2014عالمی محرکات کی تبدیلی

کئی بین الاقوامی مطبوعات میں تیزی سے تغیر پذیری کی جانب گامزن اس دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تذویراتی پیش رفتوں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان میں کچھ جائزے عالمی منظرنامے کے ان کلیدی رجحانات سے آگہی کیلئے معاون ہیں جس سے دنیا کی خوشحالی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں شائع ہونے والی 2 رپورٹوں کی نوعیت اور اطلاقی وسعتیں مختلف تھیں تاہم ان میں عالمی تبدیلی کی فطرت اور سمت کے حوالے سے کئی باتیں بصیرت آمیز تھیں۔ ان میں دنیا کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ اہم جغرافیائی و تذویراتی تغیرات سے گزر رہی ہے اور اسے مربوط و پیچیدہ چیلنج درپیش ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی مطبوعہ رپورٹ لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کا عالمی امور پر سالانہ جائزہ ہے۔ دوسری مطبوعہ اشاعت 2014ء کے عالمی ایجنڈے پر عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی رپورٹ ہے، یہ رپورٹ دنیا بھر کے مختلف شعبوں کے 1500 ماہرین کی آراء کے سروے پر مشتمل ہے جس میں حکومتی عہدیدار، تدریس کے شعبے سے وابستہ افراد، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے ارکان اور نوجوان شامل ہیں، ان افراد کے سامنے 2014ء اور اس کے بعد کے رجحانات اور چیلنجوں کی نشاندہی کا سوال رکھا گیا تھا۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی جانب سے متبادل دنیاؤں کے حوالے سے مرتب کردہ ایک اور رپورٹ دسمبر2013ء میں جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں 2030ء میں بڑے رجحانات اور کایا پلٹ پیشرفتوں اور اس سے متعلق ممکنہ تناظر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حالانکہ آئی آئی ایس ایس کا تذویراتی سروے گزشتہ برس کی پیشرفتوں پر تبصرہ ہے، اس کے جائزے کا مرکز نگاہ طویل مدتی تذویراتی رجحانات ہیں۔ اس کی 2013ء کی رپورٹ کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ سیاسی رہنما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد درپیش معاملات کی رفتار اور بہاؤ سے حکمت عملی کے تحت نبردآزما ہو رہے ہیں۔

گزشتہ برس کی طرح 2014ء میں حکمت عملی کے تحت بسر کرنے والا سال ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکمت عملی پر مبنی ان مختلف ردعمل کا نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا، جس میں تنازعات کیلئے حل کی کمی اور بین الاقوامی سطح پر تناؤ نامناسب انتظام کاری شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق عارضی حل دیگر غیر اطمینان بخش طرزعمل کیلئے وقت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ثابت ہوا۔ اس بارے میں رپورٹ میں شام کے مسئلے پر بین الاقوامی ردعمل اور مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی تحریکوں کی مثالیں بطور حکمت عملی کی گنجائش کے حوالے سے دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں اصرار کیا گیا کہ کئی لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ حکمت عملی ہمہ گیر نہیں اور ناممکن ہوچکی ہے۔ ایسا محض 7/24 کے نیوز میڈیا کے وضع کردہ ماحول کے باعث ہی نہیں ہوا جس نے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے کی ممالک کی استعداد کو کم کردیا ہے بلکہ اس کی وجہ قیادت کی ناکامی اور وسیع ترمقاصد کا تعاقب کیلئے تیار نہ ہونا ہے جس سے پائیدار نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے۔

تذویراتی مقاصد مرتب کرنا اور پھر ان پر سختی سے کاربند رہنا ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسی طرح بڑی طاقتوں اور چھوٹے ممالک کی جانب سے تسلسل کے ساتھ خارجہ پالیسی پر کاربند رہنا بھی ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ میں اس پیشرفت پر اظہار افسوس کے ساتھ بین الاقوامی امور کی موثر تذویراتی طرزفکر کی تبدیلی پر سمجھوتے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کیلئے حکومتوں کا معاشروں اور حکومتوں کا اپنے رہنماؤں سے زیادہ قربت درکار ہے۔ اس رپورٹ میں دلیل پیش کی گئی ہے کہ تذویراتی نتائج کی حامل پیشرفتوں کیلئے وسیع اور گزشتہ دنوں میں اپنائی جانے والی تذویرات سے زیادہ مربوط تذویرات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر آگے ایسا نہیں ہوا تو دنیا میں تذویراتی انتشار کا تسلسل قائم رہے گا۔

