کئی بین الاقوامی مطبوعات میں تیزی سے تغیر پذیری کی جانب گامزن اس دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تذویراتی پیش رفتوں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان میں کچھ جائزے عالمی منظرنامے کے ان کلیدی رجحانات سے آگہی کیلئے معاون ہیں جس سے دنیا کی خوشحالی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں شائع ہونے والی 2 رپورٹوں کی نوعیت اور اطلاقی وسعتیں مختلف تھیں تاہم ان میں عالمی تبدیلی کی فطرت اور سمت کے حوالے سے کئی باتیں بصیرت آمیز تھیں۔ ان میں دنیا کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ اہم جغرافیائی و تذویراتی تغیرات سے گزر رہی ہے اور اسے مربوط و پیچیدہ چیلنج درپیش ہیں۔
میں نے ایک دن خواجہ صاحب سے عرض کیا ’’ہم لوگوں کے دھوکے سے کیسے بچ سکتے ہیں‘‘ فرمایا ’’یہ کام بہت آسان ہے‘ آپ لالچ ختم کر دو‘ دنیا کا کوئی شخص آپ کو دھوکا نہیں دے سکے گا‘‘ میں نے عرض کیا ’’جناب ذرا سی وضاحت کر دیں‘‘۔ فرمایا ’’ ہم دوسروں کے ہاتھوں دھوکا نہیں کھاتے‘ ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے‘ آپ اگر لالچی اور کنجوس ہیں تو آپ کو ہر روز دھوکہ دیا جائے گا اور آپ روز دھوکہ کھائیں گے بھی‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ یہ بات لالچ کی حد تک درست ہے کیونکہ لالچی کے طمع کی زبان ہر وقت باہر لٹکتی رہی ہے لیکن کنجوس تو اپنے پیسوں کو ہوا نہیں لگنے دیتا‘ یہ گرہ کھولے گا تو اس کے ساتھ دھوکہ ہو گا ناں‘‘۔ فرمایا ’’لالچ اور کنجوسی جڑواں بہنیں ہیں‘ یہ ہمیشہ اکٹھی رہتی ہیں‘ لالچی کنجوس ہوتا ہے اور کنجوس لالچی‘ دنیا کے تمام کنجوس دولت چھپانے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں‘ یہ ایسے گھونسلے تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں یہ اپنے اثاثوں کے انڈے رکھ سکیں‘ ان کی یہ تلاش انھیں فراڈیوں کے پاس لے جاتی ہے‘ فراڈیئے انھیں یقین دلا دیتے ہیں‘ ہمارے پاس نہ صرف آپ کا سرمایہ محفوظ رہے گا بلکہ یہ دوگنا اور چار گناہ بھی ہو جائے گا‘ یہ لوگ ان کے ٹریپ میں آتے ہیں اور یوں عمر بھر کے لیے کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.