گردوارہ پنجہ صاحب : سکھوں کا سب سے بڑا گردوارہ

گردوارہ پنجہ صاحب سکھوں کا سب سے بڑا گردوارہ ہے۔ اس کا گھیرائو 396 گز ہے۔ اس کے چاروں طرف دو منزلہ کمرے ہیں۔ کئی کمرے زیرزمین بھی ہیں باہر اطراف میں تین طرف دکانیں بنی ہوئی ہیں گردوارے کی ملکیت میں صرف دکانیں ہی نہیں بلکہ حسن ابدال میں کئی مکان‘ راولپنڈی‘ اٹک اور حضرو میں کافی جائیداد گردوارے کے نام ہے۔ گردوارہ پنجہ صاحب‘ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جرنیل سردار ہری سنگھ نلوہ نے بنوایا تھا۔ یہ وہی ہری سنگھ نلوہ ہے جس کے نام سے ہری پور منسوب ہے۔

پنجہ صاحب کی تعمیر نو کا کام 1920ء میں شروع ہوا جو کہ 1930ء تک وقفے وقفے سے جاری رہا پنجے کی چھتری 1932ء میں تعمیر ہوئی۔ پنجہ کے معنی پنجابی زبان میں ہاتھ کا پنجہ اور صاحب کے معنی عربی میں مالک کے ہوتے ہیں. یہاں چشمہ کے پانی کو سکھ انتہائی مقدس خیال کرتے ہیں۔ بیساکھی کے موقع پر اس چشمہ کے پانی میں غسل کرتے ہیں اور پھر بابا گرونانک کے نقش شدہ پنجہ پر اپنا پنجہ رکھتے ہیں سکھ عقائد و نظریات کے مطابق ایسا کرنے سے ان کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ پنجہ صاحب کی زیارت سکھوں کے لیے گناہ دھو دیتی ہے۔ پنجہ صاحب پر دیا جانے والا لنگر سکھوں کے لیے متبرک تو ہے ہی لیکن وہ اسے صحت کے لیے بھی بڑا مفید قرار دیتے ہیں۔ لنگر میں خالص دیسی گھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے سکھ دیسی گھی کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس کے علاوہ صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔

شیخ نوید اسلم

عرب ایران تنازع : پاکستان کیا کرے؟

سعودی عرب کی زیرسرپرستی اسلامی ممالک کا جو اتحاد بن رہا تھا، اس سے متعلق 14جنوری 2017 کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’راحیل شریف اور عرب اتحاد ‘‘ کے زیرعنوان ’’جرگہ‘‘ میں عرض کیا تھا کہ :

’’دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ اتحاد بظاہر سعودی بنا رہے ہیں لیکن اصل سرپرستی امریکہ کر رہا ہے ۔ حکومت پاکستان اور دیگر ممبر ممالک کے ساتھ سعودی عرب نے جو خط و کتابت کی ہے ‘ اس میں بھی امریکی کردار کا ذکر موجود ہے ۔‘‘
لیکن ہمارے حکمران تسلسل کے ساتھ میرے اس دعوے کو جھٹلا کر کہتے رہے کہ اس اتحاد کے ساتھ امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ۔ اب جب اس کے تاسیسی اجلاس کا نام عرب اسلامک امریکہ سربراہی کانفرنس قرار پایا تو بلی تھیلی سے باہر آ گئی ۔ اسی طرح ہمیں بتایا جاتا رہا اور تسلسل کے ساتھ بتایا جاتا رہا کہ اس اتحاد اور اس کے تحت تشکیل پانے والی فوج ، جس کی سربراہی یا مشاورت کے لئے جنرل راحیل شریف سعودی عرب گئے ہیں، کا ایران سے کوئی سروکار نہیں لیکن کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کی نہ صرف چار شقوں میں ایران کا ذکر موجود ہے بلکہ اتحادی ریزرو فوج جو چونتیس ہزار افراد پر مشتمل ہوگی ، کی ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بوقت ضرورت شام اور عراق میں دہشت گردوں سے لڑے گی۔ گویا پاکستانی حکمرانوں کے دعوئوں کے برعکس ثابت ہو گیا کہ یہ اتحاد صرف اسلامی ممالک کا اتحاد نہیں بلکہ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اس کا ہدف صرف داعش اور القاعدہ سے نہیں بلکہ ایران اور اس کے پراکسیز سے بھی نمٹنا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر ان حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے ۔

اپنی دانست کے مطابق اس اہم ترین سوال کا جواب دینے سے قبل یہاں میں اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستانی حکمرانوں اور اپنے آپ کو راحیل شریف اور دفاعی معاملات کے رازدان قرار دینے والے ریٹائرڈ فوجیوں کے جھوٹے دعوئوں کی وجہ سے میں اپنی معلومات کے بارے شش و پنج کا شکار ہو گیا ۔ ایک طرف میری وہ معلومات تھیں جن کی بنیاد پر جنوری میں مذکورہ کالم لکھا اور دوسری طرف پوری حکومت اور عسکری حلقوں کے دعوے تھے ۔ چنانچہ جب ہمیں یہ باور کرایا گیا کہ اس اتحاد سے امریکہ کا سروکار نہیں اور اس کا ایران سے کوئی سروکار نہیں تو میں نے بھی تحفظات کے ساتھ سہی لیکن بہر حال اس میں پاکستان کی شمولیت اور جنرل راحیل شریف کی ذمہ داری کے حق میں رائے دی ۔

سوچا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی شاید وہاں ایسی پوزیشن ہو گی کہ وہ پاکستانی مفادات کا تحفظ کریں گے اور اس اتحاد کو فرقہ واریت یا پھر ایران مخالف سرگرمیوں کی طرف جانے نہیں دیں گے لیکن ریاض میں تین روزہ قیام کے دوران مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی قطعاً وہ پوزیشن نہیں جو بیان کی جا رہی تھی۔ جبکہ فیصلہ سازی یا پالیسی سازی میں ان کے کردار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر جس اتحاد کے مقاصد میں اعلانیہ طور پر ایران کا ذکر کیا گیا ہو، اسے کیوں کر اس طرف جانے سے روکا جا سکتا ہے ۔ وہاں تو پاکستان کے وزیراعظم کو تقریر کا موقع اس لئے نہیں دیا گیا کہ کہیں وہ امریکہ اور سعودی عرب کے بیان کردہ مقاصد اور اہداف میں اگر مگر نہ نکالیں تو اس ملک کے ایک ریٹائرڈ فوجی سربراہ جو وہاں سے تنخواہ لے رہے ہوں کو تو فیصلہ سازی میں شریک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چنانچہ پاکستان کے مفاد کا تقاضا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو فوراً واپس بلایا جائے اور پاکستان اتحاد میں اپنے کردار کو اس حد تک رکھے جس حد تک ترکی اور اومان جیسے ممالک رکھیں گے۔

بلاشبہ سعودی عرب اور ایران دونوں پاکستان کے لئے اہم ترین ممالک ہیں ۔ ایک عرب دنیا کا قائد جبکہ دوسرا پڑوسی ہے ۔ دونوں کے ساتھ ہمیں بہترین تعلقا ت کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ساتھ ساتھ دونوں کے شرسے اپنے آپ کو بچانا بھی چاہئے ۔ ان کے باہمی تنازع میں ہمیں قطعاً فریق نہیں بننا چاہئے کیونکہ ان کے تنازع کا اسلام سے کوئی سروکار ہے اور نہ کسی اصول سے ۔ دونوں کا جھگڑا قومی اور تاریخی ہے ۔ ایک عربی زعم کا شکار ہے اور دوسرا پارسی زعم کا ۔قومیت اور مفادات کی اس جنگ میں دونوں مذہب اسلام کو بھی ہتھیار کے طور پر استعما ل کر رہے ہیں او رفقہ کو بھی ۔ دونوں کی اس جنگ کی وجہ سے آج شام بھی لہو لہو ہے اوریمن بھی ۔ ان کی اس جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے جبکہ نقصان عراقی، شامی اور یمنی مسلمانوں کے حصے میں آرہا ہے ۔

