میاں نوازشریف کو کیوں نکالا گیا ؟

تین مرتبہ منتخب اور تین مرتبہ سابق ہوجانے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بار بار پوچھ رہے ہیں اور بڑی معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے اور آخر انہیں کیوں نکالا گیا ۔ حالانکہ اس کا جواب اگر انہیں معلوم نہیں تو نہیں ہو گا لیکن ہر باشعور پاکستانی کو معلوم ہے۔ میں نے بہت انتظار کیا کہ میاں صاحب کے کوئی خوشامدی تقریر نویس ان کو اس سوال کا جواب سمجھا دیں گے لیکن چونکہ وزارت عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی سرکاری عہدے بانٹنے کا اختیار میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اس لئے شاید یہ تقریر نویس ان کو اس مقام تک پہنچانے کے بعد بھی خوشامد سے باز نہیں آئے ۔

وہ اب بھی میاں صاحب کے قدموں میں بیٹھ کر یا اللہ یا رسول ۔ نوازشریف بے قصور کے نعروں کے ساتھ، انہیں یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ میاں صاحب آپ ہیں تو ترکی کے طیب اردوان لیکن مصر کے محمد مرسی کی طرح نکالا گیا ، اس لئے آپ طیب اردوان کی طرح ڈٹ جائیں ۔ یہ خوشامدی مشیر اگر خوشامد کی بجائے بر وقت میاں صاحب کو ان کی غلطیوں کی طرف متوجہ کرتے تو شاید وہ آج اس انجام سے دوچار نہ ہوتے لیکن یہ لوگ اگر اب بھی باز نہ آئے اور میاں صاحب ان کے بہکاوے میں آکر حسب سابق اپنے بارے میں غلط اندازوں کا شکار رہے تو اب کی بار خاکم بدہن اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ ملک کو بھی مصیبت میں ڈال دیں گے ۔ اسلئے ضروری سمجھا کہ میاں صاحب کو اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں۔

محترم و مکرم میاں نوازشریف صاحب !
آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے قبل آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اب کی بار اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی سیاست کریں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے صرف اور صرف اقتدار کی سیاست کی ۔ آپ جمہوری وزیر اعظم تھے ۔ آپ کی قوت پارلیمنٹ تھی لیکن آپ کے دور میں پارلیمنٹ جتنی بے وقعت ہوئی ، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ۔ آپ تو کیا آپ کے وزراء بھی اس پارلیمنٹ میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے ۔ اس پارلیمنٹ پر جمہوریت مخالف قوتوں کے بعض مہروں نے حملے کئے اور اس کی توہین کی اور آپ تماشا دیکھتے رہے۔ انہوں نے اس پارلیمنٹ سے استعفے دئیے اور اسے گالیوں سے نوازا لیکن آپ نے ان سے کوئی حساب نہیں لیا۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے الٹا آپ نے منتیں کر کے ان کو دوبارہ پارلیمنٹ میں لا بٹھایا ۔ وہ قانونی طور پر اسمبلی کے ممبر نہیں ہیں لیکن آج بھی وہاں بیٹھے ہیں اور الٹا آپ کے اسپیکر نے ان کو ان آٹھ ماہ کی حرام تنخواہیں بھی ادا کر دیں جن میں وہ ایک دن کے لئے بھی اسمبلی میں نہیں آئے تھے ۔ آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ نکالنے والوں کو یقین تھا کہ آپ جس بھی راستے سے نکالے گئے وہ بے وقعت پارلیمنٹ آپ کو بچا سکتی ہے اور نہ آپ کے کسی مخالف کا راستہ روک سکتی ہے ۔

