سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے 1072 ارکان کی ٹیکس تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ سال 26 لاکھ 46 ہزار 401 روپے ٹیکس ادا کیا۔ رکن سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے سب سے زیادہ 1 کروڑ 87 لاکھ جبکہ سینیٹر عباس خان آفریدی نے 1 کروڑ 79 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ مجموعی طور پر سات عوامی نمائندوں نے ایک کروڑ یا اس سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 1172 ارکان میں سے 1072 ارکان نے سال 2013ء کے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جبکہ 100 عوامی نمائندوں نے ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کیئے۔ سینیٹر عباس خان آفریدی نے سب سے زیادہ 1 کروڑ 79 لاکھ 91 ہزار 618 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے 1 کروڑ 29 لاکھ 40 ہزار 990 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے 87 لاکھ 63 ہزار 691 روپے ٹیکس ادا کیا۔ شیخ فیاض الدین نے ایک کروڑ ایک لاکھ 93 ہزار 128 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رکن نور سلیم مالک نے ایک کروڑ 15 لاکھ 12 ہزار 851 روپے ٹیکس ادا کیا۔ رکن پنجاب اسمبلی چوہدری ارشد جاوید وڑائچ نے ایک کروڑ 76 لاکھ 96 ہزار 589 روپے ٹیکس دیا۔ پنجاب اسمبلی کے ہی شیخ الالدین نے 1 کروڑ 10 لاکھ 29 ہزار 867 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ سندھ اسمبلی کے سید اویس قادر شاہ نے 1 کروڑ 87 لاکھ 41 ہزار 549 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ سینیٹ کے جن اراکین نے نسبتا زیادہ ٹیکس ادا کیا ان میں سینیٹر ہیمان داس نے 29 لاکھ 42 ہزار روپے، سینیٹر روزی خان کاکٹر 11 لاکھ 41 ہزار روپے، حاجی خان آفریدی 19 لاکھ 58 ہزار روپے، عثمان سیف اللہ خان نے 31 لاکھ 18 ہزار روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ اسی طرح سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے 11 لاکھ 45 ہزار روپے، میاں رضا ربانی نے 3 لاکھ 16 ہزار 542 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 1 لاکھ 48 ہزار 868 جبکہ ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی نے 1 لاکھ 17 ہزار روپے، وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے 12 لاکھ پانچ ہزار روپے ٹیکس جمع کرایا۔
افواج پاکستان نے ملک کی سالمیت و بقا کے لیے ناقابل فراموش تاریخ رقم کی ہے، لیکن فیالوقت بیرونی دشمن سے زیادہ مملکت کو اندرونی دشمن کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا، قبائل، فاٹا اور بلوچستان میں مسلح افواج کے اہلکار و افسران اپنی جانوں کی قیمتی قربانیاں دے رہے ہیں اور مملکت کی عزت و ناموس پر تن من دھن سے قربان ہو رہے ہیں۔ بیرونی دشمن کی چالبازیوں اور عالمی طاقتوں کی سازشوں کے آگے سینہ سپر ہو کر سرزمین پاک کے ایک ایک چپے کا دفاع کر رہے ہیں۔ لاپتہ افراد سے متعلق قانون کا موجود نہ ہونا، خود عدالت کے لیے مشکل امر تھا۔ اس لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں، تحفظ پاکستان بل بنایا گیا اور گزشتہ دنوں اس میں چند ترامیم کر کے 2014ء کے اس تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس کو فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت کراچی آپریشن میں گرفتار ہونے والے متعدد ملزمان کو رینجرز نے 90 روز کے لیے تفتیشی مراکز منتقل کیا ہے جب کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد خفیہ اداروں و عسکری فوج کے تفتیشی یونٹس بھی کسی بھی فرد کو حراست میں لے سکتے ہیں۔
گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی جرمنی، اٹلی اور فرانس کے سفیروں اور برٹش کونسل کے نمائندے نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن کا لب لباب یہی تھا کہ ایسے نامساعد حالات میں اس طرح کے میلے کا کامیاب انعقاد جہاں ایک طرف منتظمین کی محنت اور صلاحیت کا ترجمان ہے وہاں عوام کی پر جوش شمولیت بھی بے حد حوصلہ افزا ہے کہ اس سے ان کی ہمت حوصلے اور فنون لطیفہ سے محبت کی شدت کا اظہار ہوتا ہے۔ تینوں نے گزشتہ سال کے دوران لکھی گئی کتابوں پر ایوارڈز کے سلسلے شروع کیے ہیں جن کا اعلان ان کے خطاب کے دوران کیا گیا اور ہر تقریر کے بعد متعلقہ ایوارڈ جیتنے والوںکو پیش بھی کیے گئے مرکزی میزبانوں یعنی امینہ سید اور ڈاکٹر آصف فرخی کے علاوہ مرکزی سپانسر HBL کے نمائندے نے بھی خوش آمدیدی کلمات کہے لیکن حاصل غزل شعر مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کا کلیدی خطبہ ہی تھا جو اپنے عظیم دادا کی نسبت نہ صرف طویل قامت تھے بلکہ انھوں نے کپڑے بھی پورے پہن رکھے تھے۔