دیوان عام

دیوان عام کی تعمیر شہاب الدین شاہجہان کے حکم پر تخت نشینی کے اگلے سال
جلال الدین اکبر کے دولت خانہ خاص و عام کی جنوبی دیوار سے متصل اور مستی (مسجدی) دروازے کے مغرب میں 1628ء میں آصف خاں کی زیر نگرانی شروع ہوئی اور تین سال بعد 1631ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔ دیوان عام سطح زمین سے تقریباً پانچ فٹ بلند سنگ سرخ سے بنائے گئے چبوترے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا طول 730 فٹ جبکہ عرض 460 فٹ ہے۔ دیوان عام کی تعمیر کے وقت اس کے چاروں طرف کمرے تھے۔ مشرق مغرب اور جنوب میں داخلی راستے تھے۔ آج ان کمروں کے نشانات تک باقی نہیں ہیں لیکن سنگ سرخ کے چالیس بلند ستونوں پر مشتمل کھلا ہوا دیوان عام ایک وسیع چبوترے پر اپنی جگہ قائم ہے دیوان عام کے چبوترے کے اردگرد سنگ سرخ کا خوبصورت جنگلہ تعمیر کیا گیا تھا۔ جس کا کچھ حصہ باقی تھا مگر آج کل اس جنگلہ کو ازسرنو تعمیر کیا گیا ہے۔

دیوان عام کے شمال کی جانب تخت شاہی ہے۔ جسے جھروکہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ عہد مغلیہ میں یہاں بے شمار دفعہ جشن کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ دیوان عام کا مقصد تخت شاہی کے سامنے کھڑے ہونے والوں کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس دیوان کے دائیں بائیں اور سامنے راستے تھے جن سے امراء، وزراء اور دیگر ملازمین داخل ہوتے تھے۔ دیوان عام میں بادشاہ سلامت تقریباًروزانہ جلوہ افروز ہوتا تھا۔ اس وقت مقابل کے نقارخانہ میں فوجی انداز میں نوبت بجتی۔ 1597ء میں شہنشاہ جلال الدین اکبر کشمیر سے واپس لاہور پہنچا تو اس وقت آگ لگنے سے دیوان عام کو بہت نقصان پہنچ چکا تھا۔ اکبر نے قلعہ لاہور کے دیوان کی دوبارہ مرمت کروائی۔

مشہور مورخ برنیئر کے مطابق دیوان عام کے تخت پر بیٹھے بادشاہ کے سامنے سے انسانوں، گھوڑوں اور ہاتھیوں کا جگمگاتا ہوا جلوس گزارا جاتا تھا۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت امور سلطنت میں مصروف ہو جاتا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں دیوان عام کا نام ’’تخت‘‘ رکھ دیا گیا۔ لیکن یہ سکھ حکمران خود شاہی تخت پر کسی وجہ سے کبھی براجمان نہ ہوا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد اس کی ارتھی جلائے جانے سے پہلے کچھ وقت کے لیے دیوان عام میں رکھی گئی۔ 1891ء میں سکھوں کی باہمی چپقلش کے نتیجے میں دیوان عام کو بہت نقصان پہنچا۔

سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بیوی مہارانی چند کور کے خلاف جب سکھ سردار شیر سنگھ نے بادشاہی مسجد کے میناروں سے زمبورک توپوں کے ذریعے گولہ باری کی تو دیوان عام کا بہت ساحصہ گر گیا جسے انگریزوں نے شاہی قلعہ لاہور پر تسلط حاصل کرنے کے فوراً بعد ہی ازسر نو تعمیر کیا۔ یہ نئی تعمیر انگریزی طرز تعمیر کے مطابق ہے۔ اس طرح اس عمارت کی مغلئی شکل تبدیلی ہو گئی۔ اور اس کی تمام محرابوں کو اینٹوں سے پُر کرکے ایک وسیع ہال میں تبدیل کر کے لکڑی کے تختے لگا کر کمرے بنا لیے گئے اور اسے ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1927ء تک یہ عمارت بطور ہسپتال استعمال ہوتی رہی۔ 1927ء میں محکمہ آثار قدیمہ نے دیوان عام کو اپنی تحویل میں لے یا اور تمام اضافی تعمیرات کو ہٹا کر ایوان کو پھر کشادہ کر دیا گیا۔

جاوید اقبال

شہنشاہِ ظرافت عمر شریف ہر روپ میں منفرد

شاید دنیا میں کوئی ایسی مثال مل جائے مگر پاکستان میں وہ اپنی طرز کا واحد اداکار ہے جسے آڈیو کیسٹ کے ذریعے ملک گیر مقبولیت ملی اور بعد میں ویڈیو کیسٹ کے ذریعے اس کی شہرت و مقبولیت ایک سمندر تو کیا سات سمندر پار تک پھیل گئی۔ عہد حاضر کے اس منفرد اور ہرفن مولا اداکار کا نام عمر شریف ہے۔ کمپیئر، اداکار، صداکار، سکرپٹ رائٹر، نغمہ نگار، ڈائریکٹر، گلوکار، فلمساز اور نہ جانے کیا کیا۔ فن اداکاری کا کونسا ایسا شعبہ ہے جاں عمر شریف کے نام کا ڈنکا نہیں بجا۔ آڈیو کیسٹ، ریڈیو، تھیٹر، ٹی وی، فلم ۔ عمر شریف فلموں میں کامیڈین بھی بنا اور ہیرو بھی آیا۔ ٹی وی ڈراموں میں بطور اداکار کام کیا ، بعد میں ٹی وی شو کا میزبان بنا، لاتعداد کامیاب شوز ٹی وی سے نشر ہوئے۔ ’’ہپ ہپ ہرے‘‘ اور ’’عمر شریف شو‘‘ 1980 کی دہائی میں عمر شریف نے ایک انوکھا کام کیا۔

مزاحیہ پروگراموں پر مشتمل آڈیو کیسٹ بنائے۔ اس وقت آڈیو کیسٹ کے بزنس کا عروج تھا، عمر شریف کے کیسٹ بازار میں آتے ہی ہاتھوں ہاتھ بِک جاتے تھے۔ پھر اپنے اسٹیج ڈراموں کو ویڈیو کیسٹ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلا دیا۔ عمر شریف نے ایک موقع پر کہا تھا۔ میری شہرت اور کامیابی کے پیچھے کسی ڈائریکٹر کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس سائنس دان کا ہاتھ ہے جس نے وی سی آر ایجاد کیا تھا۔ 1955ء میں کراچی میں جنم لینے والے عمر شریف کا اصل نام محمد عمر ہے۔ 1974ء میں جب تھیٹر میں کام شروع کیا اپنا نام عمر شریف رکھ لیا۔ عمر شریف ایک مصری اداکار بھی ہے جو ہالی وڈ کی فلموں میں کام کرتا رہا ہے۔ شروع میں عمر شریف نے اپنے فن کار دوستو ں کا ایک گروپ بنایا جو شادیوں اور دیگر تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔

آہستہ آہستہ باقاعدہ تھیٹرمیں بھی کام کرنا شروع کر دیا جیسا کہ سطور بالا میں لکھا گیا ۔ عمر شریف نے انتہائی ذہانت سے آڈیوکیسٹ اور ویڈیو کیسٹ کی ایجادات کا استعمال کیا۔ کراچی میں جب عمر شریف کا کوئی اسٹیج ڈرامہ چلتا ساتھ ہی اس کی ویڈیو کیسٹ بھی مارکیٹ میں آجاتی جو ساری دنیا میں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں پہنچ جاتی۔ اس طرح عمر شریف کی مقبولیت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ پاکستان میں اس سے پہلے ایسا تجربہ کسی نے نہیں کیا تھا۔ ’’بکرا قسطوں پر‘‘ عمر شریف کا ایک ایسا اسٹیج ڈرامہ ہے جو بے انتہا مشہور ہوا۔ شاید ہی پاکستان میں کسی اسٹیج ڈرامے کو اس قدر مقبولیت ملی ہو ۔اس ڈرامے کے چار حصے بنائے گئے جو وقفے وقفے سے تھیٹر پر پیش کیے گئے۔ ان چاروں حصوں نے شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔

 ’’بکرا قسطوں پر II‘‘ کی جب ویڈیو کیسٹ ریلیز ہوئی ٹھیک اسی دن بھارتی سینما کے سپر اسٹار امیتابھ بچن کی شہرئہ آفاق فلم شہنشاہ بھی پاکستان میں ویڈیو کیسٹ کے ذریعے آئی تھی۔ اس زمانے میں کسی بھی فلم کی ویڈیو کا کرایہ 10روپے 24 گھنٹوں کے لیے ہوتا تھا۔ شہنشاہ اور ’’بکرا قسطوں پر II‘‘کے ویڈیو کیسٹ 50 روپے میں بلیک ہوتے ۔ اس وقت عمر شریف شہرت اور مقبولیت کی تمام حدیں پار کر چکا تھا۔ بھارت میں عمر شریف بے انتہا مقبول ہو چکا تھا۔ اسٹیج بولے جانے والے عمر شریف کے جملوں کو بھارت میں کاپی کیا جانے لگا تھا۔ عمر شریف اور معین اختر نے لاتعداد ڈراموں میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ۔ دونوں ہی بڑے فن کار تھے اور مقبولیت میں بھی ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے۔

معین اختر سینئر تھے۔ عمر شریف ان کے جونیئر تھے مگر یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے جب بھی تھیٹر پر یہ دونوں عظیم فن کار آمنے سامنے آتے ہمیشہ عمر شریف کے جملوں اور جگتوں پر شائقین کے قہقہے زیادہ بلند نکلے۔ اس بات کا ہرگز مقصد یہ نہیں عمر شریف معین اختر سے بڑا فن کار ہے۔ 1990ء کے اور اس کے بعد 90 کی دہائی میں عمر شریف کو جنوبی ایشیا کا کنگ آف کامیڈی کا خطاب دیا گیا اس کی مقبولیت بھارت اور بنگلہ دیش میں بہت بڑھ چکی تھی۔ ان ممالک میں عمر شریف نے لاتعداد کامیاب شوز کیے تھے۔ عمر شریف نے ایک اسٹیج ڈرامہ لوٹے اور لفافے لاہور میں کیا۔ جس کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ اس تھیٹر پلے کی کہانی کچھ یوں تھی ایک چورن فروش چھوٹے چھوٹے فراڈ کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک بڑا نوسرباز بن جاتا ہے۔ پھر وہ سیاست میں آ جاتا ہے اور ایک دن ملک کا وزیراعظم بن جاتا ہے۔

یہ 1996 ء کی بات ہے اس وقت کی قومی اسمبلی میں اس اسٹیج ڈرامے کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی اور سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس وقت کے قائد حزب اختلاف نے بھی اس ڈرامے کے خلاف اسمبلی میں تقریر کی۔ اس طرح عمر شریف کا ایک اور تھیٹر ڈرامہ ’’عمرشریف حاضر ہو‘‘ بھی بہت مشہور ہوا۔ جس میں انہوں نے ایک وکیل کا کردار ادا کیا۔ ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشن نے اس ڈرامے کے بعد عمر شریف پر مقدمہ بھی درج کیا۔ تاہم بعد میں اس مقدمے کی مزید سماعت ہونے سے قبل ہی دونوں فریقین میں صلح ہو گئی۔ اس دوران عمر شریف نے بطور اداکار، مصنف و ہدایت کار ایک فلم ’’مسٹر420‘‘ بھی بنائی جو بے انتہا کامیاب رہی۔ اس فلم میں انہوں نے تین مختلف کردار بڑی مہارت سے ادا کیے۔ خاص طور پر ایک کردار جو جنگل میں رہتا ہے اور بندروں جیسی عادات کا مالک ہوتا ہے۔ عمر شریف کے اس کردار کو بہت سراہا گیا۔

اس کے بعد ان کی فلم ’’مسٹر چارلی‘‘ نے بھی بہت کامیابی حاصل کی۔ بعد میں عمر شریف کی چند اور فلموں نے بھی کامیابیاں حاصل کیں مگر ایک بات غورطلب یہ ہے کہ عمر شریف کی اداکاری کو صرف ان فلموں میں زیادہ سراہا گیا جس کے ڈائریکٹر وہ خود تھے۔ بھارتی ٹی وی چینل میں ہونے والے بہت بڑے کامیڈی ٹی وی شو میں عمر شریف کو بطور جج مدعو کیا گیا جہاں ان کے فن کا اعتراف بھارتی ایکٹر شیکھر سمن نے بھی کیا۔ انہوں نے بھارت میں ایک فلم بطور مصنف و ہدایت کار شروع کی تھی جس میں راجیش کھنہ کو کاسٹ کیا گیا تھا مگر وہ بھی چند دن کی عکس بندی کے بعد ڈبوں میں بند ہو گئی۔ عمر شریف ایک بڑا سرکاری اعزاز تمغہ امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ آج بھی مختلف ٹی وی چینل پر ان کے شوز کامیابی سے دکھائے جا رہے ہیں۔

