بنگلہ دیش میں دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ، ’منصوبہ خطرناک‘

اقوام متحدہ کے مطابق بنگلہ دیش میں دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ کے قیام کا منصوبہ ’خطرناک‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈھاکا حکومت روہنگیا مہاجرین کے لیے ایسا کیمپ قائم کرنا چاہتی ہے، جس میں آٹھ لاکھ سے زائد مہاجرین رہ سکیں گے۔ میانمار کے ساتھ سرحد پر واقع بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق میانمار کی ریاست راکھین میں اگست کے اواخر سے دوبارہ شروع ہونے والی خونریزی کے باعث اب تک نصف ملین سے زائد روہنگیا مہاجرین وہاں سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

ان نئے مہاجرین کی آمد سے پہلے اس جنوبی ایشیائی ملک میں پہلے سے بھی تین لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین موجود تھے۔ اس طرح بنگلہ دیش میں اب میانمار میں ایک مسلم نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ان بے گھر باشندوں کی مجموعی تعداد آٹھ لاکھ سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ان مہاجرین کو رہائش اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈھاکا حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ ایک ایسا مہاجر کیمپ قائم کرے گی، جہاں یہ تمام مہاجرین رہ سکیں گے۔ اگر ایسا کوئی کیمپ قائم ہو گیا تو یہ دنیا بھر میں مہاجرین کا سب سے بڑا کیمپ ہو گا۔ اس کیمپ کے لیے ہزاروں ایکٹر زمین مختص بھی کی جا چکی ہے۔

لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ڈھاکا حکومت کا یہ منصوبہ اس کی روہنگیا مہاجرین کی مدد کے لیے نیک نیتی سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ایک ’خطرناک منصوبہ‘ ہے۔ اس عالمی ادارے کے مطابق مہاجرین کے لیے کسی ایک رہائشی علاقے میں، جہاں تین چوتھائی ملین سے زائد انسان رہتے ہوں، یہ منصوبہ اس لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کہ وہاں کسی آتشزدگی یا وبائی بیماریوں کے بہت تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے بے تحاشا انسانی ہلاکتوں کا خطرہ ہو گا۔

ڈھاکا حکومت یہ نیا مہاجر کیمپ ضلع کوکس بازار میں اسی نام کے شہر کے قریب کُوٹُوپالونگ کے علاقے میں بنانا چاہتی ہے، جس میں تمام روہنگیا مہاجرین رہ سکیں گے۔ لیکن اس بارے میں بنگلہ دیش میں مقیم اقوام متحدہ کی مختلف شعبوں میں امدادی سرگرمیوں کے نگران ملکی رابطہ کار رابرٹ واٹکنز نے کہا کہ حکومت کو کوئی ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ قائم کرنے کے بجائے ایسے دوسرے مقامامات کی تلاش کرنا چاہیے، جہاں قدرے چھوٹے لیکن تعداد میں زیادہ مہاجر کیمپ قائم کیے جا سکیں۔ رابرٹ واٹکنز نے اے ایف پی کو بتایا، ’’جب آپ کسی ایسے چھوٹے سے علاقے میں بہت بڑی تعداد میں ایسے انسانوں کو مل کر رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں، جن کا جسمانی مدافعتی نظام بہت کمزور ہو چکا ہو، تو یہ اقدام اس لیے خطرناک ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں خوفناک حد تک زیادہ انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔‘‘

واٹکنز نے کہا، ’’ایسی صورت میں اس کیمپ کے کسی بھی ایک حصے میں اگر کوئی وبائی بیماری پھوٹ پڑے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسی کوئی وباء انتہائی تیز رفتاری سے پھیلے گی اور یوں یکدم لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر مہاجر کیمپ چھوٹے ہوں، تو وہاں لوگوں کو رہائش، صحت اور سلامتی کی سہولیات مہیا کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔‘‘ ڈھاکا حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کا بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت یا آئی او ایم اس بات پر راضی ہو چکا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں کام کرنے والے مہاجرین کے امدادی اداروں کی کارروائیوں کو مربوط بنائے گا اور مجوزہ مہاجر کیمپ کی جگہ پر شیلٹر تعمیر کرنے میں بھی مدد دے گا۔

آئی او ایم کے مطابق اگر بنگلہ دیشی حکومت نے اپنے منصوبے کے مطابق کوکس بازار میں یہ بہت وسیع و عریض کیمپ قائم کر دیا، تو یہ دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ ہو گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک یوگنڈا میں بیدی بیدی کا کیمپ اور کینیا میں داداب کا کیمپ دونوں ہی عالمی سطح پر مہاجرین کے سب سے بڑے کمیپ شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں قریب تین لاکھ مہاجرین کے رہنے کی گنجائش ہے۔

بشکریہ DW اردو

گلو بٹ زندگی کے نئے مقصد کی تلاش میں

جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں کے شیشے توڑتا شاہد عزیز عرف گلو بٹ شاید لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا ایک نیا مقصد ڈھونڈ لیا اور اب گلو بٹ میانمار میں ظلم و ستم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کی آواز بن کر سامنے آیا ہے۔ کوٹ لکھپت جیل سے اپنی رہائی کے کچھ ہی ماہ بعد گلو بٹ نے سماجی سرگرمیوں کے لیے لاہور کے فیصل ٹاؤن میں واقع کوٹھا پنڈ فلیٹس کے اطراف میں لوگوں سے رابطہ کیا اور ‘برما کے مسلمانوں’ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بینرز بھی لگوائے۔ ان میں سے ایک بینر پر درج ہے، ‘برما کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم اور قتل و غارت روکنے کے لیے گلو بٹ کا ساتھ دیں’۔

