امریکہ صاحب! آخر ہم کیا کریں؟

اخبار کی شہ سرخی جس میں امریکہ کے پاکستان میں سفیر نے کہا کہ ’’کوئلے سے بجلی پیدا کرنا عالمی پالیسی کے منافی ہے‘‘۔ نے مجھے حیران ہی نہیں پریشان بھی کر دیا۔ اس شہ سرخی سے مجھے ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کو شدید جھٹکا محسوس ہوا ہو گا کیونکہ یہ بیان عین اس موع پر آیا جب پاکستان کے وزیراعظم نے تھرکول پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے کام کا سنگ بنیاد رکھا۔ یقیناًحکومت کا یہ بہترین اقدام ہے کہ کوئلے کے ذخائر جنہیں ہم پچھلی چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے استعمال نہیں کر پائے تھے اب انہیں استعمال میں لایا جائے گا اور اس سے پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی کمی کو پورا کیا جا سکے گا۔ پاکستان اس وقت مختلف ذرائع سے تقریباً 18000میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ پیداوار 14000میگاواٹ سے بڑھ نہیں پاتی۔ اس وقت بھی پاکستان کو تقریباً 4000 سے 8000 میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2020ء میں پاکستان میں بجلی کی طلب 26000 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی اور اگر پاکستان نے بجلی کی پیداوارکو ہنگامی بنیادوں پر آگے نہ بڑھایا تو یہ قلت مزید بڑھے گی۔ اس سے صنعتی اور زرعی پیداوار پر نہایت ہی بڑے اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان کی معیشت خدانخواستہ انحطاط کا شکار ہو سکتی ہے۔ جہاں تک پاکستان میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا تعلق ہے۔ تو یہ ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق یہ ذخائر 175 ارب ٹن سے زائد ہیں۔ توانائی کے ذرائع کا اگر تقابل کیا جائے تو یہ ذخائر ایران اور سعودی عرب میں موجود تیل کے ذخائر کے برابر ہیں۔ اگر پاکستان کوئلے کے ان ذخائر سے مسلسل 100,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنی شروع کر دے تو یہ ذخائر پھر بھی 200 سال تک کافی ہوں گے۔ قدرت کے اتنے بڑے ذخائر کو استعمال نہ کرنا بدقسمتی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ جہاں مرکزی حکومت سندھ کے تھرکول پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا آغاز کر چکی ہے۔ وہاں حکومت پنجاب نے بھی صوبے میں اپنے وسائل سے 6000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کیا ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ان منصوبوں سے اگلے تین سال میں بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔

شہ سرخی پڑھنے کے بعد تجسس ہوا کہ دیکھنا چاہیے کہ باقی دنیا میں کیا روایات ہیں۔ میری حیرانی کی اس وقت انتہا نہ رہی کہ پوری دنیا کی بجلی کی کل پیداوار کا 41 فیصد کوئلہ سے پیدا کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں بلکہ ’’عالمی کوئلہ تنظیم‘‘ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں۔ یعنی کوئلہ سے سب سے زیادہ بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد 21 فیصد گیس سے، 16 فیصد پن بجلی، 13 فیصد جوہری توانائی،5 فیصد تیل سے اور باقی 3 فیصد دیگر ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں کس قدر انحصار کوئلہ سے حاصل ہونے والی بجلی پر ہے اور اگر مختلف ملکوں میں پیدا ہونے والی بجلی کے تناسب کو دیکھا جائے تو وہ تمام ممالک جہاں بجلی وافر مقدار میں میسر ہے وہاں سب سے زیادہ بجلی بھی کوئلے سے پیدا کی جا تی ہے۔ جنوبی افریقہ میں 93 فیصد بجلی کوئلہ سے پیدا کی جاتی ہے۔ آسٹریلیا 78 فیصد، پولینڈ 87 فیصد، چین 79 فیصد، قزاکستان 75 فیصد، مراکش 51فیصد، جرمنی 41فیصد، یونان 54 فیصد، اسرائیل 58 فیصد، بھارت 68 فیصد اور یہاں تو پریشانی کی انتہا ہو جاتی ہے کہ خود امریکہ جیسے ملک میں 45فیصد بجلی کا حصول بھی کوئلہ کے وسائل سے ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کوئلہ سے حاصل ہونے والی بجلی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کے پاس بجلی وافر مقدار میں ہے اور سستی بھی ہے۔ پاکستان چونکہ مہنگے وسائل استعمال کر رہا ہے اس لیے اس میں بجلی کی پیداوار کم اور قیمت بھی کافی زیادہ ہے۔ کوشش کے باوجود نہ تو بجلی کی مقدار بڑھ سکی ہے اور نہ ہی قیمت کم ہو سکی ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کوئلہ سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت عام طور پر دوسرے ذرائع کے مقابلے میں 50 فیصد ہوتی ہے۔ پاکستان میں چونکہ کوئلہ کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اس لیے اگر بڑے پیمانے پر کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو یہ قیمت وقت کے ساتھ مزید بھی کم ہو سکتی ہے۔

امریکی سفیر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان میں بجلی کسی طور پر بھی پیدا ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ اس سلسلے میں بنائے جانے والے منصوبوں پر وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے اعتراضات پیش کرتے رہتے ہیں ۔ پاکستان جب بھی نیو کلیئر ذرائع سے بجلی بنانے کا کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اسے بین الاقوامی پالیسیوں کے منافی کہا جاتا ہے حالانکہ پوری دنیا میں ایٹمی ذرائع سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ امریکہ نے بھارت کو تو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے اجازت دے دی ہے لیکن یہ سہولت پاکستان کو حاصل نہیں ہے۔ حالانکہ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور دونوں نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ پاکستان جب بڑے ڈیم بنا کر پن بجلی کا حصول چاہتا ہے تو ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کو قرضے فراہم کرنے سے اس لیے روک دیا جاتا ہے کہ بڑے ڈیم ماحولیات کے لیے مناسب نہیں اور بادی النظر میں پاکستان کو توانائی اور بجلی کے اس سستے ذریعے سے بھی دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان نے ایران سے گیس درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی تو امریکہ نے اس منصوبے کو بھی مختلف طریقوں سے بند کرا دیا حالانکہ اس منصوبے میں ابتدائی طور پر بھارت اور چین تک کے ممالک شامل تھے۔ ایران نے اس منصوبے پر عمل درآمد کر کے اپنی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھا دی ہے۔ اس سے آگے مختلف عرصے میں لائن بچھا کر پاکستان گیس حاصل کر سکتا ہے لیکن عالمی قوت اس سلسلے میں حائل ہے۔

اب پاکستان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوتے ہی امریکی سفیر ایک بار پھر بول پڑے ہیں کہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنا عالمی پالیسی کے منافی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی پالیسیاں پاکستان کے لیے الگ اور باقی دنیا کے لیے جدا ہیں۔ اگر پوری دنیا میں آدھی مقدار میں بجلی کوئلے سے پیدا ہو سکتی ہے اور عالمی پالیسی اس کی مخالفت نہیں کرتی تو پاکستان جو پہلے سے ایک فیصد سے بھی کم بجلی کوئلے سے پیدا کر رہا ہے۔ اس پالیسی کے کیسے منافی ہو سکتا ہے۔ اگر اسے ہم پاکستان کی توانائی کے حصول کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ امریکہ کا ایسا رویہ نہ صرف پاکستانیوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے بلکہ طویل رفاقت کے باوجود منفی رویوں کا عملی مظاہرہ ہے۔

حسن اقبال
بشکریہ روزنامہ ‘نئی بات’

ہماری ریاست ناکام نہیں بیمار ہے

ہمارے ایک سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ، سینیٹر،دانشور اور مبصر جاوید جبار آغاز خان یونیورسٹی کے سیمینار سے خطاب میں بتاتے ہیں کہ پاکستان ناکام Failingریاست نہیں بیمارAilingریاست ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب ،ویٹی کن سٹی، اسرائیل، نیپال اور مالدیپ بھی مذہبی ریاستیں ہیں مگر پاکستان ان سب سے بہت مختلف ہے۔ ہمارے ہاں کو ئی پوپ جیسی مذہبی قیادت نہیں ہے،پاکستان میں مسلمانوں کا نیپال کے ہندوئوں جیسا کوئی یک جہتی والا وجود بھی نہیں ہے اور مالدیپ جیسی سنی مسلمانوںکی کوئی وحدت بھی نہیں ہے۔ ہم ایک مخصوص اور منفرد قسم کا انوکھا وجود رکھتے ہیں جو ایک خطے کے مختلف علاقوں کو ملانے سے ’’پاکبازوں کی سرزمین‘‘ کے نام پر وجود میں لایا گیا۔ پاکستان ایک اچھوتے، منفرد، شاندار مگر انوکھے تصور کے تحت وجود میں آیا جو دو ایسے حصوں پر مشتمل تھا جس کے درمیان اور اطراف میں مخالف نظریات رکھنے والا ملک موجود تھا۔ نظریے اور فلاسفی کی ہم آہنگی اس ناقص تصور پر قابو پاسکتی تھی مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔

جاوید جبار نے کہا کہ قیام پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ملک دس ہفتوں کے نوٹس پر وجود میں لایا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی چنانچہ اس نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہاں بھیجا اور انہیں اٹھارہ مہینوں کا مینڈیٹ دیا گیا جبکہ وہ خود اس سے بھی زیادہ جلدی میں تھے اور جاپان کی شکست کی دوسری سالگرہ میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ان کی یہ عجلت برصغیر میں انسانی تاریخ کی خوفناک ترین خون ریزی کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو ڈاکٹروں نے زندگی کا صرف ایک سال کا وقفہ دیا تھا۔ قائد اعظم جو یہ سمجھتے تھے کہ کلکتہ کے بغیر پاکستان، دل کے بغیر انسان کے موافق ہوگا جو کہ ممکن نہیں ہوسکتا مگر انہیں چودہ یا پندرہ اگست1947ء تک کلکتہ کے بغیر پاکستان کو قبول کرنا پڑا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کی انا کو سکون دینے والی یہی تاریخیں تھیں جو جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دوسری سالگرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ جاوید جبار کے مطابق ہم پاکستانی مذہبی اور لسانی وحدت رکھنے والی قوم نہیں ہیں، ہماری قومی نوعیت روحانی ہے اور روحانی قومیں سینکڑوں سالوں کے روحانی عمل سے وجود میں آتی ہیں جبکہ ہم کل اور پرسوں کے خواب دیکھنے والے لوگ ہیں۔ جاوید جبار کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ انڈیا کی ایک تاریخ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخ علاقے کی ہوتی ہے چنانچہ انڈیا بھی1947ء کے بعد ایک نئے ملک کے طور پر پاکستان کی طرح وجود میں آیا بطور ایک نئے ملک کے لیکن انڈیا نے بہت سی جہتوں میں وسعت پائی جن میں جمہوریت بھی شامل تھی۔ انڈیا نے1948ء میں حیدرآباد کی ریاست پر قبضہ کیا اور اس کے علاوہ548 ریاستوں اور راجواڑوں کو اپنی ریاستی تحویل میں لینے اور قبضہ کر لینے میں واضع فرق ہے۔ تحویل میں لینے والے جسموں کے علاوہ دلوں اور دماغوں تک بھی رسائی حاصل کرتے ہیں اور انڈیا نے یہ فریضہ ادا کیا

پاکستان نے 1972 ء میں پنجاب، سندھ، سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ایک یونٹ کی شکل دینے کی کوشش کی چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی ریاست کو وجود میں1972ء میں لانے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ جاوید جبار کے مطابق ریاست کو وجود میں لانے میں ہماری ناکامی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے چار کروڑ ستر لاکھ گھرانے ہیں۔ ان میں سے اگر ہم تین کروڑ گھرانوں کو غریب اور نادار فرض کرلیں تو قومی خزانے میں انکم ٹیکس جمع کرانے والے صرف دس لاکھ ہی کیوں ہیں؟ ہمارا آبادی پر بھی قابو ہونا چاہئے تھا مگر پاکستان کے صرف تین ہزار بیاہتا جوڑے اس معاملہ میں احتیاط سے کام لیتے ہیں دیگر سب بے لگام ہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں اٹامک انرجی کمیشن، نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی، سپریم کورٹ، کارپوریٹ اور فنانشل سیکڑ اور ڈائیو بس جیسے ادارے بھی ہیں جو وقت کی پابندی کا خیال اور احترام رکھتے ہیں مگر جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بلوچ اور سندھی ہیں تو اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم اعلیٰ اور مشترکہ شناخت کا احترام بھی کرتے ہیں۔جاوید جبار کے الفاظ میں پاکستان کی بے شمار عورتیں اور مرد اس ملک کے مسائل پر قابو پانے کے لئے سیاست میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر پاکستان کو کسی ایک ’’اتاترک‘‘ کی ضرورت نہیں ایک ہزار اتاترک چاہئیں جو پاکستان کو واپس قومی ترقی کی راہوں پر ڈال سکیں یہ صرف ’’میں‘‘ اور’’آپ‘‘ ہی نہیں’’ہم سب‘‘ پاکستان کو محفوظ اور مضبوط پاکستان میں بدل سکتے ہیں اور اپنی بیماری کو مرض الموت بننے سے پہلے دور کرکے صحت مند ہوسکتے ہیں۔

منو بھائی
بشکریہ روزنامہ ‘جنگ’