اٹک کا تاریخی قلعہ

اگست1581ء میں ایک روز دوپہر مغل شہنشاہ اکبر نے ایک تقریب میں اٹک کے قلعہ کی بنیاد رکھی جب اس نے محمد حکیم مرزا گورنر کابل پر فتح پائی اس واقعہ کی یاد گار کے طور پر سنگ مرمر کی تختی پر فارسی شعر کندہ کیا گیا۔ جب سورج کی پہلی شعاع گیٹ پر پڑتی ہے تو یہ عبارت صاف پڑھی جاتی ہے۔ ابجد کے حساب سے اس قلعہ کی تاریخ 99 ہجری 1581ء نکلتی ہے۔ اس عمارت کی تعمیر کے متعدد مقاصد تھے ایک تو بیرونی شمالی حملہ آوروں کی دریا کے پاٹ سے عبور کرنے کی جگہ کی حفاظت، مستعدی اور دوسری وجہ مرزا محمد حکیم دودھ بھائی شہنشاہ اکبر جو اس وقت قابل کا گورنر تھا۔ بہار اور بنگال کی فتح کے بعد جو پہلے اکبر کے قبضہ میں تھیں مرزا محمد حکیم کے وزیروں نے اکبر کی غیر موجودگی میں اکبری علاقوں پر قبضہ کا مشورہ دیا۔

مرزا حکیم بنیادی طور پر کمزور آدمی تھا اور نہ ہی اتنے بڑے زرخیز علاقے پر حکمرانی کی صلاحیت اس میں تھی۔ یہ سب کچھ اگست 1581ء میں ہوا ۔ تب اکبر کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہاں دریائے سندھ کے کنارے شمالی حملہ آوروں کی روک تھام کے لیے ایک قلعہ ہونا چاہیے۔ یہ کام اکبر نے خواجہ شمس الدین خان کے سپرد کیا جو بعد میں پنجاب کا دیوان مقرر ہوا۔ اکبر کی ہدایات کی پیروی میں دو سال دو ماہ کی مدت میں قلعہ مکمل کر لیا۔ ملا عبدالقادر بدایونی لکھتے ہیں کہ ربیع الثانی 99ھ میں بادشاہ نے سندھ کے کنارے قلعہ کی تعمیر کا حکم دیا ۔ایک چھوٹا قلعہ جسے اٹک بیرص‘‘ کا نام دیا ایک اور کہانی جواس قلعہ کی تعمیر کی بابت ملتی ہے ، اکبر نے جب دیکھا کہ دریائے سندھ پار نہیں ہوتا تو اس نے اس جگہ کو ایک نام دیا، اٹک یعنی روک۔ جب اسے وہ پار کر گیا تو اس نے خیر آباد کا نام دیا۔ قلعہ کی تعمیر کے بعد اکبر نے پہلی بار قلعہ کو 1585ء میں دیکھا اور سال کا کچھ حصہ اس جگہ پر گزارا اور وہاں 1588ء میں دوبارہ گیا اور تانبے کے سکوں کی ٹکسال وہاں قائم کی۔

قلعہ اٹک دریائے سندھ کے کنارے راولپنڈی سے 58 میل اور 47 میل پشاور سے جرنیلی سڑک پر واقع ہے جہاں ریل کے ذریعے بھی پہنچا جا سکتا ہے۔ قلعہ سطح سمندر سے بلند ہے۔ جو ایک خطرناک علاقے اور دو چٹانوں کملیہ اور جلیلہ کے درمیان واقع ہے ان چٹانوں کا نام کمال الدین اور جلال الدین کے نام پر رکھا گیا جو روشنیہ فرقہ کے بانی کے دو بیٹے تھے جنہیں دریا میں سزا کے طور پر پھینکا گیا کیونکہ وہ اپنے باپ کے نظریات کا پرچار اکبر کے دور میں کرتے تھے۔ فن تعمیر کے لحاظ سے اٹک قلعہ واضح کرتا ہے کہ یہ خالصتاً فوجی مقاصد کے لیے تعمیر کیا گیا اس کی چار دیواری ایک میل چاروں اطراف سے ہے جو اٹھارہ برجوں کے ساتھ ملتی ہے ۔ تمام گولائی دار ہیں ماسوائے ایک کے جو زاویہ قائمہ پر ہے ایک گیلری ان برجوں کو آپس میں ملاتی ہے جس کے نیچے متعدد گارڈ رومز ہیں۔ قلعہ کے برج مقامی چٹانی پتھر سے بنائے گئے ہیں۔ جن پر چونے کی دبیز تہہ چڑھائی گئی ہے۔ داخلی دروازوں پر سرخ پتھر استعمال ہوا ہے جبکہ قلعہ کا دیگر حصہ لاجوردی ٹائیلوں سے بنا ہے ۔اس کا ڈیزائن ویلر نے اپنی کتاب Five Thousand Years of Pakistan میں دیا ہے۔

کیا پاکستان کا مسئلہ واقعی ‘غربت’ ہے؟

موجودہ دور میں سب سے اہم سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ، دونوں مقامی اور عالمی سطح پر، محض غربت نہیں بلکہ عدم برابری ہونا چاہیے۔ غربت کا حل کافی حد تک آسان رہا ہے جبکہ عدم برابری کو کم کرنا نہایت ہی پیچیدہ بلکہ قریب قریب ناممکن سا عمل ہے۔ غربت کو زیادہ تر لوگ، خاص طور پر مالی طور پر بہتر حالت رکھنے والے اور مراعات یافتہ طبقہ، غربت کو کچھ معاشی اور سماجی اثرات کے ساتھ ایک اخلاقی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب عدم برابری واضح طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کے لیے بڑی سطح پر فہم اور اقدام مطلوب ہے۔

گزشتہ چوتھائی صدی کے دوران دنیا میں رہنے والے 7 ارب لوگوں کے لیے سب سے زیادہ غیر معمولی پیش رفتوں اور کامیابیوں میں ایک عالمی سطح پر غربت میں بڑی سطح پر کمی واقع ہونا ہے۔ جہاں 1990 میں عالمی آبادی کا 37.1 فیصد حصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا تھا وہاں 2012 میں یہ تعداد 18.8 فیصد تھی۔ اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ حیران کن غربت میں گراوٹ جنوبی ایشاء میں دیکھنے کو ملی، جہاں 1991 میں غربت کا تناسب 50.6 فیصد تھا وہاں یہ تعداد صرف 12.7 فیصد تک رہ گئی۔ یہاں تک کہ پاکستان کی صورتحال پر جائزہ لیں تو شواہد دکھاتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں یا اس سے زائد کے عرصے کے دوران غربت کی سطح میں بے پناہ گراوٹ ہوئی ہے۔

ورلڈ بینک کے شواہد کافی حد تک واضح کرتے ہیں کہ، “پاکستان میں 2001 سے کافی تیزی کے ساتھ اور مسلسل طور پر غربت میں گرواٹ واقع ہوئی ہے، غربت کی شرح 35 فیصد قریب سے گر کر 2014 تک 10 فیصد تک آ پہنچی ہے۔” پاکستان اور عالمی دنیا میں غربت میں کمی واقع ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں ٹارگیٹڈ کیش منتقلی اور اس سے جڑے پروگراموں کی صورت میں سماجی اور معاشی مداخلت، آمدن میں اضافہ، اور سماجی اور انفرا اسٹریکچر اور ترقی شامل ہیں۔ پاکستان کی جہاں تک بات ہے تو جہاں کئی عناصر نے غربت کم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے وہاں رقم منتقلیوں ایک سب سے اہم وجہ رہی ہے۔

علاوہ ازیں، ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں 18 فیصد غریب ترین گھرانوں کے پاس موٹرسائیکل ہیں، یہ شرح 15 سال قبل صرف 2 فیصد ہی تھی؛ غریب ترین آبادی میں جن کے پاس کسی قسم کے ٹوائلٹ نہیں تھے ان کی شرح نصف سے آپہنچی ہے — جو پہلے 60 فیصد تھی اب کم ہو کر 30 فیصد رہ گئی ہے؛ یہاں تک کہ پاکستان میں کم مالی حیثیت رکھنے والے گھرانوں میں مختلف خوراک کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، اور ان میں ڈیری، گوشت، بھل اور سبزیوں کا استعمال بڑی حد تک بڑھا ہے۔ اسی طرح دیہی غذا میں شہری خوراک جیسی پسندیدگی اور ذائقے جیسی یکسانیت بھی آئی ہے، جیسا کہ اکثر ترقی کے ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔

کئی پاکستانیوں، خاص طور پر مراعات یافتہ طبقے کے لیے ان شواہد کو قبول کرنا مشکل ہے کیونکہ انہیں تو غربت ہر جگہ نظر آتی ہے۔ وہ دراصل جو دیکھتے ہیں وہ عدم برابری ہے، جو ان کے نزدیک عام فہم، عام مروج خیالی میں اسے غربت کا نام دیتے ہیں۔ غربت کو اکیڈمک اور حکومت کے اعتبار سے جس انداز میں غربت کو بیان اور اس کی پیمائش کی جاتی ہے، اس کے مطابق غربت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے پاس ایک خاص نوعیت کی مصنوعات، جس میں زیادہ تر خوراک اور دیگر سامان شامل ہے، کو خرید کرنے لائق آمدن نہ رکھتے ہوں۔

اکیڈمک شواہد پاکستان میں غربت کی انتہائی کمی واقع ہونے کے بارے میں نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ لوگ جن میں زیادہ تر غریب تھے وہ غربت سے نکل چکے ہیں اور اب وہ زیادہ خوراک اور تعلیم، صحت اور بہتر مکان جیسی دیگر سہولیات کی اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں غربت میں کمی واقع ہونے کے باوجود عدم برابری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں جہاں غربت پر سینکڑوں تحقیقیں ہو چکی ہیں اس مقابلے میں عدم برابری پر بہت ہی محدود تحقیقیں ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود دانشوروں کی تحقیق اور حتیٰ کہ سرکاری کے اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران آمد کی تقسیم واضح طور پر عدم مساوی کا شکار رہی ہے۔ دیگر لفظوں میں کہیں تو امیر اور بھی امیر ہو گئے ہیں اور ان کے اور باقی آبادی کے درمیان خلا میں اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران “متوسط طبقے” میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے، مگر آبادی میں موجود 60 فیصد اور 40 فیصد امرا کے درمیان آمدن اور اثاثوں کی تفریقات میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ ایک بار پھر واضح کر دوں کہ ان 60 فیصد غریبوں میں سے صرف چند ایک ایسے ہیں جنہیں حقیقی طور پر غریب افراد کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ اب بھی چند ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو پاکستان میں جاگیرداری کی خام خیالی میں یقین رکھتے ہیں، مگر اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں میں عدم برابری کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ شہری علاقوں میں انتہائی امیر اور انہتائی غریب گھرانوں کی یہی وجہ ہے، جہاں آمدنیوں اور دہاڑیوں میں بڑی حد تک تفریقات نظر آتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں زیادہ تر زمیندار یا تو چھوٹے ہیں یا بہت ہی چھوٹے ہیں، اس طرح عدم برابری میں شدت بھی کم ہے۔ درحقیقت دیہی عدم برابری میں حقیقی طور پر کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ شہری عدم برابری میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان اب شہری، غالباً پوری طرح سے، آبادی پر مشتمل ہے اور چنانچہ ایسے اعداد و شمار میں آگے آگے ہے۔