امریکی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اوباما کی جانب سے بین الاقوامی امور سے دوری اختیار کرنے اور ملک کے داخلی امور پر توجہ مرکوز کرنے کا طرزعمل امریکہ کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک میں کم مداخلت کے دور کی نوید سناسکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکی خارجہ پالیسی کو مسائل کے حل کیلئے ذرائع کی فراہمی کے طور پر یا نئے سمتیں افشاں کرنے کے بجائے ضابطہ کاروں کا سلسلہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ ممالک میں عسکری مداخلتوں کی ایک دہائی کے بعد جنم لینے والے جنگ سے اکتاہٹ رجحان اور عسکری قوت کی حدود کو تسلیم کئے جانے اور ساتھ ہی داخلی سطح پر معاشی بحالی کے چیلنج سے گھرا ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2008ء کے اقتصادی بحران کے دورس اثرات مرتب ہوئے اور دنیا کئی اطوار سے تبدیل ہو گئی اور مغرب دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں الجھنے سے احتراز کرنے کی راہ پر گامزن ہوا۔ آئی آئی ایس ایس اور ڈبلیو ای ایف کی رپورٹوں میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو دنیا کے سب سے بڑے تذویراتی مسئلے کے طور پر گردانا ہے۔

ڈبلیو ای ایف رپورٹ میں جواب دہندگان نے 2014ء میں مشرق وسطیٰ میں معاشرتی تناؤ کے سب سے برے رجحان کے طور پر نشاندہی کی ہے۔ تینوں مطبوعات میں ایک ہی موضوع کی بازگشت نظر آئی جو کہ تیزی سے تبدیلی سے ہمکنار ہوتے ہوئے دور میں حکومتوں کی کارکردگی پر نمایاں ہوتی ہوئی عوامی ناراضی اور بڑھتی ہوئی توقعات تھیں۔ ڈبلیو ای ایف کی جانب سے جن 10 اہم رجحانات کا حوالہ دیا گیا اس میں کئی اس جانب نشاندہی کرتے ہیں۔ جن میں ایک رجحان عوام کا دنیا کی معاشی پالیسیوں پر کم ہوتا ہوا اعتماد ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ معاشی تناؤ کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔ اسی سے متعلق ایک اور رجحان آمدنی میں عدم مساوات کا بھی ہے جس نے ترکی سے لے کر برازیل تک احتجاج کو ہوا دی۔ ساختیاتی بے روزگاری بھی ریاستوں کے داخلی استحکام پر اثر انداز ہو رہی ہے اور عالمی تحفظ کیلئے ایک چیلنج بن کر سامنے آرہی ہے۔ ڈبلیو ای ایف رپورٹ کے مطابق عوام کی جانب سے ایک رہنما کی جگہ دوسرے کو لانے کا مطالبہ ان کی نہ پوری ہونے والی ضروریات کی غمازی کے سوا کچھ نہیں۔ عالمگیریت کے ثمرات کی غیرمساوی تقسیم سے ترقی پذیر ممالک میں سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا خطرہ بڑھے گا کیونکہ یہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور ملازمتوں کے مواقع کم ہیں لیکن اگر سخت چیلنج درپیش ہیں تو ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں آئندہ دور میں مواقع کی بھی نشاندہی کی ہے،2014 ء کے 10 چوٹی کے رجحانات میں ایشیاء میں متوسط طبقے کے ابھرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس رپورٹ میں کشور مہبوبانی نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے رجحانات کی اس پیشرفت کو حیرت انگیز اور تاریخ کی بھونچال برپا کردینے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا۔

ان کا کہنا ہےکہ مثبت پیشرفت سے ایشیاء میں معیار زندگی میں بہتری آنے اور غربت میں کمی ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے تاہم وہ بھی اس حوالے سے محتاط ہیں کہ اس پیشرفت سے دنیا کے وسائل پر طلب کا زور بڑھے گا جسے بہرحال پورا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ کے اس حصے میں ایشیاء میں غیرمساوی معاشی ریکارڈ کا تذکرہ نہیں کیا گیا جبکہ خطے کے کچھ ممالک اہم اصلاحات کرکے غیرمعمولی ترقی حاصل کررہے ہیں، دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک اصلاحات سے پہلو تہی کرکے معاشی جمود کا شکار ہیں اور اس لئے براعظم ایشیاء کے رواں صدی میں ترقی کی جانب ہونے والے ممالک کی فہرست سے علیحدہ ہو گئے۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں آئندہ برسوں کیلئے عالمی ایجنڈے کے خدوخال وضع کئے گئے اور زیر زمین چٹانوں سے گیس نکالنے کے عمل کے مستقل اور اس کے تذویراتی و جغرافیائی اثرات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی۔

توانائی کے شعبے میں یہ پیشرفت عالمی منظر نامے میں کایا پلٹ ثابت ہو سکتی ہے اور توانائی کے شعبے میں انقلاب کا موجب بن سکتی ہے۔ تینوں رپورٹوں میں اس پیشرفت کے دورس تذویراتی و جغرافیائی اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ امریکہ کے توانائی کے شعبے میں خودانحصاری کے امکانات کو تینوں رپورٹس میں واشنگٹن کی جانب سے اس زمرے میں مشرق وسطیٰ کے مرکز نگاہ کی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ نے پہلے ہی اس محرک کو امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا عکاس قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما نے کانگریس کے مشترکہ خطاب کے دوران کہا تھا کہ امریکہ توانائی کے شعبے میں خودانحصاری حاصل کرنے کے ہدف کے سلسلے میں گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں ان ممالک کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے جہاں زیرزمین چٹانوں میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور تکنیکی طور پر اس کا حصول ممکن ہے۔

اس ضمن میں چین سرفہرست، امریکہ چوتھے جبکہ ارجنٹائن کا نمبر دوسرا ہے۔ این آئی سی گلوبل ٹرینڈذ رپورٹ میں طرز حکمرانی کے خلاء کو تبدیلی کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے جو کہ یہ تعین کرے گی کہ آئندہ دودہائیوں میں کس قسم کی دنیا ابھر کر سامنے آئے گی۔ رپورٹ نے ایک کلیدی سوال پیش کیا کہ طاقت کے تقسیم ہونے اور کئی مختلف کرداروں کے معرض وجود میں آنے سے آیا حکمرانی اور بین الاقوامی اداروں کی اشکال معروضی دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں وضع کریں گی یا اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق کچھ ممالک جمہوری خسارے کے باعث مشکلات میں گھرے رہیں گے، ان کی ترقیاتی سطح ان کی طرز حکمرانی کی سطح کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے جبکہ دیگر ممالک تیزرفتار سماجی و سیاسی تبدیلی کے موڑ پر مستحکم تبدیلیاں کرنے سے قاصر رہیں گے۔

طرز حکمرانی کے چیلنجوں پر ایک معروف امریکی اسکالر جوزف نائی شائنز نے بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ای ایف رپورٹ میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ جمہوریتوں کو لازمی طور پر منتخب حکومتوں پر کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی اور انفارمیشن ایج کے نئے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کیلئے کام کرنا چاہئے تاہم اس موضوع پر آخری الفاظ ایک ایسی کاروباری شخصیت کی جانب سے آئے جس کا نام رپورٹ میں درج نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک ایسے جمہوری نمونے کو وضع کرنا ہوگا جس میں رہنماؤں کو معاشرے کے طویل مدتی مفاد کیلئے اپنے قلیل دور حکومت کی قید سے آزادی ملے۔ اس بات کا اطلاق پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
بشکریہ روزنامہ ‘ جنگ ‘

بادام کا درخت

میں نے ایک دن خواجہ صاحب سے عرض کیا ’’ہم لوگوں کے دھوکے سے کیسے بچ سکتے ہیں‘‘ فرمایا ’’یہ کام بہت آسان ہے‘ آپ لالچ ختم کر دو‘ دنیا کا کوئی شخص آپ کو دھوکا نہیں دے سکے گا‘‘ میں نے عرض کیا ’’جناب ذرا سی وضاحت کر دیں‘‘۔ فرمایا ’’ ہم دوسروں کے ہاتھوں دھوکا نہیں کھاتے‘ ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے‘ آپ اگر لالچی اور کنجوس ہیں تو آپ کو ہر روز دھوکہ دیا جائے گا اور آپ روز دھوکہ کھائیں گے بھی‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ یہ بات لالچ کی حد تک درست ہے کیونکہ لالچی کے طمع کی زبان ہر وقت باہر لٹکتی رہی ہے لیکن کنجوس تو اپنے پیسوں کو ہوا نہیں لگنے دیتا‘ یہ گرہ کھولے گا تو اس کے ساتھ دھوکہ ہو گا ناں‘‘۔ فرمایا ’’لالچ اور کنجوسی جڑواں بہنیں ہیں‘ یہ ہمیشہ اکٹھی رہتی ہیں‘ لالچی کنجوس ہوتا ہے اور کنجوس لالچی‘ دنیا کے تمام کنجوس دولت چھپانے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں‘ یہ ایسے گھونسلے تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں یہ اپنے اثاثوں کے انڈے رکھ سکیں‘ ان کی یہ تلاش انھیں فراڈیوں کے پاس لے جاتی ہے‘ فراڈیئے انھیں یقین دلا دیتے ہیں‘ ہمارے پاس نہ صرف آپ کا سرمایہ محفوظ رہے گا بلکہ یہ دوگنا اور چار گناہ بھی ہو جائے گا‘ یہ لوگ ان کے ٹریپ میں آتے ہیں اور یوں عمر بھر کے لیے کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.

چنانچہ آپ اگر دھوکے سے بچنا چاہتے ہیں تو کنجوسی ختم کر دیں‘ لالچ مٹا دیں‘ آپ کو کوئی شخص دھوکہ نہیں دے سکے گا‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ جناب دولت کا دھوکہ اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنی اذیت ناک دوستی‘ رشتے داری اور تعلق دار کی چیٹنگ ہوتی ہے‘‘ خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’ دنیا کا جو بھی رشتہ لالچ پر مبنی ہو گا اس کا اختتام تکلیف پر ہو گا‘ آپ رشتوں میں سے لالچ نکال دو‘ بیٹے کوبیٹا رہنے دو‘ بیٹی کو بیٹی‘ ماں کو ماں‘ باپ کو باپ‘ بہن اور بھائی کو بھائی بہن اور دوست کو دوست رہنے دو‘ آپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوگی‘ ہم جب بیٹے یا بیٹی کو انشورنس پالیسی بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا والد صاحب کو تیل کا کنواں سمجھ بیٹھتے ہیں یا پھر دوستوں کو لاٹری ٹکٹ کی حیثیت دے دیتے ہیں تو ہماری توقعات کے جسم پر کانٹے نکل آتے ہیں اور یہ کانٹے ہمارے تن من کو زخمی کر دیتے ہیں‘ رشتے جب تک رشتوں کے خانوں میں رہتے ہیں یہ دھوکہ نہیں دیتے‘ یہ انسان کو زخمی نہیں کرتے‘ یہ جس دن خواہشوں اور توقعات کے جنگل میں جا گرتے ہیں‘ یہ اس دن ہمیں لہو لہان کر دیتے ہیں‘ یہ یاد رکھو دنیا کی ہر آسائش اور ہر تکلیف اللہ کی طرف سے آتی ہے‘ دنیا کا کوئی شخص ہمیں نواز سکتا ہے اور نہ ہی ہماری تکلیف کا ازالہ کر سکتا ہے‘ ہمیں جو ملتا ہے اللہ کی طرف سے ملتا ہے‘ جو چھن جاتا ہے‘ اللہ کی رضا سے چھینا جاتا ہے‘ ہمارا چھینا ہوا کوئی واپس دلا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اللہ کی مرضی کے بغیر ہم سے کوئی چیز چھین سکتا ہے اور دنیا کے کسی شخص میں اتنی مجال نہیں وہ ہمیں اللہ کی مرضی کے بغیر نواز سکے‘ جب دیتا بھی وہ ہے اور لیتا بھی وہ ہے تو پھر لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کی کیا ضرورت؟‘‘۔

خواجہ صاحب نے اس کے بعد ایک حکایت سنائی‘ ان کا کہنا تھا‘ کسی محلے میں ایک خاندان آ کر آباد ہوا‘ یہ سادہ سے لوگ تھے‘ ان لوگوں نے ایک دن ہمسائے سے چاول پکانے کے لیے دیگچہ مانگا‘ ہمسایوں نے دیگچہ دے دیا‘ ان لوگوں نے چاول پکائے‘ دیگچہ واپس کیا تو اس کے ساتھ جست کا ایک چھوٹا سا پیالہ بھی تھا‘ ہمسایوں نے کہا ’’ یہ پیالہ ہمارا نہیں‘‘ دیگچہ مانگنے والوں نے جواب دیا‘ آپ کے دیگچے نے رات بچہ دیا تھا‘ یہ پیالہ وہ بچہ ہے‘ یہ آپ کا حق ہے‘ ہم آپ کا حق نہیں مار سکتے‘ ہمسائے اس عجیب و غریب لاجک پر حیران رہ گئے لیکن انھوں نے نئے آباد ہونے والوں کو بے وقوف سمجھ کر پیالہ رکھ لیا‘ ان لوگوں نے چند دن بعد دیگچی مانگی‘ یہ دیگچی اگلے دن واپس آئی تو اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی پلیٹ تھی‘ یہ پلیٹ اس دیگچی کی بچی تھی‘ ہمسایوں نے ان لوگوں کی بے وقوفی پر قہقہہ لگایا اور یہ پلیٹ بھی رکھ لی‘ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا‘ ہمسائے کوئی نہ کوئی برتن مانگتے اور واپسی پر اس کا کوئی نہ کوئی بچہ پیدا ہو جاتا‘ ہمسائے یہ بچہ خوشی خوشی قبول کر لیتے‘ ان لوگوں کو ایک دن دیگ کی ضرورت پڑ گئی‘ آج سے تیس سال قبل دیگ بڑی لگژری ہوتی تھی‘ یہ چند لوگوں کے پاس ہوتی تھی اور لوگ انھیں رشک کی نظروں سے دیکھتے تھے‘ لوگ اس زمانے میں اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیگیں بھی دیتے تھے‘ بہوؤں کی دیگوں کی تعداد ان کے میکوں کی خوشحالی کا ثبوت ہوتا تھا.

ان لوگوں نے دیگ مانگی‘ دو دن گزر گئے لیکن دیگ واپس نہ آئی‘ تیسرے دن ہمسائے نے ان کا دروازہ بجایا‘ صاحب خانہ باہر نکلا‘ دیگ کے مالک نے اپنی دیگ کا مطالبہ کیا‘ ہمسائے نے افسوس سے سر جھکایا اور دکھی لہجے میں بولا ’’ کل رات آپ کی دیگ انتقال فرما گئی‘ ہم نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا‘‘ دیگ کے مالک نے خیران ہو کر پوچھا ’’دیگ کیسے مر سکتی ہے‘‘ ہمسائے نے جواب دیا ’’جناب جیسے سارے برتن مرتے ہیں‘‘۔ دیگ کا مالک معاملے کو پنچایت میں لے گیا‘ پنچایت بیٹھی تو مدعی نے پنچایت کے ارکان سے کہا ’’ یہ شخص کہتا ہے‘ میری دیگ مر گئی‘ کیا دیگ مر سکتی ہے؟‘‘ پنچایت نے ملزم کی طرف دیکھا‘ ملزم نے نہایت ادب سے عرض کیا ’’ میں جب بھی اس سے کوئی برتن لیتا تھا‘ وہ برتن میرے گھر میں بچہ دے دیتا تھا‘ میں اس برتن کے ساتھ وہ بچہ بھی اس کے حوالے کر دیتا تھا‘ آپ اس سے پوچھئے کیا میری بات درست ہے؟‘‘ پنچایت نے مدعی کی طرف دیکھا‘ مدعی نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ ملزم نے مسکرا کر عرض کیا ’’ جناب اگر کوئی برتن بچہ دے سکتا ہے تو وہ مر بھی سکتا ہے اور اس کی دیگ کل رات رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئی‘‘ پنچایت نے قہقہہ لگایا اور کیس ڈس مس کر دیا‘ وہ ہمسایہ بیچارہ اپنے لالچ کے ہاتھوں مارا گیا تھا‘ برتن ادھار لینے والا بنیادی طور پر فراڈیا تھا اور یہ دوسرے فراڈیوں کی طرح ہمسائے کا لالچ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹارگٹ اچیو کر لیا۔

خواجہ صاحب نے بتایا ’’ دنیا بھر کے فراڈیئے لوگوں کو لالچ دیتے ہیں‘ یہ ہمیشہ چھوٹی سرمایہ کاری کا بڑا ریٹرن دیتے ہیں‘ آپ انھیں کھانا کھلاتے ہیں‘ چائے پلاتے ہیں اور یہ آپ کے بچوں کو پانچ دس ہزار روپے دے جاتے ہیں‘ آپ ان کے گھر چاول کی پلیٹ بھجواتے ہیں اور یہ آپ کے گھر کیک بھجوا دیں گے‘ یہ آپ سے سائیکل ادھار لیں گے اور جواب میں آپ کو نئی نکور گاڑی ادھار دے دیں گے‘ یہ آپ سے دس ہزار روپے قرض لیں گے اور بارہ ہزار واپس کریں گے‘ آپ اضافی دو ہزار روپے کے بارے میں پوچھیں گے تو یہ جواب دیں گے‘ میں نے آپ کے دس ہزار روپے فلاں کاروبار میں لگائے تھے‘ پانچ دن میں پانچ ہزار روپے منافع ہو گیا‘ میں نے تین ہزار روپے خود رکھ لیے‘ دو آپ کا حق ہے‘ آپ کو دے رہا ہوں‘ یوں آپ ان کی ایمانداری کے بھی قائل ہو جائیں گے‘ ان کے اخلاص اور نیکی کے بھی اور اس کاروبار کو بھی کریڈیبل سمجھ لیں گے جو دس ہزار روپے کی سرمایہ کاری پر پانچ دنوں میں پانچ ہزار روپے منافع دے دیتا ہے‘ یوں وہ شخص آپ کے دل میں لالچ کا پہلا بیج بونے میں کامیاب ہو جائے گا‘ وہ اس کے بعد آپ سے ادھار لیتا رہے گا‘ آپ کو منافع دیتا رہے گا یا وقت پر پیسے واپس کرتا رہے گا اور آپ کا اعتبار حاصل کرتا رہے گا یہاں تک کہ آپ اسے سرمایہ کے لیے خود رقم دینا شروع کر دیں گے‘ وہ آپ کی رقم پر آپ کو پورا منافع دے گا.

اور پھر ایک دن بڑی سرمایہ کاری کا موقع آ جائے گا‘ وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ آپ کے پاس آئے گا اور آپ کو بتائے گا اس کی کمپنی جہاز خرید رہی ہے‘ یہ جہاز آدھی قیمت میں مل رہا ہے‘ کمپنی جہاز خرید لے گی‘ یہ جہاز چار دن میں پی آئی اے خرید لے گی‘ کمپنی کو سو فیصد منافع ہو گا اور یوں ہمارا سرمایہ چار دن میں دگنا ہو جائے گا‘ وہ آپ کو بتائے گا‘ ہم دس لوگ اس سودے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘ ہم ایک ایک کروڑ روپے ڈال رہے ہیں‘ یہ کروڑ روپے چار دن میں دو کروڑ روپے ہو جائیں گے اور یوں آپ اس کے اس ٹریپ میں آ جائیں گے جو اس نے مہینوں کی محنت سے آپ کے اردگرد بنا تھا‘ آپ زیورات بیچیں گے‘ گھر نیلام کریں گے‘ گاڑی فروخت کر دیں گے اور جیسے تیسے کروڑ روپے پورے کر کے اس کے حوالے کر دیں گے لیکن چند دن بعد آپ کی دیگ بھی انتقال کر جائے گی‘ وہ شخص آپ کے کروڑ روپے لے کر فرار ہو جائے گا یا پھر آپ کو ایک ہفتے بعد اس جہاز کے کریشن ہونے یا کمپنی کے دیوالیہ ہونے یا پھر گھر یا بینک میں ڈاکہ زنی کی اطلاع ملے گی‘ یہ آپ کی مرحومہ دیگ کی تدفین بھی کر دے گا اور آپ اس وقت کچھ بھی نہیں کر سکیں گے.

یہ دنیا کے تمام فراڈیوں کی تکنیک ہے‘ یہ کبھی سرمایہ کاری کے نام پر لوٹتے ہیں‘ یہ کبھی ڈبل شاہ بن جاتے ہیں‘ یہ کبھی اسلامی سرمایہ کاری یا مضاربہ کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں‘ یہ کبھی بانڈز کا کاروبار کرتے ہیں‘ یہ کبھی جعلی ڈالرز کے ذریعے لوگوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں‘ کبھی سونے کی دیگ کی خوش خبری سناتے ہیں اور کبھی کسی مرحوم شہزادے کا خزانہ لے کر مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور اپنے اپنے حصے کے لالچی لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہ سب لوگ دیگچی کے بچے دے کر آپ کی دیگ کھانے کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب بھی آپ کے سامنے آئیں‘ آپ ایک بات ذہن میں رکھ لیں‘ اگر بادام کا کوئی درخت سڑک پر لگا ہو اور یہ درخت باداموں سے لدا ہوا ہو تو آپ جان لیں اس کے تمام بادام کڑوے ہیں کیونکہ بادام کا درخت اور اس کا میٹھا صرف آپ کا انتظار نہیں کر سکتا۔

جاوید چودھری
بشکریہ روزنامہ ‘ ایکسپریس ‘