حسنین جمیل

پاکستان کے مختلف علاقوں کے مشہور کھانے

دنیا بھر میں پاکستان کے کھانے مشہور ہیں، یہاں کے کھانے چٹپٹے اور لذیذ ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسی کھانے ہیں جو پاکستان کے شہروں کی پہچان ہے۔ آج ہم آپ کو ان کھانوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے منفرد ذائقے کے اعتبار سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔

لاہور کے مشہور کھانے

لاہور اپنے خاص پکوانوں کی وجہ سے کافی مشہور ہے لاہور کے لوگ کھانا پسند کرتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے بھی ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ لاہوری چرغہ لاہور کا چرغا پورے پاکستان میں مشہور ہے، لاہور کے چرغے میں منفرد اور مختلف مصالحہ جات استعمال کئے جاتے ہیں، جس سے چرغے کا ذائقہ اتنا لذیز ہو جاتا ہے کہ کھانے والے اپنی انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

لاہور کے سری پائے

سری پائے اور خاص طور پر لاہور کے پھجے کے سری پائے کا ذکر تو آپ نے سنا ہو گا، جس کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر ہوتا ہے، لاہوری ناشتہ میں حلوہ پوری ، نہاری ، اور سری کھانا پسند کرتے ہیں۔

ملتان کا سوہن حلوہ

ملتان کا سوہن حلوہ ایسی سوغات ہے جو نہ صرف ملتان میں رہنے والے بلکہ دیگر شہروں سے آنے والے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں۔ ملتان کا سوہن حلوہ اپنے ذائقے کے باعث دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے، ملتان کے سوہن حلوے کی خوشبو اتنی سوندھی ہوتی ہے کہ کھائے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ جب کوئی شخص ملتان آئے اور سوہن حلوہ نہ کھائے ایسا تو ممکن نہیں جبکہ آنے والے سوہن حلوہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کیلئے بطور تحفہ بھی لے جاتے ہیں۔

خان پور کے پیڑے

خان پور کے پیڑے اپنے منفرد ذائقے اور لذت کی وجہ سے پورے پاکستان میں کافی مشہور ہے، لوگ ان پیڑوں کو بہت شوق سے کھاتے اور دوستوں کیلئے لے جاتے ہیں۔

اندورنِ سندھ کے مشہور کھانے

سندھی بریانی

سندھی بریانی پاکستان بھر میں مشہور ہے، اسکو سندھ کی ایک روایت ڈش تصور کیا جاتا ہے، یہ گوشت اور چاول کے ساتھ مل کر بنتی ہے، اس کا ذائقہ دوسری بریانی سے الگ ہوتا ہے۔

حیدرآبادی مرچوں کا سالن

حیدرآبادی کھانے اپنے منفرد مصالحوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں، یہ صوبہ سندھ کے مشہور ڈش میں سے ایک ہے، ایک اور مقبول ڈش ہے۔

شکار پور کا اچار

اگر آپ نے شکارپور کے اچار اور مربے نہیں کھائے تو دسترخوان کا ذائقہ ادھورا سمجھیے، شکار پور کا اچار اپنے کھٹاس اور ذائقے کے لحاظ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے اور لوگ اسے کافی شوق سے کھاتے ہیں جبکہ اس کو فرمائش کر کے منگوایا بھی جاتا ہے۔

حیدر آباد کی ربڑی

ربڑی اور وہ بھی حیدرآباد کی ربڑی ہو تو مزہ ہی دوبالا ہو جاتا ہے، اس کا ذائقہ اتنا لزیذ ہوتا ہے کہ کھاتے ہی جائے لیکن دل نہیں بھرتا۔

کراچی کے مشہور کھانے

کراچی میں ملنے والے کھانے اور پکوان لذت اور معیار کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوتے ہیں، کراچی میں بن کباب ، مزیدار مٹکے والے دہی بڑے، چنا چاٹ ، دہراجی کا گولہ گنڈا ، بریانی ، نہاری ، لیاقت آباد کے گول کپے ، فریسکو کے دہی بڑے اور سموسے، پراٹھا اور چائے بہت مشہور ہے۔

