Daily Archives: August 23, 2017
علی ابرار موبائل جیتنے کے لئے دریا کی موجوں سے زندگی ہار گیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو صحت افزا مقام مری سے ملانے والے علاقے کوہالہ کے قریب دوستوں سے شرط لگا کر دریائے جہلم میں چھلانے لگانے والا نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گیا جبکہ واقعے کی وڈیو بھی سوشل میڈیا پر آ گئی۔
گجرات سے چھ دوست تفریح کے لیے کوہالہ پل آئے۔ دوستوں کے اکسانے پر 19 سالہ نوجوان علی ابرار نے دریا میں چھلانگ لگا دی تاہم وہ دریا عبور نہ کر سکا اور تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔ ایک روز گزرنے کے باوجود نوجوان کی تلاش جاری ہے اور لاش تاحال نہیں مل سکی ہے۔
پولیس نے نوجوان کے 5 دوستوں کو گرفتار کر کے واقعے کا مقدمہ علی ابرار کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ علی ابرار نے دوستوں سے دریائے جہلم عبور کرنے کی شرط لگائی تھی۔ دوستوں نے موبائل فون اور 15 ہزار روپے دینے کی شرط پر علی ابرار کو دریا عبور کرنے پر اکسایا۔
دنیا کو پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کا اعتراف کرنا چاہیے : چین
چین نے کہا ہے کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتا رہا ہے جس میں اسے بڑی قربانیاں دینی پڑیں اور اس کا اعتراف کیا جانا ضروری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی پر خطاب میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو تو سراہا گیا لیکن ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس کی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جن کے خلاف اسے سنجیدگی سے کارروائی کرنا ہو گی۔ چین عموماً عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت میں آواز بلند کرتا رہا ہے۔
بیجنگ میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران جب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان سے ٹرمپ کی تقریر کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی میں بڑی قربانیاں دیں اور اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انھوں نے کہا کہ چین یہ سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کا مکمل اعتراف کرنا چاہیے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون جاری رکھیں اور مل کر خطے اور دنیا کی سلامتی و استحکام کے لیے کام کریں۔
پاکستان میں چین کی طرف سے اس بیان کو امریکی صدر کے دعوؤں پر اپنے دیرینہ اتحادی دوست ملک کے دفاع کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر زیڈ اے ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چین اور پاکستان نہ صرف پڑوسی اور دوست ملک ہیں بلکہ افغانستان اور خطے میں ان کے مفادات بھی مشترک ہیں اور ایک بڑی قوت ہونے کے ناطے چین، پاکستان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ خطے میں امریکہ کی پالیسیوں کی وجہ سے جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں یا ہوں گی وہ کس حد تک اس سے متاثر ہو سکتا ہے لہذا وہ اس ضمن میں اپنا موقف پیش کرنے کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
’امریکہ کی پریشانی دہشت گردی نہیں، سی پیک ہے‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو تنبیہ پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کی کہ اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ ان کے بیان پر پاکستان کے سیاسی کارکنوں، رہنماؤں اور دیگر افراد نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے اس کے علاوہ امید کی بھی کیا جا سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جیسے انڈیا کشمیر میں اپنی ناکام پالیسی کے باعث پیدا ہونے والی شورش کا ذمہ دار پاکستان کو گردانتا ہے ویسے ہی امریکہ بھی افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری ناقص اور ناکام پالیسی کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔‘ صدر ٹرمپ کے خطاب اور پاکستان کے بارے میں سخت الفاظ کے بعد اس وقت ہیش ٹیگ #trump ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ’معذرت کے ساتھ اوروں کو افغانستان میں ’ڈو مور‘ کی ضرورت ہے، لیکن پاکستان کو نہیں۔ ہم تب تو ٹھیک تھے جب تک سپلائی لائنوں کی ضرورت تھی۔‘ پی ٹی آئی سے ہی تعلق رکھنے والے اسد عمر نے ٹویٹ کی اور صدر ٹرمپ کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا: ’جہاں تک پابندیوں کا سوال ہے تو کیا ٹرمپ کو کسی نے بتایا ہے کہ امریکی امداد اتنی کم ہے کے وہ تقریباً بے معنی ہو جاتی ہے۔‘ سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن پارلیمان سید رضا علی عابدی نے اس موقع پر ٹویٹ کی: ’ٹرمپ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا کہہ رہے ہیں اور افغانستان میں انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ امریکہ کی پریشانی دہشت گردی نہیں بلکہ سی پیک ہے۔‘
صدر ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے بیان پر سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے لکھا: ’ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ ناکام افغان پالیسی کی بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا ہمارے اہم مفادات کو نقصان پہنچ چکا ہو گا۔‘ ایک صارف قاسم انیب نے اس حوالے سے لکھا کہ ’ہم نے افغانستان میں امریکہ کی ایما پر دو جنگیں لڑیں اور دونوں ہی مرتبہ بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ہزاروں جانیں دیں۔‘
بشکریہ بی بی سی اردو