ایران نے اسٹرٹیجک مقاصد کے لئے القاعدہ سے بھی تعلقات بنا لئے اور فقہی لحاظ سے شدید مخالف طالبان کے ساتھ بھی ۔ اسی طرح وہ عراق میں امریکہ کا بھی پارٹنر ہے۔ غرض وہ دنیا کی ہر طاقت اور قوت کو گلے لگانے کو تیار ہے لیکن عربوں کے ساتھ اس کی رقابت اتنی گہری ہے کہ ان کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح سعودی حکمران امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد میں بھی عار محسوس نہیں کرتے اور اسرائیل تک کو گلے لگالیں گے لیکن ایران کو کوئی رعایت دینے کے روادار نہیں ۔ اسلئے ہمیں ان کی اس لڑائی سے دور رہنا چاہئے ۔ ان کے ساتھ تعلقات سے ہمیں ہر طرح کی جذباتیت اور مذہب کو نکال دینا چاہئے ۔ جس کا ہمارے ساتھ جو رویہ ہو، ہمیں بھی اسی طرح کا رویہ اپنانا چاہئے ۔ جو ہمیں عزت دے ، ہمیں اسے عزت دینی چاہئے ۔ جو ہمیں جتنا فائدہ دے، ہمیں بھی جواب میں اس کو اتنا فائدہ دینا چاہئے ۔

دونوں کو اب ہمیں یہ شٹ اپ کال دینی چاہئے کہ وہ اپنے جھگڑوں میں ہمارے ملک کو نہ گھسیٹیں کیونکہ پہلے سے ہمارے جھگڑے بہت ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں کہ وہ پاکستان سے زیادہ سعودی عرب یا پھر ایران کے وفادار ہیں ۔ کچھ فقہ کی بنیاد پر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں اور کچھ پیسے کے لئے ۔ ان سب کو بھی اب شٹ اپ کال دینی چاہئے ۔ اگر کسی کو پاکستان کے مفاد سے زیادہ سعودی عرب یا ایران کا مفاد عزیز ہو تو اسے ملک بدر کر کے وہاں بھیج دیا جائے ۔ مذکورہ دونوں ممالک پر بھی واضح کر دیا جائے کہ وہ مزید ہمارے ملک میں اپنی پراکیسز کا کاروبار بند کر دیں اور جو بھی معاملہ کرنا ہو، وہ پاکستانی حکومت اور ریاست سے کریں۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں بعض مذہبی شخصیات اور کئی جماعتوں کو دونوں طرف سے پیسہ ملتا ہے ۔ ایک مذہبی کونسل میں ایک کا مبینہ پیسہ زور دکھا رہا تھا تو دوسری مذہبی کونسل میں دوسرے کی مبینہ سرمایہ کاری زوروں پر ہے ۔ اب تو معاملہ یہاں تک آ گیا ہے کہ بعض مذہبی لیڈر ایک سے اور تو بعض دوسرے ملک سے کھا رہے ہیں۔

سلسلہ اب کئی جرنیلوں تک دراز ہو گیا ہے اور جنرل پرویز مشرف نے تو کھل کر اعتراف کرلیا ہے کہ وہ دبئی اور لندن میں سعودی پیسے سے محلات خرید چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان دونوں ممالک سے متعلق حساسیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ جو بھی معاملہ ہو دونوں کی پراکسیز متحرک ہو جاتی ہیں ۔ نہ جانے ہم پاکستانی کیوں ان دو ممالک کے بارے میں ذہنی مرعوبیت کے شکار ہیں تیل کی دولت ان کے پاس زیادہ ہو گی اور قومی یا تاریخی زعم کے وہ بلاشبہ شکار ہیں لیکن الحمدللہ انسانی اور مذہبی آزادیوں ، ذہنی و تخلیقی یا پھر سماجی حوالوں سے ہم ان سے سو سال آگے ہیں ۔ بس ہمیں پاکستانی بننے کی ضرورت ہے اور مذہبی یا پھر فقہی حوالوں سے دوسروں سے مرعوب ہونے کی بجائے صرف اور صرف قومی مفاد کی بنیاد پر سوچنا چاہئے ۔ یہ نیشن اسٹیٹس کا دور ہے ۔ مذہب اور فقہ خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر تو ضروراستعمال کئے جاتے ہیں لیکن عملاً کوئی ملک ان بنیادوں پر تعلق نہیں رکھتا ۔

ہماری خارجہ پالیسی بھی اب بس یہ ہونی چاہئے کہ جو عزت دے ، اسے عزت دو۔ جو پاکستان کے مفاد کا خیال رکھے ، ہم اس کے مفاد کا خیال رکھیں ۔ کسی کو کسی اور ملک کی دوستی اور دشمنی پاکستان سے زیادہ پیاری ہے تو وہ خوشی سے وہاں چلاجائے لیکن فقہی، مذہبی یا مالی بنیادوں پر دوسروں کی دشمنیوں کو پاکستان میں نہ لائے ۔ سعودی عرب اگر دوستی کے لئے یہ شرط رکھے کہ ہم اس کی خاطر ایران کو دشمن بنالیں تو ہم بھی یہ لکیر کھینچ دیں کہ وہ ہماری خاطر ہندوستان کی دشمنی مول لے ۔ یقینا وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر ایران یہ مطالبہ کرے کہ ہم سعودی عرب سے دوستی ختم کردیں تو ہم بھی مطالبہ کریں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستی ختم کر دے اور یقینا وہ بھی ایسا نہیں کرے گا۔ جب ان میں سے کوئی ہماری خاطر دوست اور دشمن بدلنے کو تیار نہیں تو ہم کیوں ایسا کریں۔

سلیم صافی

پاکستان کے لیے نیا پل صراط

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دو دِنوں کے اندر تین سربراہی کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے بین الاقوامی دورے کا آغاز ریاض سے کر رہے تھے۔ انہیں سب سے پہلے تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کرنا تھی، اس کے بعد خلیجی ممالک کے سربراہان سے مذاکرات کا اہتمام تھا۔ تیسری اور آخری کانفرنس میں 55 مسلمان ممالک کے انتہائی اعلیٰ (یا کم تر) سطح کے ذمہ داران کو شریک ہونا تھا۔ آخری اجتماع چونکہ بڑا تھا، اس لئے یہ جلسۂ عام کی صورت اختیار کر گیا۔ ہم کہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ریاض پہنچے تھے، ہماری دلچسپی بھی اسی سے تھی۔ کانفرنس سنٹر ایک انتہائی وسیع عمارت ہے، اور اس میں سینکڑوں کیا ہزاروں افراد کو جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

یہاں ایک میڈیا سنٹر قائم کیا گیا تھا جبکہ دوسرا ایسا سنٹر یہاں سے کچھ فاصلے پر میریٹ ہوٹل میں تھا۔ پاکستانی میڈیا پرسنز میں سے جو اول الذکر جگہ پر پہنچ گئے، وہ وہیں چپک گئے کہ یہاں بیٹھ کر معزز مہمانوں کی قربت کا (نفسیاتی) احساس ہوتا تھا۔ جو یہاں آتے اور چند قدم کے فاصلے پر بند دروازوں اور اونچی دیواروں کو باری باری پار کرتے جا رہے تھے۔ ہر چند کہ ان سے ہماری ملاقات ٹی وی سکرینوں ہی کی مرہون منت تھی۔ 81 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز چھڑی کے ساتھ کھڑے تھے اور ایک ایک مہمان سے مصافحہ کر رہے تھے۔ عرب روایات کے مطابق میزبان اپنے ہر مہمان کو ذاتی طور پر خوش آمدید کہتا ہے کہ اس کے بغیر مہمان نوازی کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔

سعودی بادشاہت عجمی تکلفات میں پوری طرح ڈوب نہیں سکی، اپنے عوام سے بادشاہ کا براہِ راست تعلق ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ برسوں پہلے جب شاہ فیصل شہید نے ایران کا دورہ کیا تھا تو سعودی سفارت خانے میں شہنشاہ ایران کے لیے جوابی عشایئے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس میں تہران کے معزز شہری سینکڑوں کی تعداد میں مدعو تھے۔ شاہ فیصل دروازے پر کھڑے ہو کر مہمانوں سے مصافحہ کرنے لگے تو پروٹوکول کی مجبوری سے شہنشاہ ایران کو بھی ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ یوں ایرانی باشندوں کو اتنی بڑی تعداد میں پہلی بار اپنے بادشاہ سے مصافحے کا شرف حاصل ہوا کہ شہنشاہ ایران کے نزدیک عام شہریوں سے مصافحہ کرنا، ان کو خلعت فاخرہ عطا کرنے کے مترادف تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کانفرنس میں وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے ہمراہ پہنچے، کیمروں کی چکا چوند نے ان لمحات کو محفوظ کیا، اور اس کے بعد وہ ہجوم میں گم ہو گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئے تو دوسرے مہمانوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ وزیراعظم سے بھی ان کی گرما گرم ملاقات ہوئی، اور رسمی جملوں کے تبادلے میں ڈھل گئی ۔ کانفرنس دیر سے شروع ہوئی، لیکن اس کا اختتام وقتِ مقررہ پر کر دیا گیا۔ ہم لوگ ٹیلی ویژن پر ٹکٹکی لگائے بیٹھے تھے، اور اپنے وزیراعظم کی تقریر کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب یہ منظر دیکھنے کو نہ ملا، تو سب کے چہرے لٹک گئے۔ طیارے میں وزیراعظم کو اپنے رفقا کے ساتھ تقریر کی نوک پلک درست کرتے پایا تھا، یا یہ کہیے کہ اس کا اندازہ لگایا تھا۔ یہ تقریر کانفرنس کے منتظمین کو پیشگی بھجوا بھی دی گئی تھی۔

لیکن کانفرنس کے خاتمے کی وجہ سے اسے سننے کا موقع نہ مل سکا۔ وزارتِ خارجہ یا سفارت خانے کا کوئی اہلکار بریف کرنے کے لیے موجود نہیں تھا، اس لیے اپنے اپنے خیالات کے گھوڑے دوڑائے جانے لگے۔ کانفرنس میں ایران کے بارے میں تندو تیز لہجہ اختیار کیا گیا تھا۔ شاہ سلمان نے کھلے الفاظ میں اس پر تنقید کی تھی، توقع تھی کہ جلالتہ الملک پاکستان کا ذکر کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ہزاروں افراد شہید ہو چکے، اور اس کی مسلح افواج کے سابق سربراہ کو سعودی سائے میں قائم ہونے والی اسلامی فورس کی کمان سونپی گئی ہے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔ ہماری وزارتِ خارجہ اگر بروقت کچھ حرکت کر لیتی تو شاید برکت پڑ جاتی۔

ڈونلڈ ٹرمپ بھی میزبانِ اعلیٰ کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے پُر زور تھے، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انڈیا کا نام لے کر، اور پاکستان کو نظر انداز فرما کر ہمارے سینے پر چرکے لگا چکے تھے۔ اس ماحول میں فقہ جعفریہ کے مطابق غم و غصہ بے پایاں تھا، جبکہ فقہ حنفیہ حالات پر غیر جذباتی نظر رکھنے کی تلقین کر رہی تھی۔ یہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو مربوط کرنے کے لئے تھی، ایران اورشام یہاں مدعو نہیں تھے۔ مصر، انڈونیشیا اور ملایشیا کے سربراہ بھی ایران کو ہدفِ تنقید بنانے میں پیچھے نہیں رہے۔ ہم پاکستانیوں کو یہ اندازہ تو تھا کہ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات ناخوشگوار ہیں، لیکن اس اندازِ اظہار کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ ہم میں سے ایک، دو دِل پکڑ کر بیٹھے تھے، اور ایک، دو اپنا غصہ اپنے آپ پر، اپنی حکومت پر اور اپنے وزیراعظم پر نکال رہے تھے۔

یہ بات درست ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، اس سے ہمارے تعلقات کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے جو بھی شکایات رہی ہوں،انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ جھٹکا نہیں، لیکن عالمِ اسلام اور امریکہ بہادر کے اس مشترکہ اجتماع میں جہاں 55 مسلمان ملکوں کی نمائندگی تھی، ایران کے خلاف شدید جذبات کا اظہار خیال کیا جا رہا تھا۔ سعودی بادشاہ اور ان کے ہونہار فرزند محمد بن سلمان نے اپنی متحرک ڈپلومیسی کے ذریعے اپنی چھتری کے نیچے سب کو جمع کر لیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شیشے میں اتار چکے تھے، (یا ان کے شیشے میں تشریف فرما تھے) اپنے عوام کو مطمئن کر گزرے تھے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

ایک دنیا ان کے ساتھ ہے اور کوئی میلی آنکھ اٹھا کر ان کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔ سعودی حکومت تاریخ میں پہلی بار ڈرائیونگ سیٹ پر تھی یا یہ کہہ لیجئے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا تہیہ کئے ہوئی تھی۔ یہ کانفرنس پاکستان کے لئے نہیں تھی، نہ وہ اس کے میزبانوں میں شامل تھا۔ وہ عالمِ اسلام کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں موجود تھا کہ اس کے نظریاتی تعلقات اور مفادات سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے وابستہ ہیں۔ نواز شریف دولہا تھے نہ شہ بالا، وہ ایک باراتی تھے اور اس پر غیر مطمئن نہیں تھے۔ تقریر کرنے والوں میں ان کا نمبر حروف تہجی (پی فار پاکستان) کے اعتبار سے درج تھا لیکن اگر ان کی تقریر ایران کے معاملے میں محتاط نہ ہوتی تو شاید اس کا نمبر پہلا یا دوسرا ہو جاتا۔

