City govt seeks Pak Army help as rain wrecks havoc in Karachi

City government has sought Pakistan Army assistance to cope with the rain emergency after torrential rains flooded Karachi. Mechanized Engineering Corps of Pakistan Army has accepted the request made by Deputy Karachi Mayor Arshad Wohra. According to sources at Karachi Metropolitan Corporation machinery from Pakistan Army would be received soon for drainage of water accumulated on the roads. Heavy downpour lashed Karachi for the second straight day as major road and low-lying areas were inundated and the life in the metropolitan city almost thrown out of gear.
 According to details, North Nazimabad, F.B Area, Gulistan-e-Johar, Gulshan–e-Ibqal, Shah Faisal Colony, MA Jinnah Road, II Chandrigar Road, North Karachi, Shadman Town, Guslshan-e-Hadeed, Shah Latif Town, Malir and other areas received heavy rain. Meanwhile, many areas of Karachi plunged into darkness as dozens of K-Electric feeders tripped due to heavy rain. Heavy rains wreaked havoc in Karachi leaving five and several others critically injured as a result of electrocution in the early hours of Thursday .

 

 

 

 

 

 

میانمار میں مظالم ، سوچی سے نوبیل انعام واپس لینے کا مطالبہ

میانمار میں روہنگیامسلمانوں پر ظلم و ستم کے خلاف آنگ سان سوچی سے امن نوبیل انعام واپس لینے کے لیے آن لائن پٹیشن دائر کر دی گئی ہے، پٹیشن پر3 لاکھ 500 سو سے زائد دستخط ہو گئے ہیں ۔ پٹیشن کو نارویجن نوبیل کمیٹی تک پہنچانے کے لیے 3لاکھ دستخط درکار تھے۔ آن لائن پٹیشن میں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر بہیمانہ مظالم ہونے پر میانمار کی رہنما سےامن نوبیل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پٹیشن میں آنگ سان سوچی اور میانمارکے فوجی سربراہ کو عالمی عدالت انصاف لے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ آنگ سان سوچی کو جمہوریت کے لیے جدوجہد پر2012 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ ملک میں روہنگیا مسلمانوں پرفوج اور بدھ ملیشیا کے حملوں میں ہزاروں روہنگیا ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے.

طلبہ کے کوائف حساس اداروں کو دینے کی خبروں پر اظہارِ تشویش

پاکستان کے ایوان بالا ‘سینیٹ’ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جامعہ اپنے طلبہ کے کوائف انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فراہم کرے گی۔ ایک روز قبل مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ گزشتہ ہفتے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر جامعہ کراچی کا ایک طالب علم ملوث تھا اور اسی بنا پر یونیورسٹی نے طلبہ کی جانچ پڑتال کے لیے حساس اداروں کو ان کے کوائف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے خط میں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وہ یہ خط اپنی ذاتی حیثیت سے ایک شہری کے طور پر تحریر کر رہے ہیں نہ کہ بطور چیئرمین سینیٹ۔ ان کے بقول یہ اطلاعات کہ یونیورسٹی کے طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو پیش کیا جائے گا اور طلبہ کو داخلے کے لیے متعلقہ پولیس تھانے سے کریکٹر سرٹیفیکٹ بھی حاصل کرنا ہو گا، انتہائی اضطراب کا باعث ہیں۔ رضا ربانی نے لکھا ہے کہ یہ دونوں ادارے “ریاست کی سخت تصویر ہیں، جن سے رابطے کے باعث طلبہ میں بے چینی بڑھے گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں انتہا پسندی اور تشدد روکنے کے لیے اقدام کرنا ہوں گے اور اس کے لیے نصاب کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے اور سینیٹ کی قرارداد کے مطابق طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے امید ظاہر کی کہ وائس چانسلر ان کا نقطۂ نظر انتظامیہ تک پہنچائیں گے اور اس کی روشنی میں بہتر فیصلہ کریں گے۔ کراچی یونیورسٹی نے طلبہ کا ریکارڈ سکیورٹی اداروں کو دینے اور اس کی پولیس سے تصدیق کرانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

روہنگیا مسلمان جائیں تو جائیں کہاں ؟

میانمار سے جان بچا کر انڈیا آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے ‘اچھی’ خبر ہے کہ ملک کے نائب وزیر داخلہ کرن ریجیجو کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں سمندر میں پھینکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ سن کر ان غریب لوگوں کو بہت سکون ملے گا۔ جنہیں تیرنا نہ آتا ہو انھیں اگر سمندر میں پھینک دیا جائے، یا پھینکنے کی دھمکی دی جائے، تو آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ ان پر کیا گزرے گی۔ ویسے بھی حکومت کے سامنے راستے کافی محدود رہے ہوں گے۔ انڈیا سے برما کے راستے میں کہیں سمندر نہیں پڑتا، اگر ایسے حالات میں بھی ان لوگوں کو سمندر میں پھینکا جاتا تو بہت سے لوگ حکومت کی نیت پر شک کرتے۔

یہ سوال بھی اٹھتے کہ جب شمال مشرقی ریاستوں سے برما کی سرحد ملی ہوئی ہے، اور زمین سے سیدھا راستہ موجود ہے، تو سمندر کے راستے جانے کی کیا ضرورت تھی۔ کرن ریجیجو نائب وزیر داخلہ ہیں اس لیے قانون کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بالکل واضح کر دیا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو گولی مارنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ‘ایسا نہیں ہے کہ ہم انہیں سمندر میں پھینک رہے ہیں یا گولی مار رہے ہیں۔ انہیں واپس بھیجتے وقت قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔’

اس کے بعد بھی روہنگیا شکایت کریں تو بات ذرا سمجھ سے باہر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جان بچا کر بھاگے تھے اور شاید انہیں لگا کہ بنگلہ دیش کے مقابلے میں وہ انڈیا میں زیادہ محفوظ رہیں گے۔ یہاں حکومت کا صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ محفوظ رہیں گے، اس میں تو ہمیں کوئی شبہ نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ کے آنے سے ہم محفوظ رہیں گے یا نہیں ؟ حکومتیں بغیر سوچے سمجھے کوئی قدم نہیں اٹھایا کرتیں۔ وزارت داخلہ کو لگتا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن آسانی سے دہشتگرد تنظیموں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، اور ملک کے وسائل میں انہیں حصہ دینے سے وہ لوگ محرومی کا شکار ہوسکتے ہیں جن کا ان وسائل پر پہلا حق ہے۔

جہاں تک پناہ گزینوں کا سوال ہے، ماضی میں انڈیا کا ریکارڈ کافی اچھا رہا ہے۔ یہاں دلائی لاما اور ہزاروں تبتی آرام سے رہتے ہیں، سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران لاکھوں تمل یہاں آئے، ان کا استقبال بھی ہوا اور انہیں سرکاری امداد بھی ملی۔ برما میں فوجی حکومت کے دوران آنگ سان سو چی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے بھی بہت لوگ بھاگ کر یہاں آئے، افغان پناہ گزین بھی یہاں رہتے ہیں، یہاں تک کہ دہلی کا ایک علاقہ ‘لٹل کابل‘ کہلاتا ہے۔ بنگلہ دیش سے چکما آئے تو انہیں بھی پناہ ملی اور جب بی جے پی کی حکومت آئی تو اس نے ان ہندو، سکھ، بودھ، جین اور پارسی پناہ گزینوں کے لیے ملک کی سرحدیں کھول دیں جنھیں اپنے ملکوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہو۔ بس شاید جلد بازی میں مسلمان اس فہرست سے باہر رہ گئے۔

کرن ریجیجو کا کہنا ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں بلاوجہ ان کی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں، روہنگیا غیرقانونی تارکین وطن ہیں اس لیے انھیں واپس بھیجا جانا چاہیے۔ روہنگیاؤں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے، ویزا پاسپورٹ کے بغیر آجکل کون اپنے گھر سے نکلتا ہے؟ اگر سیاح کاغذی کارروائی پوری کر سکتے ہیں تو پناہ گزینوں کو کیا مسئلہ ہے؟ مارے گئے تو مارے گئے، لیکن بچ کر نکل گئے تو کم سے کم زبردستی واپس بھیجنے کی نوبت تو نہیں آئے گی۔ بہرحال، انڈیا آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے یہ مشکل کی گھڑی ہے، وہ جائیں تو جائیں کہاں؟ میانمار انہیں اپنا شہری نہیں مانتا، انڈیا انہیں پناہ دینے کے لیے تیار نہیں، ان کے سامنے بھی راستے محددو ہی ہیں۔ جیسا کہ ایک روہنگیا خاتون پناہ گزین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا : واپس جانے سے اچھا ہے کہ دریا میں کود کر جان دے دوں گی۔ اگر ان لوگوں کو زمین کے راستے میانمار واپس بھیجا گیا، تو میں نے نقشے میں دیکھا ہے کہ راستے میں ایک دریا پڑتا ہے۔

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی