پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے سرکاری ادارے کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے میں پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔ بی بی سی کو جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کے بارے میں دیے گئے انٹرویو میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ ہونے والے لوگوں کے بارے میں کوئی قانون نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان نے اس بارے میں بین الاقومی معاہدوں کی توثیق کی ہے۔ انھوں نے کہا: ‘قانون نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کی کسی ایجنسی کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ اگر یہ طریقہ کار بن جائے تو ایجنسیوں یا پولیس میں جو پالیسیوں سے باغی عناصر ہیں ان کا احتساب ہو سکے گا اور وہ قانون کے مطابق چلیں گے۔’
لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے حکومتوں کی طرف سے تعاون کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ حکومتیں تعاون تو کرتی ہیں لیکن سب لوگ شائد نہیں کرتے۔ ’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سارے لوگ تعاون کرتے ہیں حکومت کے اندر؟ کیا وہ لوگ تعاون کرتے ہیں جو شائد ذمہ دار ہوں (گمشدگیوں کے) یا باغی (روگ) عناصر ہوں، سارے تو ایسے نہیں ہیں۔‘ جسٹس چوہان نے کہا کہ قانون کی عدم موجودگی کے باعث گمشدہ افراد کے مقدمات کی تفتیش کرنے میں ان کا ادارہ بعض اوقات بے بس ہو جاتا ہے۔ قانون نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کی کسی ایجنسی کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ اگر یہ طریقہ کار بن جائے تو ایجنسیوں یا پولیس میں جو (پالیسیوں سے ) باغی عناصر ہیں ان کا احتساب ہو سکے گا اور وہ قانون کے مطابق چلیں گے۔
‘جب تک گمشدہ فرد الزام علیہ (ایجنسیوں) کے ہاں سے برآمد نہیں ہو گا یا وہ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرے گا تو ہم تو بے بس ہیں۔’ اس سوال پر کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب تک ایجنسیاں، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے کسی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے، انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کرتیں تو یہ ادارہ کچھ نہیں کر سکے گا، جسٹس چوہان نے کہا کہ یہ تاثر کلی طور پر درست نہیں ہے۔ ‘کچھ تو ہم کر سکتے ہیں۔ جیسے دباؤ ڈال سکتے ہیں، شور مچا سکتے ہیں اور ایجنسیوں کو بلا بھی لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان سے کچھ حاصل ہو جائے۔’ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر ایجنسیاں جبری گمشدہ افراد کے بارے میں رضا کارانہ معلومات نہیں دیتیں تو ان کا ادارہ کچھ نہیں کر سکتا، جسٹس چوہان نے اس رائے سے اتفاق کیا۔
انھوں نے کہا: ‘بہت حد تک آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔ اگر ایجنسیاں رضا کارانہ طور پر ہمیں یہ نہ بتائیں کہ کوئی گمشدہ شخص ان کے پاس موجود ہے تو ہمارے پاس تو کوئی طریقہ نہیں ہے جس سے ہم یہ معلوم کر سکیں کہ یہ فرد کہاں ہے۔’ اس معاملے میں پولیس کے کردار کے بارے میں ایک سوال پر جسٹس چوہان نے کہا کہ پولیس اتنی طاقتور نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ کر سکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تو پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا معاملہ ہو گیا تو جسٹس چوہاں نے کہا کہ کچھ ایسا ہی ہے۔ ‘میں اس سے انکار نہیں کروں گا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ تو ہے۔ لیکن یہیں پر قانون کا معاملہ آ جاتا ہے۔ اگر قانون میں اختیار اور طاقت دی جائے تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں نئے قوانین بنائے اور ایجنسیوں اور پولیس کو ان قوانین کے دائرے میں لائے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
‘اس (قانون نہ ہونے) کی وجہ سے ہم حکومت کے مرہون منت ہیں کیونکہ ہمارے پاس اپنی تو کوئی ایجنسی نہیں ہے جس سے ہم ڈھونڈھ سکیں کہ گمشدہ فرد کہاں ہے۔’ انھوں نے کہا کہ وہ حکومت کو تجویز دے چکے ہیں کہ اس معاملے پر قانون سازی کی جائے لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔
گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکہ میں شدت پسند تنظیم ‘القاعدہ’ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں لگ بھگ تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد پاکستان نے بھی واشنگٹن کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شمولیت اختیار کی اور اس جنگ کی ابتدا سے ہی صفِ اول میں رہا۔ کچھ اس جنگ کا نتیجہ اور کچھ اس عرصے کے دوران مختلف حکومتوں کے ادوار میں اپنائی جانے والی پالیسیوں کا اثر تھا کہ پاکستان خود اس دہشت گردی اور اس سے نمٹنے کی اپنی کوششوں پر تنقید کے نشانے پر آ گیا۔ اگرچہ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ گزشتہ 16 برسوں میں اس نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں لیکن اس کے باوجود وہ مسلسل اس تنقید کی زد میں رہا کہ اب بھی دنیا کے لیے خطرہ تصور کیے جانے والے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اس ملک میں ہیں۔
پاکستان میں تجزیہ کار اس صورت حال کو ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج سمجھتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی ایک بڑی سرکاری درس گاہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبۂ سیاست و بین الاقوامی امور کے سربراہ ڈاکٹر نذیر حسین کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں اور قربانیوں کو پاکستان بین الاقوامی برداری کے سامنے درست انداز میں پیش نہیں کر سکا۔ ’’تشخص کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ہماری مینجمنٹ بہت خطرناک حد تک کمزور ہے۔ پاکستان کی جو تصویر ہے وہ اچھے طریق سے باہر (دنیا) تک نہیں جا رہی ہے۔ اس میں کچھ ہماری پالیسیوں کی دخل اندازی ضرور ہے، کہ ہم اچھے طالبان اور برے طالبان میں تمیز کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہمیں ایک چیز دیکھنی ہے کہ پاکستان نے کیا کیا ہے، پاکستان نے کتنی قربانیاں دی ہیں، کیسے قربانیاں دیں اُن کو ہم بدقسمتی سے اجاگر نہیں کر سکے۔‘‘
انسٹیٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں امریکہ سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر نجم رفیق کہتے ہیں کہ اب بھی دنیا کے کئی ممالک پاکستان کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیتے ہیں جو اُن کے بقول ایک بہت بڑا سفارتی چیلنج ہے۔
’’جہاں تک عسکری فرنٹ کا سوال ہے، میری نظر کے مطابق وہ ایک چھوٹا سا فرنٹ ہے اور ایک محدود علاقائی سطح تک رہتا ہے۔ جہاں تک ڈپلومیٹک فرنٹ کا تعلق ہے تو یہ بہت وسیع اور بڑا پہلو ہے، جس پر پاکستان کو ایک بہت بڑی جنگ لڑنی ہے۔‘‘ اب بظاہر حکومت کو بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف محض عسکری کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس تشخص کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے جو کہ اب اس ملک سے جوڑ دیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں منتخب پاکستانی سفیروں کی کانفرنس کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی کہا کہ ’’ہمیں اس بات کا بڑی شدت سے احساس ہے کہ جو ہمارا تشخص ہے یا دہشت گردی کے خلاف ہماری کو کامیابیاں ہیں، دنیا اُس کو تھوڑا مختلف نظرسے دیکھتی ہے اور ہمیں دنیا کے نقطۂ نظر کو درست کرنا ہے۔‘‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی جنگ میں شمولیت کا فیصلہ تو ’نائین الیون‘ کے فوراً بعد ہی کر لیا تھا لیکن اسے، اس جنگ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور اس کے مطابق سفارتی پالیسی کو ڈھالنے میں بہت وقت لگا، جس سے پاکستان کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی رہیں۔