ٹیکسلا کے کھنڈرات راولپنڈی سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ شہر بھی پرانے زمانے میں ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی طرح ایک وسیع و عریض اور بارونق شہر تھا۔ ٹیکسلا شہر کے صحیح حالات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے لیکن ہندوئوں کی کتاب ’’مہا بھارت‘‘ نیز یونانی اور چینی مورخوں نے اس پر کچھ روشنی ڈالی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ٹیکسلا کے کھنڈرات تین شہروں پر مشتمل تھے بھڑکا ٹیلا‘ سرکپ اور سرسکھ وغیرہ قدیم ترین شہر سرائے کھولہ۔ چھٹی صدی قبل از مسیح میں یہ علاقہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا یہاں ایک بہت بڑی یونیورسٹی تھی جس کی وجہ سے یہ جگہ عالموں اور فاضلوں کا مرکز تھی۔
اس کے علاوہ یہ بڑا خوشحال علاقہ تھا جس کی دولت لوٹنے کے لیے بعد کے زمانے میں کئی غیر ملکی حملہ آوروں نے اس پر بے شمار حملے کئے۔ سب سے پہلے اس پر سکندر اعظم نے حملہ کیا یہی وجہ ہے کہ اس پر یونانیوں کا اثر رہا پھر ستھمین اور پاتھین آئے۔ ان کے بعد کشن آئے اور کئی سو سال تک حکمران رہے۔ ان کے بعد سفید ہن حملہ آور ہوئے اور انہوں نے بڑی تباہی مچائی۔ یہاں کے قدیم باشندے بدھ مت کے پیروکار تھے اسی لیے بدھ مت اور جین مت کے پیروئوں کے ٹوپ اور سمادھیاں یہاں کثرت سے نظر آتی ہیں جس میں چیر ٹوپ‘ بھڑمائونڈ‘ کنال کا ٹوپ ‘ موہڑ امرادو‘ جولیاں‘ لال چگ اور جنڈیال کے قدیم آثار بے حد مشہور ہیں۔
وادی ٹیکسلا خوبصورت ‘ سرسبز و شاداب اور دلفریب تاریخی شہر ہے جس کے تین ا طراف کو بلند پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔ شمال مشرقی حصے میں ایک پہاڑ ہے۔ مشرق میں خان پور ضلع ہزارہ کے پہاڑ ہیں اور جنوب مشرق میں مارگلہ کی پہاڑیوں کا سلسلہ ہے۔ ان ہی پہاڑوں کے دامن میں بدھ مت پروان چڑھا۔ بڑے بڑے جنگجو اس وادی پر قابض رہے۔ اپنے وقت کے بادشاہوں نے اس علاقے کو پایہ تخت بنایا۔ یہ تمام علاقہ اپنے اندر قدیم حالات و واقعات پر محیط ایک ہزار سال کا سنہری دور چھپائے ہوئے ہے یعنی شواہد کی رو سے سات سو سال قبل از مسیح سے لے کر پانچ سو سال بعد از مسیح تک اس دوران دور دراز کے ممالک سے فنون کا تبادلہ ہوا اور بہت سے مکاتب فکر کو مختلف ادوار میں عروج ملا جو بعد میں ایک دوسرے میں ضم ہوتے رہے۔
ان تمام مکاتب فن میں جو بات سب سے ز یادہ نمایاں اور مشترک تھی‘ وہ صرف اور صرف بدھ مت کی اشاعت تھی۔ یعنی مہاتما بدھ کی ز ندگی کے حالات و واقعات کو پتھر یا دوسری اشیاء مثلاً چکنی مٹی اور چونے کے پتھروں پر تصویری شکل میں کندہ کر کے عبادت گاہوں میں آویزاں کیا جاتا تھا۔ یہ فن آج کے دور میں ’’گندھارا آرٹ‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ وادی ٹیکسلا میں کھدائی کے دوران تین قدیم شہر اور درجن سے زائد بدھ مت کی عبادت گاہیں اور خانقاہیں دریافت ہوئیں۔ سب سے قدیم شہرکے کھنڈرات ’’بھرکا ٹیلہ‘‘ کے نام سے آج بھی موجود ہیں۔ یہ شہر ساتویں صدی قبل از مسیح سے لے کر دوسری صدی قبل از مسیح تک آباد رہا۔
دوسرا شہر’’سرکپ‘‘ کے نام سے دریافت ہوا جو دوسری صدی قبل از مسیح سے دوسری صدی بعداز مسیح تک آباد رہا۔ تیسرے قدیم شہر کے کھنڈرات ’’سرسکھ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ جن دنوں ٹیکسلا کی وادی میں کھدائی کا کام اپنے عروج پر تھا۔ سرجان مارشل نے 1912ء میں ا یک نہایت دلفریب علاقے کا چنائو کر کے اس میں ایک خوبصورت اور باوقار عجائب گھر ) Museum ( تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 2 نومبر 1918ء کو ایچ ای لارڈ چیمس فورڈ‘ وائسرائے و گورنر جنرل ہندوستان نے اس عجائب گھر کا سنگ بنیاد رکھا اور 1928ء میں ایک پروقار تقریب میں اس میوزیم کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اس عجائب گھر میں سجائے گئے تمام نوادرات ٹیکسلا کی وادی سے کھدائی کے دوران حاصل کئے گئے تھے۔
