سٹیل ملز۔ کرپشن اور نا اہلیوں کی دردناک داستان

نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی دعوت پر میں 10فروری کو لاہور گیا۔ قومی اہمیت کا یہ ادارہ مال روڈ پر واقع ہے۔میری معروضات کا عنوان تھا منیجنگ پبلک اور پرائیویٹ انٹرپرائزز مجھے کہا گیا کہ میں میں اپنی توجہ سٹیل ملز کی کیس ہسٹری پر مرکوز رکھوں۔اس سینئر ترین کورس کے شرکاء میں کچھ صوبائی وزرائ، ایم این اے جنرلز ‘ ججز، بیورو کریٹس اور پرائیویٹ سیکٹر کی بہت تجربہ کار شخصیات کے علاوہ سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ صاحب بھی شامل تھے جنہوں نے مباحثے کو کنٹرول کرنا تھا۔ یہ دوگھنٹوں کا ایک سیشن تھا۔ جس میں راقم نے جو چند اہم نکات کورس کے شرکاء کے سامنے رکھے وہ مختصراً پیش خدمت ہیں۔

1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو ولیکا سمیت چند ٹیکسٹائل ملز کے علاوہ پاکستان کے صنعتی سیکٹر میں ویرانہ تھا۔ اس وقت سٹیل یا دفاعی پیداوار جیسے پیچیدہ اور مشکل کارخانے کی تعمیر کی بات کرنا ایسا ہی تھا جیسے آج آپ میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کی بات کرتے ہیں۔ بہرحال اہل بصیرت قیادت موجود تھی اس لئے خان لیاقت علی خان نے دسمبر 1951 میں واہ فیکٹری کی بنیاد رکھ کر یہ مشکل فیصلے کیے اس کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے پہلے پنجسالہ منصوبے میں لوہے اور فولاد کی صنعت کا تصور دیا۔

جنرل یحییٰ خان نے ماسکو میں جاکر سٹیل ملز کے معاہدے پر دستخط کئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی سے 42 کلو میٹر دور پپری کے ریگستان میں ساحل سمندر پر سٹیل ملز کی جگہ کا خود بطور وزیراعظم انتخاب کیا۔ اُنکے ہمراہ سابق گورنر بیرسٹر کمال اظفر بھی تھے جنہوں نے مجھے یہ قصہ سنایا۔ دفاع اور سٹیل کے یہ سارے کارخانے پبلک سیکٹر میں اس لئے لگائے گئے کہ اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں اتنی جان نہ تھی۔

19000 ایکڑ جگہ سندھ حکومت سے بھٹو صاحب کے احکامات پر 76 پیسے فی گز کے حساب سے 50 ملین روپے کی خریدی گئی اسکی ساری رقم مرکزی حکومت نے سندھ حکومت ادا کردی اس زمین کا سٹیل ملز کے نام انتقال بھی مکمل ہوگیا یہ Mutation راقم نے اپنے دور میں کروائی تھی اب یہ زمین سندھ حکومت کی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی ہے لیکن اس پر صرف انڈسٹری لگ سکتی ہے کسی اور مقصد کیلئے یہ جگہ استعمال نہیں کی جاسکتی۔ ضروری عملے کیلئے سٹیل ٹائون کھڑا کیا گیا جس میں 4000 کواٹرز ہیں گلشن حدید میں بھی 600 ملازمین کیلئے گنجائش رکھی گئی جہاں اب لاکھوں کی آبادی کے مکان بن چکے ہیں۔165 میگا واٹ کا بجلی گھر،100 بستروں کا ہسپتال ساحل سمندر پر اپنی Jetty،4.3 کلو میٹر نجی کنوئیر بیلٹ، سمندر سے ایک چینل کاٹ کر مل تک لایا گیا،سپورٹس سٹیڈیم، سٹوڈنٹ ہاکی گرائونڈ،400 طلبا کی رہائش کے ساتھ ایک کیڈٹ کالج،12دوسرے تعلیمی ادارے، معذور بچوں کا سکول، حدید ویلفیئر ٹرسٹ، میٹا رجیکل انسٹی ٹیوٹ جو 25ایکڑ پر ہے اور جس میں 500 نشستوں والا ایک ایڈیٹوریم ہے۔ویسٹ واٹر پلانٹ،96 ایکڑ پر فیبریکشن فیکٹری، لاہور گلبرگ، اسلام آباد ایمنسٹی روڈ اور کراچی ڈرگ روڈ پر مارکیٹنگ دفاتر، سٹیل ٹائون میں آفیسرز میس اور 51 بہترین5 سٹار گیسٹ رومز،2کلو میٹر محیط میں قائداعظم پارک،110کلو میٹر لمبی بہترین سڑکیں72 کلو میٹر کی ریلوے لائن،18ریل انجنز اور بجلی کی HT لائنز کیلئے 10 کلو میٹر لمبی سرنگیں شامل ہیں اس کے علاوہ 200ایکڑ جگہ عریبین (SEA) کنٹری کلب کیلئے سٹیل ملز نے لیز پر دی ہوئی ہے۔ نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے دونوں ساتھ ہیں اور یہ مل پورٹ قاسم کی گود میں ہے کراچی سے پشاور تک جانے والی قومی ریلو ے لائن بھی وہاں سے گذرتی ہے۔