اور گلو بٹ نے صرف اس سلسلے میں الفاظ کا سہارا ہی نہیں لیا، بلکہ حال ہی میں انہوں نے میانمار کے مسلمانوں کی حمایت میں ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی انعقاد کیا، لیکن اسے میڈیا اور عوام کی اتنی توجہ حاصل نہیں ہوئی، جو اُس کوریج سے بالکل متصادم ہے، جو گلو بٹ کو جون 2014 میں حاصل ہوئی تھی، جب ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر وہ گاڑیوں پر ڈنڈے برساتا نظر آیا تھا۔ یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور میں پولیس نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی اس دوران اہلکاروں اور عوامی تحریک کے کارکنوں میں تصادم ہوا تھا، اسی دوران گلو بٹ نے وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑنے شروع کر دیے تھے اور یہ تمام مناظر کیمروں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے۔

جس کے بعد گلو بٹ کو گرفتار کرلیا گیا اور 30 اکتوبر 2014 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں 11 سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم رواں برس فروری میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے گلو بٹ کے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے اس کے تحت دی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ گلو بٹ دیگر دفعات کے تحت اپنی سزا پوری کر چکا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ گلو بٹ اپنے ‘نئے کردار’ کے حوالے سے میڈیا کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر خوش نہیں تھے، لیکن یہ واحد چیز نہیں ہے، جس کا انہیں سامنا ہے۔

گلو بٹ چاہتے ہیں کہ دنیا اس بات کا نوٹس لے کہ وہ اب ایک تبدیل شدہ انسان ہیں اور ‘اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت’ کے لیے تیار ہیں، لیکن گلو کے مطابق اس بات کے برعکس انہیں لوگوں کی دشمنی کا سامنا ہے، انہوں نے بتایا، ‘گذشتہ ہفتے 30 سے 35 لوگوں نے ایک قریبی ریسٹورنٹ میں مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور مجھے دھمکیاں دیں’۔ ساتھ ہی انہوں نے خود میں آنے والی تبدیلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘اگر میں پرانا والا گلو بٹ ہوتا تو میں انہیں اُسی طرح جواب دیتا’۔ گلو بٹ کا کہنا تھا کہ انہیں کئی ذرائع سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور اس بات کے باوجود کہ وہ اپنی سزا پوری کر چکے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اُن ‘دوستوں’ کی جانب سے نشانہ بننے کے خدشات کا بھی اظہار کیا جو سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بوجھ ہے۔

گلو بٹ بحیثیت ایک سیکیورٹی گارڈ کام کرنا چاہتے ہیں، شاید کسی بینک یا اسکول میں، لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ایک ایسے پرتشدد شخص کو سیکیورٹی گارڈ کے طور پر تعینات کرنے سے عوام پر کیا اثر پڑے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ گلو بٹ دیگر آئیڈیاز پر کام کرنے کے حوالے سے بھی تیار ہے۔
انہوں نے ڈان کو بتایا، ‘میں اپنی ہینڈ رائٹنگ (لکھائی) بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ میں بیرون ملک کوئی ملازمت تلاش کر سکوں’، ساتھ ہی انہوں نے ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی دکھایا جس پر وہ اپنے دستخط کی پریکٹس کر رہے تھے۔
خاندانی گھر کے دروازے ان پر بند ہونے کے بعد گلو بٹ کے لیے نیا گھر تلاش کرنا ایک مشکل امر ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس رہنے کو کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت کوٹھا پنڈ کے علاقے میں واقع اپنے دوست کے انٹرنیٹ کیفے پر گزارتے ہیں۔

گلو بٹ کے مطابق، انہیں ملنے والی ‘بین الاقوامی شہرت’ کے بعد ملک کے دور دراز علاقوں سے بھی لوگوں نے آکر ان کے ساتھ سیلفیز بنوائیں، لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آتا۔

عمران گبول
یہ رپورٹ 7 اکتوبر 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی.

چین اور پاکستان نے سی پیک پر امریکی اعتراضات مسترد کر دیئے

چین اور پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر امریکا کے اعتراضات مسترد کر دیئے ہیں اور چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سی پیک کسی تیسرے فریق کےخلاف ہے نہ اس کا علاقائی خودمختاری کے تنازعات سے کوئی تعلق ہے جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نےکہا ہے کہ سی پیک خطے کی ترقی، رابطے اورعوام کی بہتری کا منصوبہ ہے، عالمی برداری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پر توجہ دے ۔ سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ متنازع بیانات علاقائی تقسیم کا باعث اور تعلقات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ قبل ازیں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے سی پیک پر اعتراضات اُٹھا دیئے اور آرمڈ سروسز پینل میں پیشی پر کہا کہ سی پیک متنازع علاقے سے گزرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے پراعتراض اُٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس منصوبے کا جو حصہ پاکستان میں تعمیر ہو رہا ہے وہ متنازع علاقوں سے گزرتا ہے ، امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کو دی گئی حالیہ بریفنگ میں کہا کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا متنازع علاقوں سے گزرنا اس پر سوالات کا باعث بنتا ہے، امریکا نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ پالیسی کی اصولی بنیاد پر مخالفت کی ہے کیونکہ جدید دنیا میں بہت سے بیلٹ اور متعدد سڑکیں ہیں اس لیے کسی بھی قوم کو ایسے کسی منصوبے کی بلا جواز مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔

جم میٹس نے چین پر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے ذریعے دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہم نے ون بیلٹ ون روڈ کی تعمیر کی اس لیے مخالفت کی ہے کیونکہ اس کا جو حصہ پاکستان میں تعمیر ہو رہا ہے وہ متنازع علاقوں سے گزرتا ہے۔ ادھردفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے امریکی وزیر دفاع کے بیان پررد عمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سی پیک خطے کی ترقی ، رابطے اور عوام کی بہتری کا منصوبہ ہے جس سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتر آئے گی۔