بھارت نے چین کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے فوج واپس بلا لی

بھارت نے چین کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے سرحدی علاقے ڈوکلام سے فوج واپس بلا لی۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا شن ینگ نے ڈوکلام سے بھارتی فوج کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چینی فوجی دستے ڈوکلام میں گشت جاری رکھیں گے۔ چین کی سرکاری خبر ایجنسی ژنہوا کے مطابق چینی حکومت نے تصدیق کی کہ بھارت نے ڈوکلام سے اپنی فوج واپس بلالی ہے جس کے نتیجے میں 2 ماہ سے جاری سرحدی تنازع ختم ہو گیا اور نئے فیصلے کے حساب سے تعیناتیاں اور ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سرحدی تنازع اور کشیدگی کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا، چین تاریخی سرحدی اصولوں کی روشنی میں اپنی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے حق خود مختاری کو استعمال کرتا رہے گا۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ بھارت بین الاقوامی سرحد کا احترام کرے گا اور سرحدی امن کو یقینی بنانے کے لیے باہمی خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے سفارتی بات چیت میں تنازع کو ختم کرنے پر اتفاق کیا جس کے بعد دونوں نے اپنی اپنی فوجیں واپس بلائی ہیں اور اب کوئی فوج ڈوکلام میں موجود نہیں۔ واضح رہے کہ ڈوکلام چین اور بھوٹان کے درمیان متنازع سرحدی علاقہ ہے جس میں جون میں چین نے سڑک کی تعمیر شروع کی تھی جسے روکنے کے لیے بھارت نے ڈوکلام میں اپنی فوج داخل کردی تھی۔

Why Rohingya refugees risk their lives to flee Myanmar ?

Rakhine people flee a conflict area. Thousands are travelling across the border to Bangladesh after violence erupted between the army and Rohingya Muslims in the impoverished state of Rakhine.

So, the Rohingya are an ethnic minority in Myanmar. There are about 1.3 million of them in the country, although, over the last 2.5 years, 10 percent of them have fled on boats. They have lived in the country for generations, some for hundreds of years. But the government has decided to persecute them and has, over the last three years, beaten them with impunity, put them into camps, told them that they have to call themselves Bengali or they will be detained, and otherwise basically left all humanitarian access out, so they can’t even get food or medical care or even go to school.

 

پاک امریکہ تعلقات کا فیصلہ کن موڑ ؟

70 برسوں سے پاکستان کبھی امریکہ اور کبھی روس کی دوستی کا شکار اور ان کے لئے استعمال ہوتا چلا آیا ہے، ایک مرتبہ پھر امریکہ بہادر نے پاکستان کو وفادار و تابعدار بن کر رہنے کی دھمکی اور سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا ہے، یہ پہلی مرتبہ نہیں امریکہ جب بھی بے وفائی کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے طعنے اور تنقید کرتا ہے اور پھر دھمکیاں دیتا ہے، پھر ہم ایسے کمزور اور امداد کے متمنی ہمیشہ سر جھکا کر ’’ڈومور‘‘ کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں۔

اب کی بار بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی بیان میں اپنے تئیں اپنا ’’گناہ‘‘ اور ’’خطا‘‘ کی ذمہ داری کے اعادے اور خمیازہ خود بھگتنے کی بجائے پاکستان کے سر تھوپنے کی کوشش کی ہے، خامیوں سے پر اور شواہد سے عاری الزامات سے واضح ہے کہ یہ امریکہ کی اپنی آواز سے زیادہ بھارت کے زہر آلود اینٹی چین موقف کا اظہار لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان پر 16 برس سے زائد عرصے سے مسلط کردہ جنگ کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ ہزاروں فوجی مروانے اور کھربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکا، 50 فی صد سے زائد حصہ افغان طالبان کے اب بھی زیر تسلط ہے، 20/30 فی صد مکس کنٹرول جبکہ صرف 20 فی صد علاقہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے، جہاں امریکی قیادت میں نیٹو فورسز اپنی محفوظ پناگاہ کی دعویدار ہیں، ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق، امریکی فورسز (افغان حکومت) کے قبضے میں مختصر علاقوں کی حالت یہ ہے کہ امریکی فورسز ایک سے دوسرے ضلع یا علاقے میں جانے کے لئے ہیلی کاپٹرز یا جدید بکتر بند وبم پروف گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں جبکہ تمام راستے ہیلی کاپٹرز نگرانی کرتے ہیں.

صورت حال کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ صدر اوباما کے دور میں افغانستان سے فورسز کی واپسی کا اعلانیہ خواب نہ صرف چکنا چور ہو گیا ہے بلکہ مزید ہزاروں فوجی بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکی فورسز جہاں مقامی دہشت گرد و انتہا پسند گروپس کے ہاتھوں یرغمال ہیں وہیں امریکہ کے پاس واحد آپشن مذاکرات کا ہے جس کا امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے قدرے دھیمے اور بجھے الفاظ میں ذکر بھی کر دیا ہے۔ دراصل امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کا کھربوں ڈالرز کا جنگی بوجھ کسی ’’بے وقوف‘‘ دوست کے سر تھوپنا چاہتا ہے اور نظر انتخاب ہے بھارت، جی ہاں بھارت افغان جنگ میں واحد نان نیٹو اتحادی ہے جو ایک دہائی سے تجارت و سیاحت کے نام پر افغانستان کے خانہ جنگی کے شکار ان علاقوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جہاں خود افغانی بھی جانے سے گھبراتے اور ڈرتے ہیں.

یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کا افغانستان کے ساتھ براہ راست زمینی راستہ یا رابطے کا ذریعہ نہیں اس کے باوجود اربوں ڈالر جھونکنے کا رسک دراصل Fifth generation Warfare کا وہ حربہ ہے جو غیر اعلانیہ اور ان ڈائریکٹ ہے، اس کا ایک بڑا مقصد جنگی صورت حال کو Exploit کر کے اپنے ’’باس‘‘ اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنا اور پاکستان کو ہر لحاظ سے غیر مستحکم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت پر خفیہ اداروں کے ذریعے مقامی باشندوں کو پیسہ دے کر ہیومن انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے کا الزام ہے تاہم وہ ہمیشہ تردید کرتا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت بخشی ہے، ساتھ ہی پاکستان سے شکوہ شکایتوں اور بے سروپا الزامات کی روایات میں زیادہ پختگی آئی ہے۔

عالمی حالات کے تناظر میں مفادات کے پہلو کو دیکھا جائے تو حالیہ امریکی اور بھارتی سفارتی و اسٹرٹیجک پالیسی کی کئی قدریں مشترک ہیں۔ امریکہ چین کی بڑھتی معاشی واقتصادی سمیت جوہری وعسکری طاقت سے نہ صرف خائف ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں چین کےاثرو رسوخ نے بھی اس کو سخت پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے، پاکستان میں سی پیک کا منصوبہ اور پاکستان کا مضبوط جوہری پروگرام مستقل سر درد ہے۔ دوسری طرف بھارت کے چین اور پاکستان سمیت ہر ہمسائے سے تنازعات اور تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، چین دنیا کی بڑی معاشی اور دوسری بڑی جوہری طاقت بننے جارہا ہے اس میں پاکستان کی اہم اور کلیدی حیثیت اور نمبرون پارٹنر بننا بھارت کو کسی صورت قبول نہیں، سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کا قتل اور بعض حالیہ واقعات اس غیر اعلانیہ دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، امریکہ خطے پر بزور بھارت اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ اب امریکہ کی خطے بارے نئی پالیسی پر پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کے بھرپور و ٹھوس ردعمل نے امریکہ کے لئے ایک مشکل صورت حال پیدا کردی ہے۔

ماضی میں پاکستانی ’’قیادت‘‘ کے اخلاص، تابعداری اور اپنی قوم سے غداری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک کال پر اپنی زمین و فضا آپ کے حوالے کر دی، بغیر کسی معاوضے کے اپنا سفری و مواصلاتی نظام نیٹو سپلائی کے لئے وقف کر دیا، ملک کے اندر انتشار اور دہشت گردی کا راج ہوا، معاشرے کو سیاسی ومذہبی انتہا پسند اور منتشر سوچ کا شکار کر دیا گیا، ملک کا نظم و نسق، معاشی، تجارتی، تعلیمی اور معاشرتی ڈھانچہ تباہ و برباد ہوا، نئی نسل کی سوچ کو گرہن لگا کر حقیقی ترقی کا خواب بیچ ڈالا، پھر امریکہ بہادر کہتے ہیں کہ اربوں ڈالر لے کر آپ نے کچھ نہیں کیا؟ جناب آپ کے اربوں ڈالر،10 ہوں گے 20 ہوں گے یا 30 ارب ڈالر، لیکن یہاں تو ملک ہی پورا تباہ ہو گیا، معصوم بچوں، خواتین، جوانوں اور بزرگوں سمیت 70 ہزار افراد جان سے گئے لاکھوں بے آسرا اور اپاہج ہوئے، 120 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا، لاکھوں لوگوں کو مہمان ہی نہیں اپنا سمجھا اور اپنی ایک روٹی کا آدھا ان کو کھلایا۔

بلاشبہ 7 دہائیوں سے پاک امریکہ تعلقات نشیب و فراز اور بے کیف حالات کا شکار رہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کی پالیسی سن کر وہ دن یاد آرہا ہے کہ جب 2012 میں، میں امریکہ میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران پاکستان میں امن وامان کی صورت حال اور پاکستانی عوام و حکومت کی کوششوں اور قربانیوں کا ذکر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سفید فارم پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹ نے سوال اٹھا دیا کہ امریکی افواج دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں لڑ رہی ہیں، ہم آپ کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن آپ ہمارے فوجیوں کا سامان لے جانے والی سپلائی لائن بند کر دیتے ہیں، آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ؟ (میں نے واضح کیا کہ سپلائی بندش کی وجہ 26 نومبر 2011 کو پاک افغان سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو فورس نےحملہ کر کے 26 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا تھا جس پر ردعمل کے طور پر پاکستان نے نیٹو سپلائی معطل کر دی تھی) میرے وطن واپس آنے کے چند ماہ بعد نیٹو سپلائی لائن کھل گئی مجھے حیرت ہوئی کہ ہم نے اپنی حکمت عملی اور رویے قومی امنگوں کے مطابق بدلے بغیر ہتھیار ڈال دیئے.

اگر ایسا اس وقت ہی ہو جاتا تو آج اس طالب علم کے الفاظ صدر ٹرمپ کو ریاستی سطح پر پالیسی کے طور ادا نہ کرنے پڑتے خیر یہ پہلی مرتبہ تھوڑی ہوا، لیکن اب ہمیں سمجھنا ہو گا کہ یہ ہمارے لئے حتمی پیغام، اطلاع اور سنہری موقع ہے کہ فیصلہ کن موڑ آچکا ہے کچھ اہم فیصلے کرنے کا، اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر امداد (خدمات کا معاوضہ) ٹھکرانے کا، خود کو نئے حوصلے سے اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا، ایران سمیت تمام ہمسایوں کےساتھ رشتوں کو نئے سرے سے استوار کرنے کا، روس سمیت سینٹرل ایشین اسٹیٹس کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری اور صنعت وتجارت میں تعاون کا، چین کے ساتھ دوستانہ،پیشہ ورانہ اور سمجھدارانہ سمیت اصولوں پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کا، اب ہمیں محض اپنے بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ایک خودار، سمجھدار، خودمختار اور خود اختیار قوم ہونے کا ثبوت دینا ہو گا، اب امریکہ سے اس فساد کو بڑھانے سے روکنے کے لئے ’’ڈو مور‘‘ کہنا ہو گا، چار فریقی مذاکراتی عمل کو کامیابی سے منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔ ہمیں امریکہ کی بات سننی بھی ہے تو فیصلہ اپنا لینا ہے، موجودہ حالات کو خود ساختہ مفروضوں، باہمی سیاسی و ادارہ جاتی چپقلش کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا اسی میں ہماری بقا اور ترقی کا راز پنہاں ہے۔

آصف علی بھٹی