آپ بے شک برا منائیں لیکن سچ یہ ہے کہ پانچ فروری کو کشمیر کے نام پر گھروں میں بیٹھ کر چھٹی منانا صرف اور صرف منافقت ہے۔ چند شہروں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کچھ چھوٹے بڑے جلسے جلوسوں کا اہتمام کرکے باقی ذمہ داری الیکٹرانک میڈیا پر چھوڑ دی گئی کہ وہ یوم کشمیر مناتا رہے اور حکمران طبقہ گھروں میں بیٹھ کر چھٹی کے مزلے لیتا رہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یوم کشمیر پر چھٹی منانے کی بجائے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جاتا اور اس اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی جاتی۔ آج کل مسئلہ کشمیر کا پس منظر سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہمارے ارکان پارلیمنٹ کو ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ لوگ جو مسئلہ کشمیر کا’’آئوٹ آف دی باکس‘‘ حل تلاش کرنے کے لئے سیمینارز وغیرہ منعقد کرتے ہیں اور لچھے دار تقریروں کے ذریعہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو فرسودہ قرار دیتے ہیں وہ سب آئین پاکستان کی دفعہ257 سے نابلد ہیں۔ دفعہ257 کہتی ہے کہ جب ریاست جموں اور کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیں گے تو پھر پاکستان اور ریاست کے مابین تعلقات کا فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے لیکن جب تک پاکستان کے آئین میں دفعہ257 موجود ہے تو اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کے کسی حل کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اگر کسی کومسئلہ کشمیر کے کسی غیر روایتی حل کی تلاش ہے تو اسے سب سے پہلے پاکستان کے آئین کی دفعہ257 کو تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ دفعہ257 جن بزرگوں نے پاکستان کے آئین میں شامل کی ان میں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر خان عبدالولی خان اور مولانا شاہ احمد نورانی سے لے کر مولانا غلام غوث ہزاروی تک ہر مکتبہ فکر کے نمائندے شامل تھے۔ افسوس صد افسوس کہ جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں آئین کی دفعہ257 کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے ایک ایسے حل پر خفیہ بات چیت کی گئی جو کشمیری قیادت کو قبول نہ تھا، جو قائد اعظم محمد علی جناح کی سوچ کے بھی خلاف تھا لیکن پرویز مشرف نے مسلم لیگ قائداعظمؒ کی مدد سے کشمیر پر خفیہ سودے بازی کی کوششوں کو جاری رکھا۔