افغانستان میں امریکی ناکامیوں کی طویل فہرست

امریکا کو افغانستان میں آئے تقریباً 16 سال ہو چکے لیکن اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب تک وہاں امن و امان قائم نہیں کیا جا سکا۔ سینٹرفار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جس میں 110 ارب ڈالر مالی امداد کی مد میں دیئے گئے جس میں افغان فورسز کی تعمیر نو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ اگر اس میں دیگر اخراجات بھی شامل کر لیے جائے تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔

اس عرصے میں امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کو دیکھا جائے تو 2001 میں 13 سو امریکی فوجی افغانستان میں اترے جس کے بعد اگست 2010 میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اب بھی 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں لیکن افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی۔ لانگ وار جرنل اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغان حکومت کی رٹ تمام تر سپورٹ کے باوجود صرف 60 فیصد رقبے پر قائم ہے اور افغانستان کے 34 میں سے 16 صوبے ایسے ہیں جن میں کہیں افغان طالبان کا مکمل تو کہیں جزوی کنٹرول ہے جبکہ بعض صوبے ایسے ہیں جہاں ان کا اچھا خاصا اثر و روسوخ موجود ہے۔

امریکا کی ناکامیوں کی فہرست یہیں نہیں رکتی کیونکہ افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی مستقل اضافہ د یکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح امریکا نے 8 اعشاریہ 4 ارب ڈالر منشیات کے خاتمے پر لگائے مگر افیون کی کاشت کا رقبہ 2001 کے 8 ہزار ایکٹر سے بڑھ کر 2 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا جبکہ افیون کی پیداوار بھی 185 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 8 ہزار ٹن سے زائد ہو گئی۔ منشیات کے خاتمے کےلیے 94 کروڑ ڈالر کے جہازافغان حکومت کو دئیے مگر مطلوبہ قابلیت اور ناتجربے کار اسٹاف کے باعث یہ منصوبہ بھی ناکام ہوا۔ 66 کروڑ ڈالر کی 630 آرمرڈ وہیکل اور 49 کروڑ کے 20 گارگو جہاز بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہو گئے اور کئی تو اسکریپ میں بیچ بھی دئیے گئے۔

اس کے علاوہ 49 کروڑ ڈالر کا معدنیات نکالنے کے منصوبے ایک ارب ڈالر جوڈیشل ریفارم اور 47 کروڑ ڈالر مقامی پولیس کے لیے امریکا نے خرچ کیے مگر یہ منصوبے کرپشن کے باعث ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کے خلاف اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سوات، خیبر ایجنسی، باجوڑ، بونیر، لوئر دیر، مہمند ایجنسی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیر ستان میں کامیاب آپریشن کیے جبکہ راجگال اور شاوال جیسے مشکل علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے قدم اکھاڑ دیئے۔ اور اب آپریشن ردالفساد کی صورت میں ملک بھر میں دہشت گردوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ ان آپریشن کے نتیجے میں پاکستان بھر میں دہشت گردوں کی وارداتوں میں بھی واضح کمی آئی۔

واصف اوصاف

امریکہ پھر پاکستان سے منہ موڑ رہا ہے ؟

بعض پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی ماضی کی پالیسیوں کو دہراتے ہوئے ایک دفعہ پھر پاکستان سے منہ موڑ رہا ہے۔ وائس آف امریکہ کی اردو سروس کی ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کی جانب سے امریکہ کا دورہ ملتوی کر کے پہلے روس، چین اور ترکی سے مشاورت کا فیصلہ امریکہ کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان کو اب اس کی زیادہ پرواہ نہیں۔ سینئر صحافی اور اینکر پرسن مجاہد بریلوی نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ دینے کی ذمہ داری خود امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف آئندہ ہفتے تین علاقائی ممالک – چین، روس اور ترکی کا دورہ کرینگے جہاں وہ ان ممالک کے رہنماؤں کو افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی پر پاکستان کے مؤقف سے آگا ہ کریں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن پہلے ہی خواجہ آصف کو امریکہ مدعو کر چکے تھے لیکن انھوں نے امریکہ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد پہلے پاکستان کے قریبی دوست ملکوں کادورہ کرنے کو ترجیح دی ہے۔

 

آزادی کے ستر برس، کیا پایا کیا کھویا ؟ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

اب سے 70 برس قبل آزادی کے وقت جو علاقے پاکستان کے حصے میں آئے ان میں انفرا سٹرکچر نہ ہونے کے برابر تھا۔ نوزائیدہ مملکت کے پاس مالی وسائل کم اور مسائل کی بھرمار تھی۔ گزشتہ 7 دہائیوں میں بہرحال پاکستان نے متعدد شعبوں میں قابل قدر ترقی کی ہے مثلاً

  مالی سال 1950 میں پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً 10 ارب روپے تھی جو بڑھ کر 31862 ارب روپے تک پہنچ گئی ۔ اسی مدت میں فی کس آمدنی 285 روپے سے بڑھ کر 170508 روپے سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔

  یکم جولائی 1948 کو پاکستان میں بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس ایک ارب روپے سے کچھ ہی زائد تھے جو بڑھ کر اب تقریباً 11600 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ ابتدائی برسوں میں ان بینکوں کا ٹیکس سے قبل مجموعی منافع نہ ہونے کے برابر تھا جو 2016 میں 314 ارب روپے ہو گیا تھا۔

  مئی 1998 میں پاکستان نے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ (پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں لیکن اب ان کی خدمات سے استفادہ نہیں کیا جا رہا)۔

یہ کامیابیاں اپنی جگہ مگر مندرجہ ذیل حقائق قابل رشک نہیں ہیں۔

  1947 میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک تھا لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ہم یہ حیثیت کھو چکے ہیں۔

 آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے لیکن پاکستان دنیا کی چھٹی نہیں 41 ویں بڑی معیشت ہے۔

 مالی سال 1980 میں پاکستان پر قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 155 ارب روپے تھا۔ مارچ 2017 تک ان قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم 23952 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس پس منظر میں مندرجہ ذیل حقائق یقیناً چشم کشا ہیں۔

1980 سے 2017 کے 37 برسوں میں پاکستانی معیشت کی اوسط شرح نمو جنوبی ایشیا کے بہت سے ممالک بشمول بنگلہ دیش سے کم رہی۔ اس کی وجوہات میں وڈیرہ شاہی کلچر پر مبنی استحصالی معاشی و مالیاتی پالیسیاں، بار بار آمروں کی مداخلت، سستے اور جلد انصاف کی عدم فراہمی، اداروں کا اپنی حدود سے تجاوز، مالیاتی و انٹلیکچوئل بدعنوانی، موثر احتساب کے نظام کا فقدان اور اقتدار حاصل کرنے، برقرار رکھنے اور اسے طول دینے کیلئے امریکی ایجنڈے کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جنگ لڑنا شامل ہیں۔

آئین میں 18ویں ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ کا مقصد صوبوں کو مضبوط بنانا تھا کیونکہ اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہو گا۔ ان فیصلوں کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے وفاق اور چاروں صوبوں کو متعدد اقدامات اٹھانا تھے لیکن ان اقدامات سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے چنانچہ وفاق اور چاروں صوبوں نے عملاً گٹھ جوڑ کر کے یہ اقدامات اٹھانے کے بجائے استحصالی پالیسیاں اپنائیں۔ پاکستان میں ٹیکسوں کی مد میں استعداد سے پانچ ہزار ارب روپے سالانہ کی کم وصولی ہو رہی ہے۔ چاروں صوبے جہاں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حکومت ہے زرعی اور جائیداد سیکٹر کو موثر طور سے ٹیکس کے دائرے میں تو کیا لاتے وہ جائیدادوں کے ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ کے نرخوں پر لانے کیلئے آمادہ نہیں ہیں کیونکہ جائیداد سیکٹر لوٹی ہوئی دولت کو محفوظ جنت فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔

سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے پاناما لیکس کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا گیا ہے مگر ملکی پاناماز پر کوئی بھی ہاتھ ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہے حالانکہ اس مد میں چند ماہ میں تقریباً دو ہزار ارب کی وصولی ممکن ہے۔ اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111(4) کی منسوخی سے تین ہزار ارب روپے سالانہ کی اضافی رقم قومی خزانے میں آ سکتی ہے۔ ٹیکسوں کی چوری کے نقصانات پورا کرنے کیلئے چاروں صوبوں نے تعلیم کی مد میں قومی تعلیمی پالیسی 2009 سے انحراف کرتے ہوئے صرف گزشتہ تین برسوں میں چار ہزار ارب روپے کم مختص کئے گئے ہیں مگر شق 111(4) کو منسوخ کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔

اسٹیٹ بینک اور پاکستان میں کام کرنے والے بینک مسلسل بینکنگ کمپنیز آرڈیننس کی متعدد شقوں مثلاً 26۔ اے (4)، 40 (اے) 41 اور آئین کی شقوں 3، 38 (ای) اور 227 سے انحراف کر رہے ہیں۔ بینکوں نے گزشتہ 15 برسوں میں کروڑوں کھاتے داروں کو منافع کی مد میں تقریباً 1450 ارب روپے کم دیئے ہیں۔ ان غلط کاریوں میں تینوں صوبائی بینکوں کا بھی برابر کا کردار ہے۔ وطن عزیز میں آج کل ووٹ کی حرمت کی پامالی کا بڑا چرچا ہو رہا ہے لیکن ووٹ تو اصولی طور پر سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور کو دیئے جاتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ وفاق اور صوبوں میں برسر اقتدار تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور اور وعدوں کے اہم نکات سے 90 فیصد انحراف کیا ہے۔

یہی نہیں آئین کی متعدد شقوں سے ریاست کے تمام ستون بھی تسلسل سے انحراف کرتے رہے ہیں۔ آئین کی شق 3 استحصالی کا خاتمہ، 25 (اے) بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم، 37 (ڈی) سستے اور جلد انصاف کی فراہمی، 38 (ڈی) معذور، ضعیف اور بیمار اشخاص کو زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی اور 38 (ای) غریب اور امیر کے فرق کو کم کرنے کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتی ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہو رہا۔ آئین پاکستان کی شق 38 (ایف) میں کہا گیا ہے کہ ربٰو کا جلد از جلد خاتمہ کیا جائے۔ یہ خاتمہ تو کیا ہوتا پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ نے گزشتہ 26 برسوں میں یہ حتمی فیصلہ ہی نہیں دیا کہ سود ہر شکل میں مکمل طور پر حرام ہے یا نہیں۔ بینکوں کے قرضوں کی معافی کا مقدمہ بھی گزشتہ 10برسوں سے سپریم کورٹ میں التوا کا شکار ہے۔

 ہمارے ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کی تحقیق کے مطابق پچھلی چند دہائیوں سے پاکستان میں جو پالیسیاں اپنائی گئی ہیں ان کے نتیجے میں اس صدی کے آخر تک بھی پاکستانی معیشت سے سود کا خاتمہ ہونا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ اسلامی بینکاری کا موجودہ متوازی نظام غیر اسلامی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا شریعہ بورڈ بھی اس نظام کو اسلامی ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مگر اس نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ کچھ اسلامی بینکوں کے شریعہ بورڈز یہ سرٹیفکیٹ دینے کیلئے آمادہ نہیں ہیں کہ اسلامی بینکوں نے کھاتے داروں کو منافع دینے کیلئے جو فارمولا اپنایا ہے وہ شریعت سے مطابقت رکھتا ہے۔ اسلامی بینکوں نے کاروبار کرنے کیلئے جو طریقے اپنائے ہیں ان سے نہ تو اسلامی نظام بینکاری کی کوئی معاشی خرابی دور ہوئی ہے اور نہ ہی اسلامی نظام بینکاری سے معاشرے، معیشت اور فرد کو جو ثمرات ملنے کی توقع تھی ان میں سے کوئی ایک بھی حاصل ہو رہا ہے جو قابل احترام علماء مروجہ اسلامی نظام بینکاری کی پشت پر ہیں وہ بھی دبے لفظوں میں تسلیم کر چکے ہیں کہ اس مروجہ نظام کو اسلامی نظام بینکاری کہا ہی نہیں جا سکتا۔

اگر مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں معیشت کی بہتری کیلئے فوری طور پر اصلاحی اقدامات نہ اٹھائے گئے اور اقتصادی دہشت گردی پر ممکنہ حد تک قابو پانے کیلئے اقدامات کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ نہ بنایا گیا تو معیشت میں پائیدار بہتری لانے، دہشت گردی کی جنگ جیتنے اور سی پیک کو گیم چینجر بنانے کی توقعات پوری نہ ہو سکیں گی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 21 اگست کو پاکستان کیلئے جو دھمکی آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں وہ ’’نیوگریٹ گیم‘‘ کے امریکی عزائم کو ایک مرتبہ پھر واضح کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی