جیب اجازت دے یا نہ دے اپنے بچے کو اس عزم کے ساتھ مہنگے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرایا جاتا ہے کہ پیٹ بھر کے روٹی نہیں کھائینگے مگر اپنے بچے کو کم سے کم ایسے اسکول میں تو ضرور پڑھائینگے جہاں ہر کوئی انگریزی زبان میں بات کرتا ہو۔ یہ الگ مسئلہ ٹھہرا کہ اسکول میں داخلے والے دنوں میں تو چپراسی بھی انگریزی بولتا نظر آتا ہے۔ بعد ازاں داخلے کے چند ماہ بعد یہ راز کھلتا ہے کہ انگریزی پڑھانے والی ٹیچر بھی انگریزی پڑھانے سے قاصر ہے لیکن معاشرے میں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر اسٹیٹس کا گوٹہ ٹانکنا بھی تو ضروری ٹھہرا۔ سو انگریزی اسکول جیسا بھی ہو اپنے بچے پر انگلش میڈیم کا ٹیگ ہونا ہی چاہیے۔ پاکستان میں معاشی حالات جس ڈگر پر چل رہے ہیں ان میں یہ ہر گھر کی کہانی ہے کہ انگریزی کا ٹیگ ہی بچے کا معاشی مستقبل سنوار سکتا ہے۔ اسکول فیس اور اخراجات کے بڑھنے کی صدا گھر گھر سے آتی ہے۔ امیر طبقہ امیر سے امیر تر اور غریب غربت میں دھنستا جا رہا ہے۔ رہی مڈل کلاس تو وہ ایسی دلدل میں پھنسی ہے کہ بس دم نکلنے کی دیر ہے۔
سندھ بھر کے کالجوں کے اساتذہ محکمہ تعلیم میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور ترقیوں کے مطالبات کو منوانے کے لیے 25فروری کو کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے جمع ہوئے ۔ یہ اساتذہ اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا چاہتے تھے۔ پولیس حکام نے اساتذہ کو سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے منتشر کرنے کے لیے تیسرے درجے کے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کو استعمال کیا ،یوں بہت سے اساتذہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں زخمی ہوگئے ۔ تیز رفتاری سے پھینکے گئے پانی کی بناء پر خواتین اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے اساتذہ پر لاٹھیاں برسانے کے علاوہ 19 کو گرفتارکیا ۔رات گئے گورنر سندھ کی مداخلت پر اساتذہ تھانوں سے رہا ہوئے ۔