اقتصادی غارت گر

’’مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو 55 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اقتصادی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ نجکاری کا عمل جاری رہے گا۔‘‘ یہ الفاظ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیے سے لئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ سے ایک جانب حکومتی کارکردگی کا اطمینان بخش ہونا سامنے آ رہا ہے تو دوسری جانب ادارہ شماریات کی رپورٹ ملک میں مہنگائی کے بڑھتے رجحان کا پتہ دے رہی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق 6 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں 8.68 فیصد اضافہ ہوا۔

موجودہ حکومت ملک میں امن کے قیام، معاشی استحکام اور توانائی بحران کے خاتمے کے سہ نکاتی ایجنڈے کے تحت برسراقتدار آئی تھی۔ قارئین! پس منظر کے طور پر یاد رہے 14 وال اسٹریٹ اپنے وقت میں دنیا کی بلند ترین بینک بلڈنگ اور 539 فٹ بلند فلک بوس عمارت ہوا کرتی تھی۔ اس میں امریکہ بلکہ دنیا کے دولت مند ترین مالیاتی ادارے ’’بینکرز ٹرسٹ‘‘ کے ہیڈکوارٹر کے دفاتر قائم تھے۔

14 وال اسٹریٹ نے گزشتہ صدی کے اختتام تک جو کردار ادا کیا تھا وہ بعد میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے سنبھال لیا اور طاقت اور اقتصادی غلبے کی علامت بن گیا۔ ’’وال اسٹریٹ‘‘ کے نزدیک ’’پائنا اسٹریٹ’’ پر ’’چیز بینک‘‘ کا عالمی ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ ڈیوڈ راک فیلر کا بنایا ہوا بینک ہے۔ وہی راک فیلر جس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پروجیکٹ پر کام کا آغاز 1960ء میں کیا۔ 1960ء میں امیر ترین ملکوں کی آبادی اور غریب ترین ملکوں کی آبادی میں تناسب 30 اور ایک تھا جو 1995ء میں 74 اور ایک ہوگیا اور 2010ء میں 95 اور ایک ہو گیا۔ ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، آئی ایم ایف اور باقی ماندہ بینکار، کارپوریشنیں اور بین الاقوامی ’’امدادی‘‘ کاموں میں ملوث حکومتیں ہمیں یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ وہ’’ احسن طریقے‘‘ سے اپنا کام کررہے ہیں اور ان کی خدمات کی بدولت دنیا بھر میں ترقی ہوئی ہے، لیکن اس ترقی سے فائدہ اُٹھانے والے اپنی جان کو رو رہے ہیں۔ ورلڈ بینک، ایشیائی بینک، آئی ایم ایف وغیرہ دنیا کے پسماندہ اور ضرورت مند ممالک کی معیشت کو بذریعہ سودی قرض بنام امداد بہتر بنانے کے لئے وجود میں لائے گئے تھے۔

حیرت کی بات ہے کہ جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا وہاں سکھ اور چین تو کیا آنا، رہی سہی عافیت واطمینان بھی رخصت ہو گیا۔ ان عالمی امدادی اداروں نے جس کو بھی امداد فراہم کی، وہ کبھی اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہو سکا۔ بلکہ اگرکسی نے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے اور ان کے قرضے کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ چاہے وہ پانامہ کا صدر ٹوری جوس ہو، ایکواڈور کا جیمی اولڈوس ہو، گوئٹے مالا کا حکمران اربینز ہو یا چلی کا ایلندے ہو۔ سب کے سب قتل کر دیے گئے۔ ایک نکتے کی طرف آئیے!امریکہ کو اعتراض رہتا ہے کہ اس کے خلاف دہشت گردی کے مرتکب چند سرپھرے ہیں جو غربت اور جہالت کے ہاتھوں تنگ آکر فدائی حملوں کے ذریعے ظالم سماج سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ ان فدائیوں میں یورپ کے اعلیٰ کالجوں کے تعلیم پاتے اور کروڑ پتی خاندان کے سپوت کیسے نمایاں نظر آتے ہیں؟ سوال یہ ہے امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے 450 ارب ڈالر کیوں خرچ کر رہا ہے؟

جبکہ وہ ماہرین کے تجزئیے کے مطابق صرف 50 ارب ڈالر کے ذریعے دنیا بھر سے غربت و جہالت ختم کرسکتا ہے۔ نہ رہے گی غربت، نہ رہے گی اس سے جنم لینے والی دہشت۔ پاکستان جس طرح کی بدحالی وپسماندگی میں گھرا ہے، اس کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے پاس نہ تو عرب ممالک کی طرح تیل وگیس ہے، نہ جنوبی افریقہ کی طرح سونے کی کانیں۔ نہ بدخشاں کے یاقوت اور نہ چلی کی طرح کاپروالمونیم، لہٰذا یہاں کی تعلیم یافتہ اور ہنرمند آبادی دنیا بھر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ ممکن ہے یہ بات ٹھیک ہو، دنیا کے پیدا کرنے والے نے چودہوھں صدی میں اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں کچھ نہ رکھا ہو، لیکن اس کا کیا کریں کہ صرف سندھ میں اتنا تیل اور کوئلہ ہے کہ پاکستان کے سارے قرض اُترسکتے ہیں۔ صرف بلوچستان میں اتنا گیس اور سونا ہے کہ پاکستان کی پوری آبادی کو با آسانی تعلیم اور علاج کی اعلیٰ ترین سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ پنجاب کی زرخیز ترین زمین جیسی زمین دنیا میں نہیں۔ سرحد کے قیمتی پتھروں سے بھرے پہاڑ چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کا 600 میل لمبا سمندری کنارہ جو دنیا کے بہترین ساحل اور قدرتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سب اضافی مراعات ہیں۔ ان میں سے ایک چیز بھی دنیا کے جس ملک کے پاس ہے، وہ ترقی یافتہ ہے، مگر ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ جنوبی امریکہ کے ان ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی وافر قدرتی وسائل کے باوجود توانائی کا بحران ہے جو حل ہونے میں نہیں آتا۔ اب ہمارے حکمران ہوگوشاویز تو ہیں نہیں کہ ان سے عالمی استعمار کے خلاف کسی جرأت مندانہ اقدام کی توقع کی جا سکے، اور امریکہ انہیں ہوگوشاویز کی طرح اقتدار سے ہٹانے میں ناکام ہو کر کینسر میں مبتلا کرکے مارنے کی کوشش کرے۔ 2012ء میں ایک ذرا سی کوشش ہوئی تھی کہ ہمارے ملک میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو اپنے ملک کا سستا ایندھن فراہم کردیا جائے تو اسی وقت ایشیائی بینک نے حوصلہ افزائی کے بجائے منظورشدہ قرض بھی روک دیاتھا ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سودی نظام کے اندر خیرکی کوئی اُمید لگانا ایک الٰہی و تکوینی قانون سے تجاہل عارفانہ برتنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہ صرف یہ کہ سود مسلمانوں پر حرام ہے بلکہ ان کافروں کو بھی جنہیں شراب پینے اور خنزیر کھانے کی کی اجازت ہے، سود کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں۔ سود کی خرابی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے لئے ہے۔ IMF کے چکر میں ایک دفعہ پھنسنے کے بعد کسی بھی ملک کا وہی حال ہوتا ہے جو ہائوس بلڈنگ کا لون لینے والے شخص کا ہونا ہے کہ بالآخر اسے وہ مکان ہی واپس کرنا پڑتا ہے۔ یہی حال یہاں ہے کہ ملک کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، ملک ہمارا ہے، لیکن ٹیکس لگائیں یا سبسڈی دیں، یہ فیصلہ IMF کرے گا۔ گویا ہم نام کے حکمران رہ گئے، فیصلے باضابطہ کہیں اور سے ہورہے ہیں۔ ہمیں اس سلسلے سے جلد از جلد جان چھڑانی ہوگی تاکہ ہم اپنی پالیسیوں کے ذریعے ملک میں خیر لاسکیں، ورنہ مہنگائی کا سیلاب نہ رُکے گا اور نہ ہی ہمارے مالی حالات بہتر ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ “جنگ

بھارت کے عام انتخابات اور بھارتی مسلمان…….

بھارت کے حالیہ عام انتخابات کے بارے میں اگرچہ قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا تاہم عام قیاس آرائیاں یہی ہیں کہ موجودہ حکمراں سیاسی جماعت کانگریس کو اس بار شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی یہ ہار شکست فاش نہ ہو تاہم شکست بہرحال شکست ہی ہوتی ہے۔ کانگریس کی اس ممکنہ شکست میں اس کی سب سے بڑی حریف جماعت بی جے پی کی کارکردگی کا شاید اتنا عمل دخل نہ بھی ہو تاہم یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ کانگریس کی ناقص پالیسیوں کا اس میں بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ افسوس کہ کانگریس پارٹی اقتدار کے نشے میں اس قدر دھت رہی کہ اس نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جو بنیادی طور پر ایک معیشت دان اور ماہر اقتصادیات ہیں سیاست کی باریکیوں کو سمجھا ہی نہیں۔

انھوں نے Shining India کا جو تصور پیش کیا انجام کار وہ ایک جھوٹا خواب اور ہوائی قلعہ ہی ثابت ہوا۔ اس کے ثمرات بھارت کی جنتا کو منتقل ہی نہیں ہوسکے اور وہ بے چاری نہ صرف بھوکی ننگی ہی رہی بلکہ مزید کسمپرسی اور ابتری کا شکار ہوگئی۔ Shining India کے زیادہ تر منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے محض کاغذی ثابت ہوئے اور اگر ان منصوبوں سے کوئی فوائد حاصل بھی ہوئے تو وہ صرف چند محدود طبقات اور افراد تک ہی مفید اور کارگر ثابت ہوئے۔ کانگریس سرکار کی ناکامی کا دوسرا سب سے بڑا کارن اس کی انتظامی کارکردگی ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے اور ایک کے بعد ایک گھٹا لے کے سنگین واقعات منظر عام پر آتے رہے جن کی حکمرانوں کی جانب سے تردید پر تردید اور پردہ پوشی کی ناکام کوششیں بدستور جاری رہیں۔

جب معاملات انتہا تک جا پہنچے تو ہر طرف بھرشٹا چار بھرشٹا چار کا ہاہاکار مچ گیا۔ اگرچہ حکمراں اس پر بھی ’’میں نہ مانوں میں نہ مانوں‘‘ کا راگ الاپنے سے باز نہیں آئے لیکن نوبت ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ تک جا پہنچی۔ کانگریس کی کلیدی قیادت کو جب اس بات کا کچھ احساس ہوا اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا اور تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ کانگریس کی ازلی اور سب سے بڑی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سنہری موقع کا خوب خوب فائدہ اٹھایا اور کانگریس کی حکومت کے دوران ہونے والی کرپشن کو ہی اپنے انتخابی نعرے کی بنیاد بنا ڈالا۔ اس صورتحال نے کانگریس کو بہت بڑی پریشانی میں مبتلا کردیا اور اس کی کیفیت یہ ہوگئی کہ:

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

مگر بے چاری کانگریس کے پاس اب کوئی چارہ کار باقی نہ تھا اور اس کا عالم یہ تھا کہ ’’اب پچھتاوت ہووت کیا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘۔ چار و ناچار اسے اسی حالت میں عام چناؤ کے دنگل میں لنگر لنگوٹ کس کر کودنا پڑا۔ سچ پوچھیے تو حکمراں کانگریس کے لیے موجودہ عام انتخابات مہا بھارت کے یدھ سے کم نہیں ہیں۔ اس کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں اور اس کی اپنی صفوں میں اتنا انتشار اور خلفشار ہے کہ جس کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے۔ اس کا معمولی اور ہلکا سا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اپنے قریبی رشتے داروں نے جن میں ان کے بھائی بند بھی شامل ہیں ان کی پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بھلا کانگریس کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

بھارتی حکمرانوں کے لیے اس سے بڑا صدمہ اور دھچکا بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس وزیر اعظم کے اپنے گھر والے ہی اس کی حکومت سے باغی ہوچکے ہوں بھلا اس کے ملک کے عوام اس کے حامی اور ہمنوا کیونکر ہوسکتے ہیں۔ ویسے بھی سردار جی نے شاید نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے جس کا عندیہ ان کے اس اعلان سے بھی ملتا ہے کہ وہ آیندہ وزارت عظمیٰ کی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔

حکمراں کانگریس پارٹی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی صفوں میں نہ صرف انتشار ہی انتشار ہے بلکہ اس میں لائق و فائق اور قابل اعتبار مخلص قیادت کا شدید فقدان ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت کا اپنا ہی خانہ خراب ہوچکا ہو وہ بھلا بھارت کی ڈولتی ہوئی نیا کو کس طرح کامیابی کے ساتھ پار کراسکتی ہے۔

سچ پوچھیے تو اس وقت کانگریس کے پیروں تلے سے زمین ہی کھسکی ہوئی ہے اور اس پر بوکھلاہٹ کی سی کیفیت طاری ہے۔ مگر یہ حادثہ اچانک یا ناحق نہیں ہے۔ بہ قول شاعر:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

فارسی کی مشہور کہاوت ’’خود کردہ را علاج نیست‘‘ یعنی اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں ہوتا، اس وقت بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پر حرف بہ حرف صادق آرہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اس وقت وہ جن نامساعد حالات میں بری طرح گھری ہوئی ہے یہ سب کچھ اس کا اپنا کیا دھرا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد حکومت کی باگ ڈور اسی کے ہاتھوں میں آئی تھی اور اس کے بعد وہ بلا شرکت غیرے برسوں تلک راج سنگھاسن پر پورے ٹھاٹ باٹ کے ساتھ کچھ اس طرح براجمان رہی گویا حکمرانی اس کے گھر کی لونڈی ہو۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہندوستان کے کسان اور مسلمان کانگریس کا ووٹ بینک ہوا کرتے تھے اور ان کے ووٹ گویا اس کی جیب میں بالکل محفوظ سرمائے کی طرح پڑے ہوئے ہوتے تھے۔ بیلوں کی جوڑی اس کا انتخابی نشان ہوا کرتا تھا جب کہ اس کا مقبول ترین عوامی نعرہ تھا ’’کانگریس نے دی آزادی‘ زنجیر غلامی کی توڑی‘ووٹ ہمارا وہیں پڑے گا جہاں بنی بیلوں کی جوڑی‘‘۔ کسانوں سے بے نیازی کانگریس کو مہنگی پڑی اور رفتہ رفتہ وہ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔

کم و بیش یہی کچھ ہندوستانی مسلمانوں کے معاملے میں ہوا جن پر کانگریس تکیہ کیا کرتی تھی۔ سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد وہاں رہنے والے مسلمان کسی اور سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کا تصور بھی کرسکیں۔ کانگریس بھارت کے مسلمان رائے دہندگان کے لیے واحد آپشن تھی۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا مشکل کی ہر گھڑی میں بھارت کے مسلمان صرف اسی کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے اور وہی ان کی داد اور فریاد سنا کرتی تھی۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے زیر سرپرستی پروان چڑھنے والی کانگریس کی قیادت بھارت کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ کانگریس کی قیادت پر تحریک آزادی کے عظیم رہنماؤں خصوصاً مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات کے اثرات قطعی غالب اور حاوی تھے۔

اس کے علاوہ کانگریس کی حامی جماعت جمعیت العلمائے ہند کی سرکردہ عظیم شخصیات مثلاً مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور سبحان الہند مولانا احمد سعید کے احسانات کو فراموش کرنے کی بھی ہمت نہیں کرسکتی تھی جنھیں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں گاندھی جی اور پنڈت نہرو تک براہ راست کسی بھی وقت بلا پیشگی اجازت رسائی حاصل تھی۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دلی کے 1947 کے فسادات کے دوران یہی وہ دونوں ہستیاں تھیں جنھوں نے ہتھیلی پر رکھ کر دلی کے مسلمانوں کو ہر ممکنہ تحفظ فراہم کیا اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ہندو اور سکھ بلوائیوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ 1857 کے پورے 90 سال 80 دن بعد دلی کے کوچہ و بازار ایک بار پھر خون سے رنگین ہو رہے تھے اور یہ خون نہتے اور بے قصور ہندوستانی مسلمانوں کا تھا۔

ہندوستان کے مسلمانوں سے سرد مہری کے نتیجے میں ہی کانگریس کے حکمرانی کے دور میں پے درپے مسلم کش فسادات رونما ہوتے رہے جن میں بابری مسجد کا سانحہ سب سے بڑا اور شرمناک ہے جو کانگریس کے بدنام وزیر اعظم نرسہما راؤ کے دور میں پیش آیا جب کہ تازہ ترین مسلم کش فسادات اتر پردیش کے مشہور ضلع مظفر نگر میں گزشتہ دنوں پیش آئے جس کا خمیازہ اب حکمراں کانگریس پارٹی کو مسلمان رائے دہندگان کی حمایت سے محرومی کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دراصل کانگریس نے ماضی میں جو کچھ بویا تھا موجودہ عام انتخابات میں اسے اب وہی فصل کاٹنا پڑ رہی ہے۔ کانگریس کی قیادت اپنے کیے وعدے پر چاہے پشیمان نہ بھی ہو لیکن اسے اب اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا کچھ نہ کچھ احساس ضرور ہو رہا ہوگا۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی ایک سرکردہ خاتون رہنما مایاوتی کا یہ اندیشہ بھی بالکل بجا ہے کہ مودی کے برسر اقتدار آنے کے نتیجے میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑیں گے کیونکہ مسلم دشمنی آر ایس ایس اور بی جے پی کے خمیر میں شامل ہے۔

کانگریس پارٹی نے اگر مسلمانوں سے بے رخی نہ کی ہوتی تو آج اسے یہ دن دیکھنا نہ پڑتا اور مسلمانوں کی بھرپور حمایت کی بدولت عام انتخابات میں اس کا پلڑا یقینا بھاری ہوتا۔ دوسری جانب بھارتی مسلمانوں کا ووٹ بینک بھی تقسیم ہونے سے بچ جاتا۔ اگر بی جے پی کی قیادت میں عقل و فہم کی ذرا سی رمق باقی ہے تو اسے مستقبل میں اپنی کامیابی کے لیے ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور حقیقت پسندی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا ہوگا جوکہ بھارت کی سب سے بڑی اور اہم ترین اقلیت ہیں۔ بصورت دیگر اس غلطی کا خمیازہ نہ صرف بی جے پی کو بلکہ پورے ہندوستان کو عدم استحکام کی صورت میں جلد یا بدیر بھگتنا ہی پڑے گا۔

شکیل فاروقی