Daily Archives: September 7, 2017
دنیا کی ایک ہزار قابل ذکر جامعات میں صرف چار پاکستانی یونیورسٹیاں شامل
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے زوال کی بین الاقوامی سطح پرنشاندہی کر دی گئی ہے. اور امریکی ادارے ٹائمز ہائرایجوکیشن نے دنیا بھر کی جامعات کے حوالے سے اپنی حالیہ درجہ بندی میں 1 ہزار قابل ذکر جامعات میں سے 3 پاکستانی جامعات کو خارج کر دیا ہے، گزشتہ برس کی درجہ بندی میں 1 ہزار صف اول کی جامعات میں 7 پاکستانی جامعات شامل تھیں تاہم تازہ درجہ بندی میں پاکستان کی 188 سرکاری و نجی جامعات میں سے محض 4 پاکستانی جامعات کو 1 ہزار معروف جامعات میں شامل کیا گیا ہے جس میں سندھ کی کوئی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔
امریکی ادارے ٹائمزایجوکیشن کی حالیہ درجہ بندی میں غیرمتاثرکن کارکردگی پر جن 3 پاکستانی جامعات کے نام خارج کیے گئے ہیں ان میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، یونیورسٹی آف لاہور اور جامعہ کراچی شامل ہیں اور جامعہ کراچی کے صف اول کی 1 ہزار جامعات سے خارج ہونے سے سندھ کی واحد یونیورسٹی اس درجہ بندی سے باہر ہو گئی ہے جبکہ جن 4 جامعات کو اس درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے ان میں قائد اعظم یونیورسٹی اپنی گزشتہ پوزیشن میں نمایاں بہتری کے ساتھ 500 بہترین جامعات میں شامل ہو گئی ہے جبکہ کامسیٹس یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 601 سے 800 اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد 801 کی کیٹگری میں شامل ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جاری کی گئی ٹائمز ایجوکیشن درجہ بندی رپورٹ میں 601 سے 800 تک کی صف اول کی جامعات میں کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اورقائد اعظم یونیورسٹی شامل تھی جبکہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، جامعہ کراچی اور یونیورسٹی آف لاہور 801 سے شروع ہونے والی درجہ بندی میں موجود تھی ٹائمز ایجوکیشن کی درجہ بندی کے مطابق رواں سال دنیا کی 1 ہزار صف اول کی جامعات میں بھارت کی 30، سعودی عرب کی 5، ملائیشیا کی 8، چین کی 60، جاپان کی 71، ایران کی 14، ترکی کی 16 اور شمالی کوریا کی 27 جامعات شامل ہیں۔
شمالی کوریا کے پاس موجود جوہری ٹیکنالوجی پاکستان سے کہیں زیادہ بہتر ہے : ڈاکٹر عبداالقدیر خان
شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی میں کسی قسم کی مدد فراہم کرنےکے امکان کو مسترد کرتے ہوئے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبداالقدیر خان نے اعتراف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس موجود جوہری ٹیکنالوجی پاکستان سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ گذشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی اردو‘ کو دیئے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ سائنسدانوں کی وجہ سے شمالی کوریا جوہری شعبے میں خود کفیل ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ان خیالات کا اظہار شمالی کوریا کی جانب سے کامیاب ہائیڈروجن بم کے تجربے کے ایک روز بعد کیا ہے۔ شمالی کوریا نے اپنا چھٹا جوہری تجربہ کیا تھا، جسے پیونگ یانگ کا اب تک کا سب سے طاقتور ہتھیار کا تجربہ بھی قرار دیا جا رہا ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی کہلائے جانے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کہنا تھا کہ ایک میزائل پروگرام کے تحت وہ دو بار شمالی کوریا کے دورے پر گئے جہاں انہیں علم ہوا کہ ان کے پاس پاکستان سے بہتر معیار کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔





