کیا وزیراعظم ان بحرانوں سے نکل سکیں گے ؟

وزیر اعظم نے اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز سے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل کرنے تک جو حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں ، وہ صرف تیسری دنیا کے ملکوں میں ممکن ہیں اور اس وقت وہ جن مشکلات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ، وہ بھی تیسری دنیا کے ملکوں کا خاصا ہیں ۔ ترقی پذیر اور سیاسی طور پر غیر مستحکم پاکستان جیسے ممالک میں یہ امکانات بھی موجود ہیں کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ان مشکلات سے باہر نکل آئیں اور پہلے کی طرح حالات کو اپنے لئے سازگار بنا لیں اور یہ امکانات بھی موجود ہیں کہ وہ بحرانوں میں دھنستے چلے جائیں اور ان کا انجام بھی تیسری دنیا کے بعض رہنماؤں جیسا ہو کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی کیمسٹری بہت پیچیدہ ہے لیکن یہاں جاری عوامل کچھ طبعی قوانین کے تابع ہیں ۔

پاناما اسکینڈل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلے کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے تقریباً ایک جیسی سرخیاں شائع کیں کہ وزیر اعظم پاکستان بال بال بچ گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاناما اسکینڈل نے میاں محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی جان نہیں چھوڑی ہے ۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ کے اکثریتی فیصلے نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف ایک سیاسی تحریک کے حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ پاکستان کے تمام منتخب ایوانوں میں ’’ گو نواز گو ‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف کے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کی ان کے خلاف سیاسی مہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے تحلیل ( Defuse ) نہیں ہوئی بلکہ یہ مہم ایک تحریک میں تبدیل ہو رہی ہے ۔

پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پہلے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیا اور اب وزیر اعظم کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا یہ ہے کہ ملک بھر کے وکلا وزیر اعظم نواز شریف کو ہٹانے کے لئے تحریک میں حصہ لیں گے اور یہ تحریک 2007 کی عدلیہ کی آزادی کی تحریک سے بڑی ہو گی ۔ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے تاریخی دھرنے کے دوران وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو بچانے میں اہم کردار ادا کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ’’ گو نواز گو ‘‘ تحریک کا آغاز کر دیا ہے ۔ آئندہ عام انتخابات میں کم وقت رہ جانے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور وکلاء کی تحریکیں زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہیں اور یہ پاکستان کی سیاست کو ایک نئے رخ پر ڈال سکتی ہیں ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں اور اثاثہ جات کی مزید تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) جیسے ہی اپنا کام شروع کرے گی ، ملک کا سیاسی درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے لئے زیادہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔ ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ آنا ابھی ہے۔ یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ان مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ان حالات میں ایک اور اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ نہ جانے وزیر اعظم کو کیا مجبوری ہوئی کہ انہوں نے بھارت کے ارب پتی تاجر اور اسٹیل ٹائیکون سجن جندال سے پاکستان میں ملاقات کی ۔ سجن جندال بھارت کی ہائی پروفائل شخصیت ہیں ۔ وہ دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں ، ان کی موجودگی کو وہاں نہ صرف محسوس کیا جاتا ہے بلکہ لوگوں کے ذہن میں یہ بات بھی از خود آتی ہے کہ جندال کسی خصوصی مشن پر ہوں گے ۔

سجن جندال کے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ عالمی اشرافیہ کے ساتھ گہرے روابط ہیں ۔ وہ بھارت کے لئے بہت اہم مشن انجام دے چکے ہیں اور خفیہ سفارت کاری میں ان کا بڑا نام ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ان سے مری میں اپنی رہائش گاہ پر طویل ملاقات کی ۔ اس قدر ہائی پروفائل شخصیت کو پاکستان کا ویزہ کہاں سے ملا اور وہ کیسے پاکستان میں داخل ہوئے، یہ بھی اہم سوالات ہیں ۔ سجن جندال کا دورہ پاکستان اور وزیر اعظم سے ان کی ملاقات بھی خود وزیر اعظم نواز شریف کے لئے مسائل کا سبب بن سکتی ہے ۔ اس کے کئی اسباب ہیں ، جن کا تذکرہ میڈیا میں ہو رہا ہے۔

یہ معاملہ یہاں نہیں رکا ۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ اور سینئر سیاست دان ریاض پیرزادہ نے ا پنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور یہ الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کرپشن میں ملوث ہیں ۔ ریاض پیرزادہ جیسے سیاستدان اگر اس طرح کا ردعمل ظاہر کرنے لگیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں ۔ اس وقت جو مشکلات وزیر اعظم نواز شریف کے لئے پیدا ہوئی ہیں، ان کے بارے میں کچھ عرصہ قبل سوچنا ممکن بھی نہیں تھا ۔ 12 اکتوبر 1999 کو ایک فوجی جرنیل نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا ، انہیں وزیر اعظم ہاؤس سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی چلا لیکن وہ حالات اس قدر خراب نہیں تھے ، جس قدر آج حالات ان کے خلاف ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف پاکستان کے مقتدر حلقوں کی کیمسٹری کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن انہیں شاید ابھی تک اس بات کا احساس نہیں ہو رہا کہ یہ مقتدر حلقے خود اپنے داخلی تضادات کا شکار ہیں ۔ شریف خاندان کی دولت کے بارے میں سوالات کا اس مرحلے پر پیدا ہونا اس امر کا ثبوت ہے ۔ ایک زمانہ تھا ، جب پیپلز پارٹی کے مقابلے میں میاں محمد نواز شریف پاکستان کے مقتدر حلقوں کا واحد سیاسی چہرہ تھے اور وہ حب الوطنی کا معیار تھے ۔ اب انہیں ڈان لیکس کی انکوائری کا سامنا ہے اور انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دوست قرار دیا جا رہا ہے ۔ سجن جندال سے ملاقات پر جس طرح میاں محمد نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس طرح پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ پاکستان کے مقتدر حلقے صرف اپنے سیاسی چہرے میاں محمد نواز سے لاتعلق نہیں ہو رہے بلکہ وہ اپنے ماضی کے نظریاتی اتحادی ، نسلی ، لسانی اور فرقہ ورانہ گروہوں سے بھی برسر پیکار ہیں ۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں کے داخلی تضادات کی وجہ سے وہ زمین کھسکتی جا رہی ہے ، جس پر میاں محمد نواز شریف کے پاؤں سختی سے جمے ہوئے تھے ۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں مقتدر حلقوں کے حمایت یافتہ سیاست دانوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے ۔ وہاں حقیقی مقتدر حلقوں کے داخلی تضادات تاریخ کے ارتقائی عمل کا لازمی نتیجہ ہیں ۔

عباس مہکری

مشکلات کا شکار شامی باشندے اپنے جسمانی اعضاء فروخت کرنے پر مجبور

ابو جعفر کی آنکھوں میں فخریہ چمک تھی جب وہ بتا رہے تھے کہ وہ اپنی گزر بسر کے لیے کیا کام کرتے ہیں۔ وہ ایک شراب خانے میں سکیورٹی گارڈ ‌کے طور پر کام کیا کرتے تھے لیکن پھر وہ ایک ایسے گروہ سے ملے جو جسمانی اعضا کی تجارت کرتا تھا۔ ان کا کام ایسے لوگوں کی تلاش تھی جو پیسوں کے لیے اپنے جسم کا حصے عطا کر سکیں، اور شام سے تارکین وطن کی لبنان آمد نے بہت سارے مواقع فراہم کر دیے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں ان کا فائدہ اٹھاتا ہوں‘ لیکن وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں وہ بہت سارے لوگ شام میں اپنے گھروں میں آسانی سے مر سکتے تھے، اور اپنا کوئی عضو دینا اس ہولناکی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو وہ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔

ان کا اڈہ جنوبی بیروت کے ایک پرہجوم علاقے میں ایک کافی شاپ ہے، جو ایک شکستہ حال عمارت میں قائم ہے۔ اپنے کمرے کے عقبی حصے کو پرانے فرنیچر کی مدد سے تقسیم کیا گیا ہے اور پنجروں میں بند آسٹریلین طوطوں کی آواز سنائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہیں سے انھوں نے گذشتہ تین برسوں میں 30 کے قریب پناہ گزینوں کے اعضا کی فروخت کا بندوبست کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’میں عموماً گردے کا مطالبہ کرتا ہوں، اس کے علاوہ دیگر اعضا کا بندوبست کر سکتا ہوں۔‘ ’ایک بار انھوں نے ایک آنکھ کے بارے میں پوچھا، اور میں ایک ایسا گاہگ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا جو اپنی آنکھ فروخت کرنا چاہتا تھا۔ میں آنکھ کی تصویر بنائی اور تصدیق کے لیے ان لوگوں کو وٹس ایپ کے ذریعے بھیج دی۔ اس کے بعد میں نے گاہک کو بھی پہنچا دیا۔‘

جہاں وہ یہ سب کام کرتے ہیں وہ تنگ گلیاں تارکین وطن سے بھری ہوئی ہیں۔ آج لبنان میں ہر چوتھا فرد شام کی خانہ جنگی سے بھاگ کر یہاں آیا ہوا ہے۔ لبنانی قانون کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان میں سب سے زیادہ دردناک حالت فلسطینیوں کی ہے جو پہلے ہی شام میں پناہ گزین سمجھے جاتے تھے اور لبنان آنے کے بعد وہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین میں دوبارہ رجسٹرڈ ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ پرہجوم کیمپوں میں رہتے ہیں اور انھیں بہت کم امداد ملتی ہے۔ اسی طرح مئی 2015 کے بعد شام سے آنے والے بھی اتنے ہی غیرمحفوظ ہیں کیونکہ لبنانی حکومت نے اقوام متحدہ کو نئے پناہ گزینوں کو رجسٹرڈ کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ابو جعفر کا کہنا ہے کہ ’وہ جو پناہ گرین کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہو سکے مشکلات کا شکار ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں: ’وہ کیا کر سکتے ہیں۔ وہ مایوس ہیں اور ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے اپنے اعضا فروخت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘ کچھ تارکین وطن سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں خاص طور پر بچے۔ نوجوان لڑکے جوتے پالش کرتے ہیں، ٹریفک جام کے دوران چیونگ یا ٹشو فروخت کرتے یا چائلڈ لیبر کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جاتے، جبکہ دیگر جسم فروشی اختیار کرتے۔

ایک بار جب ابو جعفر کو مطلوبہ امیدوار مل جاتا ہے، کسی مخصوص دن اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کسی پوشیدہ جگہ پہنچایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹر کرائے کے گھروں میں قائم عارضی کلینکس میں ان کا آپریشن کرتے ہیں جہاں سرجری سے پہلے ان کے خون کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’جب آپریشن ہو جاتا ہے میں انھیں واپس لے آتا ہوں۔‘ وہ بتاتے ہیں: ’جب تک ان کا ٹانکے کھل نہیں جاتے میں ایک ہفتے تک ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ جیسے ہی ان کے ٹانکے کھلتے ہیں ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ اگر کوئی مر جائے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میں جو چاہتا تھا مجھے مل گیا۔ اب میرا مسئلہ نہیں ہے کہ گاہک کے ساتھ پیسے ملنے کے بعد کیا ہوا۔‘

ان کا حالیہ گاہک ایک 17 سالہ لڑکا تھا جس نے اپنے والد اور بھائیوں کی ہلاکت کے بعد شام چھوڑ دیا تھا۔ وہ تین سال سے لبنان میں تھا اور کام نہ ملنے کی وجہ سے قرض میں ڈوبا ہوا تھا، اس کی ماں اور پانچ بہنیں تھیں۔ چنانچہ ابو جعفر کے ذریعے اس نے آٹھ ہزار ڈالر میں اپنا گردہ فروخت کرنے کی ہامی بھر لی۔ دو دن بعد دردکش کھانے کے باوجود اس کو آرام نہیں آیا۔ اس کا چہرہ پسینے سے بھرا ہوا تھا اور ان کی پٹیوں سے خون رس رہا تھا۔ ابوجعفر نے یہ نہیں بتایا کہ اس کام کے لیے اس کو کتنے پیسے ملے۔ وہ کہتے ہیں وہ نہیں جانتے اعضا نکالے جانے کے بعد ان کا کیا کیا جاتا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ انھیں برآمد کیا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے روایتی اور مذہبی اعتراضات کے باعث پیوندکاری کے لیے اعضا کی قلت رہتی ہے۔ انتقال کے بعد بیشتر خاندان فوری طور پر تدفین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ابوجعفر کا دعویٰ ہے کہ لبنان بھر میں کم از کم سات اس جیسے کارندے یہ دھندا کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ یہ بڑھ رہا ہے اور اس میں کمی نہیں آرہی۔ شامیوں کی لبنان نقل مکانی کے بعد بہرصورت بڑھے گا۔‘ وہ جانتے ہیں کہ یہ غیرقانونی کام ہے لیکن انھیں حکام کا خوف نہیں۔ درحقیقت وہ اس بارے میں بے باک ہیں۔ ان کا فون نمبر ان کے گھر کی نزدیک دیواروں پر لکھا ہوا ہے۔ اس علاقے میں ان کی عزت بھی ہے اور ان کا خوف بھی۔

بات چیت کے دوران ابوجعفر نے ایک پستول اپنی ٹانگ کے نیچے دبا رکھی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’میں جانتا ہوں کہ جو میں کر رہا ہوں یہ غیرقانونی ہے لیکن میں لوگوں کی مدد کر رہا ہوں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’میں ایسا ہی سمجھتا ہوں۔ گاہک اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کے لیے رقم کا استعمال کرتا ہے۔ ’وہ ایک گاڑی خرید سکتا ہے اور ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کر سکتا ہے یا ملک کے باہر سفر کر سکتا ہے۔ میں ان لوگوں کی مدد کر رہا ہوں اور مجھے قانون کی پرواہ نہیں ہے۔‘

بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ہی ہے جو پناہ گزینوں کو ملازمت اور امداد تک رسائی سے روکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں کسی کو آپریشن کے لیے مجبور نہیں کر رہا۔ میں کسی کی درخواست پر صرف سہولت فراہم کر رہا ہوں۔‘ وہ ایک سگریٹ سلگاتے ہیں اور ابرو اٹھاتے ہوئے پوچھتے ہیں: ’آپ کی آنکھ کے لیے کتنے؟‘

نوٹ: ابو جعفر فرضی نام ہے اور انھوں نے بی بی سی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

دریائے سندھ ڈیلٹا کیا ہے؟

دریا، تغیر اور ثبات کی ایک حقیقت ہے اور یہ دونوں سچائیاں بہتے پانی میں تحلیل
ہو کر لمبا سفر طے کرتی ہوئی بالآخر سمندر کی آغوش میں سو جاتی ہیں لیکن دریا کے بہتے پانی کے ہر قطرے کے ساتھ ریت اور مٹی کے ننھے ننھے ذرات بھی رفیق سفر ہوتے ہیں جو کنارے پر ہی ٹھہر کر اپنے بعد آنے والے ساتھی پانی کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ ان کے اکٹھے ہونے سے وجود پانے والی چیز کو ہی ہم ’’ڈیلٹا‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ننھے ننھے ریت و مٹی کے ذرے جنہوں نے اپنے وجود سے دریائے سندھ کے کھو جانے والے پانیوں کی یادمیں انڈس ڈیلٹا قائم کیا تھا اور ہزاروں برس سے سمندر سے اپنے ساتھیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے کرتے اتنے تھک چکے ہیں کہ خود سمندر کی گود میں میٹھی نیند سو رہے ہیں اور دریائے سندھ کی عظیم الشان یادگار انڈس ڈیلٹا پر انسانی زندگی رفتہ رفتہ سمندر کی ہیبت سے مرعوب ہو کر کوچ کر رہی ہے، سمندر آگے اور آگے بڑھتا چلا آرہا ہے، زندگی پیچھے اور پیچھے ہٹتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھ کی ہتھیلی اور انگلیوں کی شکل والے ڈیلٹا میں سے سترہ کھاڑیاں نکلتی تھیں یہ کھاڑیاں کراچی سے لے کر زیریں سندھ کی ساحلی پٹی تک پھیلی ہوئی تھیں اور ڈیلٹا کی حدود پاکستان میں کراچی سے لے کر بھارتی سرحد رن آف کچھ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ انڈس ڈیلٹا کے علاقوں میں متعدد میٹھے پانی کی جھیلیں بھی موجود تھیں۔ دریائے سندھ کے مون سون سیزن کے دوران یہ جھیلیں پانی سے بھر جاتی تھیں جہاں نہ صرف مقامی پرندے بلکہ موسم سرما کے دوران ہجرت کر کے آنے والے پرندوں سارس، کونج، پلیکن مرغابی اور کئی اقسام کے آبی پرندے یہاں ٹھہرتے تھے۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ڈیلٹا کے علاقے میں میٹھے پانی کی گیارہ جھیلیں تھیں ان جھیلوں میں کاجری، جھم، کاٹھوڑ، تل، وسن، کلمکان چھانی، تلی، سیر، چوبتی ماور اور کڑمک جھیلیں بھی شامل ہیں لیکن سمندر کے آگے بڑھ آنے سے یہ تمام جھیلیں آج کھارے پانی کے بڑے بڑے تالابوں کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔

انڈس ڈیلٹا کے خطے میں پیداوار کی شرح سندھ بھر میں سب سے زیادہ تھی اور یہ اضافی پیداوار سندھ کی بندرگاہوں سے مسقط، دوار کا، عدن گومتی اور خلیج فارس کی بندرگاہوں کو برآمد کی جاتی تھی۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر کیے جانے والے مطالعے اور تجزئیے ایک ایسے سنگین قومی معاملے کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی اور تلخیص کرتے ہیں جو آگے چل کر اور بھی سنگین ہو سکتا ہے۔ حالات کے پیش نظر ڈیلٹا کے علاقے کی پہلے ہی سے تشویش ناک صورتحال اور یہاں سے قدرتی ماحول اور دیہی معیشت کی بہتری کے لیے بہت ہی اہم اور ہنگامی اقدامات انتہائی لازمی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مطالعاتی جائزوں اور ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی روشنی میں حالات کی بہتری کے لیے بعض اہم سفارشات بھی تجویز کی گئی ہیں۔ انڈس ڈیلٹا میں ایسے ایسے مقامات اور موضوعات بکھرے پڑے ہیں جن پر اگر باقاعدہ تحقیق کی جائے تو تاریخ کے کئی نظریات باطل اور کئی نئی نئی باتیں سامنے آجائیں گی۔ انڈس ڈیلٹا کو جہاں سمندر کے آگے بڑھنے سے مسلسل خطرہ ہے وہیں یہ آثار قدیمہ بھی اپنی ان کہی کہانیوں کے ساتھ پانی کی تہہ میں ڈوب کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہم ان کی اہمیت کے پیش نظر انہیں بچانے کے لیے سنجیدہ کوششوں پر غور کر سکتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق پروڈیوسر معروف ادیب و محقق اور سینکڑوں دستاویزی فلموں کے خالق عبید اللہ بیگ نے برسوں پہلے انڈس ڈیلٹا پر چار مختلف دستاویزی فلمیں بھی تیارکی تھیں جو پی ٹی وی سے نشر ہو چکی ہیں۔ آج انڈس ڈیلٹا کی حالت ہماری سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے انڈس ڈیلٹا بقا کے خطرے سے دو چار ہے اس کی سترہ کی سترہ کھاڑیاں کھارے پانی سے بھر چکی ہیں اور خود اس کا مجموعی رقبہ بھی اب کم ہو کر صرف دس فی صد ہی رہ گیا ہے اگرچہ نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اس وقت قلت آب کے مسئلے سے دو چار ہے لیکن انڈس ڈیلٹا کے مسائل کے ساتھ ساتھ اس کا بقا ہمارے شاندار ماضی کی روایتوں کی امین اور ہماری پہچان ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے اس طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ ڈیلٹا ہمارا مشترکہ قومی ورثہ ہے۔ اسے بچانے کے لیے قربانیاں اور وسائل بھی ہمیں مشترکہ طور پر فراہم کرنے پڑیں گے۔

شیخ نوید اسلم