ” ہندوستان ایرو ناٹئیکل لمیٹڈ“ کئی دہائیو ں سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان نے ” الخالد“ ٹینک بنائے ہیں۔ تمام بھارت پاکستان کے بنے ہوئے میزائلوں کے نشانے پر ہے۔ کھیلوں کا بہترین سامان ہو یا دنیا کے بہترین ” آلات جراحی“ پاکستان ہی برآمد کرتا ہے لیکن سشما سوراج اور مغربی دنیا کو پاکستا ن کی واحد ’ ’ پراڈکٹ “ صرف دہشت گردی نظر آتی ہے۔ اسکی وجہ بھارت، اسرائیل اور مغربی دنیا کے مفادات اور بھارتی پراپیگنڈہ ہیں۔ بلا شبہ پراپیگنڈہ کرنے اور جھوٹ بولنے میں بھارت نے بہت ترقی کی ہے اور یہ ایک میدان ہے جس میں پاکستان بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

میں بھی بطور پاکستانی آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ بھارت بہت امن پسند ملک ہے؟ کیا آپ بتائیں گی کہ کس ہمسائے کے ساتھ بھارت کے تعلقات دوستانہ ہیں؟ نیپال، بھوٹان، برما، سری لنکا اور بنگلہ دیش آپ سے دب کر رہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ پاکستان نے کبھی آپ کی بدمعاشی قبول نہیں کی اور کشمیریوں کے حق کی بات کرتا ہے اس لیے دہشت گرد ہے؟ آپکو بھارتی کشمیر میں موجود سات لاکھ بھارتی دہشت گرد نظر نہیں آتے ؟ اور بقول آپکے پاکستان کشمیر میں دہشت گردی کر رہا ہے ورنہ کشمیریوں کی اکثریت بھارت کے ساتھ ہے؟ اگر آپکو یہ یقین ہے تو آپ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ریفرینڈم کیوں نہیں کروا لیتے تاکہ دنیا کو حقیقت معلوم ہو جائے۔

کیا آپکو معلوم نہیں کہ آپکے ” شائیننگ انڈیا “ میں کل آبادی کی 36 فیصد بچیاں اور 29 فیصد بچے کم عمری میں جنسی تشدد کا شکار بنتے ہیں( بحوالہ JFPMC-India (اور اٹھارہ برس کی ” روپ کنور “ کو آج کے دور میں بھی ستی ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے؟ کیا آپکے علم میں نہیں کہ تیس فیصد بھارتی غربت کی انتہائی لکیر سے نیچے رہتے ہیں؟ بھارتی آبادی کے ساٹھ فیصد کے پاس رفع حاجت کے لیے ٹوائلٹ نہیں ہیں۔ روزانہ بیس کروڑ بھارتی بھوکے سوتے ہیں اور ہر برس دس ملین بھارتی بھوک اور خوراک کی کمی کے باعث مر جاتے ہیں. ( بحوالہ ہندوستان ٹایمز)

” گلوبل ہنگر انڈکس“ کے مطابق بھوک کا شکار لوگوں کے تناسب کے مطابق 1999ء میں بھارت کی پوزیشن 76 تھی جو اب 97 ہو چکی ہے ۔ (یعنی ” بھوک “ کے میدان میں آپکے بھارت نے خوب ترقی کی ہے۔ ) یہ چھوٹا سا آئینہ ہے ورنہ مکمل فہرست بہت طویل ہے۔ برائے مہربانی خوابوں کے بڑے بڑے محل تعمیر کرنے سے پہلے اپنی بنیادیں تو مضبوط کر لیں۔ جنگی جنون ، پراپیگنڈہ اور جھوٹ سے نہ آپکی عوام کا پیٹ بھرے گا نہ انکی افلاس دور ہو گی۔

ڈاکٹر احمد سلیم

پاکستان، انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں میں شامل

پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں روز بروز اضافے سے پاکستان انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ اس رینکنگ میں پاکستان 9 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ ایران 7 سات اور بنگلہ دیش 10ویں پوزیشن پر ہے۔ سن 2012ء سے 2015 ء کے دوران 16 ملین سے زائد پاکستانی آن لائن ہوئے جو ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد کا 47 فیصد بنتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں تھری جی فور جی ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فون کی تعداد میں اضافے کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ دراز، علی ایکسپریس، کیمو، اوبر اور کریم استعمال کرنے والے صارفین بھی انٹرنیٹ کااستعمال کر رہے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق اسمارٹ فون رکھنے والے 73 فیصد صارفین موٹر رائیڈ سروس کیلئے معاون ایپلی کیشنز استعمال کر رہے ہیں۔

تاج محل بھی پاکستان بھجوا دیں : وسعت اللہ خان

ایسا کیوں لگنے لگا ہے کہ آدتیاناتھ کسی شخصیت کا نہیں مخصوص نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جو کسی بھی شخص پر طاری ہو سکتی ہے۔ مثلاً ایک صاحب نے جو اچھے بھلے ڈاکٹر ہیں ایک دن فون کیا۔ وسعت صاحب آپ سے یہ امید نہ تھی؟ میں نے بوکھلا کر کہا کک کک ۔۔کیا امید نہیں تھی؟ کہنے لگے اچھا پہلے یہ بتائیے کہ آپ مسلمان ہیں؟ میں نے کہا الحمداللہ بالکل پکا ؟ پھر پوچھا آپ پاکستانی ہیں ؟ میں نے کہا اس میں کیا شک؟ کہنے لگے اگر آپ واقعی مسلمان اور سچے پاکستانی ہیں تو پھر آپ بی بی سی ہندی سروس کے لیے کیوں لکھتے ہیں؟ ہندی تو ہم مسلمانوں کی زبان نہیں۔