پشاور کے مشہور کھانے

پشاور کے چپلی کباب

پشاور کے چپلی کباب پاکستان بھر کے علاوہ دنیا بھر میں اپنی لذت اور ذائقہ کے لئے مشہور ہیں، چپل کبابوں کے بننے کی خوشبو نہ صرف مقامی افراد بلکہ باہر سے آنے والوں کو بھی اپنی طرف کھینچتی ہے، چپل کباب خاص طور پر گائے کے گوشت سے بنائے جاتے ہیں مگر چپل کباب بکرے، بھیڑ اور مرغی کے گوشت سے بھی بن سکتے ہیں۔ چپلی کباب پشتو کے لفظ چپرخ سے نکلا ہے، جس کا معنی ہے گول ، فلیٹ۔ یا چپٹا۔

بلوچستان کے مشہور کھانے

بلوچی سجی

سجی نہ صرف ایک بہترین روایتی ڈش ہے بلکہ یہ بلوچستان کی پہچان بھی بن چکی ہے، جو بھی اسے کھاتا ہے اسے بار بار کھانے کی خواہش ہوتی ہے، سجی کی تیاری میں بکرے کی ران اور دستی کو دہکتے کوئلوں کی آگ سے اسے اپنے منفرد انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔ سجی واحد ڈش ہے جو بغیر گھی کے پکائی جاتی ہے، تمام روایتی ڈشوں میں سجی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بلوچستان اپنے لذیذ اور خوش ذائقہ کھانوں اور مہمان نوازی کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔

چترالی منتو

چترالی منتو ایک روایتی ڈش ہے ، جو گائے کے گوشت اور  دنبے کے گوشت سے بنتی ہے، اس کو بنانے کیلئے گوشت میں پیاز کے ساتھ تمام مصالحے ڈال کر مکس کیا جاتا ہے، پھر ڈولی جاتی ہے اور چھوٹے چھوٹے پیڑے بنا لئے جاتے ہیں اور ان پیڑوں کے بیچ میں مصالحہ لگا گوشت رکھ کر بند کردیا جاتا ہے۔ ایک اسٹیل کے برتن میں منتو کو بھاپ میں پکایا جاتا ہے۔

