ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس کہانی سامنے آ گئی، سات اراکین کروڑ کلب میں شامل

سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری 1072 نے گوشوارے جمع کرائے۔ 7 عوامی نمائندے کروڑ کلب میں شامل۔ نواز شریف نے 26 لاکھ 46 ہزار روپے، عمران خان نے 1 لاکھ 94 ہزار، چوہدری نثار نے 57 ہزار 124 روپے ٹیکس دیا۔

  سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے 1072 ارکان کی ٹیکس تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ سال 26 لاکھ 46 ہزار 401 روپے ٹیکس ادا کیا۔ رکن سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے سب سے زیادہ 1 کروڑ 87 لاکھ جبکہ سینیٹر عباس خان آفریدی نے 1 کروڑ 79 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ مجموعی طور پر سات عوامی نمائندوں نے ایک کروڑ یا اس سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 1172 ارکان میں سے 1072 ارکان نے سال 2013ء کے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جبکہ 100 عوامی نمائندوں نے ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کیئے۔ سینیٹر عباس خان آفریدی نے سب سے زیادہ 1 کروڑ 79 لاکھ 91 ہزار 618 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے 1 کروڑ 29 لاکھ 40 ہزار 990 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے 87 لاکھ 63 ہزار 691 روپے ٹیکس ادا کیا۔ شیخ فیاض الدین نے ایک کروڑ ایک لاکھ 93 ہزار 128 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رکن نور سلیم مالک نے ایک کروڑ 15 لاکھ 12 ہزار 851 روپے ٹیکس ادا کیا۔ رکن پنجاب اسمبلی چوہدری ارشد جاوید وڑائچ نے ایک کروڑ 76 لاکھ 96 ہزار 589 روپے ٹیکس دیا۔ پنجاب اسمبلی کے ہی شیخ الالدین نے 1 کروڑ 10 لاکھ 29 ہزار 867 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ سندھ اسمبلی کے سید اویس قادر شاہ نے 1 کروڑ 87 لاکھ 41 ہزار 549 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ سینیٹ کے جن اراکین نے نسبتا زیادہ ٹیکس ادا کیا ان میں سینیٹر ہیمان داس نے 29 لاکھ 42 ہزار روپے، سینیٹر روزی خان کاکٹر 11 لاکھ 41 ہزار روپے، حاجی خان آفریدی 19 لاکھ 58 ہزار روپے، عثمان سیف اللہ خان نے 31 لاکھ 18 ہزار روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ اسی طرح سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے 11 لاکھ 45 ہزار روپے، میاں رضا ربانی نے 3 لاکھ 16 ہزار 542 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 1 لاکھ 48 ہزار 868 جبکہ ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی نے 1 لاکھ 17 ہزار روپے، وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے 12 لاکھ پانچ ہزار روپے ٹیکس جمع کرایا۔

 رکن قومی اسمبلی شیخ محمد اکرم نے 10 لاکھ روپے، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے 12 لاکھ 15 ہزار روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 8 لاکھ 24 ہزار 891 روپے ٹیکس ادا کیا۔ تحریک انصاف کے شفقت محمود نے 1 لاکھ 68 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ چوہدری شجاعت حسین نے 18 لاکھ 24 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ اسفندیار ایم بھنڈارا نے 32 لاکھ 13 ہزار روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ شیخ روحیل اصفر نے صرف 5903 روپے ٹیکس دیا۔ کے پی کے اسمبلی کے افتخار علی مشوانی نے 32 لاکھ 49 ہزار، امجد خان آفریدی نے 38 لاکھ، سردار ظہور احمد نے 20 لاکھ 28 ہزار جبکہ نوابزادہ ولی محمد خان نے 13 لاکھ روپے سے زیادہ ٹیکس دیا۔ پنجاب اسمبلی کے محمد صدیق خان نے 18 لاکھ 60 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ جہانگیر بدر نے 2 لاکھ 59 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ نصر اللہ گھمن نے 35 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے چوہدری محمد جعفر اقبال نے صرف 17 ہزار 6 سو 66 روپے ٹیکس ادا کیا۔ 

