بھوک سے نڈھال روہنگیا مسلمان

اقوامِ متحدہ نے میانمار کی ریاست رخائن میں جاری مسلم کش فسادات کے نتیجے میں ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 7 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد امداد کی اپیل کردی۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق میانمار کی ریاست رخائن میں مقیم روہنگیا مسلمان علاقے میں جاری ظلم و بربریت کے بعد اپنا علاقہ چھوڑ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جانے پر مجبور ہیں۔
بنگلہ دیش میں موجود اقوامِ متحدہ کے نگراں اداروں کے مطابق اب تک میانمار سے 2 لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد بے سرو سامانی کی حالت میں سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش آ چکے ہیں۔ خواتین اور بچے گاڑیوں کے شیشے کھٹکھٹاتے رہے اور قریب سے گزرنے والے صحافیوں کے کپڑے کوچھوتے رہے اور اپنے پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے کھانے کی بھیک مانگتے رہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پہلے ہی 4 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان موجود ہیں، تاہم مزید لوگوں کے آجانے سے پہلے سے قائم کیمپوں میں لوگوں کو پناہ دینے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے جس کے باعث انسانی المیہ نے جنم لے لیا۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، لہٰذا بنگلہ دیش حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ان افراد کی رہائش کی خاطر کیمپوں کی تعمیر کے لیے انسانی حقوق کے اداروں کو مزید زمین مہیا کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر پناہ گزینوں کے لیے عارضی پناہ گاہوں کی اشد ضرورت ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے اہلکار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں میں اشیائے خرد و نوش کی شدید قلت ہے۔ فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔

تباہ کن سمندری طوفان ’ارما‘ فلوریڈا کے جزائر پر

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان ارما امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقوں پر پہنچ گیا ہے۔ گذشتہ چند گھنٹوں سے ارما کے جھونکے فلوریڈا کے جزائر سے ٹکرانا شروع ہو گئے تھے اور اب چوتھے درجے کے اس طوفان کا اگلا حصہ فلوریڈا کے زمینی علاقوں پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی ریاست کے ساحل پر پانی کی سطح پہلے سے ہی بلند ہونا شروع ہو گئی ہے اور وہاں شدید طوفان کا خدشہ ہے۔ اس سے قبل ریاست سے 63 لاکھ لوگوں کو ساحلی علاقے کو چھوڑ دینے کے لیے کہا جا چکا ہے لیکن فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ کا کہنا ہے کہ اب اتنی تاخیر ہو چکی ہے کہ کسی کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں۔ اس سے قبل یہ طوفان کیریبین جزائر سے ٹکرایا تھا جہاں اس کی زد میں آ کر 24 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کی شدت چار بتائی گئی تھی لیکن کیوبا سے ٹکرانے کے بعد اس کی شدت میں کمی آئی ہے اور اسے تین کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ لیکن نیشنل ہریکین سنٹر (این ایچ ایس) کا کہنا ہے کہ فلوریڈا تک آتے آتے اس کی طغیانی میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ پہلے جیسا تند و تیز ہو جائے گا۔ این ایچ ایس نے متنبہ کیا ہے اس طوفان سے ‘جان کا خطرہ ہے’ اور یہ فلوریڈا کے ساحل سے دور جزائر کے سلسلے کو اپنی زد میں لے چکا ہے۔ ہزاروں افراد ہنگامی کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں اور ہزاروں گھروں میں بجلی نہیں ہے۔ ایمرجنسی ایجنسی فیما کے سربراہ بروک لونگ نے سی این این کو بتایا ہے کہ فلوریڈا کے ‘کیز جزائر میں کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔ اور آپ اس جگہ کو خالی نہ کر کے اپنی جان کو خود خطرے میں ڈال رہے ہیں۔’ فلوریڈا کے گورنر نے کہا کہ ‘اگر آپ خالی کرائی جانے والی جگہ پر ہیں جہاں سے آپ پناہ گاہ تک پہنچ سکتے ہیں تو آپ جلد از جلد وہاں پہنچ جائیں کیونکہ اب بہت وقت نہیں بچا ہے۔’ انھوں نے کہا: ‘ہواؤں کے جھونکے آنے شروع ہو گئے ہیں اس لیے اب بہت وقت نہیں ہے کہ آپ وہا‎ں سے ڈرائیو کرکے دور پہنچ جائیں۔’

اطلاعات کے مطابق مغربی خلیجی ساحل کو سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ طوفان کے راستے میں ٹیمپا اور سینٹ پیٹرز برگ جیسے شہر آ رہے ہیں۔
ٹیمپا خلیج میں 30 لاکھ آبادی ہے اور اسے سنہ 1921 کے بعد سے کسی بھی بڑے طوفان کا سامنا نہیں رہا ہے۔ اس سے قبل کریبیئن جزائر میں تباہی پھیلانے کے بعد طوفان ارما تند و تیز ہواؤں اور بارش کی صورت میں کیوبا سے ٹکرانے کے بعد امریکی ریاست کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ درجہ پانچ کا یہ طوفان سب سے پہلے کیوبا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے کیمیگوے میں ٹکرایا۔ ارما کی سمت کی تبدیلی کی وجہ سے بہامس بڑی حد تک محفوظ رہا ہے۔

جمعے کو رات گئے ارما میں گذشتہ چند گھنٹوں میں مزید تیزی آئی اور وہ کیمیگوے آرکیپیلیگو سے ٹکرایا جو کہ وہاں کے ساحلی قصبوں اور دیہات کے لیے خطرہ تھا۔ کئی دہائیوں بعد یہ پہلا موقع ہے جب درجہ پانچ کے کسی طوفان نے کیوبا کو نشانہ بنایا ہو۔ امریکہ میں طوفان سے متعلق اطلاع دینے والے قومی مرکز کے مطابق گرینیچ کے معیاری وقت کے مطابق تین بجے ارما کے نتیجے میں 257 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں۔ یہ طوفان اب جن صوبوں کو نشانہ بنا رہا ہے ان میں کیمیگوے، سیگو ڈے آویلا، سنتی پیریٹوس، ویلا کلارا اور میٹنساس شامل ہیں۔

ہوانا سے بی بی سی کے نامہ نگار وِل گرانٹ نے بتایا کہ بہت سے علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی ہے اور دوردراز کے علاقوں اور قصبوں میں مواصلاتی رابطوں میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ وہاں کے مکین پر امید ہیں کہ یہ طوفان اس جزیرے کو چھو کر فلوریڈا سے میامی کی جانب بڑھ جائے گا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تقریباً 50 ہزار سیاح کیوبا چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق ارما اتوار کو فلوریڈا سے ٹکرائے گا۔ اس سے قبل امریکہ میں ہنگامی امداد کے وفاقی ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ سمندری طوفان ‘ارما’ امریکی ریاست فلوریڈا یا اس کی ہمسایہ ریاستوں کے لیے ‘تباہ کن’ ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا مزید طوفان آرہے ہیں؟
شمال میں طوفان ہوزے ارما کے پیچھے اٹلانٹک میں بڑھ رہا ہے اور یہ کیٹیگری فور کا طوفان 240 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہا ہے۔ یہ اسی راستے پر ہے جس پر ارما تھا اور وہاں پہلے ہی امدادی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بربودہ میں ارما کی وجہ سے 95 فیصد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں طوفان کی شدت میں تیزی سے کمی متوقع ہے۔ تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ طوفان بہت سے گنجان آباد علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا کر سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

 

پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی کو کیسے روکا جائے ؟

کراچی میں پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کی حالیہ کارر وائیوں کے نتیجے میں انصار الشریعہ نامی ایک دہشتگرد تنظیم کا سراغ لگایا جس میں شامل اکثر نوجوان اعلیٰ تعلیمی اداروں سے منسلک رہے۔ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے مبینہ دہشتگردوں نے ایک سابق فوجی کرنل اور پولیس والوں کو شہید کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اس انکشاف پر کہ اس تنظیم سے جڑے شدت پسندوں کی اکثریت پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک تو کراچی یونیورسٹی کا طالب علم بھی رہا، میڈیا میں بحث چھڑ گئی کہ اس کی وجہ کیا ہے اور کس طرح ممکن بنایا جائے کہ نوجوانوں میں شدت پسندی کے رجحانات پیدا نہ ہوں۔ اس بات پرسب فکر مند دکھائی دیے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کیسے شدت پسندی سے پاک کیا جائے۔

