امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر چین کے بعد روس نے بھی پاکستان کی حمایت کر دی، روس کا کہنا ہے کہ پاکستان پردباؤ بڑھانے سے افغانستان میں منفی نتائج سامنے آئیں گے۔ روسی صدارتی مندوب برائے افغانستان ضمیر کابولوف کابیان میں کہنا تھا کہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے سے خطے کی سیکورٹی صورتحال میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔ ضمیرکابولوف نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔
روسی صدارتی مندوب برائےافغانستان نے مزید کہا کہ خطے میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام افغانستان کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا۔ قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق بیان پر چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے بہترین دوست ہیں اور پاکستان انسداد دہشت گردی جنگ کے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے، جس میں پاکستان نے قابل قدر قربانیاں دی ہیں۔
شماریات بیورو نےچھٹی مردم شماری 2017 کے عبوری نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 نفوس پر مشتمل ہے، جن میں 10 کروڑ 64 لاکھ 49 ہزار 322 مرد اور 10 کروڑ 13 لاکھ 14 ہزار 780 خواتین ہیں۔ شماریات بیورو کی جانب سے جاری اعداو شمار کے مطابق 1998 میں ملک کی آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ 52 ہزار 279 تھی۔ شماریات بیورو کے اعداوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا کی کل آبادی 3 کروڑ 5 لاکھ 23 ہزار 371 افراد پر مشتمل ہے، فاٹا کی کل آبادی 50 لاکھ ایک ہزار 676، پنجاب کی کل آبادی 11 کروڑ 12 ہزار 442 افراد، سندھ کی کل آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار 51، جبکہ سب سےذیادہ رقبہ رکھنے والے صوبہ بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 افراد پر مشتمل ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کل آبادی 20 لاکھ 6 ہزار 572 افراد پر مشتمل ہے۔ 1998 کی مردم شماری کے تناسب سے 2017 میں آبادی میں 57 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے آبادی کے اعداو شمار ابھی جاری نہیں کیئے گئے۔ سب سے ذیادہ آبادی کی شرح میں اضافہ وفاقی دارلحکومت میں 4.91 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں گھروں کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 22 لاکھ 5 ہزار111 ہے۔
شماریات بیورو کے ریکارڈ کے مطابق شہروں میں بسنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور 1998 میں 32.52 کی شرح، 2017 میں بڑھ کر 36.38 فیصد ہو گئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی دارلحکومت کے شہری علاقوں میں بسنے کا رجحان کم ہو رہا ہے اور گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں حالیہ مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کے شہری علاقوں میں بسنے کا رجحان 65.72 فیصد سے کم ہو کر 50.58 فیصد ہو گیا ہے۔ ملک میں سب سے ذیادہ شہر میں بسنے کا رجحان صوبہ سندھ میں ہے جہاں کی 52.02 فیصد آبادی شہروں میں بستی ہے۔ شماریات بیورو کےجاری کردہ اعداو شمار میں ملک میں رہنے والے افغان اور دیگر شہریت کے حامل لوگ بھی شامل ہیں جبکہ افغان مہاجر کیمپس اور سفارتکاروں کی تعداد کو شامل نہیں کیا گیا۔
19 سال کے تعطل کے بعد ملک میں ہونے والی اس مردم شماری کا آغاز 15 مارچ کو ہوا تھا اور اس عمل میں معاونت اور اس میں شامل اہلکاروں کے تحفظ کے لیے فوج کے اہلکار بھی ہر ٹیم کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے۔ قوائد کے مطابق ملک میں ہر دس سال بعد مردم شماری کا انعقاد ضروری ہے لیکن پاکستان میں آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی اور پھر ملک کو درپیش حالات کی بنا پر یہ عمل موخر ہوتا رہا۔
سرفرنگا سکردو سے 20 کلومیٹر دور ایک ’سرد‘ صحرا ہے جس کی سطحِ سمندر سے بلندی ساڑھے سات ہزار فٹ کے قریب ہے۔ صحرا میں تیز رفتار کے لیے گاڑی کا سسپینشن سسٹم خاص طور پر توانا ہونا چاہیے۔
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں طلبہ تنظیموں کو پوری طرح سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعات کی یہ تنظیمیں غریب اور متوسط طبقے کی سیاسی نرسریاں سمجھی جاتی تھیں جہاں سے ملک کو سیاسی قیادت ملی۔ لیکن جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں طلبہ اور مزدور یونینوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر افراسیاب خٹک بھی طلبہ یونین سے سینیٹ تک پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل ایوب خان نے طلبہ یونین پر پابندی لگائی تھی اور جب مارشل لا ختم ہوا اور آئین نافذ ہوا تو یہ پابندی اٹھائی گئی۔ اس وقت وہ پشاور یونیورسٹی میں تھے اور پہلی بار یونین کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ بقول خٹک کے ان دنوں بہت مثبت سرگرمیاں ہوتی تھیں جنرل ضیاالحق کے آنے تک یونیورسٹیاں پر امن تھیں اور وہاں بحث مباحثے ہوتے تھے۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد 1988 میں بےنظیر بھٹو نے طلبہ یونین سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا، لیکن تین سال کے اندر یونین سازی کو اس بنیاد پر عدالت میں چیلنج کر دیا گیا کہ یہ تشدد کو فروغ دیتی ہیں بالآخر 1993 میں سپریم کورٹ نے یونین پر پابندی عائد کر دی۔
جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد جب 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ عوامی نیشنل پارٹی پی پی حکومت کی اتحادی جماعت تھی۔ افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ جب مارشل لا ختم ہوتے ہیں تو بہت سارا ملبہ چھوڑ جاتے ہیں اور بہت ساری رکاوٹیں افسر شاہی کے پاس ہوتی ہیں جو دور سے نظر نہیں آتیں۔ ‘ہمارے یہاں ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ عبوری دور اپنے منطقی انجام پر پہنچا ہو جس کی وجہ سے جمہوری اداروں کی بحالی ایک بار بھی نہیں ہو سکی۔’
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کا دعویٰ ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں طلبہ تنظیموں پر پابندی جماعت اسلامی کو کنارے لگانے کی لیے لگائی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ تنظیمیں ایک بہت بڑا موقع ہوتا تھا کہ اساتذہ اور طلبہ کو ایک دوسرے کے طریقہ کار کو دیکھیں۔ اس طرح طلبہ کو مالیات اور عوامی رابطہ کا موقعہ مل جاتا تھا۔ ‘جنرل ضیاالحق کے بعد جب بےنظیر بھٹو آئیں تو انھوں نے اعلان کیا کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں الیکشن ہوں گے، یہ الیکشن ہوئے کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا اس کے باوجود انھوں نے ملک کے اندر دیگر جامعات میں الیکشن نہیں کروائے۔’
منور حسن کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ آزادی کم سے کم میسر ہو اور لوگ حقوق کے نام پر سڑکوں پر نہ آ سکیں، لہٰذا اس طرح سے چیزیں کی جائیں کہ دستور سے شروع ہوں اور دستور پر ختم ہوں۔ پاکستان میں جامعات میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کی ایک وجہ طلبہ گروہوں میں تصادم کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ بےنظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر اختر بلوچ کا کہنا ہے کہ جب ہم یونین کی بات کرتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ طالب علم اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن بدقسمتی سے ان میں باہر کی قوتوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے اور وہ پورے ماحول کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں اس کی وجہ سے انتظامیہ بلیک میل ہو جاتی ہے۔
کراچی اور لاہور کی جامعات میں طلبہ تنظیموں میں تصادم کی ایک بڑی وجہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنطیم جمعیت کو قرار دیا جاتا ہے۔ منور حسن کا کہنا ہے کہ تشدد کی بنیاد جس نے بھی رکھی ہو اس کے لیے ہمدری پیدا نہیں ہو گی۔ ‘جمیعت سب سے زیادہ یونین کے انتخابات جیتنے والی جماعت ہے۔ اگر تشدد کی بنیاد ایسے لوگ رکھتے تو وہ ناپید ہو جاتے اور لوگ انھیں ووٹ نہ دیتے۔ موجودہ وقت میں تو کوئی یونین نہیں ہے لیکن اس عرصے میں تعلیمی اداروں کا کیا حال ہوا ہے، کہ بالآخر رینجرز کو لگانا پڑا ہے؟‘
پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں صفورہ واقعے کے ملزم سعد عزیز اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری سمیت درجن کے قریب اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ اور طالبات شدت پسندی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ جس کے بعد انسداد دہشت گردی کے ادارے جامعات سے شدت پسندی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سربراہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کے رحجانات کی روک تھام کے لیے طلبہ تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جتنی بھی تشدد پسند اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں وہ ایک متبادل سیاسی نقطہ نظر پیش کرتی ہیں۔ جب مرکزی دھارے کے نقطۂ نظر کو جامعات میں کام کرنے کے لیے اجازت نہیں دیں گے تو وہ خلا اس قسم کی پرتشدد تنظیمیں ہی پورا کریں گی۔
‘یہ کہا جاتا ہے کہ طلبہ تنظیمیں آنے سے تشدد بڑھ جائے گا، میرا خیال ہے کہ حکومت کو چیکس لگانا چاہیے تاکہ اسلحے کا فروغ نہ ہوا اور طلبہ یونین سیاسی جماعتیں انھیں آلہ کار نہ بنائیں۔ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے جس کو حل کیا جا سکتا ہے اس بنیاد پر اس سیاسی عمل کو روکنا کسی صورت میں دانش مندی نہیں۔’
بےنظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر اختر بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں مذہب کو سامنے لاتے رہے اور مجموعی طور پر کلاشنکوف کلچر اور ملّا ازم آیا۔ ‘ان سب چیزوں نے مل کر ہماری معاشرے میں شدت پسندی کو فروغ دیا۔ اب اس سارے بیانیے کو روکنا ہے اس میں ہم طلبہ یونین کی بحالی کی بھی بات کرتے ہیں۔’