کشمیر میں ایمبولینس کے سائرن سے رمضان کی شروعات

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت ہلاکت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔
اس سے قبل ترال کے ‘سوئی مُو’ گاؤں میں محصور سبزار اور اس کے ساتھیوں کو ‘بچانے’ کے لیے مقامی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔ مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔

سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق سنیچر کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کاروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔ دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کر دیا گیا۔

ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔ ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل سرینگر سمیت کئی مقامات پر سبزار کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ سبزار بٹ گذشتہ برس جولائی میں مارے گئے مقبول کمانڈر برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کاروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان مارے گئے جبکہ دس ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوئے۔

سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے ان ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ  ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔ تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی ہلاکت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجنئیرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گذشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔
گذشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی ہلاکت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اُبل پڑا۔ رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحر خوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ حکومت نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

وہ وقت جب امریکی وفد کو پاکستان نے آمد کیلئے این او سی بھی نہ دیا

28 مئی 1998ء ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کا دن، ایٹی قوت بننے کے لیے پاکستان کو کس حدتک امریکی دباؤ برداشت کرنا پڑا لیکن اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کس طرح اپنے عزم پر ڈٹے رہے اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، اس پر سینئر کالم نویس ’رؤوف طاہر‘ نے روزنامہ دنیا میں لکھے گئے ایک کالم میں روشنی ڈالی ہے ۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’یہ وہ مرحلہ تھا جب قومی خودمختاری اور عزت و وقار کیلئے کوئی بھی قیمت مہنگی نہیں ہوتی۔

امریکن سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل زینی اپنی کتاب ”Battle Ready‘‘ میں تفصیل سے یہ دلچسپ کہانی بیان کر چکے کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کیلئے صدر کلنٹن کی ہدایت پر وزیر دفاع ولیم کوہن کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کا بوئنگ707 ٹمپا کے ہوائی اڈے پر تیار کھڑا تھا۔امریکیوں کے بار بار رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی طرف سے این او سی نہیں مل رہا تھا۔ بالآخر جنرل جہانگیر کرامت سے امریکی جرنیلوں کے تعلقات کام آئے اور اپنے آرمی چیف کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وفد کو آنے کی اجازت دے دی۔ جنرل زینی کے بقول امریکی وفد نے پاکستانی وزیراعظم سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن وہ وزیراعظم پاکستان سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات نہ منوا سکے۔ امریکیوں کی کوئی ترغیب ، کوئی تنبیہ ،پرعزم وزیراعظم کو ایٹمی دھماکوں سے باز نہ رکھ سکی۔

گیارہ مئی کو نواز شریف سربراہ اجلاس کے سلسلے میں قازقستان میں تھے۔بھارتی دھماکوں کی اطلاع آئی تو ایک رائے یہ تھی کہ وزیراعظم پاکستان کو فوراً وطن واپسی کی راہ لینی چاہیے لیکن وزیراعظم کو اس سے اتفاق نہ تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اس سے ہندوستان اور باقی دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ ہندوستانی دھماکوں سے پاکستان دبائو میں آ گیا ہے ۔ وہ دنیا کو پاکستان کے مضبوط اعصاب کا تاثر دینا چاہتے تھے۔ وہ شیڈول کے مطابق 14 مئی کو واپس آ ئے۔ ایٹمی سائنسدانوں سے استفسار کیا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کیلئے کتنا وقت درکار ہو گا ؟ دس گیارہ دن سے زیادہ نہیں۔ 10 مئی کو Go Ahead مل گیا اور سائنسدانوں کی ٹیم چاغی روانہ ہو گئی۔

