بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکا اور جارحیت ہے اور بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی سے سشما سوراج کی تقریرکے جواب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھارت کو سیز فائرکی خلاف ورزی سے روکے، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا، بھارتی حکمران جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، نریندرمودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث رہا، بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں، بھارت دہشتگردی کوریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے جب کہ بھارت کو مذاکرات کیلیے دہشت گرد پالیسی ترک کرنا ہو گی۔

کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، کشمیر پر بھارتی قبضہ غیرقانونی ہے، مذاکرات کیلئے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرنا ہو گی، پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتا ہے، کشمیرمیں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیئں اور فریقین تنازعہ حل نہ کر سکیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری مداخلت کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے ہر پڑوسی سے جنگیں لڑیں اورقائداعظم پرتنقید کرنے والوں کے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت بہتان تراشی پراترآیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکا اور جارحیت ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے جب کہ بھارت نے اپنے ہرپڑوسی سے جنگیں لڑیں اوربھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت بند کرے۔

نئی نسل پچاس سال پہلے کے مقابلے میں کئی سال پیچھے ہے

وہ تو آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آج کے دور کی نسل ماضی کے مقابلے میں بہت تیز اور ذہین ہے۔ اور ان میں کام کرنے کی اہلیت اور صلاحیت زیادہ ہے۔ لیکن ایک حالیہ مطالعاتی جائزے نے اس خیال کو باطل قرار دے دیا ہے۔ حال ہی میں آج کے دور کے ٹین ایجرز اور 70 کے عشرے کے ٹین ایجرز کے درمیان موازنے سے یہ پتا چلا ہے کہ ان شعبوں میں، جس میں نوجوانوں کی دلچسپی ہوتی ہے، آج کے نوجوان، ماضی کے نوجوانوں سے کم از کم تین سال پیچھے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والے اس جائزے میں ماہرین نے 83 لاکھ سے زیادہ ٹین ایجرز کے طرز عمل ، مشاغل اور مصروفیات سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پرکھ کی۔ ان اعداد و شمار کا تعلق امریکہ میں آباد 7 اہم قوموں سے تھا اور یہ ڈیٹا 1976 سے لے کر 2016 کے عرصے کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔

نئی نسل سے متعلق ایک جریدے ، چائلڈ ڈیولپمنٹ ، میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے 13 سے 19 سال کے نوجوانوں کی مصروفیات کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ اپنا وقت کیسے گذارتے تھے۔ اس تجزیے میں جن پہلوؤں کو پرکھا گیا وہ تھا ملازمت کرنا، ڈرائیونگ کرنا، مخالف جنس کے ساتھ دوستیاں کرنا، اور شراب نوشی کرنا۔ ان چیزوں کی جانب امریکی ٹین ایجرز کم و بیش ہر دور میں راغب رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 70 کے عشرے اور موجودہ دور میں نوجوانوں کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی اعتبار سے بڑے پیمانے پر تبدیلی آ چکی ہے۔ 2010 کے عشرے میں ٹین ایجرز میں معاوضے کے لیے کام کرنے، ڈرائیونگ کرنے، ڈیٹ پر جانے، الکحل پینے اور والدین کے بغیر باہر جانے کا رجحان 70 کے عشرے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھا۔ یہ تبدیلیاں امریکہ میں رہنے والی کسی ایک نسل یا قوم میں نہیں دیکھی گئی بلکہ اس میں مجموعی طور پر ہر رنگ اور نسل اور جنس سے تعلق رکھنے والے امریکی نوجوان شامل ہیں۔

یہ مطالعاتی جائزہ امریکی ریاست سین ڈیاگو کی سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے تحت کرایا گیا اور اس کی قیادت شعبہ نفسیات کے پروفیسر جین ٹوینگ نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ان دلچسپیوں میں نئی نسل کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں 18 سال کا نوجوان جن سرگرمیوں کی جانب متوجہ ہوتا ہے ،70 کے عشرے میں وہی کام 15 سال کی عمروں کے نوجوان کیا کرتے تھے۔ اس رجحان میں تبدیلی کی وجوہات کے متعلق نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی اور نئی ایجادات کی لہر نے آج کے نوجوانوں کے مشاغل تبدیل کر دیے ہیں ۔ اب ان کا زیاد وقت انٹرنیٹ پر گذارتا ہے۔ اور غالباً بلوغت سے منسلک سرگرمیوں کی جانب رغبت میں کمی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔
نفسیاتی ماہرین کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ اس کلچرل تبدیلی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے نوجوان پر ، جو اس عمر میں عموماً زیر تعلیم ہوتے ، ہوم ورک اور غیر نصابی سرگرمیوں کا اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ ان کے پاس کچھ اور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن یہ طے ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان کے مقابلے میں خطرات اور ذمہ داریاں قبول کرنے سے کتراتا ہے۔ نیویارک کے ہنٹنگٹن ہاسپیٹل میں چیف میڈیکل آفیسر اور بچوں کے أمور کے ماہر مائیکل گروسو کہتے ہیں کہ اس وسیع البنیاد مطالعے کے نتائج ہماری اس عمومی سوچ سے مختلف ہیں کہ آج کے جدید اور پیچیدہ عہد کی نئی نسل کو اپنی عمر سے پہلے بڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ زوکر ہل سائیڈ ہاسپیٹل نیویارک کے بچوں کے شعبے کے ڈائریکٹر فارنیری کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ وقت انٹرنیٹ پر گذارنا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بچے ٹیلی وژن یا کسی دوسری الیکٹرانک سکرین پر زیادہ وقت گذارنے سے روکیں، انہیں اپنے ساتھ باہر لے کر جائیں، انہیں کتابیں پڑھنے اور اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے پر راغب کریں ۔