بات صرف آمدن کی عدم برابری تک محدود نہیں جو کہ بد سے بدتر ہوئی ہے بلکہ پاکستان میں بڑی حد تک صوبائی خودمختیاری اور وسائل دینے جیسے اقدامات کے باوجود علاقائی عدم برابری بھی بد سے بدتر ہوئی ہے۔ جہاں شہری پنجاب اور خیبر پختونخوا دیہی سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان سے کہیں زیادہ خوشحال ہیں، وہاں پنجاب اور سندھ میں عدم مساوات کی سطح خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے زیادہ ہے. گذشتہ تین دہائیوں کی واحد خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں صنفی عدم توازن کافی حد تک کم ہوا ہے، بھلے ہی یہ اب بھی ختم نہیں ہوا ہے. عام تصور ہے کہ لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں، مگر گذشتہ دہائی کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں اسکول جاتی ہیں. لڑکیاں تیزی سے اسکول میں لڑکوں کی تعداد کا مقابلہ کر رہی ہیں.

اس کے علاوہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سال 15-2014 میں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں 52 فیصد لڑکیاں جبکہ 48 فیصد لڑکے زیرِ تعلیم تھے. غربت میں کمی کے لیے صرف رقوم کی فراہمی درکار ہے. دوسری جانب بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا ایک طبقے کی جانب سے استحصال ختم کرنا ہو گا، جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے. امیروں کے امیر تر ہونے، مڈل کلاس کے وسیع تر ہونے سے اور سیاسی کنٹرول پیسے والوں کے ہاتھوں میں ہونے سے پاکستان میں عدم مساوات صرف بڑھے گی ہی.

ایس اکبر زیدی

بشکریہ ڈان اردو

ڈان لیکس اور سول ملٹری ٹینشن

ڈان لیکس سکینڈل گزشتہ سال اکتوبر میں ظہور پذیر ہوا جب وزیراعظم ہائوس میں
ہونیوالے قومی سلامتی کے اجلاس کے حوالے سے پاک فوج کے بارے میں اشتعال انگیز، بے بنیاد اور پلانٹڈ سٹوری ڈان اخبار کے فرنٹ پیج پر شائع کی گئی۔ اس وقت سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی ’’اخلاقی اتھارٹی‘‘ کا سورج پوری آب و تاب کیساتھ چمک رہا تھا۔ آئینی اتھارٹی کے مالک وزیراعظم دبائو میں آ گئے انہوں نے نہ صرف وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو فارغ کر دیا بلکہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دینے پر بھی آمادہ ہو گئے۔ غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق سابق عسکری قیادت نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر حکومت نے ڈان لیکس پر ٹھوس اور سنجیدہ کاروائی نہ کی تو ذمے دار افراد کو بلا تفریق پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے تفتیش کی جائیگی۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں غیر معمولی تاخیر کی گئی تا کہ قومی سلامتی پر ڈٹ جانیوالا سپہ سالار رخصت ہو جائے اور نیا سپہ سالار ڈان لیکس کے سلسلے میں حکومت کو توقع کیمطابق ’’ریلیف‘‘ دینے پر آمادہ ہو جائے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف گورنینس اور سکیورٹی امور کے سلسلے میں اہلیت ثابت نہیں کر سکے ان کو یہ ادراک نہیں ہو سکا کہ کوئی آرمی چیف قومی سلامتی کے امور پر کمپرومائز کرنے کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ انتہائی نازک اور حساس مسئلہ ہے جس پر کمپرومائز کرنے سے فوج کے اندر بغاوت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کو خفیہ رپورٹیں ملتی رہیں کہ نئے سپہ سالار جنرل جاوید قمر باجوہ کو فوج کے افسروں کی جانب سے ڈان لیکس کے بارے میں سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور فوج کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے حساس اداروں کی ان رپورٹوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وزیراعظم کے ساتھ کام کرنیوالے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کی رائے ہے کہ میاں نواز شریف اہم قومی امور کے فہم اور ادراک کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ ان کا ایک ہی جنون ہے کہ شاہرائیں اور موٹرویز تعمیر کی جائیں کیونکہ یہ نظر آنیوالے، ووٹ اور نوٹ بنک بڑھانے والے منصوبے ہیں۔ جس طرح بقول شاعر یزداں تخلیق کائنات کے ’’دلچسپ جرم‘‘ پر کبھی کبھی ہنستا ہو گا اسی طرح پاک فوج کے جرنیلوں کو بھی ’’عاقبت نا اندیشانہ جرم‘‘ پر پچھتاوا ہو گا کہ انہوں نے اہلیت اور میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے الطاف حسین اور میاں نواز شریف کا بطور لیڈر انتخاب کیا اور انہیں پروموٹ کیا۔ بقول حبیب جالب ’’تیرے ذہن کی قسم خوب انتخاب ہے‘‘ فوج کے جرنیلوں کو یہ کہا جا سکتا ہے ’’تم ہی نے درد دیا تم ہی دوا دینا‘‘۔ پاکستانی قوم کی بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ مسلم لیگ قائداعظم سے میاں نواز شریف اور پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو سے آصف زرداری کے ’’معیار‘‘ تک پہنچ گئی ہے۔ چہ بلندی چہ پستی مگر اس کیلئے ووٹرز خود بھی ذمے دار ہیں جو بار بار ’’لٹیروں‘‘ کو ووٹ دیتے ہیں۔

پانامہ لیکس بنچ کے پانچ ججوں نے میاں نواز شریف کے بارے میں کیا کچھ کہہ دیا۔ وہ اگر اہل لیڈر ہوتے تو عدالت عالیہ کے فیصلے کے بعد پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے عظیم تر مفاد میں مستعفی ہو جاتے، اپنا جانشین نامزد کر کے سکون کے ساتھ آئینی ٹرم پوری کر لیتے مگر وہ چوں کہ مزاج اور فطرت کے اعتبار سے اول و آخر تاجر ہیں اس لیے وہ آبرومندانہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں انکی اخلاقی اتھارٹی برباد ہونے سے آئینی اتھارٹی بھی مفلوج ہو چکی ہے۔ مناسب وقت پر موزوں فیصلے کی صلاحیت ان میں نہیں ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب میں چشم کشا انکشافات کیے ہیں کہ انہوں نے کس طرح فوج کے جرنیلوں کو کرپٹ کرنے اور انہیں خاندان کا وفادار بنانے کی کوشش کی۔

اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر ان کیخلاف ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگا رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی پرامن تحریک کو مسلح طاقت سے کچلنے کیلئے جبروتشدد اور ظلم و ستم کی اس حد تک انتہا کر دی ہے کہ نیو یارک ٹائمز بھی چیخ اُٹھا ہے۔ بھارت ایل او سی پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔ ان حالات میں وزیراعظم پاکستان نے سی آئی اے اور را کے ایجنٹ اور پاکستان کے کٹڑ دشمن سجن جندل سے مری میں خفیہ ملاقات کر کے پاکستان کے عوام کو ششدر اور پاک فوج کو مزید مضطرب کر دیا۔ محترمہ مریم نواز شریف نہ تو وزیراعظم کی سرکاری ترجمان ہیں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی عہدیدار ہیں اسکے باوجود وہ حکومتی اور ریاستی امور کے بارے میں ٹویٹ کرتی رہتی ہیں انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جندل وزیراعظم کے پرانے دوست ہیں لہذا اس ملاقات کو اچھالا نہ جائے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کٹڑ دشمن وزیراعظم پاکستان کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم اگر اس خفیہ ملاقات کے سلسلے میں پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیتے تو انکے بارے میں قیاس آرائیاں اور بدگمانیاں پیدا نہ ہوتیں اور اپوزیشن جماعتوں کو انہیں ’’سکیورٹی رسک‘‘ کہنے کا موقع نہ ملتا۔ یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ ’’دوستوں‘‘نے میاں نواز شریف کو ’’ڈٹ جانے‘‘ کا پیغام بھیجا ہے تاکہ وہ پانامہ کیس میں نا اہل ہونے کی بجائے ’’سیاسی شہید‘‘ ہو کر اگلا انتخاب جیت سکیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ آمر اور منتخب حکمران ریاست کو آئین کے مطابق چلانے کا حلف تو اُٹھاتے رہے ہیں مگر عملی طور پر ہر حکمران نے آئین سے کھلا انحراف کیا۔ پاکستان کے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ ریاست پر آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔

ریاست کے تمام ادارے قانون کی طاقت کے بجائے طاقت کے قانون کے بل پر حکومتی نظم و نسق چلاتے ہیں۔ میاں نواز شریف پاکستان کو بیس کروڑ عوام کی ریاست نہیں بلکہ ذاتی جاگیر کی طرح چلا رہے ہیں۔ اب میاں نواز شریف ڈان لیکس کی رپورٹ روک کر افواج پاکستان کو مشتعل کر رہے ہیں۔ کیا اسلام اجازت دیتا ہے کہ کمزوروں کو قربانی کے بکرے بنا کر طاقتوروں کو بچا لیا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ریکارڈ پر ہیں کہ ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کے بارے میں رولز آف بزنس کیمطابق وزیراعظم سیکریٹریٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے اور قواعد و ضوابط کے مطابق وزارت داخلہ خود رپورٹ جاری کریگی۔ ثابت ہو چکا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ کا نوٹیفکیشن ’’بدنیتی اور نااہلی‘‘ پر مبنی تھا جس نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو غیر معمولی اور سخت ٹویٹ جاری کرنے پر مجبور کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اگر یہ ٹویٹ جاری نہ کیا جاتا تو پاک فوج کا اندرونی ڈسپلن متاثر ہوتا اور عوام کا قومی سلامتی کے ادارے پر اعتماد مضمحل ہوتا۔ البتہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ میں “Rejected” ’’مسترد کیا جاتاہے‘‘ کا لفظ غیر ضروری تھا۔ بہتر ہوتا اگر آرمی چیف ٹویٹ سے پہلے اہتمام حجت کیلئے وزیراعظم سے فون پر بات کر کے متفقہ اور مکمل نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کرتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بعد سول ملٹری ٹینشن شدت اختیار کر گئی ہے جو ہرگز ریاست کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت کے یہ دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے کہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہیں۔ سول سوسائٹی کو یہ تشویش لاحق ہے کہ وزیراعظم کی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور عوامی سطح پر خانہ جنگی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے دشمن اس تشویشناک صورتحال سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرینگے۔ اس نازک مرحلے پر وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ سکیورٹی ایجنسیوں پر تنقید کرنے کے بجائے فوری طور پر وعدے کیمطابق ڈان لیکس کی رپورٹ جاری کر دیں تا کہ سول ملٹری ٹینشن ختم ہو جائے.

انہوں نے کئی بار کہا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں انہیں دولت اور حکومت کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور پاکستان کے قومی مفاد کیلئے وہ حکومتی منصب چھوڑنے سے بھی گریز نہیں کرینگے۔ حالات کے جبر کی وجہ سے چوہدری نثار علی خان کے امتحان اور آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے۔ انکے ماضی کے شاندار کردار کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر اور خمیر کے مطابق اس امتحان میں سرخرو ہوں گے اور اپنی نیک نامی پر حرف نہیں آنے دیں گے تاکہ آنیوالی نسلیں ان کو اچھے نام سے یاد کریں۔ پاکستانی قوم کو ٹینشن سے باہر نکالنا وزیراعظم کی ذمے داری ہے۔

قیوم نظامی