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ آپ نے نہ تو احتساب کا منصفانہ نظام بنایا، نہ اچھی حکمرانی کے ذریعے طیب اردوان کی طرح عوام کے دل جیتے ۔ سویلین اداروں کو مضبوط کیا اور نہ نظام میں اسٹرکچرل تبدیلیاں لا سکے لیکن راتوں رات پاکستان کو ترکی اور اپنے آپ کو طیب اردوان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جنرل (ر) پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت سزا دینے کی ناکام کوشش کی ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ انتخابات کے چند روز بعد جب ہم آپ کے رائے ونڈ کے گھر میں بیٹھے تھے تو میں نے آپ سے گزارش کی کہ جنرل پرویز مشرف کو نہ چھیڑیں ۔ یاد ہو گا کہ عرض کیا تھا کہ پاکستان ابھی اس منزل سے کوسوں دور ہے کہ جس میں ایک ڈکٹیٹر کا محاسبہ ہو سکے لیکن آپ کو آپ کے خوشامدیوں نے اور میڈیا کے بعض عقابوں نے جو جنرل مشرف سے اپنا حساب برابر کرنا چاہتے تھے، کے خلاف اقدام پر ابھار دیا۔ میڈیا میں موجود اس وقت کے آپ کے چہیتے آپ سے کہتے رہے کہ میاں صاحب قدم بڑھائو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ چنانچہ پھر جب آپ کے خلاف دھرنے دلوانے گئے تو آپ کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ یوں آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ پہلے آپ نے اپنے آپ کو برتر اخلاقی پوزیشن پر لائے بغیر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کیا اور پھر مجبور ہو کر ان کو جانے دیا ۔

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ قوم نے آپ کو وزیراعظم پاکستان منتخب کیا تھا لیکن منتخب ہونے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو وسطی پنجاب کا وزیراعظم بنا دیا۔ آپ نے بلوچستان میں سویلین بالادستی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ آپ نے سندھ کو وہاں کے منتخب نمائندوں کی مرضی کے خلاف سیکورٹی اداروں کے ذریعے چلانے کی کوشش کی ۔ آپ نے فاٹا کو فوج کے سپرد کئے رکھا۔ فاٹا ، بلوچستان اور کراچی کے عوام سویلین بالادستی کے تصور سے ناواقف ہو گئے ہیں ۔ کم وبیش یہی حالات آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھی ہیں ۔ فاٹا کے لوگ تو آپ سے پختونخوا کے ساتھ انضمام کی صورت میں اپنے لئے بنیادی انسانی حقوق کی بھیک مانگتے رہے ۔ اور تو اور آپ کی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین اسمبلی کے فلور پر رو دئیے لیکن آپ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کا دل بہلاتے رہے ۔ اپنے پنجاب میں تو آپ نے رینجرز کے اختیارات پر بڑی لے دے کی لیکن کسی اور صوبے یا فاٹا میں کبھی سویلین اداروں کے اختیار کے لئے آپ فکر مند نہ ہوئے ۔ یوں نکالنے والوں کو یقین ہوگیا تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو پنجاب کے سوا کسی اور صوبے یا قومیت سے آپ کے حق میں آواز نہیں اٹھے گی ۔ اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ آپ نے سی پیک جیسے اسٹرٹیجک اہمیت کے معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ پروجیکٹ محروم علاقوں کی محرومیوں کے لئے علاج اور دہشت گردی کے مسئلے کے لئے تریاق بن سکتا تھا لیکن آپ نے مغربی روٹ سے متعلق جھوٹ بول کر مشرقی روٹ پر کام کا آغاز کر دیا۔ آپ نے اس کے ثمرات سے بلوچستان، گلگت بلتستان، پختونخوا اور فاٹا کو محروم رکھ کر سب چیزیں وسطی پنجاب میں سمیٹ دیں ۔ آپ کے اہل خانہ اور احسن اقبال کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ توانائی کے منصوبوں کے معاہدے کن شرائط کے ساتھ ہوئے ہیں ۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے آپ نے وسطی پنجاب کے اپنے نمائندوں کو تو خوشحال بنا دیا لیکن اس نے گلگت بلتستان ، بلوچستان ، آزاد کشمیر اور پختونخوا کی محرومیوں کو مزید بڑھا دیا۔ چنانچہ نکالنے والوں کو یقین تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو نہ صرف ان علاقوں کے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ شاید آپ کو بد دعائیں بھی دے رہے ہوں گے ۔

دھرنوں کے موقع پر آصف علی زرداری آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ لیکن پھر جب سندھ میں ان کے ساتھ حساب برابر کیا جا رہا تھا اور انہوں نے اینٹ سے اینٹ والا مشہور زمانہ بیان دے دیا تو ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے آپ نے اگلی صبح ان کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ۔ اب نکالنے والوں کو یقین تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو آصف علی زرداری آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، اس لئے آپ کو نکالا گیا۔ آپ کے دور میں وزارت خارجہ کا ستیاناس ہو گیا۔ آپ نے چین ، ترکی ، سعودی عرب اور حتیٰ کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بدلنے کی کوشش کی ۔ فوج اور دفتر خارجہ کے مشورے کے برعکس آپ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں گئے ۔ پھر وہ پراسرار انداز میں آپ کے گھر آئے ۔ یہ انداز پاکستان میں ناقابل برداشت ہوتا ہے اور اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