جمیل اختر – واشنگٹن

بھارتی انصاف : گائے کی موت پر ہنگامہ اور دلت کی موت پر خاموشی

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ہرن کیدانا علاقے میں بہنے والے نالے میں آس پاس کے مکانات اور کمپنیوں کا انسانی فضلہ اور فیکٹریوں کا کیمیکل جمع ہوتا ہے۔ قریبی سڑک کی خالی جگہ پر نالے سے کئی روز قبل نکالا گيا گندہ کچرا اب سخت ہوگيا ہے۔ اس سے نکلنے والی تعفن اتنا شدید ہے کہ سانس لینا مشکل ہے۔
اسی نالے کو صاف کرنے کے لیے نیتو اور اجیت اس کے اندر گردن تک ڈوبے ہوئے تھے۔ کئی بار اس کا پانی ان کی ناک تک چلا جاتا، دونوں نے اپنا منہ زور سے بند کر رکھا تھا۔ ایک کے ہاتھوں میں بانس کی لمبی چھڑی تھی تو دوسرے کے ہاتھوں میں لوہے کا کانٹا جس سے وہ نالے کی تہہ میں پھنسے ہوئے کوڑے کچرے کو ہلانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہاں سے پانی کے نکلنے کی جگہ بنے۔

نیتو نے اشارہ کیا: ‘کالا پانی گیس کا پانی ہوتا ہے، وہی گیس جو لوگوں کی جان لے لیتی ہے۔’ ‘ہم بانس مار کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں کوئی گیس موجود ہے کہ نہیں، اور پھر ہم اس میں داخل ہوتے ہیں۔ بندے اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ وہ بغیر اسے دیکھے ہی اس میں کود پڑتے ہیں۔’ ایک دن میں 300 روپے کمانے کے لیے وہ نالے میں پائے جانے والے سانپوں اور مینڈک جیسے جانوروں کی بھی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ دبلے پتلے جانگیا پہنے ہوئے نیتو نالے سے نکل کر دھوپ میں کھڑے ہوئے تو ان کے بدن سے بہنے والا پسینہ اور جسم پر لگا گندہ کیچڑ ایک عجیب سی بو پیدا کر رہا تھا۔ سیور میں پائے جانے والے کانچ، کنکریٹ یا زنگ آلود لوہے سے نیتو کے پاؤں کئی بار زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کے پیروں میں ایسے کچھ زخم ابھی بھی تازہ تھے کیونکہ ان کو بھرنے کا موقع نہیں مل پایا۔

ایک غیر سرکاری ادارے ‘پریکسس’ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دہلی میں سیور صاف کرنے والے تقریبا 100 خاکروب ہر برس ہلاک ہو جاتے ہیں۔ رواں برس جولائی اور اگست کے محض 35 دنوں میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے۔ ایک تنظیم ‘صفائی ملازمین اندولن’ کے مطابق سنہ 1993 سے انڈيا میں تقریبا 1500 خاکروب ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے نے اس کے دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لاکھوں لوگ اب بھی یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کام سے وابستہ بیشتر افراد کا تعلق دلت سماج سے ہے۔ سیور میں زیادہ تر اموات ہائیڈروجن سیلفائید کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

وہ لوگ جو سیور میں کام کرتے ہیں انھیں دمہ، جلد اور پیٹ کی طرح طرح کی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیتو نے یہ کام 16 برس کی عمر سے شروع کیا تھا۔ دہلی میں وہ اپنے بہنوئی درشن سنگھ کی ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں رہتے ہیں۔ انھیں جُھگیوں میں بہت سارے خاکروب ملازمین رہتے ہیں۔ اس کے آس پاس آبادی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں سانس لینے کے لیے بہت زور لگانا پڑتا تھا۔ دروازے پر کوڑے کے ڈھیر کو پار کر کے ہم درشن سنگھ کے ڈھابے پر پہنچے۔
درشن سنگھ نے 12 برس تک صفائی کا کام کیا لیکن پاس کی ایک عمارت میں اسی کام کے دوران ان کے دو ساتھیوں کی موت ہو گئی جس کے بعد انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔

انھوں نے بتایا:’ایک اپارٹمنٹ میں ایک پرانا گٹر طویل عرصے سے بند پڑا تھا۔ اس میں بہت گیس تھی۔ ہماری جھگیوں میں رہنے والے دو افراد نے 2000 روپے میں اسے صاف کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا۔ پہلے جو بندہ گھسا وہ وہیں رہ گیا کیونکہ گیس بہت بھیانک تھی۔ اس کے بیٹے نے پاپا پاپا کی آواز لگائی۔ پاپا کی تلاش میں وہ بھی اندر گھسا لیکن واپس نہیں آیا۔ دونوں اندر ہی ختم ہو گئے۔ مشکل سے انھیں نکالا گیا۔ تبھی سے ہم نے یہ کام بند کر دیا۔’ قانون کے مطابق ہاتھ سے سیور صاف کرنے کا کام صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے خاکروب ملازمین کی حفاظت کے کئی طرح کا ساز و سامان دینا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں بیشتر ایسے ملازمین ننگے بدن کی حالت میں سیور میں کام کرتے ہیں۔

اس طرح کے کام کے دوران ہلاک ہونے کی صورت میں حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کا معاوضہ دینے کی بھی تجویز ہے۔ لیکن ‘آل انڈیا دلت مہاپنچایت’ کے مور سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بہت جد و جہد کرنی پڑتی ہے اور ہر شخص کو ایسی مدد نہیں مل پاتی ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعے میں دہلی کے لوک جن نائیک ہسپتال کا گٹر صاف کرنے کے دوران 45 سالہ رشی پال کی بھی موت ہو گئی تھی۔ ‘صفائی ملازمین اندولن’ کے بیزواڑا ولسن کہتے ہیں: ‘اگر ایک مہینے میں دہلی میں 10 گائیں مر جائیں تو ہنگامہ مچ جائے گا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئيں گے۔ اسی شہر میں ایک ماہ میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے لیکن ایک آواز نہیں اٹھی۔

ایسی خاموشی روحانی ایذا کا سبب ہے۔’ وہ کہتے ہیں: ‘کوئی بھی شخص دوسرے کا پاخانہ پیشاب صاف نہیں کرنا چاہتا لیکن سماجی ڈھانچے کی وجہ سے دلت یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ہم مریخ پر جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں تو پھر اس مسئلے سے کیوں نہیں نمٹ پا رہے ہیں۔’ ولسن کے مطابق حکومت لاکھوں نئے بیت الخلا بنانے کی بات تو کرتی ہے لیکن ان کے لیے بنائے جا رہے پٹس یا گڑھوں کو صاف کرنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ہے۔ نیتو کے بہنوئی درشن سنگھ کہتے ہیں: ‘ہم ان پڑھ ہیں۔ ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ خاندان کو پالنے کے لیے ہمیں یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم کسی بند گٹر کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو افسر کہتے ہیں، آپ اس میں گھسیں اور ہمیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے مجبوراً یہ کام کرنا پڑتا ہے۔’ ‘

کئی بار ہم اپنے بچوں کو نہیں بتاتے کیونکہ یہ گندا کام ہوتا ہے۔ ہم ان سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری کرتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں سچ بتا دیا تو وہ ہم سے نفرت کرنے لگیں گے۔ کچھ لوگ شراب پیتے ہیں۔ مجبوری میں آنکھ بند کر کے کام کرتے ہیں۔’ ‘لوگ ہمیں دور سے پانی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، وہاں رکھا ہے، لے لو۔ نفرت بھی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ گندا کام ہے۔ ہم اگر نفرت کریں گے تو ہمارا خاندان کیسے چلے گا۔’

ونیت کھرے
بی بی سی، ہندی

خوش رہنا ہے؟ تو انداز فکر تبدیل کر لیجیے

کام یاب زندگی کو ہم خوشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ زندگی میں خوشی کااحساس سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور یہی کام یاب زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن فی زمانہ ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین بیشتر وقت پریشان رہتی ہیں۔ مختلف باتوں کی وجہ سے ہمہ وقت تفکرات میں گھری رہتی ہیں حالاںکہ خدا نے بے شمار نعمتیں اور رشتے عطا کیے ہوتے ہیں۔ مثلاً پیارکرنے والا شوہر، ہمدرد بہنیں اور سہیلیاں مگر پریشانیوں میں گھر کر وہ ایسے تمام پیارے رشتے اور بہت کچھ نظر انداز کر دیتی ہیں جب کہ زندگی میں یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کا محور ایک ہی شخص یا ایک ہی چیز کو نہیں بنا لینا چاہیے۔ خوشیوں کے رنگ تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی خوشیوں کو کسی بھی ایک معاملے، ایک رشتے، اور فرد واحد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر ایک خاتون جس کا شوہر بہت اچھا ہے ان کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، گھریلو زندگی بہت خوش گوار ہے، بہت اچھی سہیلیاں ہیں، پیارے پیارے سے بچے ہیں لیکن اگر وہ دفتر میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں یا ان کی ترقی نہیں ہو رہی تو وہ خوش نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مثبت انداز فکر سے سوچا جائے تو زندگی میں بے شمار رشتے اور دیگر معاملات بھی خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین، پیار کرنے والے اہل خانہ، ہنس مُکھ سا بھائی، اورپیار کرنے والی بھابھی، لیکن اگر ساس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں تو وہ خاتون خوش نہیں رہتیں کیوں کہ ہم اپنے پاس موجود بے شمار نعمتوں اور پیارے پیارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کا محور اس ایک شخص یا ایک معاملے کو بنا لیتے ہیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

ہر شخص کی زندگی میں ایسے بہت سے معاملات اور بہت سی باتیں اور بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن کے متعلق سوچیں تو یاسیت، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جائیں۔ شاید اپنی زندگی کے متعلق منفی انداز سے سوچنے لگیں لیکن زندگی میں کام یاب اور خوش وہی لوگ رہتے ہیں جو یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اپنا محور بنائیں ان کے متعلق سوچیں جو ہمیں بے حد پیاری ہوں، جو رشتے دل کے قریب ہوں۔ مثلاً بچے، اپنی پیاری اولاد، وہ بہترین سہیلی جو ہر سکھ دکھ میں ساتھ ہے۔ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ شوہر جو ہر معاملے میں ساتھ دیتے ہیں۔ زندگی میں آنے والے سرد و گرم میں ہمہ وقت ساتھ ہیں۔

اکثر گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کوئی فریق انتہائی قدم اٹھانے کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر ساسوں کو بہووں سے بے انتہا شکایات ہوتی ہیں۔ دوسروں سے گفت گو کے دوران بھی ان کا یہ انداز ہوتا ہے کہ میں بہت پریشان ہوں، میری اور میری بہو کی بالکل نہیں بنتی اور شاید میں کسی دن خودکشی کرلوںگی۔ کتنی عجیب بات ہے کیوںکہ بہو تو صرف آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ آپ کی زندگی صرف اس حصے تک محدود نہیں ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر دیکھیں کتنا کچھ ہے صرف انداز فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم عموماً روزانہ گھر کے آنگن میں، بالکونی میں یا لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، کبھی محسوس کیا کہ خوب صورت پرندے اڑ رہے ہوتے ہیں، سامنے پارک میں لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، واک کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے۔ باہر قدرت کے حسین نظارے ہمارے لیے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں، ہم محسوس ہی نہیں کرتے کیوںکہ ہم اپنی سوچ کا محور صرف منفی چیزوں یا منفی باتوں کو بنا لیتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کا انداز تبدیل کر لیں تو زندگی خود بخود خوب صورت ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ ایک نیا قدم اٹھائیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ جینے کا عزم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا یا ناخوش ہونا چھوڑ دیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی، ہمسفر نہیں ملا تو یہ سوچیں کہ کنوارا رہنے کے کیا فائدے ہیں۔ ہر ذمے داری سے آزادی، اماں ابا سے لاڈ اٹھوانے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے۔

اگر ذاتی گھر نہیں ہے تو کرائے کے مکان میں کیا کیا فائدے ہیں۔ اگر شوہر سے ناخوش ہیں تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، خوش رہیں اور دیگر بہت سارے پیارے رشتے جو ارد گرد موجود ہیں ان کے متعلق سوچیں۔ صرف آنکھیں کھولنے، سوچ کے در وا کرنے، پریشان کُن صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی مسئلے سے اپنی توجہ ہٹا لیتے ہیں وہ مسئلہ خود بخود صحیح ہو جاتا ہے۔ رشتے خود بخود اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں۔ معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ بہت زیادہ سوچنا اور متفکر ہونا چھوڑ دیں تو معاملات از خود بہتر ہونے لگیں گے۔ اس طرح اپنی زندگی کو ہر قدم پر تبدیل کریں۔ مثبت طرز فکر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دامن کو بھرنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں گے۔

منیرہ عادل