ڈرونز جو جنگوں کا نقشہ بدل دیں گے

امریکا میں انجینئرز نے ایسے ڈرون تیار کر لیے ہیں جو خودکار مشین گن سے لیس ہیں اور انہیں فوری طور پر دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بھیج کر دشمنوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی شہر فلوریڈا کی ایک کمپنی ڈیوک روبوٹکس نے حال میں ایک ملٹی روٹر ڈرون بنانے کا اعلان کیا ہے جسے ٹی آئی کے اے ڈی کا نام دیا گیا ہے۔ ڈرون پر کئی طرح کی عسکری گنز، ہتھیار ، خودکار رائفل اور گولہ پھینکنے والے لانچر نصب کئے جا سکتے ہیں۔ یہ کمپنی ریزائل آتور نے قائم کی ہے جو اسرائیل ڈیفینس فورس (آئی ڈی ایف) میں اسپیشل مشن یونٹ کمانڈر رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق شہروں میں دہشتگردوں کے حملے کے بعد شہریوں کی جان بچانا اور دشمن کا مارنا ہی اس ڈرون کا اہم مقصد ہے۔ ان کا اشارہ فلسطینی مجاہدین کی جانب ہے جو اپنے کم ترین وسائل کی بنا پر اسرائیلی افواج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

2015 میں یہ ڈرون اسرائیلی افواج کا حصہ بنے تھے اور اب تک اس میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں سے ایک اہم تبدیلی مشین گن چلنے سے ہونے والا دھچکا سہنا ہے جو بار بار ڈرون کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اب تک جدید ترین ہتھیار بردار ڈرون 10 کلوگرام وزنی گن اور اسلحہ لے جا سکتا ہے اور فی الحال اسے کنٹرول کرنے کے لیے دور بیٹھے ایک شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپنی نے تعارفی ویڈیو میں مشین گن ڈرون کی ایک جھلک دکھائی ہے اور دوسری جانب اسرائیلی حکومت اب تک ایسے متعدد ڈرون خرید چکی ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 120 کا انتخابی معرکہ

لاہور کے حلقہ این اے 120 میں انتخابی معرکہ قریب تر ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز ہونگی جبکہ ان کے مد مقابل پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد میدان میں ہیں ۔ 2013ء میں اس حلقہ سے نواز شریف نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست دی تھی ، این اے 120 حلقہ 95 کے بیشتر علاقوں پر مشتمل تھا لیکن اب اس میں حلقہ 96 کے بہت سے علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ حلقہ اب اولڈ سٹی سے ملحقہ علاقوں بند روڈ ، ساندہ ، بلال گنج ، کرشن نگر ، مال روڈ ، انارکلی ، مزنگ ، بیڈن روڈ ، ہال روڈ اور کوپر روڈ جیسے علاقوں پر محیط ہے ۔

یہاں پر بسنے والے بیشتر لوگ بھارتی پنجاب سے ہجرت کر کے آباد ہوئے۔ 85 ء کے غیر جماعتی انتخابات میں جن لوگوں نے کامیابی حاصل کی وہ جونیجو حکومت کا حصہ بنے ۔ 1988ء کے جماعتی انتخابات میں میاں نواز شریف نے یہاں سے کامیابی حاصل کی جس کا تسلسل 2013ء تک برقرار رہا ، شریف خاندان نے یہاں سے مسلسل 8 مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ دورِ آمریت کے دوران 2002ء میں جو چند ایک سیٹیں جیتی گئیں ان میں بھی مسلم لیگ (ن) کے پرویز ملک نے اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔ اتفاق سے میرا تعلق بھی اسی حلقہ سے ہے اور راوی روڈ کے جس علاقے سے میرا تعلق ہے وہ 1988ء کے انتخابات میں این اے 96 کہلاتا تھا۔ 88ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر نے یہاں سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مد مقابل جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ سلمان بٹ تھے ، 90ء کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار کی حیثیت سے میاں شہباز شریف نے پہلی مرتبہ اس حلقہ سے انتخابات میں حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر کو شکست دی۔

میاں شہباز شریف نے دوسری مرتبہ 93ء میں اس حلقہ سے انتخابات میں حصہ لے کر جہانگیر بدر کو شکست دی۔ 93ء میں میاں شہباز شریف نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے انتخاب لڑا اور دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی جس پر جاوید ہاشمی نے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ 97ء میں ایک مرتبہ پھر میاں شہباز شریف اور جہانگیر بدر کے درمیان قومی اسمبلی کی نشست کے لئے مقابلہ ہوا اور اس بار بھی شہباز شریف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ این اے 120 ماضی میں این اے 95 اور این اے 96 کے علاقوں میں تقسیم تھا اور اسے آج بھی مسلم لیگ (ن) کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں این اے 120 کو قومی اسمبلی کے ایک نئے حلقے کے طور پر متعارف کروایا گیا ، تب سے لے کر 2013ء تک مسلم لیگ (ن) یہاں سے واضح کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔ 2002ء میں پرویز ملک بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ 2008ء میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلا ل یاسین نے اپنے مخالفین کی ضمانتیں ضبط کروا دیں تھیں جبکہ 2013ء میں اس حلقہ سے میاں نواز شریف نے اپنی مخالف امیدوار پر 40 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔

مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھے جانے والے اس حلقہ میں 88ء سے لے کر 2013ء کے انتخابات تک (ن) لیگ نے اس علاقہ پر خصوصی توجہ مرکوز کئے رکھی۔ حلقہ کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا ، ترقیاتی کام کروائے گئے ، جبکہ بہت سے ترقیاتی منصوبے اب بھی جاری ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے میرے بچپن میں جب ٹیلی فون ، گیس اور بجلی کے کنکشنوں کیلئے لوگوں کو سالوں انتظار کرنا پڑتا تھا اس دور میں جب کوئی درخواست جمع کرواتا تو میاں شہباز شریف کے سیکرٹری جاوید اشرف لوگوں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر خود ڈیمانڈ نوٹس دینے جاتے اس حوالہ سے جاوید اشرف کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جاوید اشرف تحریک نجات کے دوران مال روڈ پر نامعلوم افراد کی گولی لگنے سے شہید ہو گئے تھے۔

ہمارے کچھ تجزیہ نگار حقائق کے برعکس ستمبر 2017ء میں ہونے والے انتخابات کے حوالہ سے مختلف نوعیت کے تبصرے کر رہے ہیں غالباً وہ حلقہ این اے 120 کے مسائل اور تازہ ترین صورتحال سے ناواقف ہیں۔ کم و بیش تمام چینلز پر تجزیہ نگار برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ ضمنی الیکشن زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، بعض لوگ پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو مضبوط ترین امیدوار قرار دے رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں ، ڈاکٹر یاسمین راشد نے 2013ء کا الیکشن ہارنے کے بعد کبھی یہاں کے مکینوں سے کسی قسم کا میل جول نہیں رکھا جبکہ پروپیگنڈہ یہ کیا جارہا ہے کہ وہ گزشتہ انتخابات میں اپنی شکست کے بعد یہاں کے رہائشیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ این اے 120 میں بلدیاتی انتخابات کا حصہ بننے والے پی ٹی آئی کے تمام امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق ایم پی اے آجاسم شریف جو 2008ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے مگر 2013ء میں ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ وہ ان دنوں ڈاکٹر یاسمین راشد کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں جبکہ اس حلقہ کی تمام یونین کونسلوں سے پی ٹی آئی کے سبھی امیدوار ہار گئے تھے۔ پرویز مشرف دور میں داتا گنج بخش ٹائون کے 2 مرتبہ ناظم رہنے والے طارق ثناء باجوہ جو اب پی ٹی آئی میں ہیں۔ وہ بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ 2008ء کے عام انتخابات میں اس حلقہ کی صوبائی نشست پی پی 139 میں طارق ثناء باجوہ کے بھائی عارف ثناء باجوہ نے الیکشن لڑا اور وہ صرف 2000 کے قریب ووٹ حاصل کر پائے۔ تب طارق ثناء باجوہ ٹائون ناظم تھے لیکن وہ اپنے بھائی کو کامیابی نہ دلا سکے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں طارق ثناء باجوہ نے پہلے خود یو سی چیئرمین کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا لیکن حالات کو بھانپتے ہوئے بلدیاتی الیکشن سے بھاگ نکلے جبکہ انہی بلدیاتی انتخابات میں ان کا تجویز کردہ امیدوار حافظ زبیر بھی بلدیاتی الیکشن میں بری طرح ہار گیا ۔