 ان تمام حقائق وسائل کے باوجود تقریباً ہر حکومت نے اس ادارے کو اپنی سیاسی بھرتیوں کا گڑھ سمجھا، فرنٹ مینوں کے ہاتھوں لوٹا، سینکڑوں سٹیل ملز سے تنخواہ لینے والے آئوٹ سائیڈر (باہرلے) کراچی کی سیاسی پارٹیوں کے دفتر میں کام کرتے تھے سارے لوہے کے پتنگ سٹیل ملز سے بنتے، یونین ورکرز کے لبادے میں بہت سے لوگوں نے ملز کی سینکڑوں گاڑیاں اور ٹیلی فون بے جا استعمال کئے۔ سٹیل ملز کی بسیں بھٹو صاحب کی برسی پر سینکڑوں میل دور لاڑکانہ تک سیاسی کارکنوں کو اٹھا کر جاتی رہیں خام مال کے سودے ہوں یا بحری جہازوں کا فریٹ، سکریپ بیچنے کی بات ہو یا فالتو پرزے منگوانے کیلئے ٹینڈر کا قصہ ہو۔سب نے مل کر اس قومی سطح کے سب سے بڑے ادارے کو بے رحمی سے لوٹا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ احتساب کے کٹہرے میں کسی کو کھڑا نہیں کیا گیا۔ ایک چیئر مین پابند سلاسل ہے لیکن اس کو استعمال کرنے والی سیاسی قوتیں دوبارہ اقتدار میں آنے کی تیاری میں ہیں اُن پر قانون کی کوئی گرفت نہیں وہ بھٹیاں جو میری موجودگی میں 94 فیصد Capicity پر چل رہی تھیں آج مکمل بجھنے کیلئے آخری ہچکیاں لے رہی ہیں۔ 

خام مال کے Yards جہاں کوئلے اور خام لوہے کے پہاڑ لگے ہوئے تھے ہماری ملک دشمنی کا رونا رو رہے ہیں بلاسٹ فرنسز اور کوک اوون بیٹریز کے خام مال کی بھوک سے ہوش ہے جو اربوں کا نقصان ہے۔ ملازمین کو کئی ماہ کی تنخواہ نہیں ملی، بنک (LC) ایل سی کھولنے پر تیار نہیں اور سٹیل ملز کے اس عظیم الشان ادارے میں ایک صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ سٹیل ملز دراصل ہماری کرپشن اور نا اہلیوں کی دردناک داستان ہے۔ نواز شریف کی پچھلی حکومت نے 1998 میں اس مل کو ایک ترکی کی کمپنی کو آگے بیچنے کی بات کی تو وہ مسئلہ آگے نہ چل سکا۔1999 میں میاں صاحب نے ECC کی ایک میٹنگ میں سٹیل ملز کی Restructuring کا فیصلہ کیا جس کو 2000 میں پرویز مشرف حکومت نے عملی جامہ پہنایا جس سے سٹیل ملز کے حالات کچھ بہتر ہوئے اس وقت سٹیل ملز 19 ارب روپے کی مقروض تھی جس میں سے 12ارب روپے اس کو ادا کرنے تھے اور باقی 7ارب روپے جو خالص سود تھا وہ موخر کردیا گیا۔ جنوری 2004 میں جب میں سٹیل ملز پہنچا تو یہ ادارہ 7.68 ارب روپے کے قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا 13دسمبر 2006 کو جب میں ملز سے سبکدوش ہوا تو اس کے سارے قرضے اتارنے کے بعد سٹیل ملز میں 6ارب روپے کا خام مال 4ارب روپے کا تیار مال 2ارب روپے کے فالتو پرزے اور 10ارب روپے بنک میں بچت کی شکل میں موجود تھے۔ حکومت کو 6 ارب روپے کا تاریخ میں پہلی دفعہ انکم ٹیکس اور کوئی 12ارب روپے سیلز ٹیکس کی ادائیگی اس کے علاوہ تھی۔

آج سٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 87 ارب اور کل قرضہ 106 ارب روپے ہوچکا ہے۔میں نے سامعین کو بتایا کہ چین کے اندر سینکڑوں ادارے آج بھی پبلک سیکٹر میں بہت کامیابی سے چل رہے ہیں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔ سرکاری اداروں میں لوگ میرٹ پر تعینات کئے جاتے ہیں کوئی سیاسی بھرتی نہیں اور دسری بڑی وجہ یہ ہے کہ کرپشن میں ملوث بڑے سے بڑے چیف ایگزیکٹو کو تخت دار پر لٹکادیاجاتا ہے لیکن اس میں مشکل نہیں کہ دنیا میں آج جو سوچ ہے وہ یہی ہے کہ حکومتوں کا حجم بہت چھوٹا ہوناچاہئے ان کو کاروبار میں ملوث نہیں ہوناچاہئے حکومت کو خود بالکل نظر نہیں آناچاہئے بلکہ اس کی اچھی حکمرانی کی شکل میں بہترین کارکردگی اس کی پہچان ہونی چاہئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کا سپاہی بھی سڑک پر نظر نہیں آتا لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا۔

2006 میں ہونے والی سٹیل ملز کی نجکاری کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس لئے منسوخ نہیں کیاتھا کہ ادارے کی نجکاری کرنا غلط تھی بلکہ اس لئے کہ نجکاری کے طریقہ کار میں گھپلے تھے 20ستمبر 2004 کے ایک خط کے تحت جب نجکاری کمشن نے سٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق مجھ سے رائے مانگی تو میں نے کراچی کے ٹاپ کلاس مالیاتی اور قانونی امور کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد یکم اکتوبر 2004 کو یہ نجکاری کا مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کرنے کی رائے دی تھی۔

’’یعنی پہلے سٹیل ملز کے مزید حصص بیچ کر مالی حالت بہتر کی جائے پھر اس کی توسیع ہو اس کے بعد اس کے حصص عوام یا فیکٹری کے مزدوروں کے آگے بیچ دئیے جائیں اور حکومت آہستہ آہستہ اپنی ملکیت سے دستبردار ہوجائے۔‘‘اب تو حالات ناگفتہ بہ ہیں جن کو سدھارنے کیلئے حکومت کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

 

Enhanced by Zemanta

نقل مکانی کرنے والوں کو گھر واپسی کی اُمید

پاکستان کے پُرآشوب قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی دادی امّاں زرماتا بی بی کے نزدیک حکومت اور پاکستان طالبان کے درمیان تاریخی امن مذاکرات سات برسوں سے جاری سورش کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتے۔

ساٹھ برس کی ضعیف خاتون نے اپنے بیٹے اور ایک پوتی دونوں ہی کو اس تصادم میں کھودیا ہے، انہوں نے اپنے گھر کو ملبے تبدیل ہوتے دیکھا اور انہیں 2012ء میں یہاں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، انہیں یقین نہیں ہے کہ ان کے خاندان کے باقی افراد کبھی یہاں لوٹ کر آئیں گے۔

ہنگو کے شمال مغربی قصبے میں اپنے عارضی گھر کے اندر انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’میں اپنے گھر کو یاد کرتی ہوں، مجھے اپنے عزیز یاد آتے ہیں، مجھے سب کچھ یاد آتا ہے۔ امن کے لیے کسی بھی اقدام کا مطلب ہوتا ہے کہ معمول کی زندگی واپس لوٹ رہی ہے۔

زرماتا بی بی پاکستان کے ان سات لاکھ پچاس ہزار لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہیں ملک کے اندر ہی نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا ہے۔

یہ ملک کے اندر ہی ہجرت پر مجبور ہونے والے ایسے لوگ ہیں، جن کی داستانیں فوجی آپریشن اور خودکش حملوں کی روزآنہ کی کوریج میں شاذونادر ہی شامل ہوپاتی ہیں، جب سے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسند اسلام آباد حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، تب سے ان خودکش حملوں نے ملک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

حالانکہ مبصرین وزیرِ اعظم نواز شریف کے اعلان کردہ مذاکرات کے نتائج پر شک و شبے کا اظہار کررہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے شروع ہوئے تھے، لیکن ان مذاکرات سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے کچھ افراد کے دل میں امیدوں کے چراغ روشن کردیے ہیں، جو برسوں کی صعوبت کے بعد اچھی خبر سننے کے لیے بے چین ہیں۔

 

ایک جانب سے طالبان اور دوسری طرف سے فوج کی گولہ باری کے درمیان پھنسے ہوئے ان میں سے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ امن مذاکرات ان کے لیے کسی قسم کے پائیدار حل کا ایک بہترین موقع ہیں۔

قبائلی علاقے کے ڈسٹرکٹ خیبر سے تعلق رکھنے والے ایک ستاون سالہ بزرگ حاجی نامدار خان کہتے ہیں کہ ’’مایوسی اسلام میں گناہ ہے‘‘، وہ پشاور کے مضافات میں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے قائم کیے گئے جلوزئی کیمپ میں 2009ء سے مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا ’’آخر کار مذاکرات ہی ایک واحد حل ہے۔ میں پُرامید ہوں کہ حالیہ امن عمل سے کوئی حل برآمد ہوجائے گا۔‘‘

موسم کی سختی اور دیگر صعوبتیں:

پاکستان کے اندر ہی نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کی حالتِ زار سے قوم اس وقت واقف ہوئی، جب 2009ء میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد بہت سے لوگوں کو سوات کی دلکش وادی سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا تھا، جو اسلام آباد سے محض 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اندرون و بیرونِ ملک سے اکھٹا ہونے والے عطیات کے ذریعے انہیں خوراک، عارضی پناہ گاہیں، اور دیگر اشیائے خوردونوش فراہم کی گئیں، اور تصادم کےخاتمے پر نقلِ مکانی پر مجبور ہونے والے بہت سے افراد اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

اگرچہ سوات میں لڑائی ختم ہوچکی ہے، پاکستانی فوج اب بھی ملک کی نیم خودمختار قبائلی پٹی میں 2007ء سے جاری اندرونی طور پر پروان چڑھنے والی بغاوت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس قبائلی پٹی کو امریکا القاعدہ کا عالمی ہیڈکوارٹرز خیال کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہاں خیبر کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں پاکستانی طالبان اور حکومت کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان گزشتہ ایک سال سے لڑائی جاری ہے۔

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار افراد پناہ گزینوں کے لیے قائم کیے گئے کیمپوں میں مقیم ہیں، اکثر کرائے کے گھروں یا دوستوں و رشتہ داروں کے ساتھ آباد علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

ایک تخمینے کے مطابق چالیس ہزار کے قریب ایسے بدقسمت لوگ ہیں جو پشاور، کرّم قبیلے کے ڈسٹرکٹ اور ہنگو میں کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

ان کیمپوں میں جہاں تک نظر دوڑائیں دور دور تک خیمے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں پانی اور بجلی کا انتظام نہیں ہے اور یہاں کے رہائشیوں کو موسم گرما کی جھلسادینے والی گرمی برداشت کرنی پڑتی ہے، جب درجۂ حرارت پچاس سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اس سے پہلے موسم سرما کے دوران انہیں نقطۂ انجماد صفر سے نیچے کی سخت سردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Enhanced by Zemanta

ارد شیرکاوس جی: جن کی تحریریں جرأت، بصیرت اور روشن خیالی کا نمونہ تھیں

ایسے دور میں جب ہماری صحافت سے راستی کا رواج ختم ہورہا ہے،ایسی تحریروں کا سامنے آنا خوش آیندہے جنھیں حق گوئی وبیباکی کا بہترین نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

لکھنے والا وہ جس کی زبانِ قلم ہزارخوف کے باوجود دل کی رفیق رہی ۔وہ حقیقی معنوں میں کسی سے ڈرتے ورتے نہیں تھے۔بات ڈنکے کی چوٹ کہنے کا ہنرجاننے کے خواہش مندوں کو اردشیر کاوس جی کے سوا دو سوکالموں پر مشتمل مجموعے “Vintage Cowasjee”کولگ کرپڑھنا چاہیے ،جس کو ان کی دوست امینہ جیلانی نے مرتب کیا ہے۔ ارد شیر کاوس جی کی تحریروں میں تمام ترہمدردی مظلوم سے مخصوص اور لڑائی ظالم کے ساتھ نظرآتی ہے ۔ان کی نگارشات اس سادہ سی حقیقت کی ترجمان ہیں کہ دنیا میں طبقات دو ہی ہیں:ظالم اور مظلوم۔باقی باتیں اضافی ہیں مگربالادست زیردستوں کو اور ہی باتوں میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ ان کا دھندہ چلتا رہے۔ممتازشاعرظفراقبال کا شعرہے:

مجھے دیا نہ کبھی میرے دشمنوں کا پتا

مجھے ہوا سے لڑاتے رہے جہاں والے

کاوس جی کی تحریریں عوام کو اصل دشمنوں کے بارے میں بتاتی ہیں ۔وہ ہمارے ہاں کے ان چنیدہ دلاورقلم کاروں میں سے تھے، جو بدی کی قوتوں کے سامنے خم ٹھونک کرسامنے آتے اورستم زدگاں کے کندھے سے کندھا ملاکرکھڑے ہوتے ۔ ضمیر کی گہرائیوں میں ڈوب کر لکھتے۔منتخب سچ بولنے سے مجتنب رہتے۔حقائق بلاکم وکاست بیان کرتے۔ وہ قائد اعظم کے تصورات سے بہت متاثر تھے اور انھی کی روشنی میں پاکستان کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے تھے۔قرارداد مقاصد کو وہ قائد اعظم کی راہ سے انحراف جانتے اور قائداعظم کی 11اگست1947 کو قانون سازاسمبلی میں تقریرکے مندرجات پرعمل پیرا ہونے میں قوم کی نجات خیال کرتے، جس میںبانیٔ پاکستان نے ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان ومال کا تحفظ قراردیا اور یہ بھی کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں طور پراپنے اپنے عقائد کے مطابق، زندگی بسرکرنے کی اجازت ہوگی۔افسوس!ہمارے ہاں، اس کے بالکل الٹ ہوا اور اب صورتحال میں سدھار کے بجائے اور ابتری آگئی ہے ، اقلیتوں کوتوچھوڑ ہی دیں، مسلمانوں کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں۔

کاوس جی کا یقین تھا کہ سچ بولے بغیر قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔اپنے ایک کالم میں انھوں نے لکھا کہ اہل پاکستان نے خود کو یقین دلا رکھا ہے کہ سچائی ایک نایاب اور قیمتی شے ہے، جسے انتہائی تنگ دلی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جرأت مندی کاوس جی کی تحریر کا بنیادی وصف ضرور ہے لیکن ساتھ میں دوسری امتیازی خوبیوں نے بیان اوربھی زورآور بنادیاہے۔وہ جس موضوع پرقلم اٹھاتے،اس کا گہرا ادراک انھیں ہوتا۔معلومات کا انبار بڑے سلیقے اور منظم طور سے صفحے پربکھیرتے چلے جاتے۔بیچ بیچ میںکاٹ دار جملے پڑھنے کو ملتے۔صاف شفاف ذہن سے تجزیہ کرتے۔ ان کی تحریروں کے موضوعات میں جس قدرتنوع رہا، اس عہد کے شاید ہی کسی دوسرے لکھنے والے کے ہاں ملے۔ جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی کرپشن پران کا قلم خوب چلتا۔ ان کی تحریروں کی مدد سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قوم نے اپنی صورت کو کس قدربگاڑ لیا ہے، اور اسی بنا پر کاوس جی کے خیال میں ہم مہذب کہلانے کے حق دارنہیں۔

کاوس جی کوحادثاتی کالم نویس قراردیا جاسکتا ہے۔1984ء میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کی تزئین وآرائش کے حوالے سے کالم لکھا تو پھران کا قلم رواں ہوگیا۔اس کے بعد تواترسے’’ ڈان‘‘ میں ایڈیٹر کے نام خطوط شائع ہونے لگے،جنھیں قارئین نے سراہا۔ ۔1988ء میں انھوں نے کچھ دوستوں کی تحریک پر ’’ڈان ‘‘کے ایڈیٹر احمد علی خان کو کالم بجھوائے جو انھیں پسند آئے اور پھر ان کے ہفتہ وارکالم کا سلسلہ شروع ہوگیاجو تقریباً بائیس برس جاری رہا۔ ان کے بقول: ’’ہرہفتے لکھنا ایک طویل اور تھکا دینے والا کام ہے مگراس کا فائدہ بھی ہے۔لکھے گئے کالموں میں کئی واقعات ریکارڈ ہوجاتے ہیں اور ان جھروکوں سے ماضی میں جھانکنا اچھا لگتاہے۔‘‘ معروف صحافی خالدحسن کے مرنے پرکالم میں انھوں نے ان کی ویب سائٹ کے سرنامہ پر درج، چراغ حسن حسرت کا یہ بیان دہرایاکہ ’’کسی کو بھی صحافیوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے ، خاص طور سے خود صحافیوں کو کہ ان کا لکھا صبح جس اخبار میں چھپتا ہے وہ شام میں مچھلی لپیٹنے کے کام آتا ہے۔‘‘ اس سے ملتی جلتی مثال انھوں نے اپنے آخری کالم میں بھی دی ’’ برنارڈ لیون ، جنھوں نے1970سے لے کر1997ء تک لندن ٹائمز کے لیے بہت عمدہ کالم لکھے، ایک مرتبہ کالم نگاروں کوبیکری والے قرار دیا تھا۔ بیکر ہرصبح تازہ بریڈ بناتے ہیں اور یہ استعمال ہوجاتی ہے، اور اس کے بعدپھرایک اور صبح اور نئی بریڈ۔چنانچہ کالم بھی وہ تازہ بریڈ ہوتے ہیں، جو ہضم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد اخبارات کو پڑھ کرپھینک دیا جاتا ہے۔‘‘

اردو شیر کاوس جی کے کالموں سے جو معلومات ہم تک پہنچتی ہیں، ان میں سے چند ایک کا ہم ذکر کئے دیتے ہیں۔ان تحریروںمیںغلام مصطفی کھرکے فرزند ارجمند بلال کھر کا ذکربھی ہے،جس نے بیوی پرتیزاب پھینک کرمردانگی کا ثبوت دیا۔ مختاراں مائی کی داستان غم کا بیان بھی ہے،اورجنرل (ر)پرویز مشرف کا وہ فرمان عالی شان بھی، کہ ہمارے ہاں! ویزے اور دولت کمانے کے لیے بھی ریپ کروالیا جاتا ہے۔غیرت کے نام پرجان سے گزرنے والی مظلوم بیبیوں سے انھیں ہمدردی ہے۔ گمشدہ افراد کے مسئلے پروہ آوازبلند کرتے ہیں۔حاکم وقت کے شہر میں ورود سے خلق خداکو جس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے، اس اہم مسئلے پربھی قلم کو جنبش دیتے ہیں۔کراچی میں گٹرباغیچہ بچاؤتحریک کے روح رواںنثاربلوچ کا نوحہ بھی لکھتے ہیں،جو قبضہ مافیا کے گلے کی پھانس بن چکے تھے۔ماحول میں زہرگھولنے والوں کے بارے میں قلم حرکت میں آتاہے ۔ٹمبرمافیاکو بے نقاب کرتے ہیں۔درختوں کا کٹنا انھیں آزردہ کرتا ہے۔ بچھڑنے والے احباب کودرمندی سے یاد کرتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ سے متعلق ایسی معلومات بھی سامنے لاتے ہیں،جوعام نظروں سے اوجھل ہیں ، جیسا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والی دستاویزات سے ایوب خان کی امریکیوں کو یہ یقین دہانی کہ اگروہ چاہیں تو پاکستانی فوج ان کی فوج بن کرکام کرسکتی ہے۔وہ ان دو جرنیلوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، جونوازشریف کے پاس پاس ڈرگ ٹریڈ سے متعلق ایک منصوبے کی منظوری لینے آئے اور بے نیل مرام واپس لوٹے۔ وہ اس نام نہاد بااصول مرحوم صدر کے داماد کا کچاچٹھا بھی کھولتے ہیں۔

جس نے پیپلزپارٹی کو سبق سکھانے کے لیے جام صادق علی کی جلاوطنی ختم کراکر وزیراعلیٰ بنوایااور بقول کاوس جی اس بات کا ملحوظ نہ رکھا کہ اس سے سندھ کے عوام کس قدر خسارے میں رہیں گے 1988ء میں پیپلزپارٹی کاراستہ روکنے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد بنوانے میں بھی جناب غلام اسحاق خان کی کوششوں کو دخل تھا۔ اس اتحاد کی تشکیل میں کردار کے بارے میں جنرل (ر) حمید گل کے اعتراف اور ایم کیو ایم حقیقی کو وجود میں لانے کا جنرل (ر) جاوید ناصر نے جو کریڈٹ لیااس کا حوالہ بھی کاوس جی دیتے ہیں۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صحافیوں سے ناراض ہوکرلندن سے جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں، ان کو تو اب الیکٹرانک میڈیا کے طفیل ہم سب سن لیتے ہیں۔وہ جس زمانے میں پاکستان میں تھے،تب بھی اہل قلم پرگرجا برسا کرتے، ایسی ایک مثال کاوس جی نے اپنے کالم میں دی ہے،جس کے مطابق1990ء کی الیکشن مہم کے دوران جرات مند صحافی رضیہ بھٹی کی ادارت میں نکلنے والے’’ نیوزلائن‘‘ کے ایک مضمون پر الطاف حسین نے ایک جلسے میں دھمکی آمیزلہجے میں اس جریدے کی ٹیم کے بارے میں خاصی سخت گفتگو کی تھی ۔آئین ساز ذوالفقارعلی بھٹو نے کس انداز میں مختصرسے عرصے میں من مرضی کی ترامیم سے آئین کاحلیہ بگاڑااس بابت بھی بتاتے ہیں، اور اسی دور میں سانگھڑ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی گرفتاری کے شرمناک واقعہ کا ذکربھی کرتے ہیں۔1997ء میں سپریم کورٹ پرحملہ پاکستانی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پریاد رکھا جائے گا۔اس حملے کے ذمہ دار کاوس جی کی کڑی تنقید کی زد میں آئے۔

مسلم لیگ(ن)کی حملہ آوراس حکومت سے قبل پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، اوراس نے بھی عدلیہ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہ کیا ۔اس ضمن میں کاوس جی خاص طورپرچیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ناصراسلم زاہد کا حوالہ دیتے ہیں، جنھیں حکومت نے ناراض ہوکرفیڈرل شریعت کورٹ بھیج دیا۔بیوی کا تبادلہ کردیا۔داماد کو بھی تنگ کیا۔کاوس جی کی تحریروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف کے طرزحکمرانی کو ناپسند کرتے۔ان کے کسی فیصلے کی اگربھولے سے اس قلم کارنے تعریف کی ہے توجمعہ کے بجائے اتوار کی ہفتہ وارچھٹی کا فیصلہ ہے، جو مسلم لیگ ن کے دوسرے دورحکومت میں ہوا۔ اردشیرکاوس جی کی دانست میں اس کام کو کرنے کی خواہش 1977ء کے بعد آنے والے دوسرے حکمرانوں کے ہاں بھی رہی تو،مگر وہ جرات نہ کرسکے۔ پرویزمشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک کالم میں انھوں نے لکھا کہ دوبار خراب حکومت کرنے کے باوجود وہ یہ گارنٹی دینے کو تیارنہیں کہ نوازشریف اب کبھی وزیراعظم نہیں بنیں گے ۔اور پھرہم سب نے دیکھا کہ نوازشریف تقریباً چودہ برس بعد تیسری بار وزیراعظم بن گئے اورکاوس جی کی بات رہ گئی، وگرنہ ہم نے توایسی ہستیوں کے بارے میں بھی سنا ہے، جنھوں نے مریدین کو یقین دلارکھا تھا کہ نوازشریف وزیراعظم توکجا رکن قومی اسمبلی بھی نہیں بن پائیں گے۔ اس لیے ہمارے خیال میںسیاسی معاملات کو روحانی آنکھ کے بجائے ظاہر کی آنکھ سے دیکھ کر رائے قائم کرنی چاہیے ۔

ذوالفقارعلی بھٹوکے اقتدارمیں آنے سے قبل کے زمانے سے کاوس جی ان کے شناسا تھے،وہ حکمران بنے تو نہ جانے کس بات پران سے بگڑے اور جیل بھجوادیا ۔وہ72دن قید رہے۔آخر وہ اس سزا کے کیوں سزاوارٹھہرے؟اس کی وجہ ہم آپ کو کیا بتلائیں کہ اس بارے میں مرتے دم تک خود کاوس جی کو معلوم نہ ہوسکا۔قید سے وہ بھٹو کے نام تحریری معافی نامہ لکھ کرآزاد ہوئے۔اس قسم کی تحریرچئیرمین بھٹو کے نام ان کے والد نے بھی لکھی۔ اکبربگٹی نے کاوس جی کو بتایا کہ بھٹو نے ایک باران کا لکھا معافی نامہ دکھایا تھا۔اپنے دوست کا یہ عمل انھیں خوش نہ آیا کہ خود بگٹی کی ڈکشنری میں معافی کا لفظ نہ تھا۔ ان کے خیال میںچاپلوسی وہ برائی ہے جو قوموں کو برباد کردیتی ہے،یہ بات انھوں نے اپنے اس کالم میں لکھی جس میں انھوں نے ایوب دور میں پیرعلی محمد راشدی کی خوشامد درآمد کے رویے پربات کی اور بتایا کہ کس طرح انھوں نے ایوب خان کو کنگ بن کرموروثی بادشاہت قائم کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ حکومتی عہدہ قبول کرلینے کے بعد بڑے بڑے اصول پسند بھی حکمران کی منشاکو ہی عزیزجاننے لگتے ہیں۔

جیسا کہ کاوس جی نے ممتازقانون دان خالد انورکی مثال دی ہے کہ بطور وزیرقانون انھوں نے احتساب قوانین کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ حکمران خاندان ان کے شکنجے میں نہ آسکے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے سلسلے میں ان کی خدمات پر بعد از مرگ ایوارڈ دیاتوآصف علی زرداری نے قوم کو مبارکباد دی تو کاوس جی نے محترم صدرکو یاد دلایا کہ پیپلزپارٹی کی کابینہ میںبلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ صاحب بھی موجود ہیں، جنھوں نے غیرت کے نام پردوخواتین کو زندہ درگورکرنے کواپنی قبائلی روایات کے مطابق قرار دیااور وہ حضرت بھی وزیر ہیں جو لڑکی کو ونی کرنے والے جرگے کے رکن تھے۔سیاستدانوں کے لتے لینے والے کاوس جی نے اپنے ایک کالم میں ولیم رینڈولف ہیرسٹ کا یہ قول نقل کیا ’’سیاست دان اپنی نوکری بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے حتیٰ کہ محب الوطن بھی بن سکتا ہے۔‘‘ سیاست دانوں میں وہ اصغرخان کو سب سے بڑھ کر پسند کرتے۔ 1996ء میں تحریک انصاف کا قیام عمل میں آیا توکاوس جی نے عمران خان کے نام کھلے خط میں انھیں تجویز کیا کہ سیاسی امور پرانھیں اصغرخان سے مشورت کرنی چاہیے۔ان کے کہنے پریا پھراپنی مرضی سے عمران کی سیاسی سفر میں اصغرخان سے ذہنی قربت رہی اور وہ دوسرے اصغرخان ہونے کا طعنہ اب تک سہہ رہے ہیں۔ عمران خان نے ایک تقریب میں دیرسے آنے پرعذر کیا توارد شیر نے لکھا کہ اچھا لیڈرعوام کو انتظارنہیں کراتااور اگرایسا ہوجائے تو اسے تاخیرسے آنے کا جوازپیش کرنے کے بجائے معذرت کرلینی چاہیے۔ارد شیر کاوس جی کو ہم سے بچھڑے چودہ ماہ ہوگئے ۔ان کے چلے جانے کے بعد بھی ویسے ہی حالات ہیں، جن کا رونا وہ روتے رہے۔ بقول، احمد مشتاق

تبدیلیٔ حالات کے چرچے تو بہت ہیں

لیکن وہی حالات کی صورت ہے ابھی تک

ایک اہم تبدیلی جو ان کے جانے کے بعد رونما ہوئی، جس سے ان کی روح کو تکلیف ہوئی ہوگی وہ یہ ہے کہ قائد اعظم کی 11اگست1947ء کی جس تقریر کا حوالہ بارباران کی تحریروں میں آتا، اب بعض نابغے دھڑلے سے اس کے وجود سے ہی انکار کررہے ہیں۔

٭٭٭

’’ تمام مذہبی کٹرپن اندھا،احمقانہ اوروحشیانہ ہوتا ہے۔فرقہ وارانہ کٹرمذہبی پن اتنا ہی برا ہے جتناکہ مذہبوں کے درمیان غالی تعصب۔ کٹرمذہبی پن عقل کا گلہ گھونٹ دیتاہے اور کٹرمذہبی آدمی اپنے جوش جنوں میں سب کومجبور کرنے پرتلا ہوتا ہے کہ جس پراسے ایمان ہے،دوسرے بھی اس پرایمان لے آئیں۔ ‘‘

(11جون 2000ء)

٭٭٭

٭ ’’میری خواہش ہے کہ آنے والے سال مزید خوشیاں لائیں اور اس سرزمین کو امن نصیب ہو اور وہ لوگ جو اس ملک پرحکمرانی کرنا چاہتے ہیں، انھیں بھی تھوڑی سی عقل نصیب ہو۔‘‘

٭ ’’جہاں تک جناح صاحب کا تعلق ہے انھوں نے اپنی گیارہ اگست والی یادگارتقریر میں، جس کا چند ایک وہ لوگ حوالہ دیتے ہیں جوان کے نقش قدم پرچلنا چاہتے ہیں، اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ یہ ملک کن خطوط پرگامزن ہوگا۔کچھ لوگ اپنی حکومت کے محدود نقطۂ نظر کی وضاحت کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔جہاں تک انتہا پسندوں کا تعلق ہے، بدقسمتی سے ان کی تعداد اس ملک میں کم نہیں ہے، ان کواول تواس تقریرسے کوئی سروکارنہیں ہے،یا پھروہ اس سے اپنی مرضی کے مطالب نکالتے ہیں۔مسٹرجناح کا نظریہ اس قوم نے فراموش کردیاہے۔یہاں لفظ سیکولربغاوت کے مترادف ہے، یہاں تک کہ برداشت اور رواداری کے ذکرکو بھی مشکل ہی سے برداشت کیاجاتا ہے، جبکہ انتہا پسندی کا سایہ معاشرے میں مزید گہراہوتا جارہا ہے۔‘‘

٭ ’’اس ملک کے تمام حکمرانوں، وردی والوں اور وردی کے بغیر ، ہر دونے جناح کے پاکستان کی تلاش کاعزم کیا مگراپناڈولتا ہوا اقتداربچانے کے لیے کیا وہی جواس کے برعکس تھا۔ ‘‘

(25دسمبر 2011ء کو تحریر کردہ آخری کالم سے اقتباسات)

محمود الحسن   

Ardeshir Cowasjee

Enhanced by Zemanta

کراچی دھماکے میں شہید ہونیوالے اہلکار کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم تھے

کراچی کے پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد میں تربیت یافتہ کمانڈوز کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔ 40 کمانڈوز کا تربیتی کورس دو ماہ پہلے ختم ہو چکا تھا لیکن انہیں کسی کی اجازت کے بغیر وی آئی پی سیکورٹی کورس کے نام پر روک لیا گیا ِ اور ان سے ڈیوٹی لی جا رہی تھی۔

بم دھماکے میں پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد کے کئی کمانڈوز کی شہادت کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے متعدد کمانڈوز تنخواہوں سے محروم ہیں۔ پولیس کے اعلی حکام کی اجازت سے انہیں بھرتی تو کر لیا گیا لیکن کئی ماہ سے انہیں تنخواہ نہیں ملی۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس کمانڈو عبدالنبی کی جیب سے ایک درخواست ملی جس کے مطابق عبدالنبی کو نو ماہ سے تنخواہ ہی نہیں ملی، بیوی اور چار بچے دنیا داری کے لاکھ جتن کون جانے عبدالنبی روز کس کرب سے گزرتا ہو گا۔ ایک اور انکشاف بھی ہوا ہے کہ چالیس سے زیادہ کمانڈوز کا تربیتی کورس دو ماہ پہلے ختم ہو چکا تھا لیکن رزاق آباد ٹریننگ سینٹر کے پرنسپل مقصود میمن نے اعلی افسروں کی اجازت کے بغیر انہیں یہ کہ کر روک لیا کہ انہیں وی آئی پی سیکورٹی کورس کرایا جائے گا۔ آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریننگ کو بھی پولیس اہلکاروں کی تربیت سے لاعلم رکھا گیا۔ یہ کمانڈوز دو ماہ سے کورس کر رہے تھے اس کے علاوہ ان سے وی آئی پی ڈیوٹی بھی لی جا رہی تھی قانونی طور پر وی آئی پی سیکورٹی کا کورس اے ایس آئی سے لے کر انسپکٹر تک کو کرایا جاتا ہے۔