محترم میاں صاحب ! آپ نے کبھی فوج اور دیگر اداروں کے ساتھ بطور ادارہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ آپ اداروں کی بجائے شخصیات کو اپنانے اور ان پر کام کرنے کا رویہ اپناتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی قائم تھی جو حکومت کے ساتھ سول ملٹری تعلقات کا بوجھ اٹھاتی تھی ۔ آپ نے اقتدار میں آنے کے بعد وہ کمیٹی ختم کر دی ۔ پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی رہی لیکن آپ نے چار سالوں میں وہ کمیٹی قائم نہیں ہونے دی۔ کیونکہ آپ فوج کے ساتھ تعلقات میں پارلیمنٹ یا اپوزیشن کو نہیں لانا چاہتے تھے اسی طرح آپ کابینہ کی دفاع اور قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس بلا کر متعلقہ فورم پر ادارہ جاتی انداز میں سول ملٹری تنازعات حل کرنے کی بجائے ون ٹو ون خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے کام چلاتے رہے۔ اس کا نتیجہ بگاڑ کی صورت میں ہی نکلنا تھا اور شاید اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

مذکورہ اور اسی نوع کے دیگر عوامل نے تو راستہ ہموار کیا لیکن میاں صاحب ! اصل قصور آپ کا یہ ہے کہ آپ وزیراعظم تو پاکستان کے تھے لیکن آپکے بچوں اور آپکے وزیرخزانہ کے بچوں کا کاروبار باہر رہا۔ آپ تاثر دیتے رہے کہ بیرون ملک آپ کا کچھ بھی نہیں لیکن جب پانامہ اسکینڈل کی صورت میں آپ پکڑے گئے تو پھر مسلسل آپ کے اہل خانہ کی طرف سے بیانات بدلتے رہے ۔ آپ خود اس معاملے کو عدالت میں لے گئے ۔ خود ہی جے آئی ٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ۔ یہ درست ہے کہ عدالت میں تادم تحریر مخالفین آپ کو براہ راست کرپشن کا مرتکب ثابت نہ کرسکے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ اپنے آپ کو معصوم بھی ثابت نہ کر سکے ۔ مخالفین نے آپ کو جھوٹا یا بد دیانت ثابت کیا یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بھی شواہد اور دلائل کے ساتھ اپنے آپ کو صادق اور امین ثابت نہ کر سکے ۔ اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

محترم میاں نوازشریف صاحب!
امید ہے آپ کو کسی حد تک آپ کے سوال کا جواب ملا ہو گا لیکن اگر اب بھی تشفی نہیں ہوئی تو میں مزید درجنوں صفحات سیاہ کر کے ، سینکڑوں مزید وجوہات تحریر کر سکتا ہوں جو آپ کو نکالے جانے کا موجب بنیں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ مزید یہ سوال نہیں اٹھائیں گے لیکن اگر اس کے بعد بھی اٹھایا تو ہم جیسے طالب علم مزید وجوہات سامنے رکھنے پر مجبور ہوں گے۔

سلیم صافی

کیا آئی فون نئی نسل کا قاتل ہے ؟

الینا ٹرینی کے مطابق سمارٹ فون نے نئی نسل کو تنہائی پسند، خودکش اور نابالغ بنا دیا ہے۔ سائنسی جریدے ’’دی انٹارٹک‘‘ میں شائع ہونے والے مضمون کے حوالے سے الینا ٹرینی نے لکھا ہے کہ ’’ نئی نسل کم گو ہے ، معاشرے سے کٹی ہوئی ہے، الگ رہنا چاہتی ہے، گھل مل کر رہنا اب اس کی زندگی کا مقصد نہیں رہا۔ انسان سماجی جانور ہے، وہ سماج سے ہی کٹتا جا رہا ہے‘‘ ۔

سانڈیگو سٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسرجین ٹوئنج کے مطابق ’’ 25 سالہ جائزے کے مطابق عصر حاضر کا سب سے بڑا ’’دشمن ‘‘سمارٹ فون ہے۔ یہ سماج دشمنی میں پہلے نمبر پر ہے‘‘۔ وہ 1985ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو آئی جنریشن (IGen) کہتی ہیں۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والے 5 ہزار نوجوانوں میں سے 4 ہزار کے پاس آئی فون پائے گئے۔ ان میں سے 56 فیصد ہائی سکولز میں زیر تعلیم تھے۔ اس نسل کے بچوں میں آئی فون کی وجہ سے شراب نوشی اور ماں باپ کو بتائے بغیر پیسے خرچ کرنے کے رجحانات عام ہیں۔ سمارٹ فون کی وجہ سے اس نسل کا ذہنی ارتقا نہیں ہو سکا، 18 سال کا بچہ 15 سالہ بچے اور 13 سال کا بچہ 11 سالہ بچے کی طرح لگتا ہے۔

یعنی ’’ آئی جنریشن ‘‘ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے تقریباً 2 برس چھوٹی ہے۔ اس کا سوچنے کا انداز دو سال پیچھے چلا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق 2007 سے 2015ء تک آئی جنریشن میں قتل کرنے کے رجحانات میں کمی اور خود کشی میں اضافہ ہوا ہے۔ شاید اس لئے کہ یہ نسل اپنے آپ میں مگن رہتی ہے۔ دوسروں سے ملاقاتیں کم ہی ہوتی ہیں۔ جو دوسروں سے ملتے ہی نہیں وہ ان کی جان کیسے لے سکتے ہیں۔ اس لئے اس نسل سے تعلق رکھنے والوں نے قتل جیسی سنگین وارداتوں میں نسبتاً کم حصہ لیا ہے۔ یہ نوجوان اپنے آپ میں کھویا ہوا ہے اس لیے اس میں ’’اپنے آپ کو مارنے‘‘یعنی خود کشی کے رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔ 2015ء وہ پہلا سال ہے جب اس عمر کے نوجوانوں نے قتل کم اور خودکشیاں زیادہ کی ہیں۔ 24 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

پروفیسر جین ٹوینج نے ایک سروے کیا تو ’’ گزشتہ 5 سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد یعنی 58 فیصد لڑکیوں نے خود کو تنہائی کا شکار محسوس کیا۔ 2010ء میں اتنی لڑکیاں معاشرے سے کٹا ہوا محسوس نہیں کرتی تھیں۔ تنہائی کا شکار لڑکوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے ڈپریشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2012ء سے 2015ء کے درمیان لڑکیوں میں ڈپریشن کا مرض 50 فیصد اور لڑکوں میں 21 فیصد زیادہ ہوا ہے۔ یہ ڈپریشن لڑکیوں اور لڑکوں میں خودکشیوں کا سبب بن رہا ہے۔ 2007ء کے مقابلے میں 2015ء میں 12 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں میں خودکشی کا تناسب 3 گنا ہو گیا۔ پروفیسرٹوئنج نے موبائل فون کے ان منفی رجحانات کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس پر قابو پانے کا مشورہ دیا ہے۔

ڈاکٹر فراز

ن لیگ والے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر پچھتاوے کا شکار کیوں؟

میاں نواز شریف کی نااہلی کیا ہوئی کہ مسلم لیگ ن نے تو یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ یوسف رضا گیلانی کا سپریم کورٹ کی طرف سے نکالا جانا اور اس اقدام کا لیگی رہنمائوں کی طرف سے سپورٹ کرنا ایک غلطی تھی۔ اور تو اور ن لیگ تو اس بات پر بھی پچھتاوے کا شکار نظر آ رہی ہے کہ گزشتہ پی پی پی دور کے دوران نواز شریف کالا کوٹ پہن کر میموگیٹ کے معاملہ پر سپریم کورٹ کیوں پہنچ گئے۔ پی پی پی اور میڈیا میں موجود ایک طبقہ تو پہلے ہی ان معاملات کو پی پی پی حکومت کے خلاف سازش گردانتا ہے حالانکہ حقائق کچھ مختلف ہیں۔

یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے زرداری صاحب کے این آر او کے تحت بند کیے گئے سویزرلینڈ میں کرپشن کیسز کو دوبارہ کھولنے کے عدالت عظمٰی کے حکم کی نافرمانی کرنے کی پاداشت میں توہین عدالت کی سزا ملی جس کے نتیجے میں انہیں وزیر اعظم کے عہدہ سے علیحدہ ہونا پڑا۔ گیلانی صاحب کو پانچ سال کے لیے نااہلی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نہیں معلوم اس مسئلہ میں زیادتی کہاں ہوئی۔ اگر وزیر اعظم پاکستان سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دے تو پھر ریاست کا کام کیسے چلے گا؟ پھر تو ہر کوئی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے سے انکاری ہو گا اور یوں ریاست افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید تو ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی وزیر اعظم یہ کہے کہ میں عدالتی فیصلہ کو نہیں مانتا تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے آپ کو وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کیا۔

میاں صاحب پر اگر تنقید ہو سکتی ہے تو وہ اس بات پر کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے اپنی نااہلی کے فیصلہ کے خلاف اپنی تنقید میں اُن حدود و قیود کو پار کرتے نظر آ رہے ہیں جو آئین نے مقرر کر رکھی ہیں۔ آئین کے تحت عدلیہ کے فیصلوں سے اختلاف اور مثبت تنقید تو کی جا سکتی ہے لیکن اُن کا مذاق اور توہین نہیں کی جا سکتی۔ میاں صاحب کی نااہلی کے بعد اگر ن لیگ یہ سمجھتی ہے کہ وزیر اعظم جو مرضی کرے، عدلیہ کی بات مانے یا نہ مانے، کوئی جرم کرے یا کسی فراڈ میں پکڑا جائے تو اُس کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا اور عدلیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے سزا دے تو یہ درست بات نہیں۔

پاکستان کے آئین میں صدر مملکت کو عدالتی کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے جو میری نظر میں ایک غیر اسلامی شق ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم کا معاملہ تو اُسے سرکاری کاموں کے متعلق آئین کسی حد تک تو استثنیٰ دیتا ہے۔ لیکن عمومی طور پر وہ پارلیمنٹ اور عدلیہ دونوں کو جواب دہ ہے اور کسی جرم ، کرپشن، توہین عدالت یا کسی دوسرے مقدمہ میں اُس کے خلاف عدالت مقدمہ چلا سکتی ہے اور سزا بھی دے سکتی ہے۔ اگر میاں صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو اس حد تک تو اُن سے اتفاق ممکن ہے لیکن اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ صدرمملکت کی طرح وزیر اعظم کو بھی کسی بھی مقدمہ اور جرم کی صورت میں مکمل استثنیٰ دیا جائے تو یہ ایک منفی اقدام ہو گا اور اس سے گورننس میں مزید خرابی پیدا ہو گی اور کرپشن میں اضافہ ہو گا۔

جہاں تک میموگیٹ کا معاملہ ہے تو اُس پر تو سپریم کورٹ کی طرف سے تین ہائی کورٹس کے جج حضرات پر مشتمل کمیشن اپنی تفصیلی انکوائری کے بعد یہ فیصلہ دے چکا کہ پی پی پی دور میں امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکی اعلیٰ سول و فوجی حکام کو ایک خفیہ میمو لکھا جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف تھا۔ اس عدالتی کمیشن نے حسین حقانی کے بارے میں کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ وفادار نہیں۔ حقانی نے اس میمو کے ذریعے فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف زرداری حکومت کی مدد کے لیے امریکا کی مدد مانگی تھی۔ حقانی نے اس میمو میں یہ بھی لکھا کہ اگر پاکستان کی سول قیادت کو نکال دیا جاتا ہے تو پھر اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے پیروکاروں کے لیے پاکستان محفوظ اڈہ بن جائے گا جس سے دنیا میں دہشت گردی پھیلے گی۔

یہ میمو ایبٹ آباد واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں لکھا گیا جس میں باقاعدہ امریکا سے درخواست کی گئی کہ فوج اور آئی ایس آئی کے اُس وقت کے سربراہوں سے بات کی جائے۔ جہاں تک یہ کہا جاتا ہے کہ میموگیٹ دراصل فوج اور آئی ایس آئی کی زرداری حکومت کے خلاف سازش تھی اور اس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مجھے ذاتی طور پرمعلوم ہے کہ میمو گیٹ کا معاملہ فوج یا آئی ایس آئی کی طرف سے اجاگر نہیں ہوا بلکہ اس بارے میں سب سے پہلے واشنگٹن میں موجود ایک پاکستانی صحافی کو اطلاع ہوئی۔ اس صحافی نے اس تصدیق کے بعد کہ واقعی حسین حقانی کی طرف سے میمو لکھا گیا، نے اس بارے میں پاکستانی سفارت خانہ میں اُس وقت تعینات ملٹری اتاشی کو معلومات فراہم کی۔