اس عجائب گھر میں تین بڑے بڑے ہال ہیں مرکزی ہال نسبتاً بڑا ہے۔ اس ہال میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے بھی ہیں اس ہال کے وسط میں ’’موہڑہ مراد‘‘ میں دریافت ہونے والے ایک اسٹوپہ کی نقل رکھی گئی ہے۔ یہ ہال پتھر پر تراشیدہ بتوں اور پتھروں سے بنی ہوئی دیگر اشیاء پر مشتمل ہے جبکہ جنوبی ہال میں متفرق اشیاء جن میں لوہا ‘ تانبہ اور پتھروں سے بنائی گئی اشیاء اور آگ میں بنے ہوئے مٹی کے برتن ا ور کھلونوں کی نمائش کی گئی ہے۔ مرکزی ہال کے دو کمروں میں سکے‘ چاندی کے برتن‘ زیورات اور ایک سوئی ہوئی سازندہ کی نقل مورتی ہے۔ دوسرے کمرے میں سونے کے زیورات ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ایپل آئی فون کی دسویں سالگرہ پر زبردست فیچرز کے ساتھ آئی فون ایکس یا آئی فون ٹین تیار کیا گیا ہے لیکن اب خود ایپل کارپوریشن کی جانب سے اس کی کم تعداد میں تیاری کی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایپل آئی فون کےلیے اہم ترین پرزہ جات تیار کرنے والی کمپنیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ خود ایپل نے انہیں کہا ہے کہ وہ پہلے آرڈر کے مقابلے میں صرف 40 فیصد آرڈر ہی بھیجیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی فون ٹین کےلیے پہلے سے فراہم کردہ آرڈر میں غیرمعمولی اور غیرمتوقع کمی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ بھی دیگر تجزیہ کاروں نے ایپل آئی فون ٹین میں عدم دلچسپی کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے قبل لندن میں نئے فون کے اجرا پر صرف چند درجن افراد ہی قطاروں میں دیکھے گئے۔ دوسری جانب اسمارٹ فون کا جائزہ لینے والی ویب سائٹ ’ڈجی ٹائمز‘ نے تائیوان کی بعض کمپنیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایپل نے انہیں فون اور دیگر اہم پرزوں کی فراہمی کے آرڈر میں کمی کا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے کہا تھا کہ آئی فون ٹین سے قدرے سستے آئی فون 8 کی طلب میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے جب کہ کچھ افواہیں زیرِ گردش رہیں کہ خود ایپل نے بھی آئی فون ایکس کی باقاعدہ تیاری شروع نہیں کی ہے۔
آئی فون کی پیداوار میں کمی کی ان خبروں کا اثر خود ان کئی کمپنیوں پر بھی دیکھا گیا جو آئی فون کےلیے کام کرتی ہیں اور ان کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح ایپل کمپنی کے حصص میں بھی 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی اور ماہرین نے اس کی وجہ ان ہی خبروں کو بتایا ہے جب کہ دیگر تجزیہ نگاروں کے مطابق پوری دنیا میں نئے آئی فون کے پہلے دن کوئی غیرمعمولی قطاریں اور رش نہیں دیکھا گیا۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے چھ بچے اور 20 برس سے کم عمر کے نوجوان سیکھنے کے عمل میں مہارت کی بنیادی سطح تک پہنچنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کے نتائج کو ‘حیرت انگیز’ قرار دیا ہے جو ‘سیکھنے کے بحران’ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
غریب ترین بچے، اعلیٰ ترین تعلیم
تعلیم کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کی توجہ زیادہ تر خصوصاً افریقہ میں صحرائے صحارا کے زیریں علاقے کے غریب ممالک یا پھر شورش زدہ علاقوں میں سکولوں تک رسائی نہ ہونے پر رہی ہے۔ لیکن یونیسکو انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹسٹکس کی تازہ تحقیق نے سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے 60 کروڑ سے زیادہ بچوں میں ریاضی اور مطالعے کی بنیادی مہارت نہیں ہے۔
بڑی تقسیم
تحقیق کے مطابق صحرائے صحارا کے زیریں علاقے میں 88 فیصد بچے اور نوجوان بالغ ہونے تک مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں 81 فیصد افراد خواندگی کی مناسب سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کے عزائم آبادی کو خواندہ بنائے اور شمار کیے بغیر پورے نہیں ہو پائیں گے۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں صرف 14 فیصد جوان افراد اپنی تعلیم اس انتہائی نچلی سطح پر چھوڑتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سکول جانے والے صرف 10 فیصد بچے ایسے ترقی یافتہ خطوں میں رہتے ہیں۔
یونیسکو انسٹیٹیوٹ آف سٹیٹسٹکس کی ڈائریکٹر سلویا مونٹویا کہتی ہیں ‘ان میں سے زیادہ تر بچے اپنی کمیونٹیز اور حکومت کی نظروں سے پوشیدہ یا کہیں الگ نہیں ہوتے بلکہ وہ کمرۂ جماعت میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ ‘معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے اس پر کہیں زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک ویک اپ کال ہے۔’ ‘سکولنگ ود آؤٹ لرننگ’ کا مسئلہ عالمی بینک نے بھی رواں ہفتے جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں اٹھایا ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایسی تعلیم حاصل کر رہے تھے جو انھیں کم تنخواہوں والی اور غیر محفوظ نوکریوں کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔
عالمی بینک کے صدر جم یونگ کِم نے رپورٹ کو متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں ناکامیاں ‘اقتصادی اور اخلاقی بحران’ کی نشاندہی ہیں۔ تحقیق کاروں نے کینیا، تنزانیہ، یوگینڈا اور نکاراگوا کے طالبعلموں کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ وہ آسان جمع تفریق نہیں کر سکتے اور سادہ جملے بھی نہیں پڑھ سکتے۔ ان کے مطابق جاپان کے پرائمری سکولوں میں شاگردوں کی بنیادی مہارت 99 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن مالی میں یہ شرح صرف سات فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممالک کے اندر بھی وسیع پیمانے پر خلیج موجود ہے۔ کیمرون میں پرائمری سکول کے اختتام پر صرف پانچ فیصد غریب لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ پاتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں امیر گھروں کی 76 فیصد لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں۔
ذمہ دار کون ہے؟
عالمی بینک کی تحقیق میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایسی خراب کارکرگی کا سبب ہیں۔ اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ غریب ممالک میں طالب علم ایسی حالت میں سکول آتے ہیں جس میں سیکھا نہیں جا سکتا۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کئی طلبا خوراک کی کمی کا شکار اور بیمار ہوتے ہیں۔ محرومیاں اور ان کی گھریلو زندگی میں غربت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے بغیر ہی سکول آنا شروع کر دیا ہے۔ تدریس کے معیار کے بارے میں بھی تحفظات ہیں کہ بہت سے ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔
صحرائے صحارا کے زیریں علاقوں کے چند ممالک میں اساتذہ کا غیر حاضر رہنا بھی ایک مسئلہ تھا جو کہ اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے منسلک ہے۔
عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ پال رومر کا کہنا ہے کہ ایمانداری سے اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے بچوں کے سکول میں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قابل قدر انداز میں سیکھ بھی رہے ہیں۔
جانچ پڑتال کی کمی
رپورٹ میں معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کی کمی اور طلبا کی کامیابیوں کے بارے میں بنیادی معلومات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مغربی ممالک میں بہت زیادہ جانچ پڑتال کے بارے میں بحث کی جا رہی ہے، لیکن تحقیق کاروں نے ان ممالک کی بھی نشاندہی کی ہے جنھوں نے پیش رفت کی ہے۔ ان ممالک میں جنوبی کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں تعلیم پر خرچ کرنے کے بین الاقوامی سطح پر وعدے کیے گئے ہیں۔ فرانس کے صدر امینول میخواں کا کہنا تھا کہ ‘میں نے طے کرلیا ہے کہ تعلیم کو فرانس کی ترقی اور خارجہ پالیسی میں سب سے پہلی ترجیح رکھوں گا’۔
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے تعلیم کے سفیر گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم پر عالمی شراکت داری چاہتے ہیں جو تعلیمی منصوبوں پر امداد کو سہل بنائے۔ اس کے لیے سنہ 2020 تک دو ارب ڈالر ہونے چاہییں۔ یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اس کے انسانی امداد کے بجٹ کا آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہو گا۔ ایجوکیشن ابوو آل فاؤنڈیشن، یونیسیف اور دیگر فلاحی اداروں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شام میں ایسے بچوں کی تعلیم پر اضافی چھ کروڑ ڈالر خرچ کریں گے جنھوں نے لڑائی کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا ہے۔ گورڈن براون کا کہنا ہے کہ’ہمارے تعلیمی اہداف کے لیے فنڈنگ کرنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت ایک بچے کو ڈیسک پر بٹھانے کے، اس سے مواقع اور امید کے دروازے کھلیں گے’۔