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے 43 ہزار 8 سو 68 روپے ٹیکس ادا کیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے 31 ہزار روپے جبکہ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے 20 ہزار 9 سو 59 روپے ٹیکس ادا کیا۔ ڈائریکٹری کے مطابق 449 عوامی نمائندوں نے گوشوارے جمع کرانے کے باوجود کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں میں سراج محمد خان، گوہر شاہ، شہریار آفریدی، سردار یعقوب ناصر بھی شامل، امیر حیدر خان ہوتی نے بھی کوئی ٹیکس جمع نہیں کرایا۔ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ برس 13 ہزار 462 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے 3 لاکھ 16 ہزار 542 روپے، سینیٹر فرحت اللہ بابر نے 4 لاکھ 86 ہزار 901 روپے اور شیخ رشید احمد نے 58 ہزار 410 روپے ٹیکس ادا کیا‫۔ ٹیکس نہ دینے والوں میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمٰن ملک، عوامی پارٹی کے سینیٹر عبد الروٴف، سینیٹر فرحت عباس، سینیٹر ہری رام، مجاہد علی، سینیٹر میر اسرار اللہ خان زہری، سینیٹر میر محمد علی رند، سینیٹر اعظم خان ہوتی، آذاد سینیٹر ادریس خان صافی، سینیٹر نواب زادہ اکبر مگسی، سینیٹر گل محمد لاٹ، حامد الحق، ساجد نواز، گلزار خان، سردار محمد یوسف، شیر اکبر خان، مراد سعید، سلیم رحمان، ظہیر الدین خان، بلوچستان سے پاکستان مسلم لیگ کی سینیٹر روبینہ خان شامل ہیں۔

 قاری محمد یوسف، صاحبزادہ طارق اللہ، صاحبزادہ محمد یعقوب، ‫جنید اکبر، بلال رحمان، ساجد حسین طوری، غازی گلاب جمال، محمد نذیر خان، غالب خان، محمد جمال الدین، ‫ایم این اے بسم اللہ خان، شہاب الدین خان، شاہ جی گل آفریدی، رکن قومی اسمبلی ناصر خان، پیر امیر الحسنات، ‫‏‫رکن قومی اسمبلی افضل خان، غلام رسول ساہی، محمد طلال چودھری، غلام محمد لالی، صاحبزادہ محمد نذیر نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ ‫‏‫‏‫رکن قومی اسمبلی نجف عباس سیال، چودھری اسد الرحمن، میاں طارق محمود، رانا عمر نذیر خان، ‫اظہر قیوم مہرا، نوابزادہ مظہر علی، چودھری جعفر اقبال، چودھری عابد رضا میاں محمد رشید اور رائے منصب علی خان بھی ٹیکس ناد ہندگان میں شامل ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق حتمی فہرست 28 فروری کو جاری کی جائے گی۔ باقی ماندہ نمائندے 28 فروری تک ٹیکس گوشوارے جمع کرا سکتے ہیں۔

اخلاص کی ضرورت…

افواج پاکستان نے ملک کی سالمیت و بقا کے لیے ناقابل فراموش تاریخ رقم کی ہے، لیکن فیالوقت بیرونی دشمن سے زیادہ مملکت کو اندرونی دشمن کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا، قبائل، فاٹا اور بلوچستان میں مسلح افواج کے اہلکار و افسران اپنی جانوں کی قیمتی قربانیاں دے رہے ہیں اور مملکت کی عزت و ناموس پر تن من دھن سے قربان ہو رہے ہیں۔ بیرونی دشمن کی چالبازیوں اور عالمی طاقتوں کی سازشوں کے آگے سینہ سپر ہو کر سرزمین پاک کے ایک ایک چپے کا دفاع کر رہے ہیں۔ لاپتہ افراد سے متعلق قانون کا موجود نہ ہونا، خود عدالت کے لیے مشکل امر تھا۔ اس لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں، تحفظ پاکستان بل بنایا گیا اور گزشتہ دنوں اس میں چند ترامیم کر کے 2014ء کے اس تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس کو فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت کراچی آپریشن میں گرفتار ہونے والے متعدد ملزمان کو رینجرز نے 90 روز کے لیے تفتیشی مراکز منتقل کیا ہے جب کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد خفیہ اداروں و عسکری فوج کے تفتیشی یونٹس بھی کسی بھی فرد کو حراست میں لے سکتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ سپریم کورٹ اس آرڈیننس پر غور و غوض کے بعد باریکی سے جائزہ لیتے ہوئے کس قدر جلد فیصلہ کرتی ہے کہ آیا یہ آرڈیننس، کسی شہری حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔ ایف آئی آر کے بعد پولیس پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر اسے متعلقہ عدالت میں پیش کرے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو تفتیش کے لیے 14 روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح عدالت پر یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ مقدمے کی نوعیت کے پیش نظر پولیس کو 14 یا کم از کم 7 دن کا ریمانڈ دے۔ یہ عدالت کی صوابدید پر بھی ہے کہ وہ اگر محسوس کرے تو ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیتی ہے اور پولیس پر لازم ہو جاتا ہے کہ 14 دن کے اندر، ملزم کے خلاف چالان اور ثبوت پیش کرے۔ ملزم کو 14 دن کے لیے جوڈیشنل ریمانڈ پر عدالت جیل بھیج دیتی ہے۔

یہاں عدالت پر لازم ہوجاتا ہے کہ 3 ماہ کے اندر چالان کے مطابق مقدمہ چلائے اور گواہان و شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرے، 3 ماہ (نوے دن) کی میعاد میں اگر چالان یا چارج فراہم نہیں ہوتا تو ملزم کو قانونی حق ملتا ہے کہ اسے عدالت ضمانت پر رہا کر دے۔ یہ ملزم کا قانونی حق ہے کہ چارج فریم نہ ہونے کی صورت میں90 دن بعد (قتل کے مقدمے کے علاوہ) ضمانت حاصل کر کے اپنے مقدمے کا دفاع کرے گا لیکن یہاں ماتحت عدالتیں صوابدیدی اختیارات استعمال کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا بھی ہوتا ہے کہ پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مطلوبہ فرد کو گھروں سے اٹھاکر تفتیش کے نام پر نامعلوم جگہوں پر لے جاتے ہیں اور انھیں اپنی مرضی کے بعد پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں میں بھی مقدمات، پابندی سے نہیں چلتے اور لاکھوں ایسے مقدمات ہیں کہ ان کا برسوں تک چارج فریم ہی نہیں ہوا، اور ہزاروں ایسے مقدمات ہیں کہ پولیس نے ابھی تک برسوں گزر جانے کے بعد بھی چالان عدالتوں میں پیش نہیں کیے۔ جس کا فائدہ عمومی طور پر ملزم کو پہنچتا ہے اور وہ 249 کی کارروائی کر کے خود کو مقدمے سے بری کروا لیتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں قوانین کے نئے نفاذ سے زیادہ عمل درآمد کی ضرورت پر زور نہیں دیا جاتا، اور لاقانونیت کے ان عناصر کے خلاف مضبوط شواہد پیش نہیں کیے جاتے۔ مثال کے طور پر سندھ آرمز بل کو 21 فروری 2013ء میں سندھ اسمبلی نے منظور کیا اور گورنر سندھ نے 27 فروری 2013ء کو دستخط کیے۔ سندھ گورنمنٹ گزٹ میں نوٹیفکیشن مورخہ یکم مارچ 2013ء کو جاری ہو کر نافذالعمل ہوا۔ غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی مہم حکومت نے جاری کی لیکن شدید ناکامی کا سامنا ہوا اور یہ قانون محض مذاق بن کر رہ گیا۔ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن میں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کے سر پر غیر قانونی اسلحہ تھوپ دیا گیا اور آٹے میں نمک کے برابر ان ملزمان کو بھی فائدہ ضمانت ہوا، جو بے گناہوں کے لیے عدالتوں نے اختیار کیا۔ گو کہ اسلامک ری پبلک آف پاکستان کے آرٹیکل 12 کی رو سے کئی حق تلفیاں ہوئیں اور بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔

یقینی طور پر دیکھنے کی یہ بھی ضرورت ہے کہ کیا جرائم کے خلاف پہلے سے کوئی قانون موجود ہے یا نہیں؟ کیا قانون کے مطابق مختلف اداروں کے اہلکار عمل درآمد کرتے بھی ہیں کہ نہیں؟ اگر قوانین میں کوئی سقم موجود ہے تو اس کا یکساں طور پر سب ملزمان پر نفاذ ہونا چاہیے یا پھر موجودہ نظام میں ہی کوئی خرابی ہے تو پھر ایسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس کا بنیادی مقصد، حساس و خفیہ اداروں کو لاپتہ افراد کے حوالے سے کارروائیوں کو تحفظ دینا ہے۔ اس سے جبری گم شدگیوں اور لاپتہ افراد کے معاملے کو قانونی اختیار ملنے کی ایک کارروائی قرار دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، معمولی جرائم سے لے کر دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے جرائم کے سدباب سے زیادہ ضرورت اس بات کی رہتی ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کو محض شک شبے میں حراست میں لے کر بھیانک تفتیش کرنے سے زیادہ یقینی اس امر کو بنایا جائے کہ بے گناہ افراد کو کسی بھی نوعیت کے جرم میں اٹھایا نہ جائے لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے۔ جرم کی شدت کے حساب سے قوانین کو مزید سخت بنائے جانا مثبت اقدام ہے لیکن دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ کیا جرم واقعی گناہ گار پر ثابت ہو رہا ہے؟ اگر عدم شواہد کی بنا پر یا کمزور تفتیش کی بنا پر کوئی ملزم رہا ہو جاتا ہے تو اس میں کسی قانون یا عدالت کا قصور نہیں ہوتا بلکہ تفتیش کرنے والے اہلکاروں کی عدم توجہ و دل چسپی سمیت جدید آلات و ذرائع کے اسباب کو استعمال و بروئے کار نہ لانا شامل ہے۔

سیاسی جماعتیں اور باشعور عوام قانون کی عملدرآمدی چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کسی قانون کا غلط استعمال بھی نہ ہو، خاص کر بے گناہوں پر۔ دہشت گردی کا تعلق کسی بھی نوعیت سے ہو، وطن دشمنی کسی بھی طرف سے ہو، قوانین کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔ صرف قانون بنا کر اسے پاس کر دینا اور سخت قوانین کی آڑ میں کسی مخصوص فرد یا جماعت یا گروہ کو نشانہ بنانا قطعی مناسب نہ ہو گا۔بنیادی حقوق کی خلاف ورزی و سلب ہو جانے کے کسی بھی عمل میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عدالتوں اور تفتیش کا نظام شفاف اور غیر جانبدارانہ ہو، ماہر اور مخلص وطن پرست عملہ ہو جس کا مقصد کسی جماعت، گروہ یا فرد کے خلاف یکطرفہ یا سیاسی مقاصد کے لیے حصول نہ ہو بلکہ پہلے سے موجود قوانین کو کماحقہ عوامی مفاد اور پاکستان کی بقا و تحفظ کے لیے استعمال کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔

قادر خان 

کراچی ادب میلہ

گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی جرمنی، اٹلی اور فرانس کے سفیروں اور برٹش کونسل کے نمائندے نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن کا لب لباب یہی تھا کہ ایسے نامساعد حالات میں اس طرح کے میلے کا کامیاب انعقاد جہاں ایک طرف منتظمین کی محنت اور صلاحیت کا ترجمان ہے وہاں عوام کی پر جوش شمولیت بھی بے حد حوصلہ افزا ہے کہ اس سے ان کی ہمت حوصلے اور فنون لطیفہ سے محبت کی شدت کا اظہار ہوتا ہے۔ تینوں نے گزشتہ سال کے دوران لکھی گئی کتابوں پر ایوارڈز کے سلسلے شروع کیے ہیں جن کا اعلان ان کے خطاب کے دوران کیا گیا اور ہر تقریر کے بعد متعلقہ ایوارڈ جیتنے والوںکو پیش بھی کیے گئے مرکزی میزبانوں یعنی امینہ سید اور ڈاکٹر آصف فرخی کے علاوہ مرکزی سپانسر HBL کے نمائندے نے بھی خوش آمدیدی کلمات کہے لیکن حاصل غزل شعر مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کا کلیدی خطبہ ہی تھا جو اپنے عظیم دادا کی نسبت نہ صرف طویل قامت تھے بلکہ انھوں نے کپڑے بھی پورے پہن رکھے تھے۔

انھوں نے بڑے دلچسپ اور عام فہم انداز میں برصغیر کی مشترکہ تاریخ اور تہذیب کے پس منظر میں آزادی کے بعد دونوں ملکوں کی صورت حال کا جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ لڑائی جھگڑے سے معاملات نہ کبھی سلجھے ہیں اور نہ سلجھیں گے۔ سو دونوں ملکوں کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اب Region کی سطح پر سوچنا چاہیے کہ ساری دنیا اسی کی طرف جا رہی ہے اور یہ کہ خارج کے حالات کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کی طرف بھی جھانکنا اور دیکھنا چاہیے کہ ہم عالمی برادری کے ممبر تو بن گئے ہیں مگر خود اپنے اپنے ملکوں کے اندر موجود تہذیبوں، زبانوں اور قومیتوں کے ساتھ مکالمہ نہیں کرتے۔ ان کی اس بات نے مجھے اس لیے بھی متاثر کیا کہ آج کل ہم بالخصوص تعلیم کے حوالے سے اندھا دھند اپنے بچوں کو نیشنل بنائے بغیر انٹرنیشنل بنانے کے خبط میں مبتلا ہیں جس کے نتیجے میں ہم اندر کی سطح پر مضبوط ہونے کے بجائے انتشار کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

پروگرام کے آخر میں علامہ اقبال کی مشہور غزل ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ پر ناہید صدیقی کا ایک رقص رکھا گیا تھا جو میرے خیال میں نامناسب بھی تھا اور بے موقع بھی۔ نامناسب اس لیے کہ اتنی بڑی فن کارہ کا یہ مختصر سا آئٹم اس وقت پیش کیا گیا جب ایک طویل اور سنجیدہ اجلاس ختم ہورہا تھا اور حاضرین ذہنی طور پر ایک بالکل مختلف فضا میں تھے اور بے موقع اس لیے کہ اسٹیج خالی کرانے کے وقفے کے درمیان لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے تھے اور یوں بھی دوپہر کا وقت ایسے عمدہ کلاسیکل رقص کے لیے بہرحال کوئی موزوں وقت نہیں تھا۔ یہ بات کچھ اس لیے بھی بے تکی سی محسوس ہوئی کہ کانفرنس کی آخری شام کو ناہید صدیقی کے رقص کے لیے ایک پوری محفل پہلے سے طے شدہ تھی۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں واضح کیا تھا کہ افتتاحی اجلاس کے بعد مختلف ہالز اور پنڈالوں میں بہت سے اجلاس ایک ساتھ منعقد ہونا شروع ہوگئے جو بلا شبہ بہت اہم اور اعلیٰ پائے کے تھے مگر مسئلہ پھر وہی تھا کہ بیشتر لوگ اس مخمصے میں مبتلا رہے کہ وہ کس میں شریک ہوں اور کس کو چھوڑیں کہ زیادہ تر پروگرام اس قدر دلچسپ اور پرکشش تھے کہ ہر ایک اپنی طرف کھینچتا تھا مثال کے طور پر افتتاحی پروگرام کے فوراً بعد سوا بارہ سے سوا ایک تک مندرجہ ذیل چھ پروگرام ایک ساتھ چل رہے تھے۔

 مونی محسن سے مکالمہ

  (مباحثہ) Power of the fourth state

  سب کے محبوب شاعر فیض احمد فیض

  کتاب The Kashmir Dispute کی تقریب رونمائی

  ناول کی دنیا

  پتلی تماشا

اور کم و بیش ایسی ہی صورتحال آئندہ تین دنوں تک جاری رہی میرے سامنے کچھ احباب نے منتظمین سے اس الجھن کی شکایت کی تو ان کا کہنا یہی تھا کہ انھیں ہر روز تقریباً 25 سیشن نمٹانے کے ساتھ ساتھ کم و بیش 90 ملکی اور غیر ملکی مندوبین کو بھیadjust کرنا ہے یعنی اگر وہ عوام کو بہتر Choice دینے کے لیے ایک سیشن میں پروگراموں کی تعداد نصف کریں تو انھیں سیشن دوگنا بڑھانا پڑیں گے اور معاملہ پانچ یا چھ دنوں پر پھیل جائے گا جب کہ مصروفیت کے اس دور میں تین دنوں کے لیے بھی مندوبین کو اکٹھا کرنا ایک مہم سے کم نہیں۔ میرے خیال میں اس کا ایک ہی حل ہے کہ مندوبین اور موضوعات دونوں کی تعداد کو 40% کے لگ بھگ کم کردیا جائے۔ بصورت دیگر یہ شکایت برقرار رہے گی اور میلے میں آنے والوں کو انتخاب کے اس کڑے اور بعض صورتوں میں انتہائی مشکل امتحان سے یونہی گزرنا پڑے گا۔ میری طرح کئی دوسرے احباب نے بھی شروع شروع میں تھوڑا تھوڑا وقت ہر پسندیدہ پروگرام کو دینے کی کوشش کی لیکن اس سے یہ معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گیا اور ہم سب Jack of all Trades ,master of none کی منہ بولتی تصویریں بن گئے۔

KLF کے ان پروگراموں کی ایک اضافی خوبی وقت کی پابندی بھی ہے۔ سو اگر صرف تانک جھانک سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو اس میں بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ درمیان میں تصویریں اتروانے، سلام دعا کرنے اور آٹو گراف لینے والوںکا ایک ایسا ہجوم پڑتا ہے کہ ٹک کر بیٹھنے یا دھیان سے سننے کا موقع کم کم ہی ملتا ہے۔ اس بار ایک اچھا اضافہ یہ دیکھنے میں آیا کہ مندوبین کی چائے پانی کے لیے ایک کمرہ الگ سے مخصوص کردیا گیا تھا جہاں آپ چند منٹ رک کر تازہ دم ہوسکتے تھے اس کے باہر والنٹیر بچے اور بچیاں ہمہ وقت موجود رہتے تھے تاکہ غیرمتعلقہ افراد آرام کے اس مختصر وقفے میں دخل اندازی نہ کرسکیں لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ ہر بار وہاں دو چار ایسے دوست مل جاتے ہیں جن سے بات چیت کے دوران وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی بار کوئی ایسا پروگرام بھی نکل جاتا ہے جس کی مرکزی شخصیت سے آپ شمولیت کا پکا وعدہ کرچکے ہوتے ہیں۔

کم و بیش یہی صورت حال کتابوں کے خصوصی اسٹالز کے درمیان گھومتے پھرتے بھی پیش آتی ہے کہ کئی کتابیں رستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کل ملا کر چند سیشن ہی ایسے تھے جن میں قرار واقعی قسم کی شمولیت کا موقع مل سکا (یہ اور بات ہے کہ ان میں سے تین میں، میں خود کسی نہ کسی حوالے سے شامل تھا) سو اگلے کالم میں ان کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ چلتے چلتے پہلے دن کے آخری پروگرام یعنی مشاعرے کے بارے میں کچھ بات ہوجائے جس کی صدارت کشور ناہید نے کی اور میزبانی کے فرائض فاطمہ حسن نے انجام دیے۔ شعرأ میں زیادہ تر کا تعلق کانفرنس کے مندوبین سے ہی تھا یعنی ان سے ایک پنتھ دو کاج کاکام لیا گیا تھا البتہ کراچی کے کچھ شعرأ کو بھی شامل کیا گیا تھا حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فہرست میں بھی کئی اہم شعرأ کے نام نہیں تھے اور جن کے تھے ان میں سے بھی کئی ایک وہاں موجود نہیں تھے البتہ برادرم سلیم کوثر کی کمی بہت محسوس ہوئی کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے خاصے علیل ہیں۔ میں لاہور سے دل میں ان کی عیادت کا ارادہ کرکے چلا تھا مگر بوجوہ اس کا موقع نہ مل سکا سو ان کے لیے صحت کاملہ عاجلہ کی دعا کے ساتھ اس کالم کو ختم کرتا ہوں۔ یاد رہے تو آپ بھی ان کی صحت یابی کے لیے دعا فرمایے گا۔

امجد اسلام امجد