چند سال قبل صفورا کراچی کی ہولناک دہشتگردی کے واقعہ میں شامل کم از کم ایک ملزم بھی کراچی کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ سے منسلک رہا۔ اس معاملہ پر سینٹ چئیرمین جناب رضا ربانی نے بھی بات کی اور حل تجویز کیا کہ کالج و یونیورسٹیوں میں طلبہ تنظیموں پر پابندی ختم کر دی جائے۔ ایک ماہر تعلیم نے اس بیماری کا علاج یہ بتایا کہ اسکولوں کالجوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو تبدیل کیا جائے ۔ امریکہ و یورپ کی طرح اُن ماہر تعلیم کا شاید یہ خیال تھا کہ پاکستان کا نصاب تعلیم شدت پسندی کو تقویت دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ نصاب میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسی بات ہو لیکن اگر کوئی اس بہانہ اسلامی نصاب اور اسلامی نظریہ پاکستان کو نشانہ بنانا چاہتا ہے جس کے لیے امریکا گزشتہ دس پندرہ سال سے کافی کوشش بھی کر رہا ہے تو ایسا کرنا مرض کا کوئی علاج نہیں بلکہ پاکستان کی اسلامی اساس کو نشانہ بنانا ہے۔

کچھ لوگ دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف ایک نیا بیانیہ دینے کی بات بھی کرتے ہیں ۔ اب وہ بیانیہ کیا ہو اس پر مختلف افراد کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس بات سے قطہ نظر کہ کون کیا سازش کر رہا ہے یا دنیا بھر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے کس قسم کا ردعمل پیدا ہو رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے نام کو غلط استعمال کر کے نوجوانوں کو شدت پسندی اور دہشتگردی کی طرف دھکیلا گیا۔ چھوٹے بچوں کو جنت کی لالچ دے کر خودکش بمبار بنا کر مسلمانوں سمیت ہزاروں معصوموں کی جان لی گئی۔ کبھی کسی بازار میں دھماکہ کیا گیا تو کبھی ہسپتال، اسکول، ہوسٹل کو اپنی نفرت کا نشانہ بنا کر ناحق خون بہایہ گیا۔ یہاں تک کہ مسجدوں، امام بارگاہوں، چرچ وغیرہ کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔

دہشتگردی کرنے والوں نے اپنی کارروائی کرتے کبھی یہ نہ سوچا کہ مرنے والے معصوم بچے ہیں، بے قصور مرد عورتیں، کوئی بوڑھا ہے یا جوان۔ پاکستان نے 9/11 کے بعد گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائیوں کے دوران جو خون و آگ کا کھیل دیکھا وہ کسی بھی سخت سے سخت انسان کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ ہمارے کالجوں یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے جوان اب بھی اسی شدت پسندی اور دہشتگردی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ کیا اسٹوڈنٹ یونین اس کا علاج ہے؟ کیا کسی نئے بیانیہ کی ہمیں ضرورت ہے اور آیا کسی ایک بیانیہ پر ہم متفق بھی ہو سکتے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب تو میرے پاس نہیں لیکن میری رائے میں جس اہم ترین نکتہ کی طرف ہماری ریاست، حکومت، میڈیا، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں کی کوئی توجہ نہیں وہ یہ ہے کہ بچوں، نوجوانوں، والدین، معاشرہ کو اصل اسلام (یعنی قرآن و سنت) سے روشناس کریں جو امن کی تعلیم دیتا ہے، جو کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل اور ایک انسان کی جان بچانے والے نے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا، جو فرقہ واریت سے منع کرتا ہے، جو اصل جہاد کی صورت میں بھی غیر مسلم عورت، بچوں، بوڑھوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ تعلیم دیتا ہے جو تم پر تلوار نہ اٹھائے اُس پر تم تلوار نہیں اٹھا سکتے۔

انسان کیا اسلام تو جانوروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کو گناہ تصور کرتا ہے۔ ہمارا مذہب تو جنگ کے دوران درختوں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچانے کے بھی خلاف ہے۔ ہم نے اپنے بچوں اور معاشرہ کو کب پڑھایا کہ ہمارا مذہب کسی ناحق کا خون تو کیا وضو کرتے وقت پانی کے ضیائع سے بھی روکتا ہے اور اسے گناہ سمجھتا ہے۔ کہتے ہیں کہ والدین بچوں کو سمجھائیں۔ بھئی والدین جو کل طالب علم تھے اُنہیں ریاست اور حکومت نے اسلام کب پڑھایا کہ وہ آج اپنے بچوں کو بتائیں۔ پاکستان میں اصل خرابی یہ رہی کہ ریاست نے اسلامی آئین کے ہوتے ہوئے بھی مذہب کے معاملہ میں اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھا اور یہ لوگوں پر چھوڑ دیا جو مرضی آئے کریں، کسی نے نیا فرقہ بنانا ہے تو بنا لے، مسجدوں کو مختلف فرقوں اور مسلکوں کے لیے مختص کرنا ہے تو وہ بھی کر لیں، جو کسی نے اسلام کے نام پر پڑھانا ہے وہ بھی پڑھا لے، کسی نے کسی دوسرے کو کافر قرار دینا ہے تو اُس کی بھی کھلی چھٹی۔