تحریر :عائشہ حنین

پاکستان کے مختلف علاقوں کے مشہور کھانے

دنیا بھر میں پاکستان کے کھانے مشہور ہیں، یہاں کے کھانے چٹپٹے اور لذیذ ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسی کھانے ہیں جو پاکستان کے شہروں کی پہچان ہے۔ آج ہم آپ کو ان کھانوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے منفرد ذائقے کے اعتبار سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ 
لاہور کے مشہور کھانے
لاہور اپنے خاص پکوانوں کی وجہ سے کافی مشہور ہے لاہور کے لوگ کھانا پسند کرتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے بھی ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ لاہوری چرغہ لاہور کا چرغا پورے پاکستان میں مشہور ہے، لاہور کے چرغے میں منفرد اور مختلف مصالحہ جات استعمال کئے جاتے ہیں، جس سے چرغے کا ذائقہ اتنا لذیز ہو جاتا ہے کہ کھانے والے اپنی انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
لاہور کے سری پائے
سری پائے اور خاص طور پر لاہور کے پھجے کے سری پائے کا ذکر تو آپ نے سنا ہو گا، جس کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر ہوتا ہے، لاہوری ناشتہ میں حلوہ پوری ، نہاری ، اور سری کھانا پسند کرتے ہیں۔ 
ملتان کا سوہن حلوہ
ملتان کا سوہن حلوہ ایسی سوغات ہے جو نہ صرف ملتان میں رہنے والے بلکہ دیگر شہروں سے آنے والے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں۔ ملتان کا سوہن حلوہ اپنے ذائقے کے باعث دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے، ملتان کے سوہن حلوے کی خوشبو اتنی سوندھی ہوتی ہے کہ کھائے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ جب کوئی شخص ملتان آئے اور سوہن حلوہ نہ کھائے ایسا تو ممکن نہیں جبکہ آنے والے سوہن حلوہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کیلئے بطور تحفہ بھی لے جاتے ہیں۔
خان پور کے پیڑے
خان پور کے پیڑے اپنے منفرد ذائقے اور لذت کی وجہ سے پورے پاکستان میں کافی مشہور ہے، لوگ ان پیڑوں کو بہت شوق سے کھاتے اور دوستوں کیلئے لے جاتے ہیں۔ 
اندورنِ سندھ کے مشہور کھانے 
سندھی بریانی
سندھی بریانی پاکستان بھر میں مشہور ہے، اسکو سندھ کی ایک روایت ڈش تصور کیا جاتا ہے، یہ گوشت اور چاول کے ساتھ مل کر بنتی ہے، اس کا ذائقہ دوسری بریانی سے الگ ہوتا ہے۔ 
حیدرآبادی مرچوں کا سالن
حیدرآبادی کھانے اپنے منفرد مصالحوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں، یہ صوبہ سندھ کے مشہور ڈش میں سے ایک ہے، ایک اور مقبول ڈش ہے۔ 
شکار پور کا اچار
اگر آپ نے شکارپور کے اچار اور مربے نہیں کھائے تو دسترخوان کا ذائقہ ادھورا سمجھیے، شکار پور کا اچار اپنے کھٹاس اور ذائقے کے لحاظ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے اور لوگ اسے کافی شوق سے کھاتے ہیں جبکہ اس کو فرمائش کر کے منگوایا بھی جاتا ہے۔
حیدر آباد کی ربڑی
ربڑی اور وہ بھی حیدرآباد کی ربڑی ہو تو مزہ ہی دوبالا ہو جاتا ہے، اس کا ذائقہ اتنا لزیذ ہوتا ہے کہ کھاتے ہی جائے لیکن دل نہیں بھرتا۔ 
کراچی کے مشہور کھانے
کراچی میں ملنے والے کھانے اور پکوان لذت اور معیار کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوتے ہیں، کراچی میں بن کباب ، مزیدار مٹکے والے دہی بڑے، چنا چاٹ ، دہراجی کا گولہ گنڈا ، بریانی ، نہاری ، لیاقت آباد کے گول کپے ، فریسکو کے دہی بڑے اور سموسے، پراٹھا اور چائے بہت مشہور ہے۔ 
پشاور کے مشہور کھانے
پشاور کے چپلی کباب
پشاور کے چپلی کباب پاکستان بھر کے علاوہ دنیا بھر میں اپنی لذت اور ذائقہ کے لئے مشہور ہیں، چپل کبابوں کے بننے کی خوشبو نہ صرف مقامی افراد بلکہ باہر سے آنے والوں کو بھی اپنی طرف کھینچتی ہے، چپل کباب خاص طور پر گائے کے گوشت سے بنائے جاتے ہیں مگر چپل کباب بکرے، بھیڑ اور مرغی کے گوشت سے بھی بن سکتے ہیں۔ چپلی کباب پشتو کے لفظ چپرخ سے نکلا ہے، جس کا معنی ہے گول ، فلیٹ۔ یا چپٹا۔
بلوچستان کے مشہور کھانے
بلوچی سجی
سجی نہ صرف ایک بہترین روایتی ڈش ہے بلکہ یہ بلوچستان کی پہچان بھی بن چکی ہے، جو بھی اسے کھاتا ہے اسے بار بار کھانے کی خواہش ہوتی ہے، سجی کی تیاری میں بکرے کی ران اور دستی کو دہکتے کوئلوں کی آگ سے اسے اپنے منفرد انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔ سجی واحد ڈش ہے جو بغیر گھی کے پکائی جاتی ہے، تمام روایتی ڈشوں میں سجی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بلوچستان اپنے لذیذ اور خوش ذائقہ کھانوں اور مہمان نوازی کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔
چترالی منتو
چترالی منتو ایک روایتی ڈش ہے ، جو گائے کے گوشت اور  دنبے کے گوشت سے بنتی ہے، اس کو بنانے کیلئے گوشت میں پیاز کے ساتھ تمام مصالحے ڈال کر مکس کیا جاتا ہے، پھر ڈولی جاتی ہے اور چھوٹے چھوٹے پیڑے بنا لئے جاتے ہیں اور ان پیڑوں کے بیچ میں مصالحہ لگا گوشت رکھ کر بند کردیا جاتا ہے۔ ایک اسٹیل کے برتن میں منتو کو بھاپ میں پکایا جاتا ہے۔
تحریر :عائشہ حنین