عرب دُنیا میں چالیس لاکھ سے زائد پاکستانی برسرِ روزگار ہیں، دس سے پندرہ ارب ڈالر کما کر ہر سال پاکستان بھیجتے ہیں۔ مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا اور اسی کے تعاون نے ایٹمی دھماکوں کے بعد ہمیں دیوالگی سے بچایا۔ عالمِ اسلام کے کسی دوسرے ملک نے پاکستان کے ساتھ وسعت قلبی کے وہ معاملات نہیں کئے جو سعودی عرب کے حصے میں آئے۔ پاکستان سعودی عرب کو ناراض نہیں کر سکتا۔ ہمیں ہر قیمت پر عالمِ اسلام کے ساتھ تیرنا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہماری سیاست اور صحافت کے کئی حصے ہر تعلق کو نشانہ بنا گزرتے ہیں شاید اس ہی کے سبب متحدہ عرب امارات کے شہزادہ محمد سے (مبینہ طور پر) فاصلہ پیدا ہو چکا ہے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گہرے رابطے میں ہیں، اگر وہ چاہتے تو ان کی تقریر میں پاکستان نظر انداز نہ ہوتا۔

ایران اس وقت جہاں ہے، اس سے ہمدردی کا اظہار ہو سکتا ہے، وہ اگر اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لئے سفارت کاری پر آمادہ ہو ، شکایات کو دور کرنے کے لئے تیار ہو تو پاکستان اس کی معاونت کر سکتا ہے، لیکن اس کی بلا اپنے سر نہیں لے سکتا۔ اس کی تنہائی دور کرنے کے لئے اپنے آپ کو تنہا نہیں کر سکتا۔ ایران کو حالات کا ٹھنڈے دل اور گہری نظر سے جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان ایران سے نہ لڑنا چاہتا ہے، نہ عالمِ اسلام کو اس سے لڑنے دینا چاہتا ہے کہ اس کا نقصان صرف ایران کو نہیں ہو گا۔ سعودی عرب کو ناراض کئے بغیر ہمیں ہوا کا رخ بدلنا ہے، لیکن اس کے لئے ایران کا تعاون درکار ہو گا۔ یہ ایک نیا پل صراط ہے، اس پر چلنا پڑے گا کہ گڑھے میں گرنے سے تبھی بچ سکیں گے۔

مجیب الرحمٰن شامی

اقبال کی خود کشی کے ذمہ دار ہم ہیں

اقبال پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ تھا۔ اُس کی عمر 59 برس تھی۔ وہ وزارت داخلہ میں نائب قاصد کی نوکری کرتا تھا اور ریٹائرمنٹ میں اُس کا ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا تھا۔ وہ اسلام آباد میں ایک سرکاری کوارٹر میں رہائش پزید تھا۔ جیسے جیسے ریٹائرمنٹ کے دن قریب آ رہے تھے، اقبال کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اُس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نہ چھت رہے گی اور نہ ہی اتنا پیسہ ہو گا کہ کہیں کرائے پر گھر لے کر پنشن کے پیسوں سے گزارا کر سکے۔ ایسی حالت میں پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ کیسے نارمل رہ سکتا ہے۔ اسی فکر میں   اقبال اپنے بیٹے کو لے کر وزارت داخلہ پہنچتا ہے اور ایڈمن افسر کو درخواست دیتا ہے کہ اُس کے بیٹے کو نائب قاصد کی نوکری دے دی جائے تاکہ ایک طرف اُس کا خاندان بے روزگاری سے بچ جائیگا تو دوسری طرف وہ اور اُس کے بچے بے گھر ہونے سے بچ جائیں گے۔

جنگ کی خبر کے مطابق متعلقہ سرکاری اہلکار نے اُسے قانونی پوزیشن بتائی کہ بیٹے کو باپ کی جگہ ملازمت اُسی صورت میں ملتی ہے جب باپ کا دوران ڈیوٹی انتقال ہو جائے۔ اس صورت میں باپ کو الاٹ کیا گیا سرکاری گھر بھی بیٹے کو الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر اقبال پاک سیکرٹریٹ میں وزارت داخلہ کے آر بلاک کی چھت پر پہنچا اور چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ خبر کے مطابق پولیس نے تصدیق کی کہ اقبال ذہنی دبائو کا شکار تھا اور ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو ملازمت دلانے کا خواہاں تھا تا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے پاس سرکاری چھت موجود رہے۔ اپنی زندگی کو ختم کر کے اقبال نے ہماری ریاست کے اُس قانونی جواز کو پورا کر دیا جس کی بنا پر اُس کے بچے بے گھر ہونے سے بچ جائیں گے۔

خودکشی حرام ہے اور کسی صورت بھی اس طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا گناہ کا کام ہے لیکن اگر سچ پوچھیں تو اس گناہ پر ہم نے اقبال کو مجبور کیا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اقبال کی زندگی کے خاتمہ کی ذمہ داری ہم پر، ہماری ریاست پر، ہماری حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور اس ملک کی اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ کیسا ملک ہے کہ اس کے وسائل کو اشرافیہ اور بااثر طبقات کے لیے تو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے لیکن غریب، بے گھر، لاچار کو دینے کے لیے ہماری ریاست کے پاس کچھ نہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہو گا کہ ریاست اشرافیہ کی ملی بھگت سے بڑے بڑے لوگ ملکی وسائل کو آپس میں بانٹ کھاتے ہیں، کروڑوں روپیے مالیت کے ایک ایک نہیں دو دو تین تین کنال کے حتیٰ کہ اسلام آباد جیسے مہنگے ترین شہر میں پلاٹ الاٹ کیے جاتے ہیں لیکن اقبال جیسے غریب نائب قاصد کے لیے ریاست کے پاس ایک مرلہ زمین دینے کو نہیں۔

کوئی سات آٹھ سال پہلے جب میں نے بحیثیت صحافی حکومتی پالیسی کے تحت ملنے والے دو پلاٹ (ایک راولپنڈی اور دوسرا اسلام آباد میں) لینے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کو ایک درخواست دی کہ خدارا اس پالیسی کو بدلیں جس کے تحت ججوں، جرنیلوں، اعلیٰ سرکاری افسروں، صحافیوں سمیت با اثر طبقات پر ریاست کے وسائل نچھاور کیے جاتے ہیں تو اس پر مجھے خصوصاً اُس وقت کے صحافی تنظیموں کے کچھ رہنمائوں نے بُرا بھلا کہا، میرے خلاف مہم چلائی گئی۔ حالانکہ میرا یہ کہنا تھا کہ اس ملک کے وسائل پر سب سے پہلا حق غریب اور بے گھر کا ہے نہ کہ بااثرطبقات کا۔ افسوس کہ میری کسی نے نہ سنی۔ میں نے اس معاملہ پر بہت لکھا لیکن نہ حکومت نے کچھ کیا، نہ عدلیہ بولی۔ پارلیمنٹ بھی خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ میڈیا نے بھی اس معاملہ میں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

افسران سے تو کیا گلہ وہ تو ریاستی وسائل کو اپنا حق سمجھ کر فخر سے لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان غریب کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار میں آتے ہیں لیکن حکومت سنبھالتے ہی وہ خدمت صرف اشرافیہ کی ہی کرتے ہیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ پی پی پی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر ووٹ لیا لیکن غریب بچارے کو بے یار و مددگار مرنے کے لیے چھوڑ دیا ۔ ن لیگ نے بھی وعدے کیے کہ غریب کو گھر دیں گے، اُن کے لیے نوکریوں کے لیے انبار لگا دیں گے لیکن میاں نواز شریف صاحب کی حکومت بتا دے کہ انہوں نے کہیں غریب کے لیے چھت فراہم کرنے کا وعدہ کسی ایک شخص کے لیے بھی پورا کیا؟؟ ہم نے ریاست کو صرف اشرافیہ کی خدمت کے لیے متعین کر دیا ہے جبکہ غریب کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں۔ سرکاری پلاٹ، زرعی زمینیں، مہنگی مہنگی سرکاری گاڑیاں، ملک کے اندر اور بیرون ملک بہترین علاج، اعلیٰ تعلیم کے مواقع سب کچھ ریاست نے اشرافیہ کے لیے مختص کر دیا ہے۔ حال تو یہ ہے کہ ٹیکس بھی غریب سے لے کر امیر پر یہاں خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم میڈیا والے خاموش ہیں کیوں کہ ہم بھی اشرافیہ کا حصہ بن چکے۔ سوچتا ہوں کہ ہم اپنے رب کو کیا جواب دیں گے۔ آخر یہ ناانصافی کب اور کیسے ختم ہو گی۔

انصار عباسی