ریاست نے جب اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی تو یہاں فرقہ واریت اپنے عروج تک پہنچ گئی، ایک دوسرے کو اختلاف کی بنیاد پر قتل و غارت کا بازار گرم ہوا، رنگ نسل اور نصب کی بنیاد پر نفرتوں کے بھیج بوئے گئے، جہاد جیسے اسلامی فریضہ کی غلط تشریحات کر کے شدت پسندی اور دہشتگردی کو بڑھایا گیا۔ میری حکومت، پارلیمنٹ، میڈیا اور سیاست دانوں سے گزارش ہے کہ اگر دہشتگردی اور شدت پسندی کو روکنا ہے تو آئین پاکستان کی روح کے مطابق پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق اسلامی تعلیمات سے روشناس کریں اور اس کے لیے نہ صرف تعلیمی اداروں کو فوکس کریں بلکہ مساجد اورمیڈیا کو بھی استعمال کریں۔

انصار عباسی

کیا بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی آگ ’مجرمانہ سازش‘ تھی؟

بلدیہ ٹاؤن کے واقعے کو آج پانچ سال ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں تین دفعہ تحقیقات ہو چکی ہیں اور اب تک واقعے میں جھلس کر مرنے والوں کے خاندان ٹرائل شروع ہونے کے منتظر ہیں۔ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری علی انٹرپرائیز میں لگنے والی آگ کے کیس کا نہ تو ٹرائل شروع ہوا اور نہ ہی اب تک کوئی بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ 2015 میں سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم جاری کیا کہ کیس کو ایک سال کے اندر مکمل کر دیا جائے۔ اس حکم کو بھی آئے آج دو سال مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک کیس جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔ واقعے سے جُڑے ایڈووکیٹ اور لیبر یونین کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ بلدیہ کیس ’سیاسی نقطۂ نظر‘ کا شکار ہو گیا ہے جس سے کیس کو بہت نقصان پہنچا ہے۔‘

بی بی سی اُردو کو انٹرویو دیتے ہوئے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس ایک خاص سمت میں چل رہا تھا، واقعے کے فوراً بعد آنے والی فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی (ایف آیی اے) کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق آگ حادثاتی تھی جو کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر ہونے والے شارٹ سرکٹ سے لگی تھی لیکن پھر 2015 میں کہا گیا کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ جان بوجھ کر بھتّہ نہ دینے کی صورت میں لگائی گئی تھی۔ ’اس سے کیس کا رُخ دوسری طرف موڑ دیا گیاـ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک ایک بیان بھی ریکارڈ نھیں کیا گیا ہے جو ایک انوکھی بات ہے۔ ساتھ ہی کیس کو روکنے کی کئی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔‘

قومی ٹریڈ یونین کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور کہتے ہیں کہ ’ریاستی اداروں نے ایک خاص نقطۂ نظرشامل کیا جس کی وجہ سے کیس سیاسی ہوا اور آج بھی ملوث افراد دندناتے پھر رہے ہیں۔‘ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں کے 2015 میں بننے والی جے آئی ٹی میں نام تھے وہ جب ایک گروہ سے نکل کر دوسرے گروہ میں چلے گئے تو اُن کے خلاف اب کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔‘ جن لوگوں کے 2015 میں بننے والی جے آئی ٹی میں نام تھے وہ جب ایک گروہ سے نکل کر دوسرے گروہ میں چلے گئے تو اُن کے خلاف اب کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی طور پرفیکٹری مالکان اور کپڑا بنانے والی جرمن کمپنی ذمہ دار ہے لیکن لوگوں کو بتایا گیا کہ دہشتگردی کا واقعہ ہے تا کہ فیکٹریوں کی ابتر حالت سے دہیان ہٹایا جائے۔

’اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مالکان کا نام ایف آیی آر میں ہوتے ہوئے بھی وہ فروری 2013 میں ضمانت پر باہر آئے اور 2014 میں ملک سے باہر چلے گئے۔ 2015 میں بننے والی تحقیقاتی کمیشن کو بیان لینے کے لیے مالکان کے پاس دبئی جانا پڑا بجائے اس کے کہ اُن کو ملک واپس لایا جاتاـ‘ 2015 کی تحقیقاتی کمیشن کا مقصد بلدیہ فیکٹری کے واقعے کی دوبارہ سے تحقیق کرنے کا تھاـ اس کی ضرورت تب پیش آئی جب ایک اور کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کا بیان آیا کہ اُس نے یہ سُنا ہے کہ متحدہ کی تنظیمی کمیٹی نے بھتّہ نہ ملنے کی صورت میں فیکٹری میں “کیمیکل پھینکا” جس سے آگ لگ گئی۔

