ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کی صبح ڈالر اوپن مارکیٹ میں 98 روپے کا ہوگیا۔ پاکستانی روپیہ ڈالر پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک ڈالر کی قدر میں 6 روپے 16 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ساڑھے آٹھ ماہ کے بعد ڈالر اس سطح پر آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں کمی ملک میں رواں ماہ ڈالر کی آمد کی توقعات کے باعث ہورہی ہے، جبکہ فاریکس ڈیلرز کے مطابق عوام بھی ڈالر کو روپے میں تبدیل کروارہے ہیں۔ دوسری جانب رواں مالی سال کے دوران 10 ارب 20 کروڑ ڈالر ترسیلاتِ زر کی صورت میں موصول ہوئے، جو گزشتہ عرصے کی نسبت 11 فیصد زیادہ ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اضافے کے بعد 9.37 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوششوں نے مثبت نتائج دکھانا شروع کیے ہیں اور ہم جلد ہی اپنے اعلان کے مطابق مارچ کے مہینے کے آخر تک زرِ مبادلہ کے ذخائر کو دس ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت زرِمبادلہ میں اضافے کی پالیسی پر کاربند ہے جو کولیشن سپورٹ فنڈ، اتصالات سے بقایا جات کی وصولی اور یورو بانڈزکی وصولیوں کی مدد سے ممکن ہوگا۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی کی وجوہات کے بارے میںٹاپ لائن سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں گراوٹ کی بڑی وجہ پاکستان ڈیویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد ہے جس پر ایک خوشگوار حیرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے کسی کو وزیرِ خزانہ کی اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر تک جاسکتے ہیں۔ادھر پاکستان فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے ذمہ دارسٹے باز تھے جنہوں نے مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ذخیرہ کرلیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں کچھ بینک بھی ملوث تھے جنہوں نے ڈالر خریدنے کے لیے کارٹیل بنائے جس کا ثبوت یہ ہے کہ نجی بینکوں کے پاس سرکاری بینکوں سے زیادہ ڈالر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے اس ضمن میں واضح اعلانات کیے تو اس کا اثر مارکیٹ پر بھی پڑا۔ روپے کی قدر میں کتنا اضافہ ممکن ہے اس بارے میں ملک بوستان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت برآمد کنندگان کے دباؤ میں نہ آئے تو اگلے تین ماہ میں ڈالر 90 روپے کی سطح پر آسکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرِ معاشیات، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا فرائیڈے اسپیشل سے بات چیت میں کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ بظاہر اچھی بات ہے مگر انہیں یہ سب مصنوعی لگ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس ہم جب بھی جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کریں، اور یہ 2001ئ، 2008ء اور2013ء میں بھی ہوچکا ہے اور ہمیشہ روپے کی قدر میں کمی کی جاتی رہی ہے۔ اس دوران سٹے باز میدان میں آجاتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ روپے کو گرا کر خوب دولت کماتے ہیں۔ اس سٹے بازی اور غلط کاری میں بینکوں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔2001ء میں بھی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ سٹے بازی ہوئی ہے، اور2008ء میں مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ سٹے بازی ہوئی ہے اور بینکوں کا اس میں کردار ہے، ہم ایکشن لیںگے۔ اب جو روپے کی قدر میں کمی ہوئی اس میں بھی سٹے بازی ہوئی جس میں بینکوں کا بھی کردار ہے، اور اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم سٹہ بازوں کے خلاف ایکشن لیں گے۔ لیکن کسی کے خلاف کبھی ایکشن نہیں ہوا، اور یہ اربوں روپے کما کر بچ کر نکل جاتے ہیں۔ اب یہ جو ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں بڑھی تھی اور ڈالر 98 روپے سے111 روپے کا ہوگیا تھا اس کا جواز نہیں تھا۔آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ 103 سے 104روپے پر آجائے، مگر سٹے بازوں نے اس کو 111روپے تک پہنچا دیا۔ اسحاق ڈار نے کوشش کی کہ اس کو کم کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک نے کوشش کی اور کہا کہ روپے کو مضبوط کریں۔ دیکھیں ایکسچینج کمپنیوں کی ایسوسی ایشن بھی آفر کرتی ہے کہ آپ کو اگر سپورٹ چاہیے تو ہم آپ کو کئی ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ تو ماضی میں تو ایسا بھی ہوا کہ 25، 30 فیصد تک مختصر مدت میں بہتری آئی ہے، اور ابھی جو ہوئی ہے وہ 10فیصد ہوئی ہے۔ یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ سٹے بازی تھی،اس عمل کو الٹدیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی بہتری آئی ہے تو پیٹرول کے نرخ کم ہونے چاہئیں، درآمدی اشیاء کے نرخ بھی کم ہونے چاہئیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہونے چاہئیں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور اِس وقت تو یہ بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے خراب ہیں تو روپے کی قدر کو اتنا گرانے کی ضرورت تھی اور نہ جس طرح انہوں نے ٹھیک کیا ہے اس کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اعداد وشمار اس کی نفی کرتے ہیں۔ (1)جاری کھاتوں کا خسارہ چار سو چالیس ملین سے بڑھ کر دو بلین روپے ہوگیا ہے۔ (2) پاکستانی شرح نمو چار یا پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ (3) پاکستان کے جو تجارتیشراکت دار ہیں اُن کے یہاں مہنگائی دو فیصد ہے جبکہ ہمارے یہاں نو فیصد ہے۔ سات فیصدکا فرق تو بہرحال ہے۔ اِس مرتبہ کھیل ہوا ہے اور کھیل کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کہتا ہے کہ اگر پاکستان نے نجکاری کی تو اس کی قسمت بدل جائے گی۔ ہمیں تو پتا ہے کہ نجکاری سے کیسی قسمت بدلتی ہے! تو اب اس کی جو صحیح صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ نواز حکومت نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا۔ پاکستان اوورسیز چیمبر کا کہنا ہے کہ یہ اپنے منشور کے صرف ایک نکتہ پر عمل کرلیتے اور ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگاتے تو آپ کو ایک سال میں پچیس سو ارب روپے مل جاتے۔ ظاہر بات ہے طاقتور طبقے یہ نہیں چاہتے کہ ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگایا جائے۔ تو انہوں نے ایک تیر سے دو شکار اس طرح کیے کہ نجکاری کا پروگرام بنایا اور وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’3جی، 4جی لائسنس سے ہمیں آٹھ ارب ڈالر تک وصول ہوں گے‘‘ اور یہ تاثر پیدا کیا کہ پاکستان کے محفوظ ذخائر بڑھنے والے ہیں۔ حالانکہ میرا تو خیال ہے کہ دو ارب ڈالر بھی مشکل سے آئیں گے۔ اس میں خطرناک بات یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ کہا کہ ہم پاکستان پیٹرولیم اور آئل اینڈ گیس کاپوریشن کے شیئرز بھی عالمی مارکیٹ میں فروخت کریں گے، جس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، اور حبیب بینک کے شیئر بھی فروخت کریں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ منفعت بخش اداروں کی فروخت مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ نہیں تھی۔ اب کھیل یہ ہوا جس میں عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی بھی شامل ہے کہ پاکستان کے جو اہم اثاثے ہیں وہ غیر ملکیوں کے قبضے میں چلے جائیں۔ عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ ٹیکسوں کے ضمن میں اپنے منشور پر عمل کرنے کے بجائے قومی اثاثوں کو بیچنے کا پروگرام ان کے منشور سے متصادم ہے، اور ٹیکسوں کی جو وصولی ہے وہ سال کے سال ہوتی ہے، اگر اِس سال ڈھائی ہزار ارب بڑھتے ہیں تو اگلے سال بھی بڑھیں گے اور بعد میں بھی بڑھیں گے۔ لیکن نجکاری کا پیسہ ایک دفعہ آجاتا ہے اور وہ کھا جاتے ہیں تو کیا قوم یہ کرنے کے لیے تیار ہے! ٹیکسوں کے ضمن میں جو منشور ہے اس پر عمل نہ ہو اور نجکاری کے ضمن میں جو منشور ہے اس کے خلاف عمل ہو… ان دونوں چیزوں میں انہوں نے قوم کو مار دیا ہے۔ ابھی ڈالر کی گراوٹ کے پس منظر میں بیرون ملک سے دوست ملک کی حیثیت سے ڈیڑھ ارب ڈالر آگیا ہے۔ اس کی پوری تفصیلات نہیں ہیں۔ امریکہ کا کیا مفاد تھا، ہمارا کیا مفاد ہے، اس رقم کے عوض ہم نے ان سے کیا وعدے کرلیے ہیں، اس کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ آئل اینڈ گیس کارپوریشن اور پاکستان پیٹرولیم کا سالانہ منافع 209 ارب روپے ہے اور یہ منافع بڑھ رہا ہے، لیکن جب آپ ان کے شیئرز بیچ دیں گے تو اگلے سال تو منافع نہیں ملے گا! اور نجکاری کا پیسہ بھی نہیں ملے گا۔ ٹیکس آپ بڑھا نہیں رہے تو اگلے سال تو آپ کا بجٹcollapse ہونے والا ہے اور جو اثاثے آپ نے بیچے ہیں اور بیچ رہے ہیں ان کو اگر دشمن ملک خرید لے تو آپ کی معیشت دشمنوں کے حوالے ہوجائے گی۔ اور اہم بات یہ ہے کہ حبیب بینک وغیرہ کا منافع روپے میں ہوتا ہے، اور جب ان اداروں کے شیئرز آپ بیچیں گے جو اچھا منافع دے رہے ہیں تو آپ کو یہ منافع بھی نہیں ملے گا۔ تو یہ ایک تماشا ہے۔ قوم کو سوچنا ہوگا کہ یہ کیوں ہورہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگلے برسوں میں پاکستان میں ایک معاشی بحران آئے گا جس کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ کیونکہ اِس سال مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں 2600 ارب روپے ٹیکسوں کی وصولی دکھائی ہے۔1500ارب صوبوں کو چلے گئے تو بچے 11 سو ارب… جبکہ 12 سو ارب ان کو ایک سال میں سود دینا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی آمدنی سے سود بھی ادا نہیں کرسکتے تو پورا ملک کہاں سے چلائیں گے! تو بات یہ ہے کہ یہ ایک منظم کھیل ہے۔ انہوں نے ڈالر کو ضرورت سے زیادہ گرایا ہے تاکہ کامیابی کا تاج پہن لیں اور قوم کو اس بحث میں الجھادیا کہ یہ گرا کیسے ؟ اور بڑھا کیسے؟ تو انہوں نے نجکاری کا ڈراما رچانے اور ٹیکسوں کے مسئلے کو پیچھے ڈالنے کے لیے اس بحث میں ہمیں الجھایا ہے۔ یہ گریٹ گیم کا حصہ ہے کہ ہمارے اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جائیں۔
……٭……
ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ اس رجحان کے مستقبل میں پاکستان کی معیشت پر کتنے اچھے اور برے اثرات پڑیں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن پاکستان کے مفاد پرست طبقہ اشرافیہ کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے جن خدشات کا اظہار کیا اس پر سیاسی قیادت کو ضرور سوچنا ہوگا اور اس کے سدباب کے لیے سنجدہ عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو خدشہ ہے کہ آج انسانوں کا پیدا کردہ مصنوعی قحط جوآہستہ آہستہ، دبے قدموں، بڑی دھیرج سے وسیع و عریض علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر موت سے ہمکنار کررہا ہے وہ مستقبل میں ملک کے کئی علاقوں کو تھر میں تبدیل کردے گا۔
Pakistan Economy : Devaluation of the dollar is fake? By Dr. Shahid Hassan اے۔ اے۔ سیّد
پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 37 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ ڈالر 97 روپے 98 پیسے کا ہوکر پھر اوپر جانا شروع ہو گیا ہے۔ جب ملکی قرضوں کے بار میں 800 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے مطابق ڈالر ریٹ کی کمی کا فائدہ عوام کو پہنچایا جائے گا۔ پٹرولیم کی قیمتیں بھی کم کی جائیں گی جس سے مہنگائی میں بھی کمی واقع ہوگی۔ 7 فروری 2014 کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 7 ارب 59 کروڑ ڈالر تھے۔ اس دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے حکومتی کوششیں رنگ لے کر آئیں۔ حکومت جلد ہی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے قبل ہی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی تھی۔ اس کے بعد کئی ماہ تک ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافے کا سلسلہ برقرار رہا جس پر حکومت پر کافی تنقید کی جاتی تھی ایک وقت ایسا بھی آیا جب ڈالر 111 روپے کا ہوچکا تھا۔
اس کے بعد کچھ عرصے تک ڈالر ریٹ 105 یا 106 کے لگ بھگ بھی رہا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ چند دن کے اندر ڈالر 98 روپے کا ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کا یہ دعویٰ بھی صحیح ثابت ہوگیا کہ ڈالر کو 98 روپے تک لے کر جائیں گے۔ جن دنوں ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ جلد ہی ڈالر 127 روپے تک پہنچ جائے گا۔ گزشتہ چند ماہ سے آئی ایم ایف کو قسطوں کی ادائیگی کے باعث ڈالر کی طلب میں اضافہ ہو رہا تھا جس کے منفی اثرات روپے پر مرتب ہو رہے تھے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے روپیہ شدید دباؤ کا شکار ہوکر رہ گیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نیز پاکستان ترقیاتی فنڈ کے نام سے دوست ممالک سے منصوبوں کے لیے رقوم کی وصولی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں تقریباً 2 ارب ڈالر کے اضافے نے روپے کی قدر کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف تیل کی درآمدات کی ادائیگی میں سہولیات اور ملک میں تیل کی پیداوار 90ہزار بیرل فی یومیہ بیچنے کے ساتھ ہی توقع ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے گی۔
پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں نقل و حمل کے اخراجات میں کمی واقع ہوگی اور وقتی طور پر عوام کو بھی اس کے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ کرایوں کی کمی کے باعث ہر شے کی قیمت میں کچھ نہ کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔ خصوصاً اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ حکومت کو روپے کی قدر میں اضافے کے بعد سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ کسی طرح گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لے کر آئے۔ حکومت کسانوں سے 30 روپے فی کلو یعنی 1200 روپے من کے حساب سے گندم خریدتی ہے جب کہ مارکیٹ میں فی کلو آٹے کی قیمت 50 روپے ہے۔ یہاں پر چکی مالکان ہول سیلرز وغیرہ کا ایک ہی بہانہ ہوتا ہے کہ نقل و حمل کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتیں آئے روز بڑھتی رہتی ہیں لہٰذا آٹے اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حکومت کو درآمد کنندگان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ روپے کی قدر میں اضافے کے باعث پام آئل جوکہ بڑی تعداد میں بیرون ممالک سے درآمد کیا جاتاہے ۔ اس کی قیمت بھی کم ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر ڈالر ریٹ میں کمی کا فائدہ درآمدکنندگان اٹھاتے رہیں گے اور عوام کو اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچایا جائے گا۔ آیندہ دو ہفتوں کے بعد گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں کمی واقع ہونا چاہیے اس کے علاوہ چائے کی پتیوں کی قیمت بھی کم ہونے کی صورت میں عوام کے لیے چائے کی پتی سستی کرنا یہ بھی حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈالر ریٹ میں کمی کی وجہ معاشی وجوہات نہیں بلکہ پولیٹیکل وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن ہوا ہے۔ اگرچہ معاشی اشاریوں نے بھی مثبت اشارے دیے ہیں لیکن اس کے باوجود معیشت کے تمام مسائل اپنی جگہ پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ مثلاً ابھی تک توانائی کا بحران بھرپور انداز میں موجود ہے۔ ٹیکس وصولیاں بھی زیادہ نہیں ہو رہی ہیں، ترسیلات زر میں تھوڑا بہت اضافہ ہوا ہے اور سب سے بڑا مسئلہ ابھی تک بیرونی سرمایہ کاری کا ہے جوکہ ابھی تک دہشت گردی کے واقعات کے سبب متاثر ہوچکا ہے۔ 2007 کی بات ہے جب ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران اس میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ اب ایک ارب ڈالر سے بھی کم بیرونی سرمایہ کاری کا حجم ہے۔ لہٰذا اگر روپے کی قدر میں استحکام لانا ہے تو بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملکی سرمایہ کار جوکہ بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں ان کو اس جانب راغب کیا جائے کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں۔ یہاں کارخانے لگائیں تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ حکومت لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے بیرون ملک ورکرز بھجوانے کا عزم رکھتی ہے جس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ کیا جائے۔ گزشتہ 7 ماہ میں ترسیلات زر میں 11 فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ اسی طرح 2007 میں انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کا تناسب 24 تھا آج یہ تناسب بہت ہی گرچکا ہے۔ اس میں بہتری لائے بغیر روپے کی قدر کو مستحکم کرنا انتہائی مشکل ہے۔
روپے کی قدر میں تیزی سے اضافے کے باعث ایکسپورٹر کو قدرے دھچکا پہنچے گا۔ حال ہی میں جی ایس پی اسٹیٹس ملنے کے باعث برآمدات میں اضافے کی توقع پیدا ہوچکی تھی حال ہی میں یورپی یونین کی جانب سے پاکستان پر عاید کردہ پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کے باعث برآمدات میں اضافے کی راہ میں پھر مشکلات بھی پیدا ہوں گی۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ملکی برآمدات میں 8 تا 10 فیصد کمی ہو۔ لہٰذا برآمدات کنندگان کو اس کا معمولی خسارہ پہنچ سکتا ہے جس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ سستی بجلی فراہم کی جائے حکومت بجلی کے نرخوں میں کمی کرے پٹرولیم کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے اس کے علاوہ جو درآمدی خام مال برآمدات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس میں بھی کمی کی جائے تاکہ قیمت میں کمی کے باعث ایکسپورٹ کی اشیا کی لاگت میں کمی ہو جس کا فائدہ برآمد کنندگان اٹھا سکیں۔ کیونکہ برآمدات میں اضافے کے لیے ضروری ہے کہ ایسا ماحول برقرار رکھا جائے جس سے برآمد کنندگان کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔
مارچ 2008 میں اس وقت نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ 2008 میں ہی ڈالر 80 روپے کا ہوچکا تھا۔ جنوری 2012 میں ایک ڈالر کی قیمت روپے تک جا پہنچی تھی۔ جولائی 2013 میں ڈالر 100 روپے کا دستیاب تھا۔ لہٰذا جنوری 2012 اور جولائی 2013 کے اٹھارہ ماہ کے عرصے میں ڈالر کی قدر میں 10 روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ اگر حکومت کئی اقسام کی معاشی اصلاحات لے کر آنے میں کامیابی حاصل کرلیتی ہے تو مزید 5 یا 6 روپے کی کمی لاکر ڈالر 93 تا 95 روپے تک لے کر آنا کوئی مشکل امر نہیں ہوگا۔ کیونکہ جنوری 2008 میں ایک ڈالر 61 روپے کا دستیاب تھا۔ اور جنوری 2011 میں ایک ڈالر 85 روپے کا دستیاب تھا۔ اور جنوری 2012 میں ڈالر 89 روپے 80 پیسے کا دستیاب تھا۔ حکومت کے مطابق اس سال افراط زر کی شرح 8 فیصد تک رہنے کی توقع ہے اگر روپے کی قدر میں استحکام رہتا ہے تو مہنگائی کی شرح میں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ پٹرولیم کی قیمتیں کم کی جائیں۔
اس کے ساتھ ہی آٹا اور دیگر اشیائے خورونوش کے ساتھ تیل اور گھی کی قیمت میں کمی لائی جائے۔ لیکن یہاں پر سردست ایک مسئلہ یہ پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت عنقریب گندم کی درآمد میں اضافہ کر رہی ہے۔ چند سال سے گندم کی درآمد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اب گندم درآمد کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ لہٰذا ایک دفعہ پھر گندم کا بحران پیدا کرکے مہنگائی کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں پر پانی پھیر دیا جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ بجلی کے نرخ جوکہ پہلے ہی عوام پر بہت زیادہ بار ہے۔ نیز صنعتی صارفین بھی اس کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں بجلی کے نرخوں میں فوری کمی کا اعلان کرے۔ اس سے مہنگائی کی شرح میں قدرے کمی کے ساتھ صنعتی صارفین کو بجلی کے نرخوں میں کمی سے برآمد کنندگان کو بھی ڈھارس بندھے گی۔ لہٰذا روپے کی قدر میں اضافے کے ساتھ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ روپے کی قدر کو مستحکم بھی رکھا جائے بصورت دیگر چند ہفتوں میں معاملہ برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ روپے کی قدر مستحکم رہنے کی صورت میں ہی عوام کے لیے افراط زر میں کمی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
مظفر گڑھ میں زیادتی اور خود سوزی کے دل خر اش واقعے نے ہمارے سوئے ضمیر کو پھر سے جگا دیا ہے۔ اگرچہ یہ جاگنا بھی وقتی ہے مگر پھر بھی سوئے رہنے سے بہتر ہے۔ اس واقعے کو دوسرے واقعے سے جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو اصل قصہ سمجھ آئے گا۔ پاکستان کے ایک اور شہر میں والد کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر دو بچوں نے خود کو جلا ڈالا۔ لڑکی جانبر نہ ہو پائی۔ اس طرح کے تمام اندوہناک اور روح تڑپا دینے والی خبروں کے پیچھے ایک ہی عنصر کارفرما ہے اور وہ ہے انصاف کی عدم دستیابی۔ پاکستان میں سب سے بڑے مظالم کا گڑھ ہے تھانہ اور کچہری۔ شہر ہو یا مضافات شہریوں کے حقوق کی پامالی اور تذلیل کے بڑے بڑے واقعات اسی نظام کے ذریعے ہوتے ہیں۔ جن ممالک میں پولیس مستعد اور جرائم پیشہ یا طاقت ور حلقوں کے تابع نہیں ہوتی وہاں پر مظلوم کو انصاف کی امید اور ظالم کو سزا کا خوف ہوتا ہے۔ برطانوی راج کے تحت چلنے والے تھانے تمام تر استحصال اور انتظامی سختی کے باوجود اس طرز میں جمہوری یقیناً تھے کہ ان کو ظالم اور مظلوم دونوں کے ساتھ نپٹنے کا انداز آتا تھا۔ ان کو ظالم اور مظلوم کا فرق بھی پتہ تھا۔ اوپر سے یہ زمین گورے نے اپنے قبضے میں کی ہوئی تھی اور یہاں کی آبادی کو غلام بنایا ہوا تھا۔ مگر غلاموں کو مطمئن رکھنے کے لیے اس نے ایسا تھانہ سسٹم تیار کر دیا تھا جو ڈاکوؤں، چوروں اور بدمعاش عناصر قلع قمع کرنے کی صلاحیت اور قانونی جواز رکھتا تھا۔
ہم نے آزادی کے بعد سب سے پہلے انسانوں کا ستیاناس کیا اور ان کو مختلف خواہ مخواہ کے تجربات میں سے گزار کر طرح طرح کے حیلے بہانے استعمال کرتے ہوئے آزاد ریاست کے نئے مالکان کے گھر کی لونڈی بنا دیا۔ 2014ء میں حال یہ ہے کہ پولیس یا حکومت کے لیے کام کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ عوام کو ظالموں کی پہنچ سے دور رکھنے کی جو بنیادی ذمے داری پولیس کو سونپی گئی تھی اس کا نشان تک نہیں ملتا۔ جمہوری حکمرانوں نے فوجی طالع آزماؤں سے بڑھ کر تھانوں پر قبضہ کیا ہے۔ آج بھی کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے رکن کے گھر چلے جائیں 50 فیصد معاملات کا تعلق تھانوں سے ہی ہو گا۔ وزیر ِاعلی اپنے کام کے بہترین گھنٹے افسران اور تھانوں کے سربراہان کی پوسٹنگ اور تبادلوں پر صرف کرتے ہیں۔ ان کو علم ہے ان کی طاقت کی بنیاد عوام کے ووٹ نہیں بلکہ عوام کا گلا گھونٹنے کا وہ نظام ہے جو تھانوں کے قبضے پر بنیاد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے تھانوں میں بالخصوص اور پولیس کے نظام میں بالعموم کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ حقیقی تبدیلی لانے کے بجائے بحث کو دھڑوں کی سیاست میں الجھا دیا جاتا ہے۔ ایک طرف پولیس والوں کا دھڑا ہے اور دوسری طرف نام نہاد DMG گروپ بھی پولیس کو انتظامیہ کے تابع کرنے کے نام پر تاخیر کی جاتی ہے۔ اور کبھی انتظامیہ سے جان چھڑانے کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا جاتا ہے۔
جنرل مشرف کے دور میں شروع ہونے والی بحث ابھی تک جاری ہے مگر تھانے ویسے کے ویسے ہی ہیں جن کے اہلکار خود سوزی کر نے والوں پر مٹی ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے۔ پنجاب میں شہباز شریف میلوں ٹھیلوں کے ذریعے دوسری مسلسل پانچ سالہ مدت پوری کر رہے ہیں۔ پنجاب میں مختصر وقفوں کے علا وہ میاں صاحبان نے طویل حکومت کی ہے۔ میں پرویز الٰہی کے دور کو بھی میاں صاحبان کا دور ہی کہوں گا۔ صرف وزیر اعلیٰ کا چہرہ مختلف تھا، افسران اور نظام وہی تھا جو شریف برادران چھوڑ کر گئے تھے۔ ایک صدی کے ایک چوتھائی عرصے میں ہمارے انقلابی حکمرانوں نے کیا تبدیل کیا ہر دوسرے روز بدقسمت خاندانوں کے گھروں میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ بازو ہلا ہلا کر احتساب کی باتیں کرتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں اور خود کو پسندیدہ کالم کاروں کے ذریعے افلاطون اور ارسطو کے درجے پر فائز کرتے ہیں مگر بدلتے کچھ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2014ء میں ٖغریبوں کی بیٹیاں ظلم کا شکار ہونے کے بعد سڑکوں پر جل مر رہی ہیں۔ پاکستان میں اصلاحات اور انقلابی تبدیلی کے نام سے جس قسم کے دھوکے ہوتے ہیں اُن کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ مگر اس سے بڑا دھوکہ اُن سیاسی جماعتوں نے دیا ہے جو خود کو حزب اختلاف قرار دیتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف آخری الیکشن میں انقلاب کا نعرہ لے کر آئی تھی۔ مگر جب سے عمران خان شریف ہوئے ہیں تب سے تھانوں کی اصطلاحات کا معاملہ دور ٹھنڈے اسٹور میں ڈال دیا گیا ہے۔ بڑی بڑی باتیں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھاتی ہیں۔ امریکا، ڈرون، دہشت گردی کے خلاف (یا اس کے حق میں جنگ) وہ شہ سرخیاں ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مزید اہم بناتی ہے۔
مظفر گڑھ، ملتان، تھر میں غریبوں کی اموات مٹی سے اٹے ہوئے دیہات اور گوٹھوں میں تھانوں کا ظلم یہ سب معاملے چھو ٹے ہیں۔ اِ ن کو موخر کیا جا سکتا ہے۔ غریب کی اولاد مرنے اور لٹنے کے لیے ہی پیدا ہوتی ہے۔ امیر لیڈران ان بیکار لوگوں کے دیرینہ مسائل کو اپنے سر پر سوار کر کے اپنی توجہ مسائل سے نہیں ہٹانا چاہتے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت نظام عدل کی بھی ہے۔ نچلے درجے کا انصاف کا نظام ویسا ہی ہے جیسے نچلے طبقے کی زندگیاں جمود کا شکار، تحریک سے عاری، ذمے داری سے خالی۔ ہمارے یہاں انصاف بڑے بڑے مقدمات پر ہو تا ہے۔ جتنی قانونی بحث جنرل مشرف کے مقدمے پر ہوتی ہے اگر تمام عدالتی نظام کو درست کر نے پر صرف کی جاتی تو اس قوم کا اصل میں کچھ بھلا ہو جاتا ہے مگر چھوٹے مقدمات طویل قومی بحث کا موضوع نہیں بنتے اور پھر جہاں تک ہمارا عدالتی نظام پہنچ چکا ہے وہاں سے نچلی سطح کے مقدمات اُن لوگوں کی طرح ہی نظر آتے ہیں جن کا وجود طاقت کے کھیل میں غیر ضروری ہے۔ جنرل مشرف کو سزا دلوانے پر تمام نظام تلا ہوا ہے سزا ملنی چاہیے مگر روزانہ انصاف کے متلاشی لوگ خود کشیاں کرتے پھر رہے ہیں۔ اُن کی حالت زار پر اگر تھوڑی سی توجہ دے دی جاتی تو کوئی حرج نہیں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم طاقتور طبقوں سے برابری اور اچھائی کی توقع کر رہے ہیں۔ یہ تمام طبقات لوگوں کی پسی ہوئی ہڈیوں کے انباروں پر رہتے ہیں۔ یہ وقتی طور پر تو نیچے نظر دوڑا کر خود سوزی کے واقعات پر افسوس کا اظہار بھی کر تے ہیں۔ مگر حقیقت میں ان کے پا س عام لوگوں کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔ اُن کا مرنا اور جینا اِن کے لیے بے معنی ہے۔