ملٹری اتاشی نے یہ اطلاع آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو دی۔ معاملہ کی چھان بین اور مکمل تصدیق کے لیے پھر اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو لندن بھیجا گیا جہاں اُن کی ملاقات منصور اعجاز سے ہوئی۔ اس میٹنگ میں منصور اعجاز نے جنرل پاشا کو تمام شواہد دکھائے۔ اس اسکینڈل کا انکشاف جنگ اور دی نیوز نے کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیا اور پھر معاملہ کمیشن اور انکوائری تک پہنچا۔ اب اگر پاکستان کی قومی سلامتی کے ایسے اہم ترین مسائل پر بھی ن لیگ معذرت خواہانہ رویہ اپناتی ہے تو پھر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا۔

انصار عباسی

ملازمت کے لیے انٹرویو کی تیاری کیسے کریں ؟

آپ کیا بننا چاہتے ہیں، یہ متعین کرنا بہت اہم ہے۔ آپ کی ملازمت وہ ہے جو آپ کے اپنے تصورات سے بہتر طور پر ملتی ہے۔ یہ شے صلے اور تسکین دونوں صورتوں میں آپ کو وہاں لے جائے گی جو آپ کی منزل ہے۔ بہتر معاش کے انتخاب کے لیے آپ کو اپنے متعلق جاننے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنا ذہن تیار کریں اور پھر یکسو ہو کر فیصلہ کریں کہ آپ کو کس قسم کی ملازمت کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔

مناسب رویہ: دوران انٹرویو امیدوار بہتر رویہ اپنائے کیونکہ نامناسب رویہ امیدوار کو بہت مہنگا پڑے گا اور وہ اس کا مستقبل تباہ کر سکتا ہے۔ جذباتی رویہ ناپختگی کی علامت ہے جو دوران انٹرویو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ رویہ امیدوار کی شخصیت کے مشاہدہ کے لیے استعمال کرنے والے طریقوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔

مزاج اور طبیعت: انٹرویو کے دوران میں جارح مزاج رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آپے سے باہر نہ ہوں اور ہر سوال کا جواب ٹھنڈے دماغ سے دیں۔ اگر آپ کو سوالوں کے درست جوابات نہ آتے ہوں تو تحمل سے جواب دے کر آگے بڑھے چلے جائیں۔

سماعت: بہت سے لوگوں کی قوت سماعت کمزور ہوتی ہے اگر امیدوار آواز نہیں سن سکتا تو اسے فوراً اپنی سمعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ دوران انٹرویو اسے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

غصہ: غصہ ایسی خطرناک شے ہے جو دشمنی، جارحیت اورتباہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لیے پیچیدہ سوالات کے جوابات دیتے وقت امیدوار کو اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے مستقبل پر اثر انداز ہو گا۔ اگر آپ غصہ کرنے میں حق بجانب ہیں تو پھر بھی غصے کا اظہار نہ کریں۔

آداب و عادات: اچھے آداب و عادات کا اظہار امیدوار کی شخصیت کو دلکش اور خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہٰذا اچھے اخلاق کے لیے امیدوار کی شخصیت میں دونوں پہلوئوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر امیدوار دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اپنانے اور بات کرنے کے سلیقے اور مجلس میں بیٹھنے جیسے آداب سے بخوبی آگاہ ہو تو وہ انٹرویو لینے والے کی نظر میں کامیاب امیدوار ہو گا۔

اعتماد: اعتماد انسانی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جو ہر انسان کو ہر مشکل سے نمٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اعتماد ہی دماغ کی دلیری کا یقین دلاتا ہے لہٰذا انٹرویو کے دوران ہر سوال کا جواب اعتماد اور یقین کے ساتھ ہی دیجیے۔

احساسِ مقابلہ: احساسِ مقابلہ زیادہ محنت کرنے اور زندگی میں بہتری کے آثار پیدا کرنے کے علاوہ فرد کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے جو بالآخر اور خوشی مہیا کرتا ہے لہٰذا یہ ہر امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار مقابلوں کے مواقع میں حصہ لیتا رہے تا کہ وہ خوشی اور کامیابی کے احساسات سے روشناس ہو کر اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

لاعلمی: لاعلمی کا مطلب اپنی مرضی سے کسی چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ ویسے بھی لاعلمی ہماری روز مرہ زندگی میں مشترکہ عمل بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہر روز لمحہ لمحہ چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کرکے لاعلمی کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ضرور ی ہے کہ امیدوار اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھے اور ایسا راستہ اختیار کرے کہ جو اسے لاعلمی سے باہر نکال دے تاکہ امیدوار لاعلمی کا شکار نہ ہو۔