میری پسندیدہ جماعت بلکہ اسے جماعت نہیں ایک ادارہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ جماعت اسلامی کے روحِ رواں اور میرے پیرو مرشد مولانا ابواعلیٰ مودودی نے جب اس کی بنیاد رکھی تو اس کے مقاصد شاید کچھ اور تھے لیکن وقت کے ساتھ ان مقاصدمیں مزید اضافہ بھی ہو گیا اور میری جماعت کے سیاسی شعبہ نے بھی اس ملک کے عوام کو ایک نئی اور منفرد قسم کی سیاست سے روشنا س کرایا اور ابھی تک اپنی اس منفرد سیاست کی پہرہ داری بھی کرتی آ رہی ہے کہ میری جماعت کے لوگ صادق بھی ہیں اور امین بھی ہیں اور مجھے ان کے صادق و امین نہ ہونے پر کبھی شک نہیں ہوا کہ جتنا میں جماعت کے لوگوں کو جانتا اور پہچانتا ہوں ان میں ولی قسم کے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے بارے میں بلا شک و شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ ترین لوگوں میں شمار ہوں گے اور ان کی زندگیوں کا میں عینی شاہد بھی ہوں۔
جماعت پاکستان کی واحد جمہوری جماعت ہے جو کہ اپنے امیر کا انتخاب ایک صاف شفاف انتخاب کے بعد ہی کرتی ہے اور اس انتخاب کے لیے کسی امیدوار کا امیر وکبیر یا کسی سابقہ امیر کا رشتہ دار ہونا ضروری نہیں ہوتا اور اب تک میں نے جماعت کے جتنے بھی امیر دیکھے ہیں وہ غریب ہی تھے میرا مطلب ہے کہ ان کا تعلق کسی امیرخاندان سے نہیں تھا بلکہ وہ بھی ہم آپ جیسے جماعت کے عام ورکر قسم ہی تھے جو جماعت سے اپنی دیرینہ وابستگی کے بعد اس قابل ہو گئے تھے کہ امیر کے انتخاب کے لیے اپنے آپ کو پیش کر سکتے یا ان کو امیر منتخب کر لیا جاتا۔ بات جماعت اسلامی کی سیاست کے بارے میں شروع کرنا چاہ رہا تھا لیکن اپنی دیرینہ وابستگی کی وجہ سے جماعت کی یادوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو جب اُمڈ آئے تو اس سمندر کے آگے بند باندھنا مشکل ہو جاتا ہے اور یادیں در آتی ہیں جو کہ محترم پیرو مرشد سے شروع ہو تی ہیں اور درجہ بدرجہ سفر کرتی ہوئی محترم سراج الحق صاحب تک پہنچ آتی ہیں۔
میرے جیسے غیر لاہوری کے لیے لاہور میں جماعت کا وجود ایک نعمت ِ مترقبہ سے کم نہیں کہ بڑے بھائی صاحب نے لاہور کے لیے روانہ کرتے وقت جماعت کے دفتر کا پتہ ہی جیب میں ڈالا تھا اور پہاڑوں میں زندگی کے صبح و شام کرنے والا نوجوان لاہور جیسے بڑے شہر میں جماعت کی محفوظ آغوش میں پہنچ گیا حالانکہ میری مرحومہ والدہ اس بات پر میرے بڑے بھائی سے شدید ناراض ہوئیں کہ وہ ان کے سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے کو مولوی بنانے کے لیے راوی کے پار بھیج رہے ہیں اور جب ان سے کچھ نہ بن پڑا تو بیٹے کو حکم دیا کہ اس کو کچھ زیادہ پیسے دینا کہ سنا ہے لاہور میں تو پانی بھی خرید کر پینا پڑتا ہے۔
گو کہ اُس وقت تو پانی کے معاملے میں صورتحال ایسی نہ تھی بلکہ اسے محارواتی طور پر ہی کہا جاتا تھا لیکن اب جب میں اپنے گھر میں پانی کی بڑی بڑے بوتلیں دیکھتا ہوں تو ملازم سے کہتا ہوں کہ مجھے بھی ولایتی پانی پلا دے اور اس وقت اپنی والدہ کی بات بہت یاد آتی ہے کہ کیسے دوراندیش لوگ تھے جو آنے والے وقتوں کے بارے میں کیسی درست پیش گوئیاں کر گئے اور وقت نے ان کی دور اندیشی کو ثابت بھی کر دیا۔
میں آج بھی لاہور میں اگر کسی کو اپنا سمجھتا ہوں تو وہ میرے جماعت کے ہی لوگ ہیں جو اس دیار غیر میں میری خوشیوں اور غموں میں شریک رہتے ہیں اور وہ اُس نوجوان کو یاد دلاتے رہتے ہیں جو ذیلدار پارک اچھرہ میں آج سے کئی دہائیاں پہلے ان کا مہمان بنا تھا۔ محترم سراج الحق ان دنوں ملک بھر میں جماعت کا پیغام پہنچانے کے لیے جگہ جگہ عوامی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں جن میں ایک بات وہ بڑی وضاحت اور صاف الفاظ میں کر رہے ہیں کہ وہ ملک کے اقتدار پر کئی دہائیوں سے مسلط کرپٹ ٹولے کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑیں گے اور ان کو کہیں چھپنے نہیں دیں اور کرپشن کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے بلکہ لوگوں کو مسلسل جگاتے رہیں گے۔ وہ ایک بہت بڑی بات بھی کہہ گئے کہ جس دن بھی جماعت اسلامی کو حکومت ملی تو پھر کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اور کوئی بیروزگار نہیں رہے گا۔
جماعت کے امیر کی باتیں لوگ نہایت توجہ سے سنتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی امارت کے منصب پر بیٹھا شخص کوئی ذاتی ایجنڈا لے کر نہیں آیا اور نہ ہی یہ کوئی مفاد پرست ہے اس کی بات وزن رکھتی ہے اور جب بھی جماعت کے لوگ اقتدار کے کسی منصب پر بیٹھے انھوں نے وہ مثالیں قائم کیں جو کہ آج کے دور میں واقعی مثالیں ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب جناب نعمت اﷲ خان کراچی کے ناظم تھے تو کراچی اپنی روشنیوں کی جانب لوٹ رہا تھا اور اب جو حال کراچی کا ہے اس کے بارے میں آپ سب روز سنتے اور ٹی وی پر اس کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔
سراج صاحب نرم خو لیکن انتہائی مضبوط اعصاب کی شخصیت کے مالک ہیں اور ایک ایسی جماعت کی سربراہی ان کے ناتواں کندھوں پر ہے جس کی اپنی مخصوص روایات ہیں اور حالات چاہے کیسے بھی ہوں اس پر کاربند نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے خطابات میں احتساب سب کا کے عزم کا اعادہ بھی کرتے نظر آئے کہ کرپٹ اور بداعمال حکمرانوں کی وجہ سے ہی ملک روز بروز نیچے ہی جا رہا ہے اوروہ سیاستدانوں کی بد اعمالیوں سے عوام کو خبردار کرتے رہیں گے۔ ایک بات تو بہر حال بڑے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ وقت بھی جلد ہی آنے والا ہے جب ہم جماعت اسلامی کی باتوں کی صرف مثالیں ہی نہیں دیں گے بلکہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کر کے ان کو اقتدار کے قریب بھی کرنا ہو گا کیونکہ ہم اب تک تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو آزما چکے ہیں اور اس آزمانے کے چکر میں اپنا مسلسل نقصان ہی کیے جا رہے ہیں اس لیے شاید ہمارے معصوم عوام اب یہ بات سمجھ جائیں کہ ان کے دکھوں کا مداوا حقیقی طور پر کون کر سکتا ہے اور جس کی حکومت میں وہ اپنی بھوک مٹاتے ہوئے چین کی نیند سو سکتے ہیں کہ جماعت کے لوگوں کو اپنی کوئی بھوک نہیں ہے بلکہ وہ اپنی زندگیاں گزار نہیں رہے کاٹ رہے ہیں اور دنیاوی فکروں سے تقریباً بے نیاز ہیں اور کسی بے نیاز سے آپ بھلے اور خیر کی توقع ہی رکھ سکتے ہیں۔
گذشتہ 3 سال سے لاپتہ شارق کمال کی اہلیہ نوشین کمال کا کہنا ہے کہ ’میرے 3 بچے ہر وقت اپنے والد کو ساتھ لے جانے والے افراد سے بدلہ لینے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں‘، نوشین کمال کو اپنے خاوند کو اٹھانے کی درست تاریخ بھی اب تک یاد ہے، جنہیں 3 مارچ 2015 کو لاپتہ کیا گیا تھا۔ 3 بچوں کی ماں کا کہنا تھا کہ ’وہ انتہائی خوش بچے تھے جو مجھ سے اپنے اسکول میں ہونے والے واقعات کو بیان کیا کرتے تھے لیکن اب وہ اس بارے میں سوچتے ہیں کہ ان کو اسکول کی تعلیم سے کن وجوہات کی بنا پر دور کیا گیا‘۔
ایک اور خاتون شائستہ، جن کے خاوند کو 28 اکتوبر 2015 کو غائب کیا گیا تھا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں، کا کہنا تھا کہ ’میری 3 بیٹیاں اسکول جانے کی عمر کو پہنچ چکی ہیں اور ان کے والد کی گمشدگی کے بعد ان کی ضروریات پوری کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے‘۔ اسی طرح ریاض اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند کو 18 نومبر 2015 کو غائب کیا گیا تھا، ’جب انھیں غائب کیا گیا تو ہمارے ہاں دوسرے بچے کی ولادت ہونے کو تھی، میرے بیٹے نے اب تک اپنے والد کو نہیں دیکھا‘۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ان کا 7 سال کا بڑا بیٹا بھی کھڑا تھا جس نے اپنے والد کی فوٹو کا فریم اٹھا رکھا تھا۔
ان کے علاوہ ایک اور لاپتہ فرد کی اہلیہ صغیرنسہ بیگم اپنی کہانی بتاتے ہوئے آب دیدہ ہو گئیں، ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا فرقان شادی شدہ نہیں تھا اور میں اسے بہت زیادہ یاد کرتی ہوں، ان کا کہنا تھا کہ 6 مئی 2015 کو ان کے بیٹے کو غائب کیا گیا جس کے بعد سے وہ اب تک لاپتہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے اس کی بازیابی کے لیے سب کچھ کر کے دیکھ لیا، جس میں عدالت میں پٹیشن دائر کرنا بھی شامل ہے تاہم اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا‘۔
یہ متاثرین نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کے اجلاس میں شریک تھے جس کا مقصد میڈیا کے ساتھ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق سندھ کی صورت حال شیئر کرنا تھا۔ اس موقع پر این سی ایچ آر کے چیئرمین ریٹائر جسٹس علی نواز چوہان نے کہا کہ ’جبری گمشدگی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، اور ہم نگران آرگنائزیشن کے طور پر یہ حق رکھتے ہیں کہ گمشدگیوں میں ملوث ہونے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کر سکیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے جب ہم نے وزارت داخلہ کو نوٹس بھیجا تو ہمیں بتایا گیا کہ یہ لاپتہ افراد ان کے پاس نہیں ہیں تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبر پختونخوا میں فرنٹئیر کور شاید ان کے بارے میں جانتی ہو، اور ساتھ ہی ان کی نشاندہی کے لیے کچھ وقت طلب کیا گیا‘۔ این سی ایچ آر کے چیف کا کہنا تھا کہ ’مکمل انکار نہ آنا ایک مثبت چیز تھی جس نے ہم سب میں اچانک ایک امُید پیدا کر دی تھی، لیکن اب ہمیں یہ دوسرا مراسلہ بھجوایا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں بھی لاپتہ افراد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں‘۔ جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا تھا کہ ’اس کے رد عمل میں ہم نے کہا ہے کہ آپ کا جواب مبہم اور اس لیے یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے‘۔
اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے این سی ایچ آر سندھ کے رکن انیس ہارون نے بتایا کہ ان کے پاس حکومت پر یقین رکھنے کے حوالے سے انتہائی مشکل مرحلہ ہے جیسا کہ وہ ایک دن کچھ کہتے ہیں اور دوسرے دن کچھ کہتے ہیں۔ جسٹس چوہان نے کہا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک داخلی نظام ہونا چاہیے، ’ہم وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے داخلی نظام اور اس حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کے لیے کہیں گے‘۔
شازیہ حسن
یہ رپورٹ 13 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی
سمندری طوفان ارما کو بحرا و قیانوس میں آنے والے طاقت ور ترین طوفانوں میں شمار کیا جا رہا ہے ۔ بحر اوقیانوس اور بحرا لکاہل میں آنے والے طوفانوں کی پیمائش کے لئے ایک خاص طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس کی 5 کیٹیگریز ہیں۔ ان کیٹیگریز میں ہوا کی تیز رفتار اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
سمندری طوفان جو کیٹیگری 1 میں آتا ہے اس میں ہوا کی رفتار 74 سے 95 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اور اس سے لکڑی کے بنے ہوے گھروں کی چھتوں کو تھوڑا نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ درختوں کی شاخوں کے ٹوٹنے اور کمزور درختوں کے گرنے کے واقعات ہو سکتے ہیں۔
جب سمندری طوفان میں 96 کلومیٹر سے 110 میل فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چلنا شروع ہوتی ہیں تو یہ کیٹیگری 2 میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس میں چلنے والی خطرناک ہواؤں کے ساتھ اڑتا ملبہ آپ کو آپ کے گھر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہواؤں کی شدت آپ کو باقاعدہ محسوس ہوتی ہے، درخت اپنی جگہ چھوڑتے ہیں اور سڑکوں کو بند کرنے کا باعث بنتے ہیں جبکہ بجلی کے پول اور دیگر کو نقصان پہنچتا ہے ۔
جب طوفان کیٹگری 3 میں داخل ہوتا ہے تو اسے اہم طوفانوں میں شمار کیا جانے لگتا ہے اور اس میں ہواؤں کی رفتار 111 سے 129 میل تک پہنچ جاتی ہے ، اس سے تباہ کن نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ اس سے لکڑی کے گھروں کے دروازے ٹوٹ سکتے ہیں اور گھر کی بنیاد یں بھی ہل سکتی ہیں جبکہ مضوط درخت اکھڑ سکتے ہیں ۔ اس کے بعد جب طوفان میں ہواؤں کی رفتار 130 میل سے بڑھتی ہے اور 156 میل فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے تو یہ کیٹیگری 4 میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس سے تباہی کے اثرات شدید ہوتے ہیں، گھروں کی چھتیں اور اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور یہ رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ درخت اور پولز اپنی ٹوٹ کر گر جاتے ہیں اور تیز ہواؤں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
جب یہ طوفان کیٹیگری 5 میں داخل ہوتا ہے تو اس میں ہواؤں کی رفتار 157 میل فی گھنٹہ سے بڑھ جاتی ہے ۔ جیسا کے طوفان ارما میں 185 میل فی گھنٹہ دیکھی گئی۔ اس میں ایسے گھراور درخت اپنی جگہ سے اکھڑ جاتے ہیں۔ شدید طوفانی ہوائیں اپنے ساتھ ملبے کے بڑے بڑے ٹکٹرے لاتی ہیں۔ گاڑیاں اور دیگر اسٹرکچر تباہ ہو جاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے کے جا بجا صرف ملبے اور تباہی کی دستان نظر آتی ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ یہ تو طوفان کا صرف ایک حصہ ہے اس کے ساتھ طوفانی بارش اور اس کے نتیجے میں آنے والا سیلابی پانی بھی خطرناک حد تک جانی نقصان پہنچا تا ہے ۔