یہی بات فیکٹری مالکان، ارشد بھیلہ اور شاہد بھیلہ، نے جے آیی ٹی کو دیے اپنے بیان میں کہی کہ فروری 2013 میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اُن کو متحدہ کی تنظیمی کمیٹی کے چیئرمین، حمّاد صدیقی، کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس میں وہ 25 کروڑ روپے بھتّے کی ڈیمانڈ کر رہے تھےـ 2016 میں جے آئی ٹی کو بنیاد بناتے ہوۓ نیا چالان جمع کرایا گیا جس کے بعد کیس ضلعی عدالت سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل ہواـ اس میں یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری مالکان کو حراساں کیا جا رہا تھا اور یہ کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بلدیہ واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین، جو پہلے کیس میں ضلعی عدالت کی مدد کر رہے تھے، اُن کو کہا گیا کہ اب آپ کی مدد کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔

فیصل صدیقی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک عجیب بات ہے کیونکہ متاثرین ہمیشہ ایسے کیسز میں مدد کرتے ہیں۔‘ فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد زخمیوں کےابتدائی بیان میں یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری میں باہر نکلنے کے راستے بند تھے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر موجود مچان کے گرنے سے زیادہ اموات پیش آئیں نہ کہ آگ لگنے کی وجہ سے۔ تفتیشی کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر آگ لگنے کہ کوئی نشان نہیں ہیں اور وہاں موجود مشین میں دھاگہ تک صحیح حالت میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایف آئی آر درج ہوئی جس میں فیکٹری کے مالکان، مینیجر، اور سیکریٹری لیبر کے نام آئے۔ ایف آیی آر کا متن یہ تھا کہ آگ حادثاتی طور پر لگی ہے لیکن لوگ فیکٹری میں حفاظتی سہولیات نہ ہونے کے باعث مارے گئے۔

بلڈنگ کا ڈھانچہ فیکٹری کے کام کے لیے مناسب نہیں تھا کیونکہ اس میں حادثے کی صورت میں باہر بھاگنے کے راستے نہیں تھےـ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ ریسکیو ذرائع اور آگ بجھانے کے ٹینڈرز آگ لگنے کے 45 منٹ بعد پہنچے جس کی وجہ سے زخمی بروقت فیکٹری سے باہر نہ نکلنے کی صورت میں دم گھٹنے سے مر گئے۔ اس کے برعکس، مارچ 2016 میں نئی جے آئی ٹی کے متن کے مطابق آگ اگر حادثاتی ہوتی تو ایک ساتھ پوری عمارت میں پھیلتی۔ آگ ٹکڑوں میں لگی جس میں تہہ خانہ اور گراؤنڈ فلور شامل ہیں اور جہاں کہا گیا کہ شارٹ سرکٹ ہوا ہے، جو کہ کے۔ الیکٹرک کے ابتدائی بیان کے مطابق پہلی منزل پر ہوا تھا، اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

کمیشن نے مختلف عینی شاہدین کے بیانات لیے جو اشارہ کر رہے ہیں کہ فیکٹری میں آگ ایک ’مجرمانہ سازش‘ تھی۔ کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پہلی منزل پر آگ لگنے کہ کوئی نشان نہیں ہیں، وہاں موجود مشین میں دہاگہ تک صحیح حالت میں ہے۔ تحقیقاتی کمیشن سے جُڑے ایک افسر نے کہا کہ کچھ لوگ پنجاب فورینسک سائنس ایجنسی کی رپورٹ جھوٹی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ آگ لگائی گئی ہےـ اس کے علاوہ کمیشن نے مختلف عینی شاہدین کے بیانات لیے جو اشارہ کر رہے ہیں کہ فیکٹری میں آگ ایک ‘مجرمانہ سازش’ تھی۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کیس کو جان بوجھ کر ’نقصان پہنچایا جا رہا ہےـ‘ فیصل صدیقی نے آخر میں کہا کہ اس کیس کے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ دس سال بعد کسی ملزم کو سزا ہو جائے، دوسری صورت میں یہ ہو سکتا ہے کہ کرمنل ٹرائل سے کوئی نتیجہ نہ نکلے۔

سحر بلوچ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی