Pakistan Economy : Devaluation of the dollar is fake? By Dr. Shahid Hassan


ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کی صبح ڈالر اوپن مارکیٹ میں 98 روپے کا ہوگیا۔ پاکستانی روپیہ ڈالر پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک ڈالر کی قدر میں 6 روپے 16 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ساڑھے آٹھ ماہ کے بعد ڈالر اس سطح پر آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں کمی ملک میں رواں ماہ ڈالر کی آمد کی توقعات کے باعث ہورہی ہے، جبکہ فاریکس ڈیلرز کے مطابق عوام بھی ڈالر کو روپے میں تبدیل کروارہے ہیں۔ دوسری جانب رواں مالی سال کے دوران 10 ارب 20 کروڑ ڈالر ترسیلاتِ زر کی صورت میں موصول ہوئے، جو گزشتہ عرصے کی نسبت 11 فیصد زیادہ ہیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اضافے کے بعد 9.37 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوششوں نے مثبت نتائج دکھانا شروع کیے ہیں اور ہم جلد ہی اپنے اعلان کے مطابق مارچ کے مہینے کے آخر تک زرِ مبادلہ کے ذخائر کو دس ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت زرِمبادلہ میں اضافے کی پالیسی پر کاربند ہے جو کولیشن سپورٹ فنڈ، اتصالات سے بقایا جات کی وصولی اور یورو بانڈزکی وصولیوں کی مدد سے ممکن ہوگا۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی کی وجوہات کے بارے میںٹاپ لائن سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں گراوٹ کی بڑی وجہ پاکستان ڈیویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد ہے جس پر ایک خوشگوار حیرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے کسی کو وزیرِ خزانہ کی اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر تک جاسکتے ہیں۔ادھر پاکستان فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے ذمہ دارسٹے باز تھے جنہوں نے مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ذخیرہ کرلیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں کچھ بینک بھی ملوث تھے جنہوں نے ڈالر خریدنے کے لیے کارٹیل بنائے جس کا ثبوت یہ ہے کہ نجی بینکوں کے پاس سرکاری بینکوں سے زیادہ ڈالر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے اس ضمن میں واضح اعلانات کیے تو اس کا اثر مارکیٹ پر بھی پڑا۔ روپے کی قدر میں کتنا اضافہ ممکن ہے اس بارے میں ملک بوستان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت برآمد کنندگان کے دباؤ میں نہ آئے تو اگلے تین ماہ میں ڈالر 90 روپے کی سطح پر آسکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرِ معاشیات، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا فرائیڈے اسپیشل سے بات چیت میں کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ بظاہر اچھی بات ہے مگر انہیں یہ سب مصنوعی لگ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس ہم جب بھی جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کریں، اور یہ 2001ئ، 2008ء اور2013ء میں بھی ہوچکا ہے اور ہمیشہ روپے کی قدر میں کمی کی جاتی رہی ہے۔ اس دوران سٹے باز میدان میں آجاتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ روپے کو گرا کر خوب دولت کماتے ہیں۔ اس سٹے بازی اور غلط کاری میں بینکوں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔2001ء میں بھی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ سٹے بازی ہوئی ہے، اور2008ء میں مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ سٹے بازی ہوئی ہے اور بینکوں کا اس میں کردار ہے، ہم ایکشن لیںگے۔ اب جو روپے کی قدر میں کمی ہوئی اس میں بھی سٹے بازی ہوئی جس میں بینکوں کا بھی کردار ہے، اور اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم سٹہ بازوں کے خلاف ایکشن لیں گے۔ لیکن کسی کے خلاف کبھی ایکشن نہیں ہوا، اور یہ اربوں روپے کما کر بچ کر نکل جاتے ہیں۔ اب یہ جو ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں بڑھی تھی اور ڈالر 98 روپے سے111 روپے کا ہوگیا تھا اس کا جواز نہیں تھا۔آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ 103 سے 104روپے پر آجائے، مگر سٹے بازوں نے اس کو 111روپے تک پہنچا دیا۔ اسحاق ڈار نے کوشش کی کہ اس کو کم کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک نے کوشش کی اور کہا کہ روپے کو مضبوط کریں۔ دیکھیں ایکسچینج کمپنیوں کی ایسوسی ایشن بھی آفر کرتی ہے کہ آپ کو اگر سپورٹ چاہیے تو ہم آپ کو کئی ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ تو ماضی میں تو ایسا بھی ہوا کہ 25، 30 فیصد تک مختصر مدت میں بہتری آئی ہے، اور ابھی جو ہوئی ہے وہ 10فیصد ہوئی ہے۔ یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ سٹے بازی تھی،اس عمل کو الٹدیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی بہتری آئی ہے تو پیٹرول کے نرخ کم ہونے چاہئیں، درآمدی اشیاء کے نرخ بھی کم ہونے چاہئیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہونے چاہئیں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور اِس وقت تو یہ بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے خراب ہیں تو روپے کی قدر کو اتنا گرانے کی ضرورت تھی اور نہ جس طرح انہوں نے ٹھیک کیا ہے اس کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اعداد وشمار اس کی نفی کرتے ہیں۔ (1)جاری کھاتوں کا خسارہ چار سو چالیس ملین سے بڑھ کر دو بلین روپے ہوگیا ہے۔ (2) پاکستانی شرح نمو چار یا پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ (3) پاکستان کے جو تجارتیشراکت دار ہیں اُن کے یہاں مہنگائی دو فیصد ہے جبکہ ہمارے یہاں نو فیصد ہے۔ سات فیصدکا فرق تو بہرحال ہے۔ اِس مرتبہ کھیل ہوا ہے اور کھیل کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کہتا ہے کہ اگر پاکستان نے نجکاری کی تو اس کی قسمت بدل جائے گی۔ ہمیں تو پتا ہے کہ نجکاری سے کیسی قسمت بدلتی ہے! تو اب اس کی جو صحیح صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ نواز حکومت نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا۔ پاکستان اوورسیز چیمبر کا کہنا ہے کہ یہ اپنے منشور کے صرف ایک نکتہ پر عمل کرلیتے اور ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگاتے تو آپ کو ایک سال میں پچیس سو ارب روپے مل جاتے۔ ظاہر بات ہے طاقتور طبقے یہ نہیں چاہتے کہ ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگایا جائے۔ تو انہوں نے ایک تیر سے دو شکار اس طرح کیے کہ نجکاری کا پروگرام بنایا اور وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’3جی، 4جی لائسنس سے ہمیں آٹھ ارب ڈالر تک وصول ہوں گے‘‘ اور یہ تاثر پیدا کیا کہ پاکستان کے محفوظ ذخائر بڑھنے والے ہیں۔ حالانکہ میرا تو خیال ہے کہ دو ارب ڈالر بھی مشکل سے آئیں گے۔ اس میں خطرناک بات یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ کہا کہ ہم پاکستان پیٹرولیم اور آئل اینڈ گیس کاپوریشن کے شیئرز بھی عالمی مارکیٹ میں فروخت کریں گے، جس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، اور حبیب بینک کے شیئر بھی فروخت کریں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ منفعت بخش اداروں کی فروخت مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ نہیں تھی۔ اب کھیل یہ ہوا جس میں عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی بھی شامل ہے کہ پاکستان کے جو اہم اثاثے ہیں وہ غیر ملکیوں کے قبضے میں چلے جائیں۔ عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ ٹیکسوں کے ضمن میں اپنے منشور پر عمل کرنے کے بجائے قومی اثاثوں کو بیچنے کا پروگرام ان کے منشور سے متصادم ہے، اور ٹیکسوں کی جو وصولی ہے وہ سال کے سال ہوتی ہے، اگر اِس سال ڈھائی ہزار ارب بڑھتے ہیں تو اگلے سال بھی بڑھیں گے اور بعد میں بھی بڑھیں گے۔ لیکن نجکاری کا پیسہ ایک دفعہ آجاتا ہے اور وہ کھا جاتے ہیں تو کیا قوم یہ کرنے کے لیے تیار ہے! ٹیکسوں کے ضمن میں جو منشور ہے اس پر عمل نہ ہو اور نجکاری کے ضمن میں جو منشور ہے اس کے خلاف عمل ہو… ان دونوں چیزوں میں انہوں نے قوم کو مار دیا ہے۔ ابھی ڈالر کی گراوٹ کے پس منظر میں بیرون ملک سے دوست ملک کی حیثیت سے ڈیڑھ ارب ڈالر آگیا ہے۔ اس کی پوری تفصیلات نہیں ہیں۔ امریکہ کا کیا مفاد تھا، ہمارا کیا مفاد ہے، اس رقم کے عوض ہم نے ان سے کیا وعدے کرلیے ہیں، اس کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ آئل اینڈ گیس کارپوریشن اور پاکستان پیٹرولیم کا سالانہ منافع 209 ارب روپے ہے اور یہ منافع بڑھ رہا ہے، لیکن جب آپ ان کے شیئرز بیچ دیں گے تو اگلے سال تو منافع نہیں ملے گا! اور نجکاری کا پیسہ بھی نہیں ملے گا۔ ٹیکس آپ بڑھا نہیں رہے تو اگلے سال تو آپ کا بجٹcollapse ہونے والا ہے اور جو اثاثے آپ نے بیچے ہیں اور بیچ رہے ہیں ان کو اگر دشمن ملک خرید لے تو آپ کی معیشت دشمنوں کے حوالے ہوجائے گی۔ اور اہم بات یہ ہے کہ حبیب بینک وغیرہ کا منافع روپے میں ہوتا ہے، اور جب ان اداروں کے شیئرز آپ بیچیں گے جو اچھا منافع دے رہے ہیں تو آپ کو یہ منافع بھی نہیں ملے گا۔ تو یہ ایک تماشا ہے۔ قوم کو سوچنا ہوگا کہ یہ کیوں ہورہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگلے برسوں میں پاکستان میں ایک معاشی بحران آئے گا جس کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ کیونکہ اِس سال مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں 2600 ارب روپے ٹیکسوں کی وصولی دکھائی ہے۔1500ارب صوبوں کو چلے گئے تو بچے 11 سو ارب… جبکہ 12 سو ارب ان کو ایک سال میں سود دینا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی آمدنی سے سود بھی ادا نہیں کرسکتے تو پورا ملک کہاں سے چلائیں گے! تو بات یہ ہے کہ یہ ایک منظم کھیل ہے۔ انہوں نے ڈالر کو ضرورت سے زیادہ گرایا ہے تاکہ کامیابی کا تاج پہن لیں اور قوم کو اس بحث میں الجھادیا کہ یہ گرا کیسے ؟ اور بڑھا کیسے؟ تو انہوں نے نجکاری کا ڈراما رچانے اور ٹیکسوں کے مسئلے کو پیچھے ڈالنے کے لیے اس بحث میں ہمیں الجھایا ہے۔ یہ گریٹ گیم کا حصہ ہے کہ ہمارے اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جائیں۔

……٭……

ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ اس رجحان کے مستقبل میں پاکستان کی معیشت پر کتنے اچھے اور برے اثرات پڑیں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن پاکستان کے مفاد پرست طبقہ اشرافیہ کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے جن خدشات کا اظہار کیا اس پر سیاسی قیادت کو ضرور سوچنا ہوگا اور اس کے سدباب کے لیے سنجدہ عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو خدشہ ہے کہ آج انسانوں کا پیدا کردہ مصنوعی قحط جوآہستہ آہستہ، دبے قدموں، بڑی دھیرج سے وسیع و عریض علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر موت سے ہمکنار کررہا ہے وہ مستقبل میں ملک کے کئی علاقوں کو تھر میں تبدیل کردے گا۔

Pakistan Economy : Devaluation of the dollar is fake? By Dr. Shahid Hassan
اے۔ اے۔ سیّد

خود سوزی، عدل اور انصاف

مظفر گڑھ میں زیادتی اور خود سوزی کے دل خر اش واقعے نے ہمارے سوئے ضمیر کو پھر سے جگا دیا ہے۔ اگرچہ یہ جاگنا بھی وقتی ہے مگر پھر بھی سوئے رہنے سے بہتر ہے۔ اس واقعے کو دوسرے واقعے سے جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو اصل قصہ سمجھ آئے گا۔ پاکستان کے ایک اور شہر میں والد کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر دو بچوں نے خود کو جلا ڈالا۔ لڑکی جانبر نہ ہو پائی۔ اس طرح کے تمام اندوہناک اور روح تڑپا دینے والی خبروں کے پیچھے ایک ہی عنصر کارفرما ہے اور وہ ہے انصاف کی عدم دستیابی۔ پاکستان میں سب سے بڑے مظالم کا گڑھ ہے تھانہ اور کچہری۔ شہر ہو یا مضافات شہریوں کے حقوق کی پامالی اور تذلیل کے بڑے بڑے واقعات اسی نظام کے ذریعے ہوتے ہیں۔ جن ممالک میں پولیس مستعد اور جرائم پیشہ یا طاقت ور حلقوں کے تابع نہیں ہوتی وہاں پر مظلوم کو انصاف کی امید اور ظالم کو سزا کا خوف ہوتا ہے۔ برطانوی راج کے تحت چلنے والے تھانے تمام تر استحصال اور انتظامی سختی کے باوجود اس طرز میں جمہوری یقیناً تھے کہ ان کو ظالم اور مظلوم دونوں کے ساتھ نپٹنے کا انداز آتا تھا۔ ان کو ظالم اور مظلوم کا فرق بھی پتہ تھا۔ اوپر سے یہ زمین گورے نے اپنے قبضے میں کی ہوئی تھی اور یہاں کی آبادی کو غلام بنایا ہوا تھا۔ مگر غلاموں کو مطمئن رکھنے کے لیے اس نے ایسا تھانہ سسٹم تیار کر دیا تھا جو ڈاکوؤں، چوروں اور بدمعاش عناصر قلع قمع کرنے کی صلاحیت اور قانونی جواز رکھتا تھا۔

ہم نے آزادی کے بعد سب سے پہلے انسانوں کا ستیاناس کیا اور ان کو مختلف خواہ مخواہ کے تجربات میں سے گزار کر طرح طرح کے حیلے بہانے استعمال کرتے ہوئے آزاد ریاست کے نئے مالکان کے گھر کی لونڈی بنا دیا۔ 2014ء میں حال یہ ہے کہ پولیس یا حکومت کے لیے کام کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ عوام کو ظالموں کی پہنچ سے دور رکھنے کی جو بنیادی ذمے داری پولیس کو سونپی گئی تھی اس کا نشان تک نہیں ملتا۔ جمہوری حکمرانوں نے فوجی طالع آزماؤں سے بڑھ کر تھانوں پر قبضہ کیا ہے۔ آج بھی کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے رکن کے گھر چلے جائیں 50 فیصد معاملات کا تعلق تھانوں سے ہی ہو گا۔ وزیر ِاعلی اپنے کام کے بہترین گھنٹے افسران اور تھانوں کے سربراہان کی پوسٹنگ اور تبادلوں پر صرف کرتے ہیں۔ ان کو علم ہے ان کی طاقت کی بنیاد عوام کے ووٹ نہیں بلکہ عوام کا گلا گھونٹنے کا وہ نظام ہے جو تھانوں کے قبضے پر بنیاد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے تھانوں میں بالخصوص اور پولیس کے نظام میں بالعموم کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ حقیقی تبدیلی لانے کے بجائے بحث کو دھڑوں کی سیاست میں الجھا دیا جاتا ہے۔ ایک طرف پولیس والوں کا دھڑا ہے اور دوسری طرف نام نہاد DMG گروپ بھی پولیس کو انتظامیہ کے تابع کرنے کے نام پر تاخیر کی جاتی ہے۔ اور کبھی انتظامیہ سے جان چھڑانے کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

جنرل مشرف کے دور میں شروع ہونے والی بحث ابھی تک جاری ہے مگر تھانے ویسے کے ویسے ہی ہیں جن کے اہلکار خود سوزی کر نے والوں پر مٹی ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے۔ پنجاب میں شہباز شریف میلوں ٹھیلوں کے ذریعے دوسری مسلسل پانچ سالہ مدت پوری کر رہے ہیں۔ پنجاب میں مختصر وقفوں کے علا وہ میاں صاحبان نے طویل حکومت کی ہے۔ میں پرویز الٰہی کے دور کو بھی میاں صاحبان کا دور ہی کہوں گا۔ صرف وزیر اعلیٰ کا چہرہ مختلف تھا، افسران اور نظام وہی تھا جو شریف برادران چھوڑ کر گئے تھے۔ ایک صدی کے ایک چوتھائی عرصے میں ہمارے انقلابی حکمرانوں نے کیا تبدیل کیا ہر دوسرے روز بدقسمت خاندانوں کے گھروں میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ بازو ہلا ہلا کر احتساب کی باتیں کرتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں اور خود کو پسندیدہ کالم کاروں کے ذریعے افلاطون اور ارسطو کے درجے پر فائز کرتے ہیں مگر بدلتے کچھ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2014ء میں ٖغریبوں کی بیٹیاں ظلم کا شکار ہونے کے بعد سڑکوں پر جل مر رہی ہیں۔ پاکستان میں اصلاحات اور انقلابی تبدیلی کے نام سے جس قسم کے دھوکے ہوتے ہیں اُن کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ مگر اس سے بڑا دھوکہ اُن سیاسی جماعتوں نے دیا ہے جو خود کو حزب اختلاف قرار دیتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف آخری الیکشن میں انقلاب کا نعرہ لے کر آئی تھی۔ مگر جب سے عمران خان شریف ہوئے ہیں تب سے تھانوں کی اصطلاحات کا معاملہ دور ٹھنڈے اسٹور میں ڈال دیا گیا ہے۔ بڑی بڑی باتیں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھاتی ہیں۔ امریکا، ڈرون، دہشت گردی کے خلاف (یا اس کے حق میں جنگ) وہ شہ سرخیاں ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مزید اہم بناتی ہے۔

مظفر گڑھ، ملتان، تھر میں غریبوں کی اموات مٹی سے اٹے ہوئے دیہات اور گوٹھوں میں تھانوں کا ظلم یہ سب معاملے چھو ٹے ہیں۔ اِ ن کو موخر کیا جا سکتا ہے۔ غریب کی اولاد مرنے اور لٹنے کے لیے ہی پیدا ہوتی ہے۔ امیر لیڈران ان بیکار لوگوں کے دیرینہ مسائل کو اپنے سر پر سوار کر کے اپنی توجہ مسائل سے نہیں ہٹانا چاہتے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت نظام عدل کی بھی ہے۔ نچلے درجے کا انصاف کا نظام ویسا ہی ہے جیسے نچلے طبقے کی زندگیاں جمود کا شکار، تحریک سے عاری، ذمے داری سے خالی۔ ہمارے یہاں انصاف بڑے بڑے مقدمات پر ہو تا ہے۔ جتنی قانونی بحث جنرل مشرف کے مقدمے پر ہوتی ہے اگر تمام عدالتی نظام کو درست کر نے پر صرف کی جاتی تو اس قوم کا اصل میں کچھ بھلا ہو جاتا ہے مگر چھوٹے مقدمات طویل قومی بحث کا موضوع نہیں بنتے اور پھر جہاں تک ہمارا عدالتی نظام پہنچ چکا ہے وہاں سے نچلی سطح کے مقدمات اُن لوگوں کی طرح ہی نظر آتے ہیں جن کا وجود طاقت کے کھیل میں غیر ضروری ہے۔ جنرل مشرف کو سزا دلوانے پر تمام نظام تلا ہوا ہے سزا ملنی چاہیے مگر روزانہ انصاف کے متلاشی لوگ خود کشیاں کرتے پھر رہے ہیں۔ اُن کی حالت زار پر اگر تھوڑی سی توجہ دے دی جاتی تو کوئی حرج نہیں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم طاقتور طبقوں سے برابری اور اچھائی کی توقع کر رہے ہیں۔ یہ تمام طبقات لوگوں کی پسی ہوئی ہڈیوں کے انباروں پر رہتے ہیں۔ یہ وقتی طور پر تو نیچے نظر دوڑا کر خود سوزی کے واقعات پر افسوس کا اظہار بھی کر تے ہیں۔ مگر حقیقت میں ان کے پا س عام لوگوں کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔ اُن کا مرنا اور جینا اِن کے لیے بے معنی ہے۔

طلعت حسین