اس دوران نواز شریف دوست ممالک کی قیادت کے علاوہ اندرون ملک بھی صلاح مشورے میں مصروف رہے ۔ وہ اپنے طور پر قازقستان ہی میں یکسو تھے لیکن اسکے لیے مسلح افواج کی قیادت کے علاوہ اپنے سیاسی رفقا اور دیگر ارباب فہم و دانش سے مشاورت کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ انہیں ملک کے حال اور مستقبل کیلئے گہرے اثرات کے حامل فیصلے میں شرکت کا احساس دلانا ضروری تھا۔ سنگین ترین معاملہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا تھا۔ اس حوالے سے سعودی عرب ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یارِ وفا دار کے طور پر سامنے آیا۔ امریکہ سمیت ساری دنیا کے دبائو کی پروا کیے بغیر سعودی قیادت نے پاکستانی قیادت کو تیل (Deffered Payment) سپلائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کردی تھی۔ یہ ”دیفرڈ پیمنٹ ‘‘بھی فائلوں کی حد تک تھی مگر یہ” حساب دوستان دردل‘‘ والا معاملہ تھا‘۔

اٹھائیس 28 مئی یوم تکبیر : قومی تاریخ کا یادگار دن جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا

ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ 19 سال قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7 ویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکوں کے دن کو ‘یوم تکبیر’ کا نام دیا گیا۔ دھماکوں کے بعد 1999 میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی کارگل جنگ جاری تھی، جس کی وجہ سے یوم تکبیر بہت زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا، مگر اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آ گئی تھی، جس کے بعد یوم تکبیر اس جوش و جذبے سے نہیں منایا جا سکا۔

دوسری جانب بولٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نامی ادارہ یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد پڑوسی ملک ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 120 ہے جب کہ ہندوستان کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 110 ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں نے ہی پہلی مرتبہ 1998 میں تین تین ہفتوں کے وقفے سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔ 2014ء میں ایٹمی مواد کو لاحق خطرات کی سیکیورٹی کیلئے اقدامات کے حوالہ سے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ ہندوستان سے بھی بہتر ہے۔

2014 کے این ٹی آئی انڈیکس میں 9 ایٹمی مسلح قوتوں میں سے زیادہ تر کا درجہ وہی ہے، اس میں صرف ایک پوائنٹ کی کمی بیشی ہے جبکہ 2012 کے مقابلہ میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی سیکیورٹی کے حوالہ سے تین درجے بہتری آئی ہے جو کہ کسی بھی ایٹمی ملک کی بہتری میں سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کا ایٹمی مواد کے قابل استعمال ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالہ سے 25 ممالک میں سے 23 واں درجہ رہا ہے جبکہ چین کوانڈیکس میں 20 ویں درجہ پر رکھا گیا پاکستان کا فہرست میں 22 واں نمبر تھا۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے۔ ڈان نیوز کے پروگرام “فیصلہ عوام کا” میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔

سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا نشہ

نشہ کسی چیز کا ہو برا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم ایک نشے کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ان کی زندگیوں پر بڑی تیزی سے اثر انداز ہوا ہے کیونکہ اسے سبک رفتاری سے مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سے ان کی دماغی صحت، رویے اور سرگرمیاں سب متاثر ہو رہے ہیں۔ان باتوں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات پر ایک نئی تحقیق کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس کے مطابق نوجوانوں کی دماغی صحت کے لیے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم انسٹاگرام سب سے نقصان دہ ہے۔ نیز مفید ترین یوٹیوب ہے۔ یہ بات برٹش رائل سوسائٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔

سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو شرلی کرامر کے مطابق سوشل میڈیا کا شمار سگریٹ اور الکحل سے زیادہ نشہ آور چیز کے طور پر کیا جاتا ہے اور یہ لت نوجوانوں کی زندگیوں میں کچھ اس انداز سے سرایت کر چکی ہے کہ جب ان کی دماغی صحت کے مسائل پر بات کی جاتی ہے تو اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ کو دماغی صحت لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ تصویروں پر بہت زیادہ مرکوز ہیں اوران سے نوجوانوں میں اپنے اندر کسی کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہ فکر مند رہنے لگتے ہیں۔ اس تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً 15 سو نوجوانوں سے انٹرویوز کیے جن کی عمریں 14 سے 24 سال کے درمیان تھیں۔

تحقیق کے مطابق سب سے مثبت رائے یوٹیوب کے بارے میں تھی جب کہ اس کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک کا نمبر تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے نپٹنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے اور مختلف پلیٹ فارمز پر انتباہ جاری کیا جائے۔ دماغی صحت کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتی جائے۔

ر۔ع