لکھنے والا وہ جس کی زبانِ قلم ہزارخوف کے باوجود دل کی رفیق رہی ۔وہ حقیقی معنوں میں کسی سے ڈرتے ورتے نہیں تھے۔بات ڈنکے کی چوٹ کہنے کا ہنرجاننے کے خواہش مندوں کو اردشیر کاوس جی کے سوا دو سوکالموں پر مشتمل مجموعے “Vintage Cowasjee”کولگ کرپڑھنا چاہیے ،جس کو ان کی دوست امینہ جیلانی نے مرتب کیا ہے۔ ارد شیر کاوس جی کی تحریروں میں تمام ترہمدردی مظلوم سے مخصوص اور لڑائی ظالم کے ساتھ نظرآتی ہے ۔ان کی نگارشات اس سادہ سی حقیقت کی ترجمان ہیں کہ دنیا میں طبقات دو ہی ہیں:ظالم اور مظلوم۔باقی باتیں اضافی ہیں مگربالادست زیردستوں کو اور ہی باتوں میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ ان کا دھندہ چلتا رہے۔ممتازشاعرظفراقبال کا شعرہے: