Daily Archives: June 11, 2017
ہماری سرکار ہے نماز ادا کرنے نہیں دیں گے
مغربی اتر پردیش کے شہر امروہہ کی دو خاص باتیں ہیں ایک یہاں کے آم کے باغ اور دوسرا فرقہ وارانہ ہم آہنگی۔ چاہے تقسیم ہند کا دور ہو، یا پھر 1980 میں ہونے والے مرادآباد کے فسادات یا پھر 1992 میں بابری مسجد منہدم کیے جانے کے بعد کا ماحول، امروہہ ہمیشہ پرامن رہا۔ اس شہر اور ارد گرد کے دیہات نے فرقہ وارانہ کشیدگی کی آنچ کو اپنے تک نہیں پہنچنے دیا لیکن حالیہ کچھ واقعات امروہہ کے اس ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امروہہ شہر سے تقریباً 36 کلو میٹر دور ایک قصبہ ہے سیدنگلي، جہاں سے قریب پانچ کلومیٹر دور سكت پور گاؤں ہے آج کل ہندو اکثریتی یہ گاؤں فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب سرخیوں میں ہے۔ میں جب سكت پور پہنچا توایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اس گاؤں میں کسی طرح کی کوئی کشیدگی ہے۔ اردگرد کے دیہات کے لوگ، جنہوں نے اخبار نہیں پڑھے تھے، ایسی کسی بھی بات سے واقف نہیں تھے۔ گاؤں کے باہر بچے کرکٹ کھیل رہے تھے، لوگ چوپالو پر بیٹھے تھے پہلی نظر میں سب کچھ بالکل معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ ‘گاؤں کے مسلمانوں نے اجتماعی نماز پڑھ کر نئی روایت ڈالی ہے جس سے اکثریتی ہندو ناراض ہیں۔
تقریباً تین ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں ڈھائی ہزار ہندو ہیں جن میں زیادہ تر جاٹ ہیں جبکہ پانچ سو مسلمان ہیں جو پسماندہ ذاتوں سے ہیں۔ گاؤں کے ہی کنور سنگھ بتاتے ہیں، سكت پور میں کبھی کسی طرح کا مسئلہ نہیں رہا سب لوگ مل جل کر رہتے تھے لیکن اب مسلمانوں نے نئی مسجد بنانی شروع کی ہے اور ہندو اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ مسجد نہ بنائیں، اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں تو پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا’۔ گاؤں کے ہی ایک کنارے پر مسلم خاندان رہتے ہیں یہیں ایک مسجد ہے جس پر مینار نہیں ہے اور جو باہر سے دیکھنے میں گھر جیسی لگتی ہے۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد گزشتہ چار پانچ سال سے ہے جبکہ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے چھپ چھپ کر نماز پڑھنی شروع کی اور اب مسجد بنا رہے ہیں، اور وہ یہ مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔ فی الحال ‘مسجد’ کے باہر پی اے سی کے جوان تعینات ہیں، یہاں عبادت بند ہے اور رمضان کے مہینے میں گاؤں کے مسلمان باجماعت نماز ادا نہیں کر پا رہے۔ 75 سالہ بدلو سكت پور گاؤں میں ہی پیدا ہوئے اور پوری زندگی اسی گاؤں میں گزار دی لیکن اب وہ نماز نہ پڑھنے کے سبب اداس ہیں. وہ کہتے ہیں، ‘ہم نماز نہیں پڑھ پا رہے ہیں، کہیں آ جا بھی نہیں سکتے، بہت پریشانی ہے’۔
کشیدگی والے دن کو یاد کرتے ہوئے بدلو کہتے ہیں، ‘جس وقت ایک ہجوم حملہ کرنے چلآ رہا تھا تو گرام پردھان بادل سنگھ نے لوگوں کو روک لیا اور حالات بگڑنے سے بچ گئے’۔ بادل سنگھ کہتے ہیں، ‘ہمیں تو دونوں طرف کی بات سننی پڑتی ہے، کوشش یہی ہے کہ امن کے ساتھ یہ تنازعہ حل ہو جائے اب معاملہ انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے جیسے افسر چاہیں گے ویسے ہو جائے گا’۔ گاؤں کے کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جب مسجد بنی تو ہندوؤں نے بھی چندہ اور تعاون دیا وہ دعوی کرتے ہیں کہ یہاں چار پانچ سالوں سے نماز پڑھی جا رہی ہے اور اس سے پہلے کبھی کسی طرح کی مخالفت نہیں ہوئی۔
65 سالہ نسرو کہتے ہیں، ‘یہ ہندوؤں کا گاؤں ہے، کیا ہم ان کی مرضی کے بغیر یہاں مسجد بنا سکتے تھے؟ انہوں نے مسجد بنانے کے لیے چندہ دیا، کہا کہ تم غریب لوگ ہو تمہارے پاس پیسہ نہیں ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ امن تھا، اب پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا ہے’۔ نسرو کے سوال کا جواب 24 سالہ ریاست نے دیا، اب حکومت بدل گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ اب ہماری حکومت ہے اور جو ہم چاہتے ہیں وہی ہو گا’۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے نسرو نے کہا، ‘وہ کہتے ہیں کہ اب ہمارا ماحول آ گیا ہے، تمہارا گیا اب حکومت ہماری ہے، تمہیں نماز نہیں پڑھنے دیں گے’۔ 70 سالہ للو ٹھیکیدار جو پوری زندگی اسی گاؤں میں ہندوؤں کے درمیان گھل مل کر رہے ہیں، کہتے ہیں،’ کچھ لوگ تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ نماز بند ہونے سے ہمارا خون بڑھ رہا ہے’ ہم چپ ہیں کیونکہ ہم تھوڑے لوگ ہیں کیا کر سکتے ہیں’۔
جہاں مسجد ہے وہ جگہ کبھی گاؤں کے ہی دیوراج سنگھ کی تھی جنہوں نے اسے مسلمان خاندانوں کو فروخت کیا تھا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسجد بنانے کے لیے چندہ بھی دیا تھا دیوراج کا اب انتقال ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کے زیادہ تر ہندو اچھے ہیں اور انہوں نے انہیں کبھی پریشان نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ سے مدد کرتے رہے ہیں لیکن اب ان اچھے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ اس پر نسرو کہتے ہیں، ‘وہ اب خاموش ہو گئے ہیں کیونکہ چند فسادی لوگوں نے انہیں ڈرا دیا کہ اب ہماری حکومت ہے۔ ویسے بھی جو بھلے آدمی ہوتے ہیں وہ کسی جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے۔
گاؤں کے لوگوں کا الزام ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک سكھپال سنگھ رانا نے گاؤں کے ہندوؤں کو بھڑکایا ہے بنیادی طور پر مظفر نگر کے رہنے والے سكھپال سنگھ رانا پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور وہ فی الحال اس علاقے سے دور ہیں۔ لوگوں کے موبائل میں واٹس ایپ کے ذریعہ کچھ ویڈیو شیئر کیے جا رہے ہیں جس میں رانا سكت پور میں ہجوم کی قیادت کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو اشتعال انگیز نعرے بازی کر رہا ہے۔ رانا نے سكت پور میں مہا پنچایت بھی بلائی تھی جسے پولیس نے نہیں ہونے دی۔ امروہہ کے علاوہ پولیس اہلکار برجیش سنگھ کہتے ہیں کہ رانا کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔
پولیس نے گاؤں کی کچھ مسلم خواتین پر بھی ماحول خراب کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے ان خواتین کو یہ پتہ نہیں ہے کہ ان پر کیا دفعات لگائی گئی ہیں۔
40 سالہ شاہجہاں کہتی ہیں، ‘نہ ہم کسی سے لڑے نہ ہم نہ کسی سے کچھ کہا، ہم تو مسجد گئے تھے ہم روزے سے ہیں اور ہمارے گھر والے نماز نہیں پڑھ پا رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، “رمضان کا مہینہ ہے، ہم صحیح سے روزہ بھی نہیں کھول پا رہے ہیں نہ اذان کی آواز آ رہی ہے تراویح کی نماز بھی بند ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ، پاکستان چلے جاؤ، کیوں چلے جائیں جب ہمیشہ سے ہم یہیں رہتے آئے ہیں۔’ پورے معاملے میں ہندو کمیونٹی کا موقف رکھتے ہوئے گاؤں کے ہی مدن پال سنگھ کہتے ہیں، ‘مسلمان پہلے اپنے گھروں میں نماز پڑھتے تھے. ہمیں کوئی دقت نہیں ہے لیکن اب وہ گاؤں میں مسجد بنا کر نئی روایت ڈال رہے ہیں جسے ہم نہیں ہونے دیں گے ‘۔
وہ کہتے ہیں، ‘گاؤں میں کبھی مسجد تھی ہی نہیں، اس سال ہی انہوں نے ایک کمرے کو مسجد کی شکل دے کر نماز پڑھنی شروع کی ہے ان کے پاس کوئی اجازت نہیں ہے انتظامیہ سے اجازت لے آئیں اور بنا لیں آپ مسجد’۔ سال 2000 میں منظور ہونے والے مذہبی مقامات سے قانون کے تحت کسی بھی مسجد کی تعمیر کے لیے ضلع انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی ہے۔ گاؤں کے مسلمان سوال کرتے ہیں، ‘جب گاؤں میں چار نئے مندروں کی تعمیر پر کوئی تنازعہ نہیں ہے تو ہماری مسجد پر ہی تنازعہ کیوں؟
دلنواز پاشا
بی بی سی ہندی، نئی دہلی
پاکستان عرب دنیا میں خوفناک تصادم روک سکتا ہے ؟
پارلیمانی منظر نامے میں اہم واقعہ ہوا جب ایک جانب ایوان بالا نے نئے قومی بجٹ سےمتعلق سفارشات کی تیاری کا آئینی تقاضا مکمل کیا۔ اس مسودے میں عام لوگوں کی بہبوداور سہولتوں کی خاطر حکومت سے کئی ٹیکس تجاویز میں ردوبدل کرنے کےلئے کہا گیا ۔ دوسر ی جانب قومی اسمبلی میں اپنے مطالبات کے حوالے سے اپوزیشن نے حکومت کے خلاف احتجاج کوایک طرف رکھ کر بہترین قومی مفاد اور اسلامی دنیا کےوسیع تر اتحاد کے پیش نظر دو متفقہ قرار دادوں کی منظوری کے عمل کو یقینی بنایا، اپوزیشن کا یہ اقدام یقیناً سراہا جائے گا۔
ایک قرار داد میں ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر خودکش اور دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئ۔
اہم بات یہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قبل ازیں ایرانی سپیکر علی لا ریجانی کو فون کرکے مکمل یکجہتی کااظہار کیا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور پوری قوم اپنے برادر اسلامی ملک سے غم کا اظہار کرتی ہے۔
ایک دوسری قرار داد مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی دھماکہ خیز صورتحال بارے منظور کی گئی۔ 8 جون کو چونکا دینے والی خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے اہم خلیجی ریاست قطر سے ہر قسم کے سفارتی، تجارتی تعلقات منقطع کرکے فضائی، بری اور بحری راستے بھی بند کر دئیے۔
اس اقدام کے نتیجے میں خلیج تعاون کونسل بھی انتشار کا شکار ہو گئی ہے اور کونسل کی 30 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تفریق نظر آئی ۔ مشرق وسطی نئے بحران کے جس دھانے پر پہنچا اس میں پاکستان کا یہ فیصلہ عمومی طورپر سراہا گیا ہے جس میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے خود کوعرب ملکوں کے باہمی تنازع سے خود کو الگ رکھنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ عرب ممالک کے درمیان خلیج وسیع کرنے سے پاکستان کےلئے بڑے مسائل پیدا ہو گئے ہیں پارلیمان اجتماعی دانش کی نمائندہ آواز ہے، پارلیمان کی متفقہ قرارداد سے رہنمائی لیتے ہوئے ہماری قومی قیادت کو بڑے سوچ سمجھ کر اور احتیاط کے ساتھ پیشرفت کرنا ہو گی۔
طاہر خلیل
قطر کا بائیکاٹ : مشرق وسطی میں کسی جنگ کا پیش خیمہ تو نہیں ؟
عرب خطے کی سیاسی صورتحال ٹرمپ کے حالیہ دورے سے ہی کشیدہ چل رہی تھی لیکن تازہ ترین چھ ممالک کے قطری بائیکاٹ نے بڑی ہلچل مچا دی ہے اور ایسا بحران گلف کوآپریشن کونسل کی تیس سالہ تاریخ میں پہلی بار اٹھا ہے۔
اس پس منظر میں کچھ سوال ابھر کر سامنے آ رہے ہیں کہ قطر کا معاشی اور سیاسی بائیکاٹ کرنا خطے میں کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ تو نہیں ؟ کیا سعودی قیادت اور دیگر عرب ممالک قطر پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے ؟ کویت کے 2014 کے ثالثی کردار کے بجائے اس بار ٹرمپ کی خدمات لی جائیں گی ؟
قطر دواعشاریہ چار ملین آبادی والا ملک ہے جس میں صرف دس فیصد قطری آبادی رہائش پذیر ہے اور باقی غیر ملکی محنت کش ہیں۔ قطراوپیک کا اہم رکن اور دنیا کا ایل این جی گیس پیدا کرنے والے ملک کے ساتھ دنیا کے چند مضبوط معیشت والے ممالک میں شامل ہے ۔ عرب علاقائی سیاست میں پہلی بار سعودی عرب اور دیگر چھ ممالک نے مل کر دوحا حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے کچھ الزامات لگاتے ہوئے اس کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا ۔ عرب ممالک کی شکایات ہیں کہ قطر دہشت گرد تنظیموں، داعش، اخوان المسلمین اور حماس کی مالی و اخلاقی مدد کرتا ہے۔ سعودی عرب کے نئے اتحاد پر دبے لفظوں میں تنقید اور قطری میڈیا کا عرب عوام کے ذہن بدلنے کی سازش کو نامنظور کرتا ہے اور ایران کی طرف جھکاؤ کے ساتھ ساتھ حودثی باغیوں کی مدد سے عرب خطےمیں غیر مستحکم کرنے کی کوشش بھی ان کے الزامات کی فہرست میں شامل ہے۔ چھ عرب ممالک نے دوحا کا بائیکاٹ کرتے ہوئے زمینی ، سمندری اور فضائی حدود پر مکمل پابندی لگا ئی ہے۔ قطرکی بڑی درآمد ایل این جی ہے ۔ اس کی صرف دس فیصد گیس زمینی حدود سے مصر اور عرب امارات کو برآمد کی جاتی ہے جبکہ باقی سمندری راستوں کے ذریعے باقی دنیا تک پہنچتی ہے لہذا پہلا اثر تو اس کی فضائی کمپنی کو جھیلنا پڑے گا ۔
یاد رہے کہ ستر کی دہائی میں جو مقام پی آئی اے کو حاصل تھا ۔ وہ آج “قطر ایر لائن ” کے پاس ہے ۔ یہ خطہ کا سب سے زیادہ مصروف ایر ٹریفک راستہ ہے۔اور راستے لمبے ہونے سے کرائے بڑھیں گے ۔ قطر زرعی ملک نہیں ہے لہذا اس کو زرعی اجناس کے لیے پڑوسی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سعودی عرب سے سب سے لمبی سرحد ملنے کی وجہ سے ا س کی غذائی اجناس اور تعمیراتی سامان سعودی سرحد کے ذریعے ہوتا ہے ۔ اب اگر یہ سرحد لمبے عرصے کے لئے بند ہو گی تو یقیناً عوام پر اس کے معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہوں گےکیونکہ دو ہفتوں میں قطری عوام ان چھ ممالک سے واپس قطر آ جائیں گے۔
لگتا کچھ یوں ہی ہے کہ اگر جلد یہ معاملہ نہیں سلجھا تو یہ چنگاری بھڑک کر آگ بن جائے گی اور پھر اس کو روکنا مشکل ہو جائے گا ۔ خطے میں مذہبی منافرت کو فروغ حاصل ہو گا لیکن تازہ ترین خبروں سے محسوس یوں ہی ہے کہ دوسری بار کویت کے امیر کشتی کو اس طوفان سے نہیں بچا سکیں گے۔ اور یہ کشیدگی بڑھے گی۔ امریکی صدر نے اس گرما گرمی کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے شاہ سلمان کو فون کر کے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی بھر پور مدد کا ادا کیا ۔ جبکہ امریکی وزیر دفاع جیم میٹرز نے اپنے قطری ہم منصب سے کہا کہ” خطہ میں اس کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ قطر ان کے دس ہزار افواج کی “العبید بیس” میں مہمان نوازی کرتا ہے”.
اسلامی دنیا واضح طور پر ابھی شش و پنچ میں ہے کہ کس کا ساتھ د ے اور کس کا نہیں ۔ ترکی نے کھول کر قطر بائیکاٹ پر تنقید کی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا تو لازمی طور قطر کا جھکاؤ مزید ایران کی طرف بڑھے گا ۔ سمندی حدود میں بھی اس کے پاس صرف ایران اور اومان کی بند گاہ رہ جائے گی۔ پاکستان اگر ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے تو ٹھیک ورنہ خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ اور اگر اس بڑھکتی ہوئی آگ کو کہیں اور سے تیل دیا گیا تو بھی پاکستان کو دامن بچانے کی کوشش کرنا ہو گی کیوں کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور تمام اسلامی ممالک کو مل کر افہام و تفیہم کے ساتھ اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔
شیما صدیقی