مظہر اقبال بٹ (بھلی بٹ) 2013ء کے انتخابات میں پی پی 139 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر تھے لیکن انہیں (ن) لیگ کے امیدوار بلال یاسین کے ہاتھوں شکست ہوئی ، چوہدری اصغر گجر 2008ء میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے لیکن 2008ء میں پیپلز پارٹی اور 2013ء میں انہیں پی ٹی آئی کے امیدوار کی حیثیت سے مسلسل دو بار شکست ہوئی۔ یہ حلقہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے ، وزیراعظم میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد بھی مجھے اس حلقہ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ، میری رائے میں مسلم لیگ (ن) کو یہاں سے اب بھی شکست نہیں دی جا سکتی بلکہ میرا خیال ہے کہ ستمبر 2017ء کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز ووٹوں کے بھاری بھرکم مارجن کے ساتھ کامیابی حاصل کریں گی ، کچھ سیاسی پنڈتوں کی اس رائے سے بھی اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ کلثوم نواز کو اس حلقہ میں الیکشن کے لئے اس لئے اتارا جا رہا ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) کی جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کامران گورائیہ

’پاکستان‘ دنیا بھر میں مہاجرین کا سب سے بڑا میزبان ملک

پاکستان گزشتہ 3 دہائیوں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا ملک ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت افغانستان سے تعلق رکھنے والے 14 لاکھ 50 ہزار کے قریب مہاجرین موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان تین دہائیوں سے خلوص کے ساتھ دنیا کے سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور اس حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے مزید تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری جانب پاکستان سے رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یواین ایچ سی آر مارچ 2002 سے پاکستان مین رجسٹرڈ 41 لاکھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے تعاون کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ یواین ایچ سی آر کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے 2016 میں پاکستان میں مقیم تقریباً 3 لاکھ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی تباہ کن صورت حال : ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

حال ہی میں ہماری حکومت نے تمام جامعات کے ترقیاتی بجٹ میں ساٹھ فیصد کمی کر کے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کو ایک مہلک مالی دھچکا پہنچایا ہے۔2016-2017 میں پاکستانی جامعات کو مختص کیا جانے والا اصل بجٹ 21.48 ارب روپے تھا لیکن اس میں سے صرف 8.42 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی۔ فنڈز کو تعلیم کے بجائے بس اسکیموں کے منصوبوں پر خرچ کر دیا گیا اور پاکستانی جامعات کو قابل رحم حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ اب افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جامعات میں ادھوری تعمیر شدہ عمارتیں فنڈز کے انتظار میں کھڑی ہیں اور ٹھیکے دار وائس چانسلرز کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

یہ رقم 2004 میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص کی جانے والی رقم سے بھی کم ہے اور یہاں تک کہ یہ ماضی میں پی پی پی کی حکومت کی جانب سے مختص کردہ رقم سے بھی کم ہے۔ اس مایوس کن صورت حال میں پروفیسر مختار احمد کی ایچ ای سی کو ترقیاتی فنڈز کی کمی کے باوجود تباہی سے بچانے کیلئے کی جانے والی کوششیں ہیں۔ یہ ہمارے لئے شرم کا مقام ہے بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے جو وعدے کئے گئے تھے اُن کی روشنی میں یہ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے۔ فنڈز کی کمی کے باعث ایچ ای سی کے کئی اہم منصوبے بند ہو چکے ہیں جو کہ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ ان میں سے سب سے اہم منصوبہ جامعات کے لئے اساتذہ تیار کرنا تھا جس کے تحت ہمارے نوجوانوں کو دنیا کی اعلیٰ درجے کی جامعات سے تربیت دلوانا تھا۔

2008 میں ایچ ای سی ایک ہزار طلبا کو سالانہ بیرون ممالک میں اعلیٰ تعلیم کیلئے اور خاص طور پر Ph.D کے لئے وظیفے دیکر بھیج رہی تھی تاکہ انتہائی تربیت یافتہ اساتذہ پر مشتمل فیکلٹی تشکیل دی جا سکے اور اساتذہ اور طلبا کی شرح جو کہ ایک Ph.D استاد پر 130 طلبا (1:130) ہے اس کو کم کر کے 1:20 کے تناسب تک پہنچایا جا سکے۔ تاہم ان حالا ت کی بنا پر یہ بیرون ملک تربیتی پروگرام تباہ ہو چکا ہے۔ اس کا اندازہ اس طرح لگا لیں کہ گزشتہ مالی سال میں صرف 250 طلبا کو بیرون ملک بھیجا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مزید پچاس نئی جامعات کے قیام کے بعد یہ صورت حال مزید ابتر ہو چکی ہے کیونکہ تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی کے بغیر جامعات کی تعداد میں اضافہ قوم کے ساتھ مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس طرح عوامی اجتماعات میں بڑے بڑے نعر ے لگا کر عوام کے ووٹ حاصل کرنا اور تعلیم کی پشت پناہی کا مصنوعی تاثر دینے کے نتیجے میں تعلیم کا معیار کم ہو گا اور ایسا سماجی نظام قائم ہو گا جس میں لوگ اہلیت اور قابلیت کے مطابق اختیارات اور مقام حاصل کرنے سے محروم رہ جائینگے۔

2003 ء سے 2008ء کے دوران اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہونے والی تیزی سے ترقی کی بدولت ہماری کئی جامعات Times Higher Education کی درجہ بندی میں دنیا کی 300، 400، اور 500 صف اول کی جامعات میں شامل ہو گئی تھیں۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران مسلسل تنزلی کے باعث، Times Higher Education کے مطابق اب ہماری ایک بھی جامعہ دنیا کی 500 صف اول کی جامعات میں شامل نہیں ہے۔ 2008ء میں نسٹ 376 ویں نمبر پر تھی، اب یہ بھی زوال پذیر ہے اور 2016 ء میں اس کا نام گر کر 500 سے 550 کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ ابتری کے اس حال پر پردہ ڈالنے کے لئے دنیا کی درجہ بندی کے بجائے ایشیا کے ممالک میں ہماری جامعات کی درجہ بندی ظاہر کر دی جاتی ہے لیکن اس طرح سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ 2008ء کے بعد سے ہماری تمام جامعات تیزی سے روبہ زوال ہیں اور بہتری کی کوئی علامت نظر نہیں ا ٓرہی۔ اس کی اہم ترین وجہ حکومت کی حمایت حاصل نہ ہونا ہے۔ صورت اتنی خراب حال ہے کہ پاکستان کی تمام جامعات کا کل بجٹ ایشیا کی صرف ایک اچھی جامعہ مثلاً نیشنل جامعہ سنگاپور کے بجٹ کا بھی ایک تہائی ہے۔

فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کی تباہی کے ساتھ پاکستانی جامعات کے بین الاقوامی پیٹنٹ میں بھی واضح کمی مشاہدے میں آئی ہے، اس کی وجہ سے بھی جامعات کو دی جانے والی امداد میں کمی اور ایچ ای سی کی جانب سے پیٹنٹ کی فیس کی ادائیگی نہ ہونا ہے۔ 2015 میں فائل کئے جانے والے تیرہ پیٹنٹ کے مقابلے میں 2016 میں صرف ایک بین الاقوامی پیٹنٹ (USPTO) فائل کیا گیا ہے، اس سے بحران کی صورت حال کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ بجٹ کی مشکلات کی وجہ سے تحقیق کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک سال پرانے ایچ ای سی کو جمع کروائے جانے والے تحقیقی منصوبے ابھی تک منظوری کے منتظر ہیں۔ محققین کو نازک اور حساس سائنسی آلات تک مفت رسائی کا منصوبہ بھی (تجزیے کی مد میں خرچ کی جانے رقم ایچ ای سی کو ادا کرنی ہوتی ہے) تباہی کا شکار ہے اور اس پروگرام کے تحت کئے جانے والے تجزیات کی تعداد میں نوے فیصد کمی آئی ہے۔ 2005ء میں شروع کئے جانے والے ڈیجیٹل لائبریری پروگرام کے تحت 25000 بین الاقوامی تحقیقی جرائد اور 65000 درسی کتب تک مفت رسائی کا معاملہ بھی سکڑ رہا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایچ ای سی کے اور بہت سے منصوبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ مسائل سندھ اور پنجاب میں صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام کے بعد مزید گمبھیر ہو گئے ہیں اور تین HEC انتظامیہ کے درمیان انتظامی امور کی رسہ کشی نے انتشار کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ اعلیٰ تعلیم بین الاقوامی طور پر ایک قومی موضوع ہے، اس کی وجہ قومی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا، ڈگریوں کی بین الاقوامی برابری کو طے کرنا، معیار کو یقینی بنانا اور قومی منصوبہ بندی میں اس کا اہم کردار ہے۔ صوبائی ایچ ای سی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قائم کی گئی ہیں۔ میری جانب سے دائر کی جانے والی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اعلیٰ تعلیم وفاق کا حصہ ہے اور آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق اس کو صوبوں کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ صوبوں کو کالجوں کی صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے چاہئے، بجائے اسکے جامعات کو چلانے کیلئے نئے HEC تشکیل دئیے جائیں۔ اس مسئلے کو سلجھانے کیلئے میں نے فروری 2013ء میں سندھ ہائیکورٹ میں صوبائی ایچ ای سی کے قیام کیخلاف ایک پٹیشن دائر کی تھی۔

لیکن بدقسمتی سے ساڑھے چار سال گزرنے کے بعد بھی سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ سندھ ہائی کورٹ کو اس کیس کو قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ترجیح دینا چاہئے تھا جبکہ سپریم کورٹ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو وفاقی نوعیت کا ہونے کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اس فیصلے کا احترام کیا جانا اور اس کو نافذ کیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں2003ء سے 2008ء کے دور کو اعلیٰ تعلیم کا سنہری دور کہا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں۔ بھارتی وزیر اعظم کے سامنے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے حوالے سے ایک تفصیلی میٹنگ ہوئی جو کہ بھارت کے بڑے اخباروں نے نمایاں طور پر شائع کی اور ہندوستان ٹائمز کی سرخی یہ تھی ’ہندوستان کی سائنس کو پاکستان سے خطرہ‘۔ انڈیا کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ دشمن تو خود ہمارے درمیان موجود ہیں۔ دراصل ملک کو تباہ کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اُس ملک کی تعلیم کو تباہ کردیا جائے تاکہ اس کے نوجوان نہ اُبھر سکیں۔

میں اپنی تحریروں میں پاکستان کو علمی معیشت میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر مسلسل زور دیتا رہا ہوں، یہ واحد طریقہ ہے جس کی مدد سے ہم غربت اور تباہی کے اندھیرے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ وزارت مالیات کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتی ایچ ای سی کےمختلف پروگراموں پر ایک کاری ضرب ثابت ہوئی ہے۔ حکومت کو اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں سماجی اور معاشی ترقی کا واحد ذریعہ علم ہے۔ قدرتی وسائل اپنی اہمیت کھو چکے ہیں اور اب معیاری انسانی وسائل ہی کسی ملک کی سب سے بڑی دولت ہیں جوکہ ہائی ٹیک صنعتی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں نمایاں کٹوتی پاکستان کو تیزی سے تباہی کی جانب لے جائے گی۔ اس معاملے پر ہماری حکومت کو فوراً اقدام کرنا ہوں گے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن