آج کل سوشل میڈیا پر ـ”لوڈو سٹار” گیم کا چرچا ہے جس سے متعلق تبصرے ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں۔ حال ہی میں اس گیم کو غیر اسلامی قرار دے دیا گیا ہے ، دوسری طرف ایک اور خبر مشہور ہو گئی کہ بھارتی ایجنسیاں “لوڈو سٹار” کے ذریعے پاکستانیوں کی جاسوسی کر رہی ہیں۔ اس لیے اس گیم کا بائیکاٹ کیا جائے۔ سننے میں یہ مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے کہ ایک گیم کے ذریعے جاسوسی کیونکر ممکن ہے۔ ایک عام شخص کی جاسوسی کر کے ملک دشمن عناصر کیا فوائد حاصل کر سکتے ہیں؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے جہا ں ہر شعبہ زندگی میں انقلاب برپا کیا ہے وہیں روایتی جاسوسی کا نظام بھی الیکٹرانک ہو چکا ہے۔
اگر آپ غور کریں تو فیس بک پر سائیڈ بار میں چلنے والے اشہارات آپ کے رجحان اور مزاج کے مطابق ہوتے ہیں ۔ یہی نہیں ،اگر آپ کو کسی ایسے دوست کی فون کال یا میسج موصول ہو جو آپ کے پاس فیس بک پر ایڈ نہیں تو چند دنوں میں ہی آپ اس دوست کی پروفائل کو فیس بک پر ریکمنڈڈ فرینڈز (People you may know) کی فہرست میں پائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک آپ کے موبائل پر ہونے والی تمام کالز اور میسجز کو ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے۔ ہیکنگ کے دیگر آلات میں ونڈوز، اینڈرائیڈ، ایپل آئی او ایس/ او ایس ایکس اور لینکس آپریٹنگ سسٹم والے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ راؤٹرز کو نشانہ بنانے والے سافٹ ویئرز شامل ہیں۔
اس ہولناک حقیقت کاانکشاف 2013 ء میں سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ ایڈورڈ سنوڈن نے کیا۔ انہوں نے برطانوی اخبار “دی گارڈین” کے ذریعے دنیا کو امریکہ کے ڈیجیٹل جاسوسی پروگرام “پرزم”سے آگاہ کیا جس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیاں سراغ رسانی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں فیس بک، یو ٹیوب، سکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی، برطانیہ کی گورنمنٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹرز اور اسرائیل کی موساعد دنیا میں ڈیجیٹل جاسوسی کا سب سے بڑا منبع ہیں جو سینکڑوں این جی اوز، ٹیکنالوجی کمپنیز اور مختلف فرمز کے ذریعے لوگوں کی ذاتی تصاویر، ویڈیوز، ای میلز اور دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل جاسوسی کے تین بڑے ذرائع جن میں سب سے اہم انٹرنیٹ ہے۔ مختلف ایپس کے ذریعے موبائل کی گیلری، کیمرہ، مائیک اور دیگر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ جب ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں تو وہ ہمارا ڈیٹا مختلف سرورز کو بھیج رہی ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق 53 فیصد ایپس ڈیٹا چوری کرتی ہیں جس کی ایک عام مثال فلیش لائٹ ایپ ہے جس کا مقصد اندھیرے میں موبائل کو ٹارچ بنانا ہے مگر یہ آپ کی کانٹیکٹ لسٹ کو چوری کرتی ہے۔دوسرا بڑا ذریعہ فائبر آپٹک ہے جس کے ذریعے عالمی کمیونیکیشن کی نگرانی کی جاتی ہے۔”گارڈین” کے مطابق برطانیہ کو دو سو فائبر آپٹک کیبلز تک رسائی حاصل ہے جس کے ذریعے وہ یومیہ چھ سو ملین کمیونیکیشنز کی نگرانی کر سکتا ہے۔
فون ٹیپنگ کے علاوہ ہر روز 18 وائرس ( ٹروجن ) بنائے جاتے ہیں جو لوگوں کے ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی جاسوسی پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے پس پردہ عالمی اداروں کے کیا مقاصد ہیں تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ نیوورلڈ آرڈر کے مطابق ہر ملک عالمی سطح پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے جس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ہر شخص کی سوچ، لین دین، رجحانات اور تمام دلچسپیوں کو ڈیٹا بیس میں مسلسل ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کسی خطے اور قوم سے متعلق بنیادی معلومات اگر آپ کے پاس موجود ہوں تو آپ اس خطے کے لوگوں کا مجموعی نفسیاتی طرزِ عمل آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
صرف نفسیاتی طرزِ عمل ہی نہیں بلکہ قوموں کے مجموعی طرزِ فکر، ایکشن، ری ایکشنز اور متوقع فیصلہ سازی کے بارے میں آپ بڑی آسانی سے ایک زائچہ تیار کر سکتے ہیں۔ یہی وہ معلومات ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتیں کسی ملک کے حالاتِ زندگی، نفسیات اور معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ”ٹاپ سیکرٹ بجٹ ڈاکومنٹس” بلیک بجٹ کے نام سے ترتیب دی گئیں 178 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں امریکی خفیہ اداروں نے پاکستان میں کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے کے سلسلے میں جاسوسی نیٹ ورک کو توسیع دی ہے۔
مارچ 2013ء کے انکشافات کے مطابق پاکستان عالمی جاسوسی اداروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں سے ایک ماہ میں ساڑھے تیرہ ارب خفیہ معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ برطانوی خفیہ ادارہ ٹیکنالوجی کمپنی “سسکو” کے رائوٹرز کو ہیک کر کے پاکستان میں مواصلاتی نظام کی جاسوسی کرتا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو پیچھے دھکیلنے کے لیے تیزی سے جال بننے میں مصروف ہیں۔
چین کی فوج نے سرحدی کشیدگی کے پیش نظر بھارت پر اچانک حملے کی تیاری کے لیے نامعلوم مقام پر مشقیں کی ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کی مغربی تھیٹر کمانڈ نے یہ مشقیں کیں، ان مشقوں میں فوج کے 10 یونٹس نے حصہ لیا جن میں ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے یونٹس بھی شامل تھے۔ سرکاری میڈیا نے اس حوالے سے پانچ منٹ طویل ویڈیو بھی نشر کی جس میں ٹینکوں کو پہاڑوں پر گولہ باری کرتے اور ہیلی کاپٹرز کو زمین پر میزائل سے نشانہ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
چینی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ان مشقوں کا مقصد پہاڑی علاقے کی جنگ کی تیاری ہے۔ چینی تجزیہ کاروں کے مطابق چینی فوج کی تازہ مشقوں کا ہدف بھارت پر اچانک حملے کی تیاری کرنا ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان متنازع سرحدی علاقے ڈوکلام میں دو ماہ سے کشیدگی جاری ہے اور چنگہائی تبت کا پہاڑی علاقہ بھارت کے قریب ترین واقع ہے جہاں چین کی مغربی تھیٹر کمانڈ تعینات ہے۔ یاد رہے کہ جولائی میں بھی چین نے بھارتی سرحد سے ملحقہ علاقے تبت میں فوجی مشقوں کا انعقاد کیا تھا۔
پاکستان میں ایک تحقیق کے مطابق پینے کے صاف پانی میں خطرناک زہریلے مادے سنکھیا کی انتہائی زیادہ مقدار کی موجودگی سے چھ کروڑ شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کی جانب سے پاکستان بھر میں حاصل کردہ زیر زمین پانی کے 12 سو نمونوں کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں زہریلا مادہ سنکھیا زیادہ مقدار میں موجود ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی یہ تحقیق جریدے سائنس ایڈوانس میں شائع ہوئی ہے۔ سنکھیا یا آرسنک دراصل ایک معدن ہے۔ یہ بے ذائقہ ہوتا ہے اور گرم پانی میں حل ہو جاتا ہے اور ہلاک کرنے کے لیے اس کے ایک اونس کا سوواں حصہ بھی کافی ہوتا ہے۔ طویل عرصے تک سنکھیا ملا پانی استعمال کرنے کے نتیجے میں خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ ان میں جلد کی بیماریاں، پیپھڑوں اور مثانے کا سرطان اور دل کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں 15 کروڑ افراد کا انحصار زیر زمین اس پانی پر ہے جس میں سنکھیا پایا جاتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق ایک لیٹر پانی میں سنکھیا کی زیادہ سے زیادہ مقدار 10 مائیکرو گرام ہونی چاہیے جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ معیار کے مطابق یہ شرح 50 مائیکرو گرام تک قابل قبول ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان کے مشرقی علاقوں یا دریائے سندھ کے ساتھ میدانی علاقوں میں رہائش پذیر پانچ سے چھ کروڑ افراد پینے کے لیے وہ پانی استعمال کر رہے ہیں جس میں حکومت کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ سنکھیا ہو سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے ملک بھر میں مختلف مقامات سے پینے کا صاف پانی حاصل کرنے نلکلوں، کنوؤں سے 12 سو نمونے حاصل کیے اور شماریات کا طریقۂ کار استمعال کرتے ہوئے نقشے مرتب کیے اور ان کی مدد سے اندازہ لگایا کہ اس خطرے سے کتنی آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔
سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ایکوٹک سائنس سے منسلک اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جول پٹکوسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیق کے نتائج پریشان کن ہیں۔ ‘ہم پہلی بار پاکستان میں اس مسئلے کی شدت کو دکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ جیالوجی اور زمینی مادوں اور دیگر پیمائشوں کی مدد سے اندازہ ہوا کہ دریائے سندھ کے ساتھ میدانی علاقوں کے زیر زمین پانی میں سنکھیا کی انتہائی زیادہ مقدار موجود ہے۔’ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کاشت کاری کے لیے پانی کے استعمال نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ تحقیق میں سنکھیا اور مٹی میں پائی جانے والی تیزابیت کے درمیان مضبوط باہمی تعلق کا اندازہ بھی ہوا ہے۔
ڈاکٹر جول کے مطابق’ وادی مہران میں بڑے پیمانے پر کاشت کاری کے لیے پانی استمعال کیا جاتا ہے اور یہاں کا موسم بہت گرم اور خشک ہے۔ اگر آپ سطح پر بہت زیادہ پانی بہا رہے ہیں تو یہ جب زمین میں جذب ہو گا تو آسانی سے سنکھیا کو اپنے ساتھ زیر زمین پانی میں ملا دے گا۔‘ یونیورسٹی آف مانچیسٹر میں ماحولیاتی کمیسٹری کے پروفیسر ڈیوڈ پولایا کا کہنا ہے کہ ‘اعداد و شمار پر قابل ذکر حد تک غیر یقینی پائی جاتی ہے، اگر جتنی آبادی کو خطرہ لاحق بتایا گیا ہے اس کا نصف بھی ہو تو اس سےگذشتہ چند دہائیوں میں سامنے آنے والے رجحان کا اندازہ ہوتا ہے جس میں ایک ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنھیں سنکھیا ملے پانی سے خطرہ لاحق ہے۔’
انھوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی جامع تحقیقات دوسرے علاقوں میں بھی ہونی چاہیے اور اس سے کوئی شک نہیں کہ پینے کے پانی میں اس زہریلے مادے سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھے گی۔’ ڈبلیو ایچ او کے پروفیسر ریک جانسٹن کے مطابق’ نئی تحقیق میں سنکھیا کی پانی میں ملاؤٹ کی شرح کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں اور یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پانی کے دیگر شعبوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گی۔