میں نے کہا میں تو تھوڑی بہت انگریزی بھی جانتا ہوں تو کیا میں کرسٹان ہو گیا اور عربی تو نیتن یاہو بھی جانتا ہے تو کیا وہ مسلمان ہو گیا ؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا وہ الگ بات ہے۔ انگریزی ان کی زبان ہے جو بائبل پر یقین رکھتے ہیں اور نیتن یاہو بھی یہودی ہونے کے ناطے اہلِ کتاب میں سے ہے۔ مگر ہندی اور وہ بھی سنسکرت سے آلودہ زبان بولنے والے اہلِ کتاب تو نہیں۔ بہرحال آپ جو بھی کہیں کم ازکم آپ سے یہ امید نہ تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ ادتیاناتھی ڈاکٹر صاحب مسلمان کے بجائے ہندو ہوتے تو بھی ایسے ہی ہوتے۔ اب دیکھیے نا کہ تاج محل بھلے ہندوستان میں سہی اور چار سو برس سے سہی اور اتر پردیش میں سہی مگر بقول یوگی ادتیاناتھ بھارتی تاریخ سے اس کا کیا لینا دینا۔

ان حالات میں یہ دلیل دینا بھی محض وقت اور الفاظ کا زیاں ہے کہ شاہ جہاں جب پیدا ہوا تو اس کے ہاتھ میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزیناں کا پرمٹ نہیں تھا بلکہ شاہ جہاں پانچ نسلوں سے ہندوستانی تھا۔ وہ تو دفن بھی اسی زمین پر ہے۔ شاہ جہاں شاہی خزانے کا پیسہ اونٹوں پر لاد کے غزنی یا بذریعہ ہنڈی سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں نہیں لے گیا بلکہ ہندوستان میں ہی خرچ کیا۔ آگرے میں اس کی محبوب بیوی ممتاز محل کا تاج محل نامی مزار آئی ایم ایف کے قرضے سے نہیں بلکہ ہندوستانی پیسے سے بنا۔ رہی یہ بات کہ جس طرح یوپی کے محکمۂ سیاحت نے اپنی فہرست سے تاج محل اڑا دیا اسی طرح بی جے پی کی زیرِ سرپرستی ایک اور ریاست مہاراشٹر کی سکولی کتابوں سے مغلوں کو نکال دیا گیا تو میں اس قدم پر کس منہ سے تنقید کروں جب میرا بچہ بھی چندر گپت موریا اور اشوکِ اعظم کے کارنامے نہیں جانتا۔ حالانکہ اس کا باپ پاکستان کے جس سرکاری سکول میں پڑھتا تھا اس میں موریا راج اور اشوک کا سنہری دور پاکستانی تاریخ کا ہی حصہ تھا۔

اب قدما میں صرف سکندرِ اعظم بچا ہے کیونکہ نوے فیصد بچے سکندرِ اعظم کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ جیسے ہم اپنے پسندیدہ شاعر اور نقاد فراق گھورکھپوری کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ جب پتہ چلا کہ ان کا نام تو رگھوپتی سہائے ہے تب بھی دل کو تسلی دیتے رہے کہ فراق نام کا آدمی بھلا ہندو کیسے ہو سکتا ہے۔ فراق کی وجہ سے تو آج بھی اردو ادب کی تاریخ رچی ہوئی ہے اور اردو تو مسلمانوں کی میراث ہے۔ ویسے اندر سے مانو تو ہم اس خبر پہ بہت خوش ہیں کہ تاج محل اب اتر پردیش کی تاریخی وراثت سے باہر کر دیا گیا ہے۔

بھگوان یوگی جی کی سرکار قائم رکھے اور لمبی عمر دے۔ جب وہ کل کلاں تاج محل کی جگہ تیجو مالیہ مندر کا سنگِ بنیاد رکھیں تو تاج محل بھی یوپیائی مسلمانوں کے سامان میں بندھوا کر فتح پور سیکری کی بلٹی کے ساتھ پاکستان بھجوا دیں۔ اس بہانے ہم بھی چار پیسے کما لیں گے اور یوگی جی کے سر سے بھی تاریخ کا بار اتر جائے گا ( جانے کیوں امید سی ہو چلی ہے کہ کوئی دن جاتا ہے بھارت کوہ نور پر دعویِ ملکیت سے بھی دستبردار ہونے والا ہے ). معلوم نہیں یوگی جی نے مودی جی سے بھی پوچھا کہ ابھی پچھلے ہی مہینے رنگون میں آخری ہندوستانی مغل روہنگیا بہادر شاہ ظفر کے مزار پر کیوں حاضری بھری۔

ہو سکتا ہے کسی نے مودی جی کے کان میں کہا ہو کہ بہادرشاہ ظفر برما کے ایک مشہور بادشاہ گذرے ہیں۔ آپ ان کی قبر پر جائیں گے تو برمیوں کو اچھا لگے گا۔ اور اگر مسلم ہندوستان اور اس کی یادگاروں کا بھارتی تاریخ سے کوئی لینا دینا نہیں تو مودی جی جاپانی وزیرِ اعظم شنزو ایبے کو احمد آباد کے صابر متی آشرم یا صابر متی ایکسپریس دکھانے کے بجائے سنگی جالی کے کام میں یکتا مشہورِ عالم سدی سئید مسجد میں کاہے کو لے گئے۔ کیا کریں! نگوڑی سیاست کے بازار میں سب چلتا ہے۔ تاج محل بھی، بہادر شاہ ظفر بھی، شنزو ایبے بھی اور یوگی ادتیاناتھ بھی۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار