یوکرین ۔ افغانستان اور سرد جنگ؟

لیجئے! ابھی ایشیاء کے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مکمل نہیں ہوا کہ روس نے اپنے پڑوسی یورپی ملک اور یوکرین میں اپنے مفادات کیلئے روسی فوج کو بھیج کر یورپ اور امریکہ پر ایک بار پھر واضح کردیا کہ دو عالمی جنگوں اور سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد یورپ سرد جنگ اور تصادم کے خطرات سے پاک نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ یوکرین میں فوج بھیجنے والا روس اور اس اقدام کی مذمت کرنے والا امریکہ دونوں ہی اپنے اپنے موقف کا جواز دیتے ہوئے جمہوریت ، آزادی، انسانی حقوق، عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کا سہارا لے رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروو نے 3؍مارچ کو جنیوا میں جو بیان دیا اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسی 3 مارچ کو جو بیان دیا ہے دونوں کا موازنہ کیجئے تو دونوں عالمی قوتوں کے متضاد موقف میں اعلیٰ انسانی اقدار، یوکرین کے عوام کی بھلائی ، اقوام متحدہ یوکرین کی سلامتی اور عالمی قانون کا یکساں طور پر احترام کے ساتھ ذکر ملے گا جبکہ دونوں عالمی طاقتوں کے مفادات میں ٹکرائو اور محاذآرائی تلخ زمینی حقائق ہیں۔

اس تمہید کا مقصد اس حقیقت کی نشاندہی کرنا ہے کہ عالمی یا علاقائی طاقتور اقوام ہمیشہ عالمی اصولوں، جمہوریت، آزادی، دہشت گردی، امن، استحکام اور سلامتی کی عملی تعریف اور اقدامات کا تعین اپنے مفادات کے مطابق کرتی ہیں۔ امریکہ افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجی لمبی مدت کیلئے افغان ، امریکہ دو طرفہ معاہدہ کے تحت مقیم رکھنا چاہتا ہے مگر گزشتہ بارہ سال سے امریکی سرپرستی، حمایت اور امداد سے افغانستان کے سربراہ مملکت حامد کرزئی معاہدہ پر دستخط سے انکاری ہیں۔ کرزئی کو اس انکار کے باعث صدر اوباما نے ناپسندیدہ قرار دے دیا اب چند دنوں میں وہ افغان صدارت سے بھی رخصت ہونے والے ہیں۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ بیرونی طاقتوں کی سرپرستی سے اپنے ملکوں پر حکومت کرنے والے قائدین کی جب افادیت ختم ہوجاتی ہے تو بڑی طاقتیں انہیں ’’ٹشوپیپر‘‘ کی طرح نکال پھینکنے میں بھی دیر نہیں لگاتیں۔ گلوبلائزیشن کے جدید دور میں یہ عمل اب زیادہ واضح ہو گیا ہے۔

یہ نظریہ سازش نہیں ایک عالمی حقیقت ہے کہ عالمی اور علاقائی قوتیں کمزور اقوام اور ان کے قائدین کا رول اور عالمی امن کی تعریف اپنے مفادات کے تقاضوں کے مطابق متعین کر رہی ہیں۔ امریکہ استحکام، امن، ترقی اور جمہوریت کا حوالہ دیکر افغانستان میں اپنی فوج رکھنا چاہتا ہے لیکن انہی مقاصد کے نام پر یوکرین میں روسی فوج مداخلت کو خطرناک قرار دے کر مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے روس کو اس اقدام کی سزا دینے اور ایک نئی سرد جنگ شروع کرنے کا خطرہ بھی مول لے رہا ہے جبکہ روس نے یوکرین میں فوج بھیجنے کے اقدام کو وہاں کے عوام کی بھلائی ،انہیں فاشسٹوں سے نجات دلانے میں مدد اور امن کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ یہی عالمی طاقتوں کی عالمی حقیقت ہے کہ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔

موسم سرما کے اولمپکس گیمز کا زورشور ختم ہونے سے قبل ہی یوکرین میں عوامی مظاہروں اور حکومتی بحران نے یوکرین کے روس نواز صدر ینکووچ کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تو سب کو یقین تھا کہ روس لازماً اپنے مفادات کیلئے اقدام کرے گا اور اب یہ واضح بھی ہوگیا کہ امریکہ اور یورپ کی پروا نہ کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے یوکرین میں روسی آبادی کے اکثریتی علاقے کریمیا میں روسی فوجی دستے بھیج دیئے تاکہ بحران زدہ یوکرین میں روسی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ روس آج بھی ایک عالمی طاقت اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والا ملک ہے اور صدر پیوٹن ٹوٹے ہوئے سوویت یونین میں سے ایک گرینڈ روسی فیڈریشن کی تعمیر چاہتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد کی سابقہ سوویت یونین کے نو آزاد ممالک کو اپنے دائرہ اثر میں رکھنا چاہتے ہیں۔

اسی لئے وہ پہلے جارجیا میں بھی روسی فوج بھیج چکے ہیں اور دو علاقے عملاً جارجیا سے آزاد کرائے، اس وقت بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نےاحتجاج کیا روس کو تنہا کرنے اور رابطے منقطع کرنے کے اقدامات کئے لیکن حالات و واقعات اور اپنے اردگرد کے ممالک میں اپنی مضبوط گرفت کے باعث روس ڈٹا رہا اور اس نے جارجیا کے ساتھ جنگ بندی کی شرائط پر بھی عمل نہیں کیا اور صرف ایک سال بعد ہی 2009ء میں نیٹو ممالک نے روس سے ملٹری رابطے بحال کرلئے جبکہ 2010ء میں صدر اوباما نے روس کے ساتھ سویلین نیوکلیئر سمجھوتے پر دستخط کرکے تعلقات کو بہتر بنا لیا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس روس کے خلاف جوابی عملی اقدام کرنے کے آپشن بہت محدود تھے اس کے برعکس یورپ کو روسی گیس کی سپلائی کی بڑی لازمی ضرورت بھی بے بس کردیتی ہے۔

اب تو امریکہ کو بھی ایران اور شام کے معاملات میں روسی تعاون کی بڑی ضرورت ہے لہٰذا امریکہ اور یورپی طاقتیں یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے باوجود تصادم نہیں چاہتیں بلکہ وقتی طور پر معاشی تعاون کی معطلی، مذمتی بیانات، یورپ کی جانب سے روسیوں پر ویزا کی پابندیاں عالمی دبائو اور حدود سے تجاوز نہ کرنے کی وارننگ تک ہی معاملات محدود رہیں گے۔ صدر پیوٹن یہ سمجھتے ہیں امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس بڑے محدود آپشن ہیں لہٰذا وہ کچھ زیادہ نہیں کرسکیں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، یوکرین اور دیگر رکن ممالک نے اپنی تقاریر میں روس کو عالمی قانون، معاہدہ ہلسنکی اور دیگر معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے یوکرین میں فوج بھیجنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن روس نے بھی کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی یاد تازہ کرتے ہوئے یوکرین کے معزول صدر یوکونوچ کے دستخط سے روسی صدر کے نام ایک خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا ہے جس میں یوکرین کے صدر نے یوکرین سے فرار ہونے سے قبل روس سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یوکرین انتہا پسندوں اور فاشسٹوں کے ہاتھ خانہ جنگی کی حالت میں ہے لہٰذا صدر پیوٹن یوکرین میں امن و امان کے قیام میں تعاون کریں۔

روس کی جانب سے بلائے جانے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی سفیر کی جانب سے معزول صدر یوکونوچ کا یہ خط یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس یوکرین کے منتخب صدر کی درخواست پر یوکرین میں فوجی مداخلت کر رہا ہے جبکہ امریکہ روس کو عالمی قانون ، معاہدہ ہلسنکی، معاہدہ بڈاپسٹ اور پڑوسی ملک یوکرین کی آزادی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے رہا ہے۔ گویا اقوام متحدہ کے محاذ پر امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کا محاذ ایک بار پھر کھل گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے لہٰذا روس کی مرضی کے بغیر سلامتی کونسل کوئی قرارداد بھی منظور نہیں کرسکتی۔ روس کو عالمی حالات کے بہائو سے علیحدہ کرنا بھی اتنا آسان نہیں۔ روسی زبان بولنے والے مشرقی یوکرین کے تقسیم ہوجانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ شام ، عراق ، لیبیا ، افغانستان اور دیگر ممالک پر بآسانی اقتصادی اور دیگر پابندیاں عائد کر ڈالنے والی سلامتی کونسل ویٹو کے حامل روس کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور نہیں کرواسکتی مگر سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ان کے حامی ممالک کی مختلف دھمکیوں پر مبنی تقاریر کا زور ہے۔ پابندیوں اور اس کی قیمت ادا کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں مگر صدر پیوٹن کے رویہ اور موقف میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

روس اپنی فوجی مداخلت کو باہمی معاہدوں اور عالمی قانون کے تقاضوں کے مطابق یوکرین کی مدد کرنے کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکی سفیر سمنتھا پاورز، برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ روسی سفیر ویٹالی چرکن زبردست شعلہ بیانی اور سفارت کاری میں مصروف ہیں۔ چین کے سفیر غیر جانبدارانہ اور ڈائیلاگ سے مسئلہ حل کرنے کے اصولی موقف پر زور دے رہے ہیں۔ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کے ایام کی طرح محاذ آرائی اور مذمت کرنے کا ماحول قائم ہے اور بقیہ چھوٹے بڑے ممالک عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی میں مشکلات سے دوچار ہیں یوکرین ہو یا افغانستان، وینزویلا ہو یا شام، لیبیا ہو یا جارجیا جیسے ممالک ہوں انہیں تو بڑی عالمی طاقتوں کے ایجنڈے اور مفادات کا حصہ بننا پڑ رہا ہے۔ نئی صدی میں گلوبلائزیشن کے تقاضے، چھوٹی یا کمزور اقوام کے حق میں نظر نہیں آتے۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد سبھی ہمارے قائدین نے امریکہ اور سوویت یونین میں جاری سرد جنگ میں دھکیل دیا تھا، جس کی قیمت پاکستان کو آج بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ روس کی دشمنی اور دھمکیاں امریکہ کی امداد اور پابندیاں، خطے میں ہماری علاقائی تنہائی اور دہشت گردی کے دور کے بعد ہماری عالمی تنہائی یہ سب کچھ ہمارے قائدین کی عاقبت نااندیشی اور عالمی طاقتوں کی سرد جنگ اور رسہ کشی میں خود کو پھنسانے کا نتیجہ بھی ہے۔

عظیم ایم میاں
بشکریہ روزنامہ ‘ جنگ ‘

Russia in Ukraine

Enhanced by Zemanta

تعلیم کا بیوپار

جیب اجازت دے یا نہ دے اپنے بچے کو اس عزم کے ساتھ مہنگے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرایا جاتا ہے کہ پیٹ بھر کے روٹی نہیں کھائینگے مگر اپنے بچے کو کم سے کم ایسے اسکول میں تو ضرور پڑھائینگے جہاں ہر کوئی انگریزی زبان میں بات کرتا ہو۔ یہ الگ مسئلہ ٹھہرا کہ اسکول میں داخلے والے دنوں میں تو چپراسی بھی انگریزی بولتا نظر آتا ہے۔ بعد ازاں داخلے کے چند ماہ بعد یہ راز کھلتا ہے کہ انگریزی پڑھانے والی ٹیچر بھی انگریزی پڑھانے سے قاصر ہے لیکن معاشرے میں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر اسٹیٹس کا گوٹہ ٹانکنا بھی تو ضروری ٹھہرا۔ سو انگریزی اسکول جیسا بھی ہو اپنے بچے پر انگلش میڈیم کا ٹیگ ہونا ہی چاہیے۔ پاکستان میں معاشی حالات جس ڈگر پر چل رہے ہیں ان میں یہ ہر گھر کی کہانی ہے کہ انگریزی کا ٹیگ ہی بچے کا معاشی مستقبل سنوار سکتا ہے۔ اسکول فیس اور اخراجات کے بڑھنے کی صدا گھر گھر سے آتی ہے۔ امیر طبقہ امیر سے امیر تر اور غریب غربت میں دھنستا جا رہا ہے۔ رہی مڈل کلاس تو وہ ایسی دلدل میں پھنسی ہے کہ بس دم نکلنے کی دیر ہے۔

اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینے کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے جسم کا لہو دان کرنا پڑتا ہے اور یوں فیس دینے کی آخری تاریخ یعنی ہر ماہ کی دسویں خون خشک کر جاتی ہے۔ جو نہ دے سکے تو پندرہ کو جرمانے کے بعد،20 تاریخ کو ڈبل جرمانے کے ساتھ فیس جمع کروانا ضروری ہوتا ہے ورنہ 21 کو تو بچے کا نام ہی اسکول سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ اب وہ کون ہو گا جو اپنے بچے کو اسکول میں رسوائی کا سامنا کرنے دے لہٰذا کہیں سے بھی رقم کا انتظام کر کے فیس ادا کی جاتی ہے۔

معاملہ یہی ختم نہیں ہوتا۔ بڑا انگریزی میڈیم اسکول ہو یا چھوٹا، چونچلے اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ گوروں کے تمام تہوار منانا تو ہم پر فرض ٹھہرا۔ مذہبی ’’فنکشنز‘‘ میں بھی پیسے کو پانی کی طرح بہایا جاتا ہے اور یہ افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے دین کی اصل روح تو کہیں فنا ہو چکی ہے جب کہ اخراجات کی مد میں آنیوالا تمام خرچہ والدین کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔ 5سو، ہزار، منگوانا تو عام سی بات ہے، پھر ارتھ ڈے سے لے کر یلو، گرین، بلو، ریڈ ڈے پر دن کی مناسبت سے لباس کی تیاری الگ۔ ان سب پر رقم خرچ کرنے کے بعد سکون کا سانس لینا کسے نصیب ہے۔ کبھی بچے کو خرگوش بنانے کے لیے کپڑے ضروری ہیں، تو کبھی شیر اور بھالو کے مختلف اقسام کے فینسی ڈریس خریدنا۔ والدین کی مجبوری ٹھہری، جیب چاہے چیخ اٹھے لیکن اپنے بچے کو اسٹیٹس مینٹین رکھنے کی دوڑ میں شامل کرنا ضروری ہے۔ سو اس قسم کے فینسی ڈریس جن کی قیمت 500 روپے سے تین ہزار تک ہوتی ہے اور جنھیں بچہ فقط 15 سے 20 منٹ پہنتا ہے، خریدنا ہی پڑتے ہیں۔

یہ الگ بحث ہے کہ اسکولوں کے ساتھ اس طرح کے فینسی ڈریسز بنانے والوں کے باقاعدہ معاہدے ہوتے ہیں اور ہر لباس پہ اسکول انتظامیہ اپنا کمیشن رکھتی ہے۔ جو اسکول کمیشن نہیں لیتے وہ پروگرام تو بہر حال ضرور منعقد کرتے ہیں تا کہ اپنے اسکول کے طالبعلموں کو اینیملز سے مشابہت رکھنے والی پر فارمینس دکھانے پر ان کی تصاویر بنائیں اور نئے آنیوالے گاہکوں۔۔۔ میرا مطلب ہے والدین کو ان تصاویر کی مدد سے پھانسا جا سکے۔

اب لیجیے کورس کی کتابوں کو، جو ادارہ زیادہ مراعات اور کمیشن کی بات کرے جناب! اسی کی کتاب خریدنا ضروری ہے۔ میں آج تک یہ بات نہ سمجھ سکی کہ اردو اور انگریزی میڈیم اسکولز میں کتابوں کا معیار مختلف ہو سکتا ہے لیکن ہر انگریزی اسکول دوسرے سے مختلف کورس کیوں پڑھا رہا ہے۔ پیسے بٹورنے کا نیا حربہ یہ اپنایا گیا ہے کہ وہ اسکول جن کی لاتعداد برانچز ایک ہی شہر میں قائم ہیں، ان اسکولز میں سال شروع ہوتے ہی فیس چالان کے ساتھ ایک اور چالان تھما دیا جاتاہے اور یہ چالان کتابوں کی خرید کی مد میں جمع کروائی جانیوالی رقم کا ہوتا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں کہ کسی کو یاد نہ ہو، کتابوں کی ایک فہرست اسکول کی طرف سے مہیا کی جاتی تھی اور وہ والدین جو نئی کتابیں خریدنے سے قاصر تھے وہ پرانی کتابیں اور نئی کاپیاں دیکر بچے کی پڑھائی کے خواب کو آگے بڑھاتے تھے۔ اب انھیں کتابوں کی فہرست ہی نہیں دی جاتی جس کی مدد سے وہ جان سکیں کہ کون سی کتاب خریدنی ہے اور کون سی نہیں؟ وہ اس پر مجبور ہیں کہ اسکول کے بک اسٹور یا بتائے گئے مخصوص بک اسٹور ہی سے کتابیں خریدی جائیں، یہ بھی اچھی رہی کہ کتابوں کا نام ہی نا بتایا جائے کیونکہ اس صورت میں تو والدین پرانی کتابیں خرید لیں گے اور اس طرح نا ہی اسکول انتظامیہ کی روزی میں برکت ہو گی اور نا ہی والدین پر مہنگائی کا عذاب نازل ہو گا۔

کتابوں کے معیار اتنے اعلیٰ ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ چھوٹا سا بچہ کس طرح اس فلاسفی کو سمجھ سکے گا۔ اب مسئلہ سمجھنے نہ سمجھنے کا تو رہا ہی نہیں۔ سمجھانے کی ذمے داری تو ماں باپ کی ہے لہٰذا ٹیوشن کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ٹیوشن کی فیس کی ادائیگی ایک چھوٹے اژدہے کی مانند گلے میں لٹکی ہوتی ہے اور اسکول کی فیس کا بڑا اژدہا دو دو ماہ کی اکٹھی فیسوں کے ساتھ زبان لٹکائے ڈرا رہا ہوتا ہے پھر جیسے ہی سالانہ فیس دینے کا مہینہ یعنی اپریل شروع ہوتا ہے، یہ اژدہا پورا منہ کھول کر والدین کو نگلنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اسکول وین کی فیس ادا کرنا تو واجب قرار پایا۔ اب ہمارا وین ڈرائیور جون جولائی میں اپنا گھر کیسے چلائے گا سو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اس کے لیے بھی لازم ٹھہرا۔ پہیہ چلے نہ چلے دو ماہ کی تعطیلات میں یہ فیس ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک اور رواج چل نکلا ہے، اسکول کی امتحان کی کاپیاں فائلیں رنگ اور رنگ برنگی شیٹیں جو کہ اسٹیشنری کے زمرے میں آتی ہیں، وہ بھی اسکول سے سال شروع ہوتے ہی خریدنا ہوتی ہیں۔ اب اس سامان سے بچہ فائدہ اٹھاتا ہے یا اسکول کا مالک، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

ایک معیاری انگریزی میڈیم اسکول کی فیس کم سے کم ڈھائی ہزار روپے ہے جب کہ اس سے کم فیس والے اداروں کو معیار کی فہرست میں ہم والدین ہی نہیں لاتے اور زیادہ سے زیادہ فیس 12ہزار ہے۔ اتنی فیس لینے کے باوجود ان ٹیچرز کو بھرتی کیا جاتاہے جو کم سے کم تنخواہ میں کام کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اپنے اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے اساتذہ تو جیسے ناپید ہو چکے ہیں۔ آج سب سے آسان دھندا اسکول کھول کر کمائی کرنے کا بن گیا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ ایسے مخلص لوگ بھی موجود ہیں جو اس شعبے سے ایمان داری برت رہے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

انگریزی میڈیم اسکولز کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں پرائیویٹ اسکولوں کی تنظیموں سے سوال کرتی ہوں کہ آخر کیوں ایسے اصول و ضابطے مقرر نہیں کیے گئے جن کی رو سے اسکول انتظامیہ جواب دہ ہوں کہ وہ فیس کس پیمانے پر مقرر کرتے ہیں۔ کتابیں کیوں اسکول سے خریدنا ضروری ہیں۔ آئے دن ہونے والے فنکشنز پر اٹھنے والا پیسہ کس کی جیب سے جاتا ہے۔ چلیں آپ کچھ نہ کریں اتنا تو بتا دیجیے کہ انگریزی اسکولز کو آپ جتنی کیٹگریز میں تقسیم کرتے ہیں، آخر ان کیٹیگریز کی فیسیں کیوں مختلف ہوتی ہیں؟

اس اندھیر نگری میں اسکول کا کاروبار کرنے والوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ تو اب کوئی بھی میٹرک فیل بے روزگار اپنے گھر کے احاطے میں اسکول کھول سکتا ہے، کیوں کہ یہاں قابلیت کون پوچھتا ہے۔ ہر بچہ اس بھٹی میں قابلیت کی آگ میں نہیں جلتا، بلکہ اسکول مالکان کے ہاتھوں میں ایک نئے کرارے نوٹ کی حرارت بنا رہتا ہے۔

اساتذہ پر تشدد

سندھ بھر کے کالجوں کے اساتذہ محکمہ تعلیم میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور ترقیوں کے مطالبات کو منوانے کے لیے 25فروری کو کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے جمع ہوئے ۔ یہ اساتذہ اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا چاہتے تھے۔ پولیس حکام نے اساتذہ کو سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے منتشر کرنے کے لیے تیسرے درجے کے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کو استعمال کیا ،یوں بہت سے اساتذہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں زخمی ہوگئے ۔ تیز رفتاری سے پھینکے گئے پانی کی بناء پر خواتین اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے اساتذہ پر لاٹھیاں برسانے کے علاوہ 19 کو گرفتارکیا ۔رات گئے گورنر سندھ کی مداخلت پر اساتذہ تھانوں سے رہا ہوئے ۔

زخمی ہونے والے اساتذہ شہر کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے ۔اساتذہ کی تنظیم سندھ پروفیسرز لیکچرر ایسوسی ایشن SPLAکی اپیل پر پورے سندھ میں اساتذہ نے سرکاری کالجوں میں تدریس کا بائیکاٹ کیا، اب تک علامتی بھوک ہڑتال جاری ہے ۔اساتذہ معاشرے کا امتیاز ہوتے ہیں یوں پولیس کے تشدد کا شکار ہونا انتہائی قابل مذمت ہے۔سندھ کے وزیر تعلیم نثارکھوڑو نے اس بات کا اقرار کیا کہ سندھ میں 4 ہزار سرکاری اسکول بند پڑے ہیں ۔ سندھ میں سرکاری شعبہ تعلیم کا بنیادی فریضہ ادا کرتا ہے ، سندھ حکومت کے بجٹ کی خطیر رقم تعلیم کے شعبے پر خرچ ہوتی ہے مگر سندھ میں سرکاری شعبے کی کارکردگی مایوس کن ہے ، اگر گزشتہ 30برسوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے تعلیم کے شعبے کو اہمیت نہیں دی ۔ سندھ کے تعلیمی شعبے کی تباہی میں سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور اساتذہ بھی برابر کے شریک ہیں ۔ اس صدی کے آغاز پر جب 2002 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت بنی اور علی محمد مہر اور اس کے بعد اربا ب رحیم وزیر اعلیٰ بنے تو محکمہ تعلیم کو سیاسی مقاصد کے لیے ایم کیو ایم کے حوالے کیا گیا مگر ایم کیو ایم کے وزراء تعلیم تعلیمی شعبے میں خاطر خواہ تبدیلیاں نہیں کرسکے ۔ ان کے دور میں سیاسی بھرتیوں اور دیہی علاقوں کو نظر اندا ز کرنے کے الزامات لگے۔ سندھ کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی بورڈ کے امتحانات کے شعبوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی کارکنوں نے قبضہ کیا جس کے نتیجے میں ہر سطح پر نقل کا کاروبار گرم ہوا۔

کراچی سمیت اندرون سندھ کے شہروں اور دیہاتوں میں غیر حاضر اساتذہ کا ادارہ مستحکم ہوا اور سیاسی جماعتوں نے اس ادارہ کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ سندھ میں 4 ہزار سے زیادہ گھوسٹ (GHOST) اسکولوں کا بار بار ذکر ہونے لگا ۔ تعلیم کے شعبے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو واحد وزیر تعلیم تھیں جنہوں نے محکمہ تعلیم کو میرٹ کے مطابق چلانے کی کوشش کی ۔ پیر مظہر الحق وزیر تعلیم بنے تو انھوں نے گھوسٹ اسکولوں کے خاتمے ، میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کرنے اور اساتذہ کے حالات کار کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کرنے کا اعلان کیا ۔ پیر مظہر الحق کے ان عزائم کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا گیا مگر ان کا دور سندھ کے تعلیم کے محکمے کے لیے بدترین دور ثابت ہوا۔ اس دور میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کی اسامیاں نیلام ہوئیں ۔ پورے صوبے میں اساتذہ کے تقرر کے لیے لاکھوں روپے کی ادائیگی لازمی ہوگئی ۔ عالمی بینک نے اساتذہ کے تقرر کے لیے ایک جامع ٹیسٹ کا طریقہ کار طے کیا تھا ۔ عالمی بینک کے دباؤ پر پہلے ای بی اے اور پھر سندھ یونیورسٹی نے اساتذہ کے ٹیسٹ لیے مگر ٹیسٹ پاس کرنے والے بیشتر اساتذہ ملازمتوں سے محروم رہے ۔ دوسری طرف لاکھوں روپے ادا کرنے والے افراد اساتذہ بن گئے ۔ ان میں بیشتر وہ لوگ تھے جن کے پاس ڈگریاںتھیں مگراہلیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ صدر زرداری نے اپنے بہنوئی ڈاکٹر فضل پیچوہو کو سیکریٹری تعلیم مقرر کرایا جنہوں نے ٹیسٹ پاس کرنے والے اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں ۔

یوں گزشتہ ایک سال سے تقرر نامے حاصل کرنے والے اساتذہ نے عدالتوں سے رجوع کیا یا احتجاج کے ذریعے تنخواہیں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی کمائی یہ ملازمتیں حاصل کرنے میں صرف کردی تھی مگر مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ۔امید ہے کہ حکومت جلد انھیں تنخواہیں ادا کرے گی ۔پھر اس دوران شہر ی اور دیہی کوٹہ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ،یوں کراچی اور حیدرآباد میں یہ بات عام ہوگئی کہ شہر ی علاقوں کے افسران کو محکمہ تعلیم میں تلاش کرناجوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ 2013 کے انتخابات کے بعد جب نثار کھوڑو وزیر تعلیم بنے تو صورتحال بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ۔ گزشتہ ماہ کالجوں کے پرنسپلوں اور اساتذہ کے آڈٹ کے نام پر رشوت لینے کی شکایتیں اخبارات کی زینت بنیں کہ اب محکمہ تعلیم میں کرپشن کے نت نئے طریقہ واضح کیے گئے ہیں۔ اسکولوں اورکالجوں کے پرنسپل کے تقرر میں سینیارٹی کامعاملہ نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ہائر سیکنڈری اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے DDOکے اختیارات واپس لیے گئے۔ 10اسکولوں پر ایک ہیڈ ماسٹر کو DDOکے اختیارات دیے گئے ااور تمام فنڈ اس ہیڈ ماسٹر کی تحویل میں دے دیے گئے اور دیگر ہیڈ ماسٹرز کے فنڈز استعمال کرنے کے اختیارات ختم کردیے گئے ۔یوں ایک بااختیار ہیڈ ماسٹر اعلیٰ افسروں کی ہدایت پر فنڈز استعمال کرتاہے اور اساتذہ کی تنخواہوں کے بلوں پر دستخط کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ خاص طور پر خواتین اساتذہ کو ہر سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

بعض ماہرین کاکہنا ہے کہ ایک فرد واحد کو اختیار دینے کا مطلب کرپشن کو تقویت دینا ہے۔ کالجوں کے اساتذہ کی ترقیوں کے معاملات برسوں سے التواء کا شکار ہیں۔ اساتذہ کو معمولی کاموں کے لیے رشوت یا سفارش تلاش کرنا پڑتی ہے ۔ تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادہیں جب انھوں نے گورنر کا عہدہ سنبھالا تو سندھ میں برسر اقتدار جماعتوں سے یہ اتفاق رائے ہوا کہ گورنر سندھ براہ راست شہری علاقوں میں قائم یونیورسٹیوں کی نگرانی کریں گے۔ دوسرے شہروں میں قائم ہونے والی یونیورسٹیوں کے معاملات وہ وزیر اعلیٰ کے مشورے سے چلائیں گے ۔ 2008 میں پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نظام پر عمل جاری رہا ۔ انھوں نے بیوروکریسی کے ذریعے معاملات چلائے، یونیورسٹیوں کا اہم ترین ادارہ سینیٹ ہوتا ہے جس کا ہرسال اجلاس ہونا ضروری ہے۔ سینیٹ میں یونیورسٹی کا بجٹ اور دوسری انتظامی اور تعلیمی معاملات پر حتمی فیصلے ہوتے ہیں مگر گورنر سندھ یونیورسٹیوں کی سینیٹ کے اجلاسوں کی صدارت کے لیے دستیاب نہیں ہوتے۔ البتہ انھوں نے امراء کے ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی کے ہونے والے کانووکیشن میں ضرور شرکت کی۔اس معاملے میں اگر پنجاب کی مثال لی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فوجی گورنر جنرل خالد مقبول اور پھر سلمان تاثیر،لطیف کھوسہ اور اب چوہدری سرور باقاعدگی سے یونیورسٹیوں کے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ کے سابق گورنر فخر الدین جی ابراہیم کا کردار اہم رہا جب وہ گورنر سندھ بنے تو انھوں نے ہر یونیورسٹی کے سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کی اور موقع پر ہی فیصلے بھی کیے۔ بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نواب شاہ کا وائس چانسلر ایم اے پاس ایک فرد کو سرچ کمیٹی بنائے بغیر وائس چانسلر مقررکردیا گیا ۔

موصوف نے تمام پی ایچ ڈی اساتذہ کو معطل کردیا تھا،اسی طرح سندھ یونیورسٹی کے اہل وائس چانسلر پیر مظہر الحق کو وجہ بتائے بغیر رخصت کیا گیا اور ڈاکٹر نذیر مغل کو وائس چانسلر بنادیا گیا جن کے دور میں ایک پروفیسر کو یونیورسٹی میں قتل کیا گیا جن کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوئے اور احتجاجاََ اساتذہ نے 110دن تک ہڑتال کی ۔ اساتذہ کے احتجاج پر ڈاکٹر نذیر مغل کو رخصت پر بھیج دیا گیا، مگر بعد ازاں انھیں پھر سے وائس چانسلر بنادیا گیا ۔ گزشتہ سندھ اسمبلی نے چند منٹ میں یونیورسٹیوں کی خود مختاری کے لیے خاتمے کا قانون منظور کیا اس قانون کے تحت ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم یونیورسٹی کے بنیادی ادارے سینیٹ،سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل اور سلیکشن بورڈ کے اختیارات سلب ہوئے اور یہ اختیارات سندھ کے ایک سیکشن افسرکو منتقل ہوگئے۔ یوں اب وائس چانسلر کے اختیارات اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے برابر ہوگئے۔ حکومت نے کراچی یونیورسٹی سے داخلہ پالیسی کا اختیار چھین لیا ۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ سندھ کی تمام یونیورسٹیوں کے اساتذہ اس قانون کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔اساتذہ کو یونیورسٹی کے معاملات میں شفافیت کا بحران پیدا ہوتا نظر آرہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں معیار تعلیم گررہا ہے اور معیار تعلیم گرنے کے اسباب پر کوئی بحث نہیں ہورہی ۔اساتذہ کی سر عام تذلیل اور ان پر تیسرے درجے کے تشدد پرحکومت خاموش ہے۔ عجیب المیہ یہ ہے کہ سندھ حکومت اساتذہ کی جدوجہد کو طاقت سے کچل کر معیار تعلیم کو بلند کرنے اور محکمہ میں شفافیت کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان