Tariq Fatemi

Syed Tariq Fatemi is a Pakistani diplomat who serves as the Special Assistant on Foreign Affairs to the Prime Minister. He previously served as Pakistan Ambassador to the United States and to the European Union. Born in Dhaka, British India, Fatemi went to serve as a career foreign service officer and has held diplomatic missions throughout his career In addition, he also provided his foreign policy expertise to represent Pakistan’s case at the International Atomic Energy Agency (IAEA). Aside from foreign service, he has briefly taught courses on International relations at the Foreign Service Academy and as well courses on Security studies at the National Defence University and the Quaid-i-Azam University. A key member of the PML(N), he is the author of book, “The Future of Pakistan”, and has repeatedly appeared in news media to comment on foreign affairs of the country. He is an expert on Russian studies and is fluent in Russian language.

چولستان : سرسبز خطہ جو صحرا میں بدل گیا

چولستان ہماری ثقافتی اور تہذیبی روایات کا عکاس ہونے کی بدولت نا صرف ملکی
بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی کشش کا باعث ہے۔ یہاں کی روایتی زندگی کا اپنا حسن ہے جس کا تذکرہ یہاں کی لوک کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔ صحرا کا حدود اربعہ اور رہن سہن حالات اور وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ کبھی یہاں پر پانی اور خوبصورتی بھی نظر آتی تھی۔ لیکن اب ہر طرف ریت کے ذرے بکھرے نظر آتے ہیں۔ چار ہزار سال قبل یہاں کبھی دریائے سرسوتی ٹھاٹھیں مارتا ہوا گزرتا تھا۔ ریت اور صحرائی ماحول میں یہ دریا کبھی صحرا کی شان دکھائی دیتا تھا لیکن اس کا خشک ہو جانا صدیوں پرانی بات بن کر رہ گئی۔

اس کے علاوہ تاریخی حوالوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کبھی یہاں دریاے ھاکڑہ کی لہریں بھی موجزن تھیں اور یہ سندھ اور ہند کے درمیان حد فاضل کا کام دیا کرتی تھیں یہ دریا جیسلمیر اور بیکانیر کی ریاستوں کو بھی جدا کرتا تھا اگرچہ اس دریا کا رخ تبدیل ہو گیا لیکن گم گشتہ تاریخ کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔ چولستان کے صحرا نے ہر چیز کو ویرانی میں تبدیل کر دیا ہے یہاں کے لوگ ان تبدیلیوں سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اپنے طرز زندگی کو تبدیل کیا بلکہ جدوجہد کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ چولستان کو تھل روہی اور چولستان کہا جاتا ہے یہ مشہور ریگستان جس کا رقبہ سولہ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ بہاولپور سے تیس کلو میٹر دور ہے یہ صحرا آگے چل کر تھر کے ریگستان سے مل جاتا ہے۔

چولستان کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف روائتیں ملتی ہیں کیونکہ یہ خطۂ زمین مغرب میں تھر اور جنوب مشرق راجپوتانے کے وسیع صحرا کے درمیان واقع ہے۔ کسی زمانے میں اسے چولن بھی کہا جاتا تھا۔ تندو تیز آندھیاں ریت کے متحرک ٹیلوں کو ایک جگہ سے اڑ ا کر دوسری جگہ لے جاتی تھیں۔ اکھاڑ پچھاڑ کے اس عمل کو چولن کہا جاتا ہے اور پھر یہ نام چولن سے چولستان بن گیا۔فروری اور جولائی کے درمیان لوگ پانی کی تلاش کے لیے ٹوبوں (جوہڑوں ) کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں سے قیمتی اشیاء، زیور اور منکے بھی دریافت ہوئے ہیں جنہیں دھاگے میں پروکر یہ لوگ اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں یہ زیور اور منکے چولستانی لوگوں کو بہت بھاتے ہیں۔ جو بیضوی اور تکونی شکل کے ہوتے ہیں۔ چولستانیوں کی زندگی بظاہر تھکا دینے والی ہے مگر وہ اس زندگی سے بیزار نہیں بلکہ اسے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ بادلوں کی آمد کو اچھا شکون مانتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہوا ان بادلوں کو اڑا کر نہ لے جائیں۔ آندھی اور ہوا سے قافلے راستہ بھٹک جاتے ہیں۔ صحرائی بگولے بڑے خوف ناک ہوتے ہیں۔ قافلے والے ان پھیلے ہوئے خوفناک بگولوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔ صحرائی آندھی کا منظر بڑا خوفناک ہوتا ہے یہ بگولے سرخی مائل اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔

چولستان میں جولائی سے ستمبر تک تین مہنیے بارش جاری رہتی ہے۔ وقت جیسے جیسے ان مہینوں سے دور چلا جاتا ہے صحرا کا چہرہ اسی تناسب سے اداس اور بے چین دکھائی دینے لگتا ہے بارش کے بعد خود رو پھول اور صحرائی جھاڑیاں توانا ہو کر ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ چولستان کی ایک اپنی ہی نرالی اور اچھوتی دنیا ہے۔ ایسی دنیا جو دل کی اجڑی ہوئی بستی کو آباد کر دیتی ہے اور روح کے سوتے ہوئے تاروں کو چھیڑ دیتی ہے۔ چولستان میں چاندنی راتوں کے نظارے بہت دیدنی ہوتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے انسان کے چاروں طرف نور کا ایک جہان بکھرا ہو۔ غروب آفتاب کا منظر ایسے لگتا ہے جیسے صحرا آنکھیں بند کر رہا ہے۔ حضرت خواجہ غلام فرید نے اپنی زندگی کے اٹھارہ سال اس صحرا میں گزارے۔

شیخ نوید اسلم

اشرافیہ کی غیر اشرافیاں

جب قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے ڈان لیکس کے بارے میں
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے تعلق سے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی لاعلمی کے جواب میں ان  کے استعفی کا مطالبہ کیا تو وزارتِ داخلہ کے ترجمان کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا۔ اس ردِعمل میں ایک پیرا کچھ یوں ہے۔ ’’بعض لوگ اپنے ماضی سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ مگر لگتا ہے خورشید شاہ اخلاقی و ذہنی اعتبار سے وہیں کھڑے ہیں جہاں 1970ء کے عشرے میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی ملازمت کے دوران کھڑے تھے۔ (یعنی میٹر ریڈر)۔ وزیرِ داخلہ کے پاس  فضول اور غیر منطقی بیانات پر غور کرنے کا نہ تو وقت ہے نہ ہی ایسی بے جا بکواس کا جواب دینے کی خواہش ‘‘۔

واہ واہ۔ سرکاری ردِعمل میں ماشااللہ کیا زبان استعمال کی گئی اور وہ بھی قائدِ حزبِ اختلاف کے بارے میں اور ان کی سابق ملازمت کو کس طرح بطور طعنہ استعمال کیا گیا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمران طبقات کے ذہنوں میں ادنیٰ درجے کی ملازمتوں پر فائز لوگوں کے لیے کیسے ادنیٰ خیالات تاحیات قیام پذیر رہتے ہیں۔ یعنی ایک میٹر ریڈر اخلاقی و ذہنی اعتبار سے گھٹیا ہی رہے گا بھلے وہ قائدِ حزبِ اختلاف ہی کیوں نہ بن جائے۔ اب میں یہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ زیادہ گھٹیا کون ہے؟ طعنہ دینے والا یا طعنہ کھانے والا ؟

اگر پاکستان پر حکمران اشرافیہ واقعی بلیو بلڈ ہوتی تو پھر اس کی زبان بھی اشرافی ہی ہوتی۔ مگر اشرافی منصب کی دعوے داری کی قلعی کسی اور شے سے کھلے نہ کھلے زبان سے ضرور کھل جاتی ہے۔ ویسے بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ آدمی اپنی زبان تلے پوشیدہ ہے۔ اشرافیہ کس قدر خالص ہے اس کا اندازہ لگانا ہو تو جلسوں کی تقاریر اور ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز دیکھ لیں۔  ذرا سی تنقید ہوئی نہیں کہ ناقد کے کپڑے اترنے شروع ہوئے نہیں۔ ایک دوسرے کے لیے چور ، ڈاکو ، لٹیرے ، زانی ، یہودی، ہندو کی اولاد، نمک حرام ، مراثی، نو دولتئے، ماں اور بہنوں کے طعنے اور خواتین پر ذومعنی فقرے۔ کبھی ایسی گفتگو بدتمیزی، فحش کلامی، لچر پن، بازارو، نیچ حرکت اور گھر کی ناقص تربیت کے دائرے میں آتی تھی مگر آج یہ اشرافیہ کی روز مرہ ہے۔ کبھی عوام اشرافیہ کی زبان اپنانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اب یہاں سے وہاں تک گلیاری مساوات کے پھریرے لہرا رہے ہیں۔ ان کے سائے تلے ایک اور نسل اپنا سفر شروع کر رہی ہے۔ جانے وہ اس لسانی و لفظیاتی ذخیرے کو کس لیول تک لے جائے گی۔

ایسا نہیں کہ اصل اشرافیہ کا وجود نہیں مگر وہ اب آپ کو کسی سیاسی جماعت یا ہجوم میں دکھائی نہیں دیتی۔ یہ مٹھی بھر اشرافیہ یا تو اپنے اردگرد کی زبوں حالی سے تھک ہار کر خود رفتہ رفتہ لاتعلق ہو چکی ہے یا لاتعلق بنا دی گئی ہے۔ دونوں صورتوں میں نشست و برخواست اور آدابِ کلام  کے تہذیبی ربط کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آج ریاست کے تمام شعبے اور ان کی فیصلہ سازی ایسی اشرافیہ کے نرغے میں ہے جو نہ علم دوست ہے اور نہ ہی تہذیب دوست۔ یہ اشرافیہ کسی تمدنی ارتقا کی نہیں بلکہ طاقت کی پیداوار ہے۔ بھلے وہ طاقت جسمانی ہو کہ راتوں رات کسی بھی ذریعے سے حاصل ہونے والی سیاسی یا معاشی قوت ہو۔

اس اشرافیہ کی ترجیح سماج کو تہذیبی اعتبار سے آگے بڑھانااور رول ماڈل بننا نہیں بلکہ کہنی مار کے ہر قیمت پر خود کو آگے رکھنا اور دوسروں کو دبانا اور کچلنا ہے۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ طاقت کے بل بوتے پر اشرافی بننے والے نفسیاتی اعتبار سے کس قدر غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ ان کی جان اپنی بقا کی فکر سے ہی نہیں چھوٹتی چے جائیکہ وہ سماجی اقدار کے تحفظ و ترقی کے بارے میں سوچ  پائیں اور زبان و بیان میں علمیت و بہتری پیدا کر سکیں۔

اشرافیہ کو کبھی خود سے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اشرافیہ ہے۔ اس کا روزمرہ ، گفتگو ، موضوعات ، لہجے کا دھیما پن نشست و برخواست اور دوسروں سے سلوک سب کچھ بتا دیتا ہے۔ مگر نئی نئی اشرافیہ کو بہرحال چیخ چیخ کر اپنا تعارف کرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسے توجہ حاصل کرنے کے لیے خالی سڑکوں پر فراریاں اور بی ایم ڈبلیوز دوڑانا پڑتی ہیں۔ چالان کرنے والے یا تلاشی لینے والے کو تھپڑ مار کے اپنی طاقت ثابت کرنا پڑتی ہے۔ وہ دلیل کی طاقت سے نابلد اورمدِ مقابل کو بلند آہنگ کے حربے سے خاموش کرا دینے کے ہنر سے ہی واقف ہوتی ہے۔ چونکہ طاقت کی ہی پیداوار ہوتی ہے لہذا اپنے سے مضبوط کے آگے جھک جانا اور کمزور کو جھکا لینا ہی اس کی فطرت  ہے۔ البتہ اگر کوئی خالص اشرافی ہو تو اس کی زنبیل میں کوئی نہ کوئی ایک آدھ اصول یا آدرش ضرور ایسا ہوتا ہے جس کے تحفظ کے لیے وقت آنے پر نتائج سے بے نیاز ڈٹ بھی سکتا ہے۔

اگر اشرافی زبوں حالی دیکھنی ہو تو آج کے علما کے زبان و بیان ، قول و فعل ، نشست و برخواست ، بود و باش دیکھ لیں اور اس بابت گذرے کل کے علما کے قصے پڑھ لیں۔ جناح اور نہرو کا سیاسی رکھ رکھاؤ اور زبان و بیان کسی سے سن لیں اور نواز شریف ، زرداری ، عمران خان اور مولانا فضل الرحمان وغیرہ وغیرہ کا اندازِ زندگی و اظہار  بچشم دیکھ لیں۔ وہ بھی اشرافی تھے اور یہ بھی خود کو اشرافی سمجھتے ہیں اور کہلوانے پر بھی بضد ہیں۔ مچھلی ہمیشہ سر سے سڑنا شروع ہوتی ہے ، دم تو آخر میں خراب ہوتی ہے۔ جب یہی نئی نویلی غیر اشرافی اشرافیہ برداشت ، بھائی چارے ، ہم آہنگی اور تہذیبی اقدار کی گوہار دیتی ہے تو اس کے منہ سے جھڑنے والے ہر ایسے پھول کو عوام تازہ لطیفہ سمجھ کے گھر لے آتے ہیں۔

ہم کتنے اشرافی ہیں ؟ اس کا اندازہ مجھے استنبول میں چار روز گلیوں بازاروں میں پیدل گھوم کر ہوا۔ اس دوران مجھے ایک بھی ایسا منظر دکھائی نہیں دیا کہ دو راہ گیر سرِ بازار ایک دوسرے سے گتھم گھتا ہوں ، گالم گلوچ میں مبتلا ہوں یا چیخ چیخ کر مخاطب کر رہے ہوں۔ ایک بار میں تھک کے نیلی مسجد کے بیرونی باغیچے میں سستانے کے لیے سنگی بنچ پر بیٹھ گیا۔ برابر والے بنچ پر ایک بوڑھا ترک اخبار پڑھ رہا تھا۔ ہم دونوں نے رسمی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا۔ اس نے رسماً پوچھا کہاں سے آئے ہو میں نے کہا پاکستان سے۔ گر برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں ؟ اس نے ہمہ تن گوش ہونے کے لیے اخبار تہہ کر کے گود میں رکھ لیا۔ میں نے کہا چار دن سے اسی لاکھ آبادی کے اس شہر میں گھوم رہا ہوں۔ اس دوران سڑک پر لڑائی جھگڑا یا ایک دوسرے پر چیخنے کا کوئی منظر نہیں دیکھا۔کیا ترکوں کو غصہ نہیں آتا ؟ ترک بزرگ ہنسنے لگا۔ بالکل آتا ہے اور جب آتا ہے تو بہت برا آتا ہے۔ مگر یہ بات آپ کی درست ہے کہ ہم بات بات پر نہیں لڑتے۔دراصل چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے جھگڑنا اور سرِ بازار چیخنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وجہ شائد یہ ہو کہ ترک بحیثیتِ قوم کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔غلاموں کا چونکہ خود پر ہی بس چلتا ہے لہذا وہ بات بے بات ایک دوسرے پر اپنی فرسٹریشن نکالتے رہتے ہیں۔ میری سمجھ میں تو یہی سبب آرہا ہے۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں۔